25/04/2026
🕋✨ جمرات کمپلیکس – منیٰ، مکہ مکرمہ 🤍
یہ وہ عظیم اور منظم مقام ہے جہاں حج کے دوران رمی الجمرات (شیطان کو کنکریاں مارنے) کا عمل ادا کیا جاتا ہے
اس تصویر میں نظر آنے والا وسیع اور جدید نظام دراصل: 1️⃣ جمرہ صغریٰ
2️⃣ جمرہ وسطیٰ
3️⃣ جمرہ کبریٰ (عقبہ)
یہ تینوں مقامات حج کے اہم مناسک میں سے ہیں، جہاں لاکھوں حاجی ایک منظم اور محفوظ نظام کے تحت عبادت ادا کرتے ہیں 🤍
🏗️ یہ پورا جمرات برج (Multi-level Bridge) ہے، جو اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ حجاج کرام کو بھیڑ سے بچا کر آسانی اور حفاظت کے ساتھ رمی کروائی جا سکے۔
🚶♂️🚶♀️ یہاں لاکھوں افراد ایک ہی وقت میں عبادت کرتے ہیں، مگر نظام ایسا ہے کہ ہر چیز ترتیب اور سکون کے ساتھ چلتی ہے۔
22/04/2026
.
جب آپ بقیع میں داخل ہوتے ہیں..
اور وقت اور مقام کی ہوائیں آپ کے چہرے کو چھوتی ہیں..
تو آپ خود کو تاریخ کے سامنے کھڑا پاتے ہیں..
اور سیرتِ نبوی کے خوشبودار تذکروں کے روبرو..
آمنے سامنے، گویا آپ 1447 سال پیچھے لوٹ گئے ہوں..
کیونکہ یہاں 10 ہزار سے زائد صحابہ اور صحابیات موجود ہیں..
جن کے پاکیزہ اجسام اس طیب و طاہر مٹی میں مدفون ہیں..
اور جب آپ نبی کریم ﷺ کی صاحبزادیوں (زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہن) کی قبروں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں..
تو ان کی سیرتیں جاگ اٹھتی ہیں اور گویا آپ ان کی زندگی کے صفحات شروع سے آخر تک پڑھ رہے ہوں..
خوبصورت نور کی کرنیں پھوٹتی ہیں..
اور ان کے عظیم مناقب کی روشنیاں چمکتی ہیں..
قبروں کا قرب محسوس ہوتا ہے..
اور آپ کی آنکھوں میں آنسوؤں کی لہریں امڈ آتی ہیں..
جبکہ آپ کے دل میں محبت کے شوق زندہ ہو جاتے ہیں..
اللھم صل وسلم وبارک علی نبینا وحبیبنا وشفیعنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم
21/04/2026
دنیا کی حقیقت سے صرف چار لوگ واقف ہیں یتیم بچہ محتاج آدمی بدصورت عورت اور بے روزگار نوجوان
21/04/2026
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے بعد ان پر ہونے والے مظالم کی داستان تاریخِ اسلام کا ایک نہایت درخشاں اور رقت انگیز باب ہے۔ جب امیہ بن خلف کو ان کے اسلام لانے کا علم ہوا تو وہ غصے میں آپے سے باہر ہو گیا، کیونکہ بلال اس کے غلام تھے اور اس دور کے جاہلانہ معاشرے میں غلام کا اپنے مالک کے دین سے انحراف کرنا سنگین جرم سمجھا جاتا تھا۔
امیہ بن خلف حضرت بلال کو تپتی ہوئی دوپہر میں مکہ کی کنکریلی اور جلتی ہوئی زمین پر لٹا دیتا۔ وہ ان کے سینے پر ایک بھاری اور گرم چٹان رکھ دیتا تاکہ وہ حرکت نہ کر سکیں اور ان سے کہتا کہ یا تو اسی حال میں مر جاؤ یا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ساتھ چھوڑ کر لات اور عزیٰ کی بندگی قبول کر لو۔
