PML-N Federal Capital

PML-N Federal Capital

Share

This page is for Pakistan and NawazSharif lovers

31/05/2026
31/05/2026

لعنتی طبقہ

20/05/2026

ایک جملہ جو اس پولیس افسر کو عوام کا ہیرو بنا سکتا تھا جس سے آج سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ راستہ کھولو کیا پاکستان توڑنا چاہ رہے ہو؟
جواب میں پولیس افسر کو صرف یہ کہنا تھا

"پاکستان کو کسی کا باپ بھی نہیں توڑ سکتا تم کیا چیز ہو تم نے یہ بات بھی منہ سے کیسے نکالی"
باقی کام پاکستانی عوام نے خود کر دینا تھا۔
محسن نقوی صاحب اس فیڈرل پولیس کو اتنی تربیت تو دے دیں کہ کوئی انکے سامنے کھڑا ہو کے چار دفعہ پاکستان توڑنے کی بات کرے تو اسکا منہ توڑ سکیں۔
ناصر بٹ

10/05/2026

امجد پنساری پہلے صوفی محمد کے لشکر میں تھا
اور اب PTI کا مسلسل تیسری بار وزیر ہے

اپنے حلقے میں ایک مچھلیوں کے لئے تالاب بنایا تھا۔ جس میں مچھلی تو ایک بھی نہیں ہاں البتہ اپنے 25 دوستوں رشتےداروں کو بھرتی کیا ہے جن کی تنخواہیں پچھلے 11 سالوں سے وصول کر رہا ہے
خیبر پختونخوا کی ترقی کا راز 😅😅😅😅

08/05/2026

مولانا سمیع الحق شہید کو عمران خان سے اختلاف نہیں تھا KPK حکومت کے نمائندے مولانا سے ملنے انکے مدرسے بھی آتے تھے۔
لیکن آسیہ ملعونہ کی رہائ کے بعد مولانا سمیع الحق عمران خان پر بہت غصے ہوۓ مولانا سمیع الحق کے عمران خان کے بارے تاریخی الفاظ۔۔۔۔۔
"عمران خان میں تمہیں فرشتہ سمجھتا تھا لیکن تم شیطان نکلے ان شاءاللہ تم ذلیل ہوکر نکلو گے"
اس بیان کے دو دن بعد مولانا سمیع الحق صاحب کو شہید کر دیا گیا 😕
کچھ دن پہلے مولانا ادریس صاحب نے حکومت پاکستان اور جنرل عاصم منیر کی کھل کر حمایت کی تھی تو PTI والوں نے سوشل میڈیا پہ مولانا ادریس کو آڑے ہاتھوں لیا ہوا تھا آج انکی شہادت ہو گئ 😢
قندیل بلوچ ایک انٹرویو میں بشریٰ بی بی اور عمران خان کی ملاقات اور شادی کے راز کھولنا چاہتی تھی اسے بھی قتل کردیا گیا۔
عمران خان نے جب سائفر کا بہانہ بنایا تو عامر لیاقت نے عمران خان سے شدید اختلاف کیا جسکی وجہ سے عامر لیاقت کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں عامر لیاقت نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں اس نے کہا۔۔۔
"مجھے قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں عمران خان مجھے پتہ ہے وہ سائفر کہاں سے آیا میں چپ ہوں تو چپ رہنے دو میں جانتا ہوں وہ سائفر اسد قیصر اور شاہ محمود قریشی نے مل کر لکھا ہے"
اسکے چند دن عامر لیاقت کی بھی پراسرار موت ہو گئ۔
..قندیل بلوچ، عامر لیاقت اور مولانا سمیع الحق کی عمران خان کے بارے ویڈیوز ثبوت موجود ہیں میرے پاس۔
اس طرح کی اور بھی کئ مثالیں ہیں۔۔۔



08/05/2026

پاکستان میں فارما کمپنیز کی لوٹ مار اور اسکے ممکنہ حل پر پہلی قسط میں آپ کو بتایا تھا کہ فارما کمپنیز انسانی صحت جیسے حساس موضوع پر کس طرح انسانی نفسیات سے کھیل کر عوام کو لوٹ رہی ہیں۔
اب اس قسط میں معاملے پر بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔
پاکستان کے صحت کے نظام پر اگر سنجیدگی سے نظر ڈالی جائے تو ایک تلخ حقیقت فوراً سامنے آتی ہے کہ یہاں علاج سے زیادہ “برانڈ” بکتا ہے۔ مریض بیماری سے کم اور مہنگی ادویات سے زیادہ پریشان ہوتا ہے وہی دوا، وہی کیمیکل کمپوزیشن، مگر صرف نام بدلنے سے قیمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم نظام ہے ایسا نظام جسے بڑی دواساز کمپنیوں، میڈیکل ریپریزنٹیٹوز اور بعض ڈاکٹرز کے گٹھ جوڑ نے پروان چڑھایا ہے۔

