Tahzeem Kashmiri / PSY

Call Contact the organization

Tahzeem Kashmiri / PSY Tahzeem Kashmiri
Mental Health Counselor
(1)

This page aims to share authentic psychological knowledge and evidence-based facts about human behavior, mental health, and well-being in a clear, concise, and easy-to-understand manner.

10/10/2026

عالمی یومِ ذہنی صحت کے تقاضے:
انسان اپنی زندگی میں جسمانی صحت، معاشی ضروریات اور سماجی ذمہ داریوں کا اہتمام کرتا ہے، لیکن اکثر اس ضرورت کو نظرانداز کر دیتا ہے جو اس کی سوچ، جذبات، فیصلوں اور رویّوں کو منظم کرتی ہے (یعنی اس کی ذہنی صحت اور ذہنی فلاح و بہبود)۔
ذہنی صحت صرف ذہنی بیماری یا کسی نفسیاتی مسئلے کی عدم موجودگی کا نام نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے، جذبات کو سمجھنے و منظم کرنے، مشکلات کا سامنا کرنے، مثبت اخلاق پیدا کرنے، صحت مند تعلقات قائم کرنے، زندگی کو خوب تر بنانے اور بامقصد بنانے کی صلاحیت بھی ہے۔ اس کے لیے تقاضا وقت یہ ہے کہ ہم پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنے ذہن کی تربیت کریں، اپنی عادات کا جائزہ لیں، مناسب نیند اور جسمانی سرگرمی کو معمول بنائیں، صحت مند تعلقات قائم کریں، علم و مطالعے کو فروغ دیں، اپنی روحانی غذا کا اہتمام کریں، اور اپنی نفسیاتی مشکلات کو مسلسل نظرانداز کرنے کے بجائے ان کے حل کی کوشش کریں۔ ضرورت پڑنے پر مستند ماہرِ نفسیات سے مدد لینا بھی شعور اور ذمہ داری کی علامت ہے۔
لیکن ذہنی صحت کی ذمہ داری صرف فرد تک محدود نہیں۔ خاندان، تعلیمی اداروں، معاشی اداروں اور ریاستی نظام کو بھی ایسا ماحول تشکیل دینا چاہیے جہاں انسان کو تحفظ، احترام، انصاف اور ترقی کے مواقع میسر ہوں۔ غربت، تشدد، ناانصافی اور مسلسل عدم تحفظ کے اثرات کو نظرانداز کرکے محض مثبت سوچ کی تلقین کرنا کافی نہیں۔ انسان کی تعمیر اور معاشرے کی تعمیر ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ ہمیں اپنی ذات میں شعور، توازن، کمال اور مثبت صلاحیتیں پیدا کرنے کے ساتھ ان اجتماعی حالات کو بہتر بنانے کے لیے بھی کردار ادا کرنا چاہیے، جو انسانی زندگی، ذہنی صحت اور ذہنی فلاح و بہبود پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
عالمی یومِ ذہنی صحت ہمیں یہی فہم دیتا ہے کہ ذہنی صحت کو زندگی کی ثانوی ضرورت نہ سمجھیں، بلکہ اسے انسانی نشوونما، باوقار زندگی اور ذاتی و اجتماعی فلاح کا بنیادی تقاضا تسلیم کریں۔ اسی طرح اپنی ذہنی صحت کا اہتمام کریں، دوسروں کی ذہنی کیفیت کو سمجھیں اور ایسا معاشرہ تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کریں جہاں انسان صرف زندہ رہنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے، انسانی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے، اور انسانیت کی بہتری کے لیے بھی زندگی گزار سکے۔

10 اکتوبر : عالمی یومِ ذہنی صحت (ٹی کے)