شدتِ تکلیف، پیاس اور تپتی ریت کی جلن کے باوجود حضرت بلال کی زبان پر ذرہ برابر بھی لغزش نہ آتی۔ وہ ان تمام اذیتوں کے جواب میں کلمہ کفر کہنے کے بجائے پوری ہمت اور استقامت سے "احد، احد" پکارتے تھے، جس کا مطلب ہے کہ "اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے"۔
ان کا یہ اندازِ بیان امیہ کو مزید اشتعال دلاتا تھا۔ وہ ان کے گلے میں رسی ڈال کر مکہ کے شریر لڑکوں کے حوالے کر دیتا جو انہیں مکہ کی گلیوں اور گھاٹیوں میں گھسیٹتے پھرتے، لیکن حضرت بلال کی زبان سے مسلسل "احد، احد" کی صدا بلند ہوتی رہتی۔ ان کا یہ عمل اس بات کی گواہی تھا کہ ایمان کی مٹھاس جب دل میں اتر جائے تو جسمانی تکلیف ہیچ ہو جاتی ہے۔ بالآخر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس ظلم کو دیکھا تو انہیں بھاری قیمت ادا کر کے خرید لیا اور اللہ کی رضا کے لیے آزاد کر دیا۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو یہ تکلیفیں مکہ مکرمہ کے ارد گرد پھیلی ہوئی پتھریلی اور ریتیلی زمین پر دی جاتی تھیں۔ تاریخی روایات میں خاص طور پر مکہ کی ان گھاٹیوں اور میدانوں کا ذکر ملتا ہے جہاں سورج کی تپش براہِ راست ریت اور کنکریوں کو دہکا دیتی تھی۔
اس مقام کو عام طور پر "بطحاء مکہ"کہا جاتا ہے، جو کہ مکہ کا وہ ہموار اور کھلا علاقہ تھا جو شدید گرمی کی لپیٹ میں رہتا تھا۔ امیہ بن خلف انہیں دوپہر کے وقت اسی تپتی ہوئی وادی (البطحاء) میں لے جاتا تھا تاکہ زمین کی تپش اور اوپر سے سورج کی شعاعیں مل کر اذیت میں مزید اضافہ کریں۔ یہاں کی زمین اس قدر گرم ہو جاتی تھی کہ اس پر گوشت کا ٹکڑا رکھا جاتا تو وہ بھی بھن جاتا، مگر اسی سرزمین پر حضرت بلال "احد احد" کی صدا بلند کرتے تھے۔
اس واقعے کی تفصیلات سیرت کی مستند کتابوں میں موجود ہیں جن میں سے اہم درج ذیل ہیں
۱۔ سیرت ابن ہشام، جلد اول (ذکرِ اسلام لانے والے صحابہ اور ان کی آزمائش)
۲۔ الرحیق المختوم، صفی الرحمن مبارکپوری (مکی دور کے مظالم کا بیان)
۳۔ اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ابن اثیر (حضرت بلال حبشی کا تذکرہ)
صل اللہ علیہ والہ وصحبہ وبارک وسلم ❤️❤️❤️
20/04/2026
ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا کہ تمہارے نزدیک ایمان کے اعتبار سے سب سے زیادہ حیران کن (کامل) ایمان کن لوگوں کا ہے؟
صحابہ نے عرض کیا کہ "فرشتوں کا"۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا ایمان لانا تو ظاہر ہے کیونکہ وہ اللہ کے پاس رہتے ہیں۔
پھر صحابہ نے "انبیاء" کا ذکر کیا، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تو اللہ سے وحی حاصل کرتے ہیں، ان کا ایمان لانا بھی یقینی ہے۔
صحابہ نے عرض کیا کہ "پھر ہمارا (صحابہ کا) ایمان"۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم تو مجھے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو، تمہارا ایمان لانا تو فطری ہے۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نزدیک ایمان کے اعتبار سے سب سے زیادہ حیرت انگیز اور قابلِ رشک وہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گے، وہ صرف کاغذوں میں لکھی ہوئی باتوں (قرآن و سنت) پر ایمان لائیں گے اور مجھ سے ایسی والہانہ محبت کریں گے کہ ان میں سے ہر ایک کی یہ تمنا ہوگی کہ کاش وہ اپنا مال، اولاد اور سب کچھ قربان کر کے میرا ایک دیدار کر سکے۔