امریکہ اور یورپ کے اکثر ترقی یافتہ ممالک میں دوا کا بنیادی حوالہ “سالٹ” یعنی اس کا اصل کیمیائی جزو ہوتا ہے، نہ کہ کمپنی کا برانڈ ڈاکٹر نسخہ لکھتے وقت دوا کے نام کے بجائے اس کا سائنسی نام درج کرتا ہے، اور فارماسسٹ مریض کو اسی سالٹ کی مناسب اور سستی ترین دستیاب دوا فراہم کرتا ہے۔۔۔اس سادہ مگر موثر طریقہ کار نے نہ صرف ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھا بلکہ دواساز کمپنیوں کی اجارہ داری، غیر ضروری مارکیٹنگ، اور ڈاکٹرز پر اثر انداز ہونے کے کلچر کو بھی بڑی حد تک محدود کیا۔

اس کے برعکس پاکستان میں صورتحال الٹ ہے۔۔۔۔۔ یہاں “میڈیکل ریپ” ایک پورا مافیا بن چکا ہے۔۔۔۔ڈاکٹرز کو بیرون ملک دوروں، قیمتی تحائف، سیمینارز اور دیگر مراعات کے ذریعے متاثر کیا جاتا ہے، اور اس کے بدلے میں مخصوص کمپنیوں کی مہنگی ادویات مریضوں پر مسلط کی جاتی ہیں۔ مریض کو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ وہ جو دوا خرید رہا ہے، اس کا سستا متبادل بازار میں موجود ہے یا نہیں۔ نتیجہ؟ ایک عام آدمی کے لیے علاج ایک معاشی بوجھ بن چکا ہے۔

ایسے ماحول میں پنجاب حکومت کا یہ اقدام کہ ڈاکٹرز کو نسخے میں برانڈ نیم کے بجائے دوا کا سالٹ لکھنے کا پابند کیا جائے، ایک انقلابی قدم ہے۔۔۔۔۔یہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ صحت کے شعبے میں شفافیت، انصاف اور عوامی ریلیف کی طرف ایک واضح پیش رفت ہے۔ اگر اس قانون پر سختی سے عملدرآمد کیا گیا تو اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔

سب سے پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ ادویات کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔۔۔۔۔جب مریض کے پاس ایک ہی سالٹ کی متعدد کمپنیوں کی ادویات کا انتخاب ہوگا تو وہ اپنی استطاعت کے مطابق سستی دوا خرید سکے گا۔۔۔ دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ڈاکٹر اور کمپنی کے درمیان موجود مفادات کا تصادم کم ہوگا، کیونکہ نسخے میں برانڈ لکھنے کی گنجائش ہی ختم ہو جائے گی۔ یوں علاج کا فیصلہ مریض کے مفاد میں ہوگا، نہ کہ کسی کمپنی کے منافع کے لیے۔

یقیناً اس اقدام کی راہ میں رکاوٹیں بھی آئیں گی۔ دواساز کمپنیاں، میڈیکل ریپ نیٹ ورک اور وہ عناصر جو اس نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، مزاحمت کریں گے۔ مختلف حیلے بہانوں سے اس قانون کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش کی جائے گی مگر۔۔۔۔

سوال یہ ہے کہ کیا ریاست عوام کے مفاد کے سامنے ان مفاد پرست گروہوں کے آگے جھک جائے؟ اگر ایسا ہوا تو پھر “ریاست” اور “کارپوریٹ مافیا” میں فرق باقی نہیں رہے گا۔

یہ بھی ضروری ہے کہ اس قانون کے ساتھ ساتھ فارمیسی کے نظام کو بھی مضبوط کیا جائے، تاکہ مستند فارماسسٹ ہی دوا کی فراہمی یقینی بنائیں۔ جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے، اور ڈاکٹرز کے لیے واضح احتسابی میکنزم وضع کیا جائے۔ صرف قانون بنانا کافی نہیں، اس پر عملدرآمد ہی اصل امتحان ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ صحت کا شعبہ کسی بھی ریاست کی اخلاقی بنیاد کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اگر یہاں انصاف نہیں، تو کہیں نہیں۔ پنجاب حکومت نے ایک درست سمت میں قدم اٹھایا ہے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے ادھورا نہ چھوڑا جائے۔ یہ اصلاح صرف ادویات کے نام بدلنے کی نہیں، بلکہ پورے نظام کو انسان دوست بنانے کی ہے۔

