PML-N Federal Capital

Contact the organization

PML-N Federal Capital This page is for Pakistan and NawazSharif lovers

غلاظت سے بھرپور نسل تیار کرتے کبھی سوچا تھا کہ یہ آگ خود کو بھی جلا سکتی ہے؟اس غلیظ نسل کے ہاتھوں کوئی بھی محفوظ نہ تھا۔...
30/09/2026

غلاظت سے بھرپور نسل تیار کرتے کبھی سوچا تھا کہ یہ آگ خود کو بھی جلا سکتی ہے؟
اس غلیظ نسل کے ہاتھوں کوئی بھی محفوظ نہ تھا۔
آج تمہیں روتے دیکھ کے دلی سکون ہوا شوکت یوسفزئی کہ تم جیسے لوگ مخالفین کے ساتھ اس قسم کے سلوک کی صفائیاں دیا کرتے تھے اور آج بھی اس غلیظ انسان کو اپنا لیڈر مانتے ہو جو اس نسل کو غلاظت کا ڈھیر بنانے کا موجب ہے۔
شاعر سے معزرت کے ساتھ....
"لگے کی آگ تو پہنچے گی گھر تمہارے بھی
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے"

30/09/2026
کلہاڑی گرنے کا وقت قریب نظر آ رہا ہے۔ اگر پہلے ہی ایسا نہیں ہو چکا تو بہت جلد وہ حد بھی پار کر لی جائے گی جہاں واپسی ممک...
25/09/2026

کلہاڑی گرنے کا وقت قریب نظر آ رہا ہے۔ اگر پہلے ہی ایسا نہیں ہو چکا تو بہت جلد وہ حد بھی پار کر لی جائے گی جہاں واپسی ممکن نہیں ہوگی۔ آخری وار کرنے کی تیاری ہے۔
اور یہ صرف وہ چیز نہیں ہے جو ہمیں ظاہری طور پر نظر آ رہی ہے۔ یہ لانگ مارچ یا نو مارچ (No March) کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال نہیں ہے۔

25/09/2026

ناظرین صورتحال دلچسپ ہو گئی ہے پی ٹی ائی مارچ سے فرار کے بہانے ڈھونڈ رہی ہے اور حکومت چاہتی ہے یہ بل سے باہر نکلیں

25/09/2026

تحریک انصاف اسٹیبلشمٹ کی وہ طلاق یافتہ بد مزاج بیوی ہے جو دوبارہ نکاح میں آنے کا شرعی راستہ تلاش کر رہی ہے.(ویسے تو یہ عدت بھی نہیں پوری کرتی)

25/09/2026

امریکہ نے خاں حکومت نہیں گرائی تھی اپنی سیاست بچانے کے لئے ہم نے جھوٹ بولا تھا
: شفقت محمود جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی

2017 میں جب ہم نے نواز شریف کو نکالنے کی کوششوں پر یہ مسلسل لکھا کہ دیکھو اب غلطی کی گنجائش نہیں ہے اگر غلطی کی گئی تو ا...
24/09/2026

2017 میں جب ہم نے نواز شریف کو نکالنے کی کوششوں پر یہ مسلسل لکھا کہ دیکھو اب غلطی کی گنجائش نہیں ہے اگر غلطی کی گئی تو اسے بھگتنا بھی پڑے گا تو وہ بھگتان کیا تھا؟
وہ بھگتان یہی تھا کہ ملک کی معیشت برباد ہو گی۔۔۔
بہتری کے جو آثار نظر آنا شروع ہوئے تھے جن کی وجہ سے دنیا بھر کے معتبر معاشی ادارے پاکستان کو 2020 میں جی 20 میں شامل ہوتا دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔وہ ختم ہو جائیں گے۔
خود پی ٹی آئی حکومت کے وزیر جیسے وزیر داخلہ اعجاز شاہ،شیخ رشید ان ریکارڈ ہیں کہ اگر نواز شریف کو پانچ سال پورے کرنے دیے گئے تو پھر اسکو نکالنا ممکن نہ ہو گا؟
کیوں ممکن نہ تھا؟
کیا نواز شریف کوئی اپنی الگ فوج بنا رہا تھا جو اسے بچاتی؟
ایسا نہیں تھا یہ اسکی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی بہتر ہوتی معاشی حالت تھی جس کی وجہ سے ایسا کہا جا رہا تھا۔

جس گھامڑ کے عشق میں مبتلا ہو کر آپ اسے وزارت عظمیٰ کے منصب پر بٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ سوائے باتیں کھودنے نے کچھ اور جانتا ہی نہیں تھا ۔
مگر مالکانِ مملکت پاکستان باز نہ آئے اور اڈیالوی کھوتے کو پاکستان پر مسلط کروا کے رہے جس کی دولتیوں سے پھر سال بھر میں انہیں اندازہ ہو گیا کہ جانو بہت بڑی چول مار بیٹھے ہیں۔

