17/12/2025
ایک لمحہ فکریہ
آج لاہور کے ایک پارک میں پیش آنے والا واقعہ محض ایک مجسمے کی بے حرمتی نہیں تھا، بلکہ یہ ہمارے اجتماعی شعور پر پڑنے والا ایک گہرا اور دردناک تھپڑ تھا۔
بچوں نے اپنے والد کی موجودگی میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے مجسمے کے چہرے پر تھپڑ رسید کیے، اور افسوسناک پہلو یہ تھا کہ والد خاموشی سے یہ سب دیکھتا رہا، بلکہ مسکراتا بھی رہا۔ یہ منظر اس تلخ حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ آج ہماری اصل توجہ بچوں کی تربیت کے بجائے بڑوں کی اصلاح پر ہونی چاہیے۔
علامہ اقبالؒ صرف ایک شاعر نہیں تھے، وہ فکر، خودی، علم اور امت کے ضمیر کی آواز تھے۔ جب ان کے مجسمے کی توہین کی گئی تو دراصل یہ تھپڑ اقبالؒ کو نہیں بلکہ ہمارے پورے تعلیمی، اخلاقی اور تربیتی نظام کو مارا گیا۔ یہ وہ نظام ہے جس میں استاد کا احترام، علم کی عظمت اور تہذیب