اگر یہ قانون واقعی نافذ ہو گیا، تو شاید پہلی بار پاکستان میں مریض کو یہ احساس ہو کہ اس کی جیب نہیں، اس کی صحت اصل ترجیح ہے۔

آپ نے دیکھا کہ پنجاب حکومت نے ڈاکٹرز پر میڈیسن کو سالٹ نیم سے لکھنے پر قانون سازی کا عمل شروع کیا تو کس طرح اس کو مشکوک بنانے والے جو کہ اصل میں انہیں فارما کمپنیز کا ہی کام کر رہے ہوتے ہیں یکدم میدان میں کود آئے ہیں اور مختلف حیلے بہانوں سے اسی انسانی نفسیات سے کھیلنا شروع ہو گئے ہیں۔
فارما کمپنیز کے کاروبار سے متعلق جب کھوج لگائی تو یہ جان کر حیرت زدہ رہ گیا کہ نوے فیصد ادویات میں استعمال ہونے والے سالٹ اور تیاری کی قیمت دس فیصد سے بھی کم ہوتی ہے اور باقی نوے فیصد میڈیکل ریپریزیٹیٹو ،ڈاکٹر اور میڈیکل سٹور والوں کے اخراجات ہیں۔
کیا یہ ریشو آپکو کسی بھی طور منصفانہ لگتا ہے؟
اپنی تیار کردہ میڈیسن کا اصلی،خالص، اور مفید ترین ثابت کرنے کے لیے فارما کمپنیز کا اصل ہتھیار ظاہر ہے ڈاکٹرز اور میڈیکل سٹور والے ہی ہوتے ہیں جن پر سرمایہ کاری ہی کسی فارما کمپنی کی بنائی میڈیسن کی فروخت میں کامیابی دلاتی ہے۔
سالٹ نیم سے میڈیسن کی فروخت میڈیسن بنانے والی کمپنی کو اس دوڑ سے فارغ کر دیتی ہے اور پھر مقابلہ رہ جاتا ہے معیار کا جس سے کمپنیز کی بطور مافیا گرفت ختم ہو جاتی ہے۔
آج لوگ کہہ رہے ہیں کہ ڈاکٹرز کو مائینس کیا گیا تو میڈیکل سٹور والے مافیا بن جائیں گے تو اسکا بڑا آسان حل ہے اور وہ یہ ہے کہ حکومت فارما انڈسٹری پر مانیٹرنگ سخت کر دے اور میڈیسن کے فارمولے اور ملاوٹ پر کنٹرول کر کے وہی میڈیسن میڈیکل سٹور تک پہنچنے دے جو معیار کے مطابق ہو آپ بتائیں کی اسکے بعد میڈیکل سٹور والا کیا اکھاڑ لے گا جب عوام کو یقین ہو گا کہ ہر میڈیسن مکمل طور پر فارمولے کے مطابق ہے اور ایک جیسے سالٹ پر مبنی ہونے کی وجہ سے ایک جیسی فایدہ مند ہے؟

آخر میں یہ کہہ دوں کہ مجھے یقین ہے کہ سیاست کے مارے عوام حکومت کی بجائے فارما مافیا کے ساتھ ہی کھڑے ہونگے اور اس نہایت احسن کام میں ایسے ایسے کیڑے نکال کر فارما مافیا کے ہاتھ مضبوط کریں گے جن سے وہ انہی عوام کی دھوتی اتارنے میں کسی قسم کی مشکل محسوس نہ کریں۔
کم از کم آج تک تو یہی ہوتا آیا ہے۔
ناصر بٹ

08/05/2026

عمران خان کا وژن!