سبحان اللہ کیا شان ہے ان امتیوں کی جو رسول اللہ ﷺ ❤️ سے اس قدر محبت رکھتے ہیں اور صرف یہی کہتے ہیں ہمیں رسول اللہ ﷺ ❤️ کی بات بتاؤ ۔
20/04/2026
رسول اللہ ﷺ کے مبارک دور میں مطاف (طواف کی جگہ) کی پیمائش آج کے دور کی طرح باقاعدہ حد بندیوں کے ساتھ موجود نہیں تھی، کیونکہ اس وقت بیت اللہ کے گرد کوئی دیوار یا باقاعدہ عمارت نہیں تھی۔ کعبہ کے گرد ایک کھلا میدان تھا جسے "مسجد الحرام" کہا جاتا تھا اور صحابہ کرام کے مکانات اس کھلے صحن کے گرد بنے ہوئے تھے۔
تاریخی اور علمی روایات کے مطابق، اس دور میں مطاف کی چوڑائی تقریباً **7.5 میٹر سے 10 میٹر** (تقریباً 15 سے 20 ہاتھ) کے لگ بھگ سمجھی جاتی تھی۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں زمین ہموار تھی اور لوگ طواف کرتے تھے۔ چونکہ اس وقت کعبہ کے ارد گرد کوئی مستقل رکاوٹ یا ستون نہیں تھے، اس لیے طواف کرنے والے ضرورت کے مطابق کھلے میدان میں دور تک بھی جا سکتے تھے، لیکن عام طور پر طواف اسی قریبی دائرے میں کیا جاتا تھا جو کعبہ کی دیواروں سے قریب تر تھا۔
مطاف کی پہلی باقاعدہ توسیع اور حد بندی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوئی جب انہوں نے کعبہ کے گرد موجود مکانات خرید کر انہیں گرا دیا اور ایک چھوٹی دیوار تعمیر کروائی تاکہ مطاف کی جگہ وسیع اور متعین ہو سکے۔ اس سے پہلے یہ محض ایک سادہ اور کھلا صحن تھا جس کی وسعت محدود تھی۔
مطاف کی چوڑائی اور قدیم مکہ کی حالت کے بارے میں یہ تفصیلات تاریخِ مکہ اور سیرت کی قدیم مستند کتابوں میں ملتی ہیں۔ خاص طور پر درج ذیل کتابوں میں اس کا تذکرہ موجود ہے:
امام ازرقی کی کتاب "اخبار مکہ" (کتاب أخبار مكة وما جاء فيها من الآثار) اس موضوع پر سب سے قدیم اور بنیادی ماخذ مانی جاتی ہے۔ انہوں نے تفصیل سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کعبہ کے گرد کوئی دیوار نہیں تھی اور لوگ گھروں کے درمیان موجود کھلی جگہ میں طواف کرتے تھے۔
اس کے علاوہ امام فاسی کی "شفاء الغرام بأخبار البلد الحرام" اور علامہ محب الدین طبری کی "القریٰ لقاصد ام القریٰ" میں بھی مطاف کی ابتدائی حالت اور بعد میں ہونے والی توسیعات کا ذکر ملتا ہے۔
ان کتابوں میں بیان کیا گیا ہے کہ اس دور میں مطاف کی جگہ اتنی ہی تھی جتنی کعبہ اور اس کے گرد بنے ہوئے گھروں کے درمیان خالی جگہ دستیاب تھی۔ اس کا تخمینہ مختلف تاریخی روایات کی روشنی میں وہی نکلتا ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے، کیونکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں جب پہلی بار گھروں کو خرید کر مسجد کو وسعت دی گئی تو اس وقت مطاف کی ایک باقاعدہ حد مقرر کی گئی تھی۔
