11/07/2026
فرقہ واریت، لسانیت اور مذہبی تفرقہ بازی سے پاک سیاست ہی ایک مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ ایسی سیاست میں ہر شہری کو بلاامتیاز مذہب، زبان، نسل یا علاقے کے برابر حقوق دیے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد عوام کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ انہیں اتحاد، بھائی چارے اور باہمی احترام کے رشتے میں جوڑنا ہوتا ہے۔
جب سیاست نفرت اور تعصب سے پاک ہو تو قومی یکجہتی مضبوط ہوتی ہے، انصاف کو فروغ ملتا ہے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔ اس کے برعکس فرقہ واریت اور لسانیت پر مبنی سیاست معاشرے میں اختلافات، بداعتمادی اور انتشار کو جنم دیتی ہے، جس سے قومی ترقی متاثر ہوتی ہے۔
لہٰذا ہر سیاسی رہنما اور ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ محبت، رواداری، مساوات اور قومی اتحاد کو فروغ دے۔ ایک ایسی سیاست ہی پاکستان کو مضبوط، خوشحال اور پرامن مستقبل کی طرف لے جا سکتی ہے جو فرقہ واریت، لسانیت اور مذہبی تفرقہ بازی سے مکمل طور پر پاک ہو۔
مولانا اسداللہ غالب ان اصولوں پر سیاست کرنے کے قائل ہے اور 2004 سے ان اصولوں کی بنا پر پیپلز پارٹی کے ساتھ وابسطہ ہیں ہر الیکشن میں پیپلز پارٹی کو اپنے ہوم اسٹیشن لوس سے ایک اچھی تعداد میں ووٹ دلانے میں کامیاب رہے ہیں
بد قسمتی سے 2009 سے لیکر 2026 تک پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں اقتدار میں نہیں آسکی اب 2026 میں سادہ اکثریت کیساتھ پیپلز پارٹی اقتدار میں آئ ہے پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت سے یہ ڈیمانڈ کیا جاتا ہے کہ ایسے مخلص اور وفادار پارٹی دوست کارکنوں کو بھولا نہ جائے تاکہ پارٹی مزید پھلے پھولے وزیر اعلی امجد حسین ایڈوکیٹ سے یہ ڈیمانڈ ہے کہ وہ
مولانا اسداللہ غالب کو حکومت کا حصہ بنائے۔۔

22/06/2026
22/06/2026
22/06/2026
17/06/2026