30/09/2026
غلاظت سے بھرپور نسل تیار کرتے کبھی سوچا تھا کہ یہ آگ خود کو بھی جلا سکتی ہے؟
اس غلیظ نسل کے ہاتھوں کوئی بھی محفوظ نہ تھا۔
آج تمہیں روتے دیکھ کے دلی سکون ہوا شوکت یوسفزئی کہ تم جیسے لوگ مخالفین کے ساتھ اس قسم کے سلوک کی صفائیاں دیا کرتے تھے اور آج بھی اس غلیظ انسان کو اپنا لیڈر مانتے ہو جو اس نسل کو غلاظت کا ڈھیر بنانے کا موجب ہے۔
شاعر سے معزرت کے ساتھ....
"لگے کی آگ تو پہنچے گی گھر تمہارے بھی
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے"