14/08/2025
نیو پاکستان_زندہ_باد_موومنٹ اور آغا خان یوتھ اینڈ اسپورٹس بورڈ کے زیرِ اہتمام جشنِ آزادی کا شاندار انعقاد
چترال لٹکوہ گرمچشمہ: نیو پاکستان زندہ باد موومنٹ چترال اور آغا خان یوتھ اینڈ اسپورٹس بورڈ کے اشتراک سے 14 اگست کی مناسبت سے خصوصی پروگرام نہایت جوش و جذبے کے ساتھ ڈی جے ہال گرمچشمہ مین منایا گیا، جس میں سینکڑوں افراد نے بھرپور شرکت کی۔
تقریب کی رونقوں میں اضافہ معزز مہمانوں کی آمد سے ہوا جن میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ریونیو لویر چترال جناب محمد ضیا صاحب، ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر لویر چترال جناب خالد صاحب ، ایس ایچ او تھانہ گرمچشمہ جناب قربان پناہ صاحب ، پریزڈنٹ آغا خان لوکل کونسل گرمچشمہ جناب جمیل احمد صاحب، چیئرمین آغا خان یوتھ اینڈ اسپورٹس بورڈ گرم چشمہ جناب جمشید احمد، اسکولز کے طلبہ و اساتذہ، بوائے اسکاؤٹس، گرل گائیڈز اور اسماعیلی والنٹئرز شامل تھے۔
پروگرام میں ملی نغموں کی گونج اور پاکستان و پاک فوج کے حق میں لگنے والے فلک شگاف نعروں نے فضا کو حب الوطنی کے رنگ میں رنگ دیا۔ شرکاء کے ولولے اور اتحاد نے اس تقریب کو یادگار بنا دیا۔
20/06/2025
ISPR
Rawalpindi, 19 June 2025:
Field Marshal Syed Asim Munir, NI (M), Chief of Army Staff (COAS), met with Ms. Saima Saleem, part of Pakistan's representative mission to the United Nations.
The COAS held a warm and inspiring meeting with Ms. Saima Saleem, who despite being visually impaired, has made a remarkable mark in international diplomacy through her resolve and dedication. He lauded her exceptional talent, unwavering dedication, and outstanding contributions to promoting Pakistan's interests at the UN.
The COAS expressed admiration for Ms. Saima Saleem's resilience and determination, which serve as a shining example for the nation, particularly for individuals with disabilities. He reaffirmed the Pakistan Army's commitment to supporting and empowering individuals with disabilities, enabling them to contribute to national development.
Ms. Saima Saleem briefed the COAS on her work at the UN, highlighting key issues and challenges facing Pakistan. The COAS appreciated her efforts in promoting Pakistan's stance on regional and global issues including threat of state sponsored terrorism by India which is root cause of destabilisation in the region.
The meeting is a testament to the recognition of unmatched potential of Pakistanis exceptional talent and dedication, regardless of physical ability.
Ms. Saima Saleem also shared her literary work with the COAS.
28/03/2025
فوج، ریاست اور تنقید۔۔۔۔
اداروں اور افراد میں فرق ضروری ہے
فوج کسی بھی ملک کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کی ضامن ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو نہ صرف بیرونی خطرات سے ملک کا دفاع کرتا ہے بلکہ اندرونی خلفشار کے وقت بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں فوج کو ایک ناگزیر ادارہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ ایک مضبوط فوج کے بغیر ریاست کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ تاہم، بعض اوقات انفرادی غلطیوں کو بنیاد بنا کر پورے ادارے کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جو کہ ایک غیر منصفانہ طرزِ عمل ہے۔
فوج کی اہمیت اور ریاستی استحکام
فوج نہ صرف جنگی حالات میں ملک کا دفاع کرتی ہے بلکہ امن و امان کی بحالی، قدرتی آفات میں امدادی کارروائیوں اور قومی تعمیر و ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان، بھارت، چین، امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کی افواج اپنے اپنے ملکوں میں دفاع کے علاوہ ترقیاتی کاموں میں بھی معاونت فراہم کرتی ہیں۔ جب بھی کوئی بحران آتا ہے، فوج سب سے پہلے متحرک ہوکر عوام کی مدد کے لیے پہنچتی ہے۔
ادارے اور افراد میں فرق کیوں ضروری ہے؟
یہ حقیقت ہے کہ فوج بھی انسانوں پر مشتمل ایک ادارہ ہے اور انسانوں سے غلطیاں ہوسکتی ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی ادارہ، چاہے وہ سرکاری ہو یا غیر سرکاری، غلطیوں سے مبرا نہیں ہوتا۔ تاہم، کسی ایک یا چند افراد کی غلطیوں کو بنیاد بنا کر پورے ادارے پر تنقید کرنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ ملک کے استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب فوج سے وابستہ کسی فرد یا گروہ سے کوئی غلطی سرزد ہوتی ہے تو عوامی حلقوں میں پورے ادارے کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ میڈیا، سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر جذباتی بیانات دیے جاتے ہیں، جس سے ملکی دفاعی اداروں کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے۔
تنقید برائے اصلاح، نہ کہ انتشار
تنقید ایک مثبت عمل ہے، بشرطیکہ اس کا مقصد اصلاح ہو۔ اگر کسی بھی ادارے میں خامیاں موجود ہیں تو ان کی نشاندہی ضرور ہونی چاہیے، لیکن اس کا انداز تعمیری ہونا چاہیے۔ کسی ایک فوجی افسر یا سپاہی کی غلطی کو بنیاد بنا کر پوری فوج کو تنقید کا نشانہ بنانا ملک دشمن عناصر کے بیانیے کو تقویت دے سکتا ہے۔
مثبت تنقید اور اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ:
1. مسائل کی نشاندہی افراد کی سطح پر کی جائے، نہ کہ ادارے پر الزام تراشی کی جائے۔
2. فوجی اور سول اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے تاکہ شفافیت اور احتساب کا نظام بہتر ہو۔
3. ملک کی سلامتی اور خودمختاری کو مدنظر رکھتے ہوئے جذباتیت سے گریز کیا جائے اور ذمہ دارانہ رویہ اپنایا جائے۔
4. میڈیا اور سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات پھیلانے کے بجائے تحقیق شدہ حقائق پر مبنی گفتگو کی جائے۔
فوج کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے بغیر ریاست کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ جہاں فوجی ادارے کو اپنے اندر موجود خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے، وہیں عوام کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اداروں اور افراد کے درمیان فرق کرنا سیکھنا چاہیے۔ مثبت تنقید ہمیشہ اصلاح کا باعث بنتی ہے، لیکن غیر ضروری اور بے جا تنقید ملک کے دفاعی نظام پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ہمیں بطور قوم اپنے اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے تعمیری رویہ اپنانا ہوگا تاکہ ہمارا ملک مزید مستحکم اور مضبوط بن سکے۔
21/03/2025
اس میں کوئی شک نہیں کہ افراد غلط ہو سکتے ہیں مگر بطور ادارہ پاک فوج ہماری قومی امانت ہے اور اس کا دفاع ہم سب کی فرض ہے۔
25/11/2023
نہ میں فوجی ہوں اور نہ میں آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہوں
میں عام آدمی ہوں وطن کا عشق ہوں۔پ