اور آج کے دور میں الحمد اللہ مسجد الحرام دنیا کی سب سے بڑی مسجد ہے
بیت اللہ کے گرد طواف کے لیے مخصوص جگہ یعنی مطاف کی وسعت میں سعودی دورِ حکومت، خصوصاً شاہ عبداللہ اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ادوار میں تاریخی اضافہ کیا گیا ہے۔ موجودہ دور میں مطاف کی گنجائش اور رقبے کی تفصیل کچھ یوں ہے
مطاف کا موجودہ مجموعی رقبہ تمام منزلوں (صحنِ کعبہ، پہلی منزل، دوسری منزل اور چھت) کو ملا کر تقریباً 76,000 مربع میٹر سے زائد بنتا ہے۔ صرف کعبہ کے بالکل سامنے والا کھلا صحن (Ground Floor) تقریباً 18,000 سے 20,000 مربع میٹر پر محیط ہے، جہاں زائرین براہِ راست بیت اللہ کے سامنے طواف کرتے ہیں۔
زائرین کی گنجائش کے حوالے سے حالیہ توسیعات کے بعد مطاف کی صلاحیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
اب مطاف کی تمام منزلوں پر ایک گھنٹے میں تقریباً 1,07,000 افراد کے طواف کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اگر صرف صحنِ کعبہ (Ground Floor) کی بات کی جائے تو وہاں ایک گھنٹے میں تقریباً 30,000افراد طواف کر سکتے ہیں۔
یہ گنجائش اس لیے ممکن ہوئی ہے کیونکہ مطاف کو کئی منزلوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے اور جدید انجینئرنگ کے ذریعے ستونوں کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ طواف کرنے والوں کے راستے میں کم سے کم رکاوٹ آئے۔ اس توسیعی منصوبے کا مقصد حج اور رمضان جیسے بڑے سیزن میں لاکھوں افراد کو ایک ساتھ طواف کی سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ بھگدڑ یا اژدھام کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
صل اللہ علیہ والہ وصحبہ وبارک وسلم ❤️❤️❤️
20/04/2026
کعبہ شریف کے غلاف (کسوہ) کو حج کے ایام میں اوپر کی جانب تہہ کر کے نیچے جو سفید کپڑا لگایا جاتا ہے، اسے عام اصطلاح میں 'احرامِ کعبہ' کہا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے کچھ بہت ہی اہم اور عملی وجوہات چھپی ہوئی ہیں۔
اس کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ کعبہ شریف کے غلاف کی حفاظت کرنا ہے۔ حج کے دوران لاکھوں کی تعداد میں حاجی بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں اور عقیدت میں غلاف کو چھوتے یا اس سے لپٹتے ہیں۔ اس ہجوم میں غلاف کے کٹ جانے، اسے نقصان پہنچنے یا میلا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ سفید کپڑا لگانے سے غلافِ کعبہ محفوظ ہو جاتا ہے اور اسے بلندی پر کرنے سے لوگ اس تک آسانی سے پہنچ نہیں پاتے، جس سے اس کی نفاست برقرار رہتی ہے۔
ایک اور خوبصورت پہلو اس کی علامت ہے؛ جس طرح حاجی احرام پہن کر اللہ کے حضور حاضر ہوتے ہیں، اسی طرح کعبہ کو بھی سفید کپڑے میں ڈھانپ کر ایک طرح سے حج کے سیزن کے آغاز اور اس کی خاص حرمت کا اعلان کیا جاتا ہے۔ یہ سفید رنگ امن اور پاکیزگی کی نشانی سمجھا جاتا ہے جو حج کے ماحول سے پوری طرح میل کھاتا ہے🌹