جب نیا ائرپورٹ بنا تو پرانے ائرپورٹ کی ہزاروں ایکڑ زمین فارغ ہوگئی جو ائرفورس کی ملکیت تھی۔ ہمارے اس وقت کے پراپرٹی ڈیلر وزیراعظم عمران خان جنرل فیض حمید کے ساتھ ملکر اس پر بھی سوسائٹی بنانا چاہتے تھے۔ وزیراعظم کے اس فیصلے کے خلاف ائر چیف بابر سدھو نے سٹینڈ لیا اور انہوں نے اسلام آباد کے اولڈ ائیرپورٹ پر ہائوسنگ سوسائٹی بنانے کے بجائے نیسٹپ (NASTP) بنایا‘ پورے پاکستان سے ٹیلنٹ جمع کیا اور انہیں سائبر سیکورٹی اور سائبر وار پر لگا دیا۔ اس پر بابر سدھو عمران خان کی گڈ بکس سے نکل گئے۔
تاہم ائر چیف اس پراجیکٹ پر لگے رہے۔ یہ انتہائی مہنگا پراجیکٹ تھا جب کہ پاکستان اور ائیرفورس دونوں کے خزانے خالی تھے‘ ائیرچیف نے یہ اخراجات پورے کرنے کے لیے ائیرفورس کے تمام اخراجات پر کٹ لگا دیا‘ فنکشنز ختم کر دیے یا سادہ کر دیے گئے‘ ہائوسنگ کالونیاں اور بیرکس کی تعمیر بند کر دی‘ گالف کورسز کے میچ اور فنڈز بند کر دیے‘ انٹرٹینمنٹ کے بجٹ زیرو کر دیے اور بیرونی دورے اور غیر ضر وری ایکسرسائز پر پابندی لگا دی اور ساری رقم سائبر ٹیکنالوجی اور ٹریننگز پر خرچ کرنے لگے‘ ائیرفورس اپنے نئے چیف کی ’’کنجوسی‘‘ اور خبط پر حیران اور پریشان تھی لیکن یہ شخص آنے والے وقت کو بھانپ گیا تھا‘ یہ جانتا تھا ہم نے اگر عقل سے کام نہ لیا تو ہم بھارت کی ماتحت قوم بن کر رہ جائیں گے چناں چہ یہ دن رات فوکس ہو کر آنے والے وقت کی پیش بندی کرتے رہے۔
بعد میں انڈیا کے خلاف معرکہ حق نے ثابت کر دیا کہ ائرچیف بابر سدھو کا وہ فیصلہ کتنا درست اور بروقت تھا۔ معرکہ حق میں اسی سائبر ونگ نے انڈیا کے خلاف جنگ جتوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ سوچیں اگر سائبر فورس کی جگہ عمران خان وہاں سوسائٹی بنانے میں کامیاب ہوجاتا تو؟
یاد رہے کہ عمران خان ہی کا وژن تھا دریائے راوی کے بیڈ پر سوسائٹی بنانے کا جو پچھلے سال انڈیا کے چھوڑے گئے پہلے سیلاب میں بہہ گئی۔
معرکہ حق سے یاد آیا کہ عمران خان تو فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی چیف بننے کے سخت خلاف تھے۔ لیکن اسی عاصم منیر نے معرکہ حق کی کمانڈ کی اور انڈیا کو تاریخی شکست دے کر پاکستان کا نام دنیا میں بلند کیا۔

عمران خان کے بےمثال وژن کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں۔
مثلاً وہ ضرب عضب میں بھاگے تمام دہشتگردوں کو واپس لے آئے تھے۔ ان کا وژن تھا کہ اس سے ملک میں دہشتگردی ختم ہوجائیگی۔
وہ بضد رہے کہ افغان طالبان کے پاؤں پکڑ کر انکے منت ترلے کیے جائیں تو وہ پاکستان میں دہشتگردی بند کر دینگے لیکن فیلڈ مارشل اور موجودہ حکومت نے عمران خان کے وژن کے برعکس ان پر حملے کیے اور یکلخت دہشتگردانہ حملوں میں 90٪ کمی ہوگئی۔

لوگوں کو انڈوں اور مرغیوں کے ذریعے مالدار کرنے کا وژن بھی عمران خان کا تھا اور عثمان بزدار، گنڈاپور اور سہیل آفریدی جیسے شاہکار بھی عمران خان کا وژن ہیں۔ اقتدار واپس لینے کے لیے فوجی تنصیبات پر حملوں سمیت خود کو جیل سے نکلوانے کے لیے چھتوں پر اذانیں دینے اور سڑک کے بیچ میں بیٹھ قرآن خوانیاں کروانے کے نرالے منصوبے بھی اسی شخص کے عظیم وژن کا شاہکار ہیں۔ پھر لوگ حیران ہوتے ہیں کہ عمران خان کا کوئی منصوبہ کبھی کامیاب کیوں نہیں ہوتا۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Harley Street
Islamabad