10/10/2026
عالمی یومِ ذہنی صحت کے تقاضے:
انسان اپنی زندگی میں جسمانی صحت، معاشی ضروریات اور سماجی ذمہ داریوں کا اہتمام کرتا ہے، لیکن اکثر اس ضرورت کو نظرانداز کر دیتا ہے جو اس کی سوچ، جذبات، فیصلوں اور رویّوں کو منظم کرتی ہے (یعنی اس کی ذہنی صحت اور ذہنی فلاح و بہبود)۔
ذہنی صحت صرف ذہنی بیماری یا کسی نفسیاتی مسئلے کی عدم موجودگی کا نام نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے، جذبات کو سمجھنے و منظم کرنے، مشکلات کا سامنا کرنے، مثبت اخلاق پیدا کرنے، صحت مند تعلقات قائم کرنے، زندگی کو خوب تر بنانے اور بامقصد بنانے کی صلاحیت بھی ہے۔ اس کے لیے تقاضا وقت یہ ہے کہ ہم پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنے ذہن کی تربیت کریں، اپنی عادات کا جائزہ لیں، مناسب نیند اور جسمانی سرگرمی کو معمول بنائیں، صحت مند تعلقات قائم کریں، علم و مطالعے کو فروغ دیں، اپنی روحانی غذا کا اہتمام کریں، اور اپنی نفسیاتی مشکلات کو مسلسل نظرانداز کرنے کے بجائے ان کے حل کی کوشش کریں۔ ضرورت پڑنے پر مستند ماہرِ نفسیات سے مدد لینا بھی شعور اور ذمہ داری کی علامت ہے۔
لیکن ذہنی صحت کی ذمہ داری صرف فرد تک محدود نہیں۔ خاندان، تعلیمی اداروں، معاشی اداروں اور ریاستی نظام کو بھی ایسا ماحول تشکیل دینا چاہیے جہاں انسان کو تحفظ، احترام، انصاف اور ترقی کے مواقع میسر ہوں۔ غربت، تشدد، ناانصافی اور مسلسل عدم تحفظ کے اثرات کو نظرانداز کرکے محض مثبت سوچ کی تلقین کرنا کافی نہیں۔ انسان کی تعمیر اور معاشرے کی تعمیر ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ ہمیں اپنی ذات میں شعور، توازن، کمال اور مثبت صلاحیتیں پیدا کرنے کے ساتھ ان اجتماعی حالات کو بہتر بنانے کے لیے بھی کردار ادا کرنا چاہیے، جو انسانی زندگی، ذہنی صحت اور ذہنی فلاح و بہبود پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
عالمی یومِ ذہنی صحت ہمیں یہی فہم دیتا ہے کہ ذہنی صحت کو زندگی کی ثانوی ضرورت نہ سمجھیں، بلکہ اسے انسانی نشوونما، باوقار زندگی اور ذاتی و اجتماعی فلاح کا بنیادی تقاضا تسلیم کریں۔ اسی طرح اپنی ذہنی صحت کا اہتمام کریں، دوسروں کی ذہنی کیفیت کو سمجھیں اور ایسا معاشرہ تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کریں جہاں انسان صرف زندہ رہنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے، انسانی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے، اور انسانیت کی بہتری کے لیے بھی زندگی گزار سکے۔
10 اکتوبر : عالمی یومِ ذہنی صحت (ٹی کے)