جہاں تک اس کی تاریخ کا تعلق ہے، تو کعبہ کو غلاف پہنانے کی روایت تو صدیوں پرانی ہے، لیکن غلاف کو اوپر اٹھا کر نیچے سفید کپڑا لگانے کا یہ مخصوص طریقہ کار سعودی دورِ حکومت میں زیادہ باقاعدگی اور نظم و ضبط کے ساتھ اپنایا گیا۔
اس سے پہلے بھی مختلف ادوار میں غلاف کی حفاظت کے لیے تدابیر کی جاتی تھیں، مگر اب یہ ایک باقاعدہ سالانہ روایت بن چکی ہے جسے حرمین شریفین کی انتظامیہ بہت اہتمام سے سرانجام دیتی ہے۔ جب حج کا سیزن ختم ہو جاتا ہے اور حجاج واپس چلے جاتے ہیں، تو اس سفید کپڑے کو ہٹا کر غلاف کو دوبارہ اپنی اصل حالت میں نیچے تک چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ سارا عمل کعبہ کی عظمت اور اس کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
صل اللہ علیہ والہ وصحبہ وبارک وسلم🌷❤️🌹
20/04/2026
حطیم کے شمال کی جانب باب فتح کے رخ پر ایک نمایاں پلر ہے یہاں قریش مکہ کی پارلیمنٹ دار ندوا ہوا کرتی تھی
قریشِ مکہ نے جب یہ دیکھا کہ اسلام کی دعوت روز بروز پھیل رہی ہے اور صحابہ کرام ہجرت کر کے مدینہ جا رہے ہیں، تو وہ سخت پریشان ہوئے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے قریش کے تمام بڑے سرداروں نے مکہ کی پارلیمنٹ یعنی "دار الندوہ" میں ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا تاکہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔
سیرت کی مستند کتابوں جیسے "سیرت ابن ہشام" اور "الرحیق المختوم" میں اس واقعے کی تفصیل کچھ یوں ملتی ہے کہ جب قریش کے بڑے بڑے سردار جیسے ابو جہل، عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف وغیرہ دار الندوہ کے دروازے پر جمع ہوئے، تو وہاں ایک بزرگ شخص کھڑا تھا جس نے نہایت قیمتی لباس زیب تن کر رکھا تھا۔ سرداروں کے پوچھنے پر اس نے اپنی پہچان "نجد کے ایک شیخ" (شیخ نجدی) کے طور پر کروائی اور کہا کہ میں نے تمہارے اجتماع کے بارے میں سنا تو سوچا کہ میں بھی شریک ہو جاؤں، شاید میری رائے تمہارے کام آ جائے۔ قریش نے اسے اندر آنے کی اجازت دے دی، حالانکہ وہ حقیقت میں ابلیس تھا جو انسانی روپ دھار کر آیا تھا۔
اجلاس کے دوران جب مشورے شروع ہوئے تو ایک نے رائے دی کہ محمد (ﷺ) کو جلاوطن کر دیا جائے، لیکن اس نجدی شیخ (ابلیس) نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گفتگو میں جادو ہے، وہ جہاں جائیں گے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیں گے اور پھر تم پر حملہ آور ہوں گے۔ دوسرا مشورہ یہ دیا گیا کہ انہیں لوہے کی سلاخوں کے پیچھے قید کر دیا جائے، لیکن ابلیس نے اسے بھی ناپسند کیا اور کہا کہ ان کے ساتھی انہیں چھڑا کر لے جائیں گے۔
آخر میں ابوجہل نے اپنی رائے پیش کی کہ ہر قبیلے سے ایک ایک مضبوط جوان لیا جائے اور وہ سب مل کر ایک ساتھ آپ ﷺ پر تلواروں سے وار کر کے انہیں شہید کر دیں، اس طرح ان کا خون تمام قبائل میں بٹ جائے گا اور بنو عبد مناف تمام قبائل سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھیں گے، جس کے نتیجے میں وہ خون بہا (دیت) لینے پر راضی ہو جائیں گے۔ ابلیس نے اس رائے کو بہت سراہا اور کہا کہ یہی سب سے بہتر تدبیر ہے۔