2022 آتے آتے صورتحال یہ بن گئی کہ اعلانیہ طور پر شبرزیدی اور شوکت ترین نما بطخے یہ کہنا شروع ہو گئے پاکستان ڈیفالٹ ہو نہیں رہا بلکہ ڈیفالٹ ہو چکا ہے۔
مالکان کا بدلتا موڈ دیکھ کے اڈیالوی کھوتے نے آخری دولتی جھاڑی اور آئی ایم ایف سے معاہدے کو توڑتے ہوئے تیل کی قیمتیں کم کر دیں جس سے آئی ایم ایف سے معاہدہ عملی طور پر معطل ہو گیا۔
اگر تو ایسا اس صورت میں کیا جاتا کہ اسکا کوئی متبادل پہلے سے ڈھونڈ رکھا ہوتا تو اس پر داد دی جاتی مگر ہوا یہ کہ کوئی متبادل موجود نہ تھا جبکہ ملکی ضروریات سر پر کھڑی تھیں قرضوں کا سود ادا کرنا تھا جو بانڈز بیچ رکھے تھے وہ میچور ہو چکے تھے انکی بھاری رقم ادا کرنے کا وقت سر پر آن پہنچا تھا اور یہ سب کچھ حفیظ شیخ نے مالکوں کے گوش گزار کر دیا تھا۔
نیازی کی حکومت گرانا کوئی بڑی بات ہی نہ تھی کہ یہ حکومت تو کھڑی ہی مالکوں کی بیساکھیوں کے سہارے تھی جس طرح آج کی حکومت بھی بیساکھیوں پر کھڑی ہے ،سو بیساکھیاں نکالی گئیں اور حکومت گر گئی اسی وجہ سے نیازی نے کہا تھا کہ آپ نے گرایا نہیں مگر آپ بچا تو سکتے تھے۔
خیر تفصیل لمبی ہو گئی اب ابتدائی بات پر واپس آتے ہیں کہ جب غلطی کی گنجائش نہ ہو اور غلطی کی جائے توبھگتان ادا کرنا پڑتا ہے۔
جو پٹرول 2017 میں سو روپے سے کم تھا آج 400 روپے لیٹر ہے ۔۔۔۔یہ بھگتان ہے۔
جو بجلی کی اوسط قیمت 2017 میں 11 روپے فی یونٹ تھی وہ آج 34 روپے فی یونٹ ہے ۔۔۔۔۔یہ بھگتان ہے
جو آٹا 2017 میں 40 روپے فی کلو تھا وہ آج 140 روپے فی کلو ہے۔۔۔۔یہ بھگتان ہے۔
جو چینی 2017 میں 60 روپے کلو تھی آج 150 روپے کلو ہے۔۔۔۔۔یہ بھگتان ہے۔
جو گھی اور خوردنی تیل 2017 میں 170 روپے کلو تھا آج 600 روپے کلو ہے۔۔۔۔یہ بھگتان ہے۔
باتیں کوئی جتنی دل چاہے کھود لے معیشت باتوں سے نہیں درست حکمت عملی سے کی گئی کوششوں سے بہتر ہوتی ہے جو ایک طویل اور محنت طلب معاملہ ہے اگر باتیں کھودنے سے بہتر ہو سکتی تو اڈیالوی کھوتے سے بہتر یہ کام کون کر سکتا تھا۔
نیازی کے پیرو کار آج نیازی دور کا اور آج کا موازنہ کرتے ہیں مگر کبھی اس موازنے کو ریورس کر کے 2017 میں نہیں لے جاتے کیونکہ انہیں علم ہے کہ بربادی شروع کہاں سے ہوئی تھی۔
آل یوتھ آج بڑا منہ پھاڑ کے یہ بھی کہتے ہیں کہ انہیں چار سال ہو گئے انہوں نے چیزیں درست کر کیوں نہیں دیں کب تک عمران نیازی کے پیچھے چھپتے رہیں گے۔
ان سب سے یہ کہنا ہے کہ معیشت کی بہتری جس سے عوام کی حالت بھی بہتر ہوتی ہے اسکا کوئی سوئچ نہیں ہوتا کہ جسے جب چاہے آن کر لیں اور جب چاہے آف کر دیں یہ تو ہم 2017 میں لکھ رہے تھے کہ آج جب غلطی کی گنجائش نہیں ہے اور غلطی کی گئی تو اسےدہائیوں بھگتنا پڑے گا حالانکہ یہ میں مانتا ہوں کہ عام آدمی کا اس غلطی میں کوئی کردار نہ تھا مگر بھگتنا تو سب کو پڑ رہا ہے یوتھیے تو اس وقت مالکوں کی گود میں بیٹھے تھے اور واہ واہ کے ڈونگرے برسا رہے تھے،ہم جیسے تو اس وقت بھی شور مچا رہے تھے کہ باز آ جاؤ مگر بھگت تو ہم بھی رہے ہیں یہ الگ بات کہ جنہوں نے غلطی کی تھی انکا آج بھی کچھ خاص نہیں بگڑا سوائے اسکے کہ انہیں اپنے پیدا کیے کھوتوں سے دولتیاں کھانی پڑ رہی ہیں۔
وماعلینا الالبلاغ ۔
ناصربٹ

21/09/2026

خواجہ آصف کے اس چیلنج کے بعد یوتھڑوں کے لیڈر فرمائشی گرفتاریاں دے رہے ہیں۔بس یہی انکی اوقات تھی اب کہہ رہے ہیں مذاکرات کرو

Address

Harley Street
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PML-N Federal Capital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to PML-N Federal Capital:

Shortcuts

Share