06/10/2026

Cognitive Flexibility 🤔

05/10/2026

یومِ اساتذہ اور تعلیم و تربیت:
تاریخ کے اُن ادوار کو دیکھیں جب مسلم تہذیب نے علم، فکر اور تحقیق میں نمایاں ترقی کی، تو وہاں تعلیم محض معلومات منتقل کرنے کا نام نہیں تھی, علم کے ساتھ انسان کی تربیت بھی کی جاتی تھی۔ استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا تھا, وہ طالب علم کے فکر، کردار، مقصدِ زندگی اور ذمہ داری کے شعور کی تعمیر میں بھی اپنا کردار ادا کرتا تھا۔ وہاں استاد کا مقام معلم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مربی کے طور پر بھی موجود تھا۔
آج ہمارا بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس علم کے ذرائع کم ہیں۔ کتابیں موجود ہیں، جامعات موجود ہیں، معلومات کی دنیا چند لمحوں کے فاصلے پر ہے. لیکن سوال یہ ہے: کیا علم انسان کے اندر کوئی نظریہ، کوئی مقصد، کوئی اخلاقی ذمہ داری اور کوئی اجتماعی شعور بھی پیدا کر رہا ہے؟ تعلیم اگر صرف امتحان پاس کرنے، ملازمت حاصل کرنے اور ذاتی کامیابی تک محدود ہو جائے تو وہ انسان کو ماہر فی العلوم تو بنا سکتی ہے، مگر ضروری نہیں کہ ذمہ دار اور تربیت یافتہ انسان بھی بنائے۔
استاد کا اصل مقام وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں کتاب ختم ہوتی ہے۔ استاد کا اصل مقام یہ ہے کہ وہ طالب علم کو صرف یہ نہ سکھائے کہ کیا جاننا ہے، بلکہ یہ بھی سکھائے کہ علم کو کس مقصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔ وہ صرف ذہن کو معلومات سے نہ بھرے، بلکہ فکر کو سمت، کردار کو بنیاد اور زندگی کو مقصد دینے کی تربیت کرے۔ آج ہمیں ایسے استاد کی شدید ضرورت ہے جو علم کے ساتھ فکر و نظریہ، کردار و اخلاق، شعور و ذمہ داری کی تربیت بھی کرے۔ کیونکہ قومیں صرف پڑھے لکھے افراد سے نہیں بنتیں، قومیں ایسے انسانوں سے بنتی ہیں جو اپنے علم کو حق، عدل، انسانیت اور اجتماعی بھلائی کے لیے استعمال کرنا جانتے ہوں اور استعمال کی تربیت بھی رکھتے ہوں۔ اس لیے آج کا سوال صرف یہ نہیں کہ: ہم اپنے بچوں کو کیا پڑھا رہے ہیں؟ بلکہ آج کے دور کا اصل سوال یہ بھی ہے: کہ ہم تعلیم کے ذریعے کس قسم کا انسان اور کس قسم کا معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں؟ اس لئے کہ استاد صرف علم دینے والا نہیں، وہ انسان سازی کا معمار بھی ہے۔

تمام اساتذہ کو یومِ اساتذہ مبارک۔

02/10/2026

انسان کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب دنیا کی مصروفیات کے درمیان اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ بہت کچھ حاصل کر رہا ہے، مگر اپنے آپ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا کی ضرورتیں ختم نہیں ہوتیں, خواہش ایک کے بعد دوسری صورت اختیار کرتی رہتی ہے۔ انسان رزق، آسائش، تعلق، مقام اور کامیابی کے پیچھے چلتا رہتا ہے، مگر اس سفر میں کبھی یہ سوال بھی ضروری ہو جاتا ہے: میں اپنے رب سے کتنا قریب ہوں؟ اور اپنے باطن سے کتنا واقف ہوں؟
روحانیت دنیا سے فرار کا نام نہیں, بلکہ دنیا کے اندر رہتے ہوئے اپنے دل، نیت، کردار اور عمل کو درست سمت دینے کا نام ہے. بات یہ ہے کہ انسان کا باطن بھی تربیت چاہتا ہے۔ جیسے جسم کو غذا درکار ہے، ویسے ہی دل کو ذکر، شکر، توبہ، دعا، محبت، صبر اور مقصد کی ضرورت ہے۔ روحانی زندگی صرف عبادات کی کثرت کا نام نہیں, عبادت کا اثر انسان کے اخلاق، معاملات، تعلقات اور کردار میں ظاہر ہونا بھی ضروری ہے۔ دل اللہ کی طرف متوجہ ہو، تو زندگی کے راستے بھی درست سمت پانے لگتے ہیں۔
جمعہ مبارک۔ TK



Secrets to a Peaceful Life 😘
26/09/2026

Secrets to a Peaceful Life 😘










Address

Muzaffarabad

Telephone

+923558045251

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tahzeem Kashmiri / PSY posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Tahzeem Kashmiri / PSY:

Shortcuts

Share