قریش اسی شیطانی مشورے پر متفق ہو کر منتشر ہو گئے، لیکن اسی رات اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھیج کر رسول اللہ ﷺ کو اس سازش کی اطلاع دی اور ہجرت کی اجازت عطا فرمائی۔ یہ واقعہ سیرت ابن ہشام (جلد 2، صفحہ 124-126) اور البدایہ والنہایہ (جلد 3، صفحہ 175) میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔
فتح مکہ کے بعد دار الندوہ کی وہ حیثیت ختم ہوگئی جو زمانہ جاہلیت میں اسے حاصل تھی۔ جب مکہ مکرمہ فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے عام معافی کا اعلان فرمایا اور مکہ کی سیاسی و سماجی کایا پلٹ گئی۔
دار الندوہ جو قریش کی پارلیمنٹ اور سازشوں کا گڑھ تھا، اسے رسول اللہ ﷺ نے منہدم نہیں کیا بلکہ یہ مکہ کے دیگر گھروں کی طرح ایک عمارت کے طور پر قائم رہا۔
تاریخ کے مطابق فتح مکہ کے وقت اس کی ملکیت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے پاس تھی، جو قریش کے معززین میں سے تھے اور ایمان لے آئے تھے۔
بعد ازاں اموی دورِ حکومت میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حکیم بن حزام سے یہ مکان ایک بڑی رقم (تقریباً ایک لاکھ درہم) کے عوض خرید لیا اور اسے شاہی رہائش گاہ یا 'دار الامارہ' کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ عباسی دور تک یہ عمارت اسی حالت میں رہی اور خلفاء جب حج کے لیے مکہ آتے تو یہاں قیام کرتے تھے۔
تاریخی حوالوں (جیسے اخبارِ مکہ از ازرقی) کے مطابق عباسی خلیفہ المعتضد باللہ کے دور میں مسجد حرام کی توسیع کے دوران دار الندوہ کو منہدم کر کے مسجد حرام کے رقبے میں شامل کر لیا گیا تھا۔ آج کے دور میں جہاں مسجدِ حرام کا شمالی حصہ اور مقامِ ابراہیم کے قریب کے کچھ حصے ہیں، وہیں کسی زمانے میں دار الندوہ واقع تھا۔
اس کا حوالہ "اخبار مکہ" (امام ازرقی) اور "فتوح البلدان" (بلاذری) میں تفصیل سے ملتا ہے کہ کس طرح یہ جگہ بتدریج مسجدِ حرام کی توسیع کا حصہ بن گئی۔
06/04/2026
غزوۂ اُحد کے بعد جب حضورِ اقدس ﷺ اپنے محبوب چچا سیدالشہداء حضرت امیر حمزہؓ کے جسدِ مبارک کے پاس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ دشمنوں نے نہایت ظلم کے ساتھ آپؓ کے جسمِ مبارک کا مثلہ کیا ہے۔
یہ منظر دیکھ کر نبی کریم ﷺ انتہائی رنجیدہ اور غمگین ہو گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس سے زیادہ تکلیف دہ منظر آپ نے کبھی نہیں دیکھا۔ شدتِ غم میں آپ ﷺ کے دل میں آیا کہ اس ظلم کا بدلہ لیا جائے۔
اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
"اور اگر تم بدلہ لو تو اتنا ہی لو جتنی تمہیں تکلیف دی گئی، اور اگر تم صبر کرو تو یقیناً صبر کرنے والوں کے لیے یہی بہتر ہے..."
یہ حکم سن کر نبی کریم ﷺ نے عرض کیا:
"اے میرے رب! ہم صبر کریں گے۔"
اور آپ ﷺ نے بدلہ لینے کا ارادہ ترک فرما دیا۔
پھر آپ ﷺ نے اپنے پیارے چچا کے بارے میں فرمایا:
"اے چچا! آپ پر اللہ کی رحمت ہو، آپ نیکی کرنے والے اور صلہ رحمی کرنے والے تھے۔"
آپ ﷺ نے حضرت حمزہؓ کے جنازے کے پاس کھڑے ہو کر اس قدر گریہ فرمایا کہ قریب تھا کہ آپ ﷺ پر غشی طاری ہو جائے۔
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آ کر یہ خوشخبری دی کہ:
"حمزہ بن عبدالمطلبؓ کو آسمانوں میں 'اللہ اور اس کے رسول کے شیر' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔"
نبی کریم ﷺ کو حضرت حمزہؓ سے بے حد محبت تھی۔ روایت ہے کہ آپؓ کے جنازے کے ساتھ دیگر شہداء کو لایا جاتا اور ہر بار آپؓ کا جنازہ بھی ساتھ پڑھا جاتا رہا۔
کئی سال بعد، حضرت معاویہؓ کے دور میں جب اُحد کے میدان میں نہر کی کھدائی ہوئی تو بعض شہداء کی قبریں کھل گئیں۔ لوگوں نے دیکھا کہ ان کے کفن سلامت تھے اور جسم تروتازہ تھے، گویا وہ آرام فرما رہے ہوں۔
جب ایک شہید کے زخم کو چھوا گیا تو اس سے تازہ خون بہنے لگا۔ یہ منظر دیکھ کر سب حیران رہ گئے۔
اور یہ عظیم شہید کوئی اور نہیں بلکہ
سیدالشہداء حضرت امیر حمزہؓ تھے۔
صبر، قربانی اور اللہ کی راہ میں جان دینے والوں کا مقام بہت بلند ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو ایسی عزت عطا فرماتا ہے جو دنیا و آخرت میں باقی رہتی ہے۔
06/04/2026
🪶 مقبرہ المعلاة، مکہ مکرمہ
مقبرہ المعلاة مکہ مکرمہ کے مشہور مقامات میں سے ایک ہے اور یہ طریق الحجون کے آغاز میں واقع ہے، بالکل دائیں طرف، ان لوگوں کے لیے جو حرم مکرم کی طرف جاتے ہیں، خاص طور پر حی المعابدة کے علاقے میں۔
یہ قبرستان نہ صرف دفن کے لیے مخصوص ہے بلکہ یہاں موتیوں کو غسل اور کفن دینے کے لیے مکمل انتظامات بھی موجود ہیں۔ مقبرے میں ایمرجنسی گاڑیاں اور ایمبولینسز بھی ہیں جو میتیں منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، اور یہ سب امانتِ دارالحکومت مقدسہ کی نگرانی میں ہوتا ہے۔
مقامی طور پر اس کا نام عام طور پر "المعلا" بھی کہا جاتا ہے۔ عام طور پر مکہ مکرمہ کے شہری مسجد الحرام میں نماز جنازہ کے بعد میت کو مقبرہ المعلاة لے جاتے ہیں کیونکہ یہ حرم سے قریب ہے۔
یہ قریباً قدیم ترین مقابر میں سے ایک ہے، اور اسے اس لیے "المعلاة" کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مکہ کے بلند ترین مقام پر واقع ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جو جہالت اور اسلام کے دور میں بھی موجود تھی۔
مقبرہ المعلاة جبل الحجون کے دامن پر جنوب مغرب میں پھیلا ہوا ہے اور اس کے مغرب میں جبل السلیمانیہ اور مشرق میں جبل الحجون واقع ہے۔
🪶 مشہور افراد جو یہاں دفن ہیں:
حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا – ام المومنین
حضرت القاسم رضی اللہ عنہ – بیٹے نبی کریم ﷺ
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ – بیٹے نبی کریم ﷺ
حضرت عبد المطلب بن ہاشم – جد نبی ﷺ
حضرت ابو طالب بن عبد المطلب – عم نبی ﷺ
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ – صحابی
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا – صحابیہ
حضرت سمیہ بنت خیاط رضی اللہ عنہا – صحابیہ
حضرت زینب بنت مظعون رضی اللہ عنہا – صحابیہ
حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ – صحابی
امام ابن حجر الہیتمی رحمۃ اللہ علیہ
خلیفہ عباسی ابو جعفر المنصور رحمۃ اللہ علیہ
یہ قبرستان نہ صرف اہل مکہ کے لیے ایک عمومی قبرستان ہے بلکہ اسلامی تاریخ اور نبی ﷺ کے قریبی لوگوں کی یادگاروں سے بھرا ہوا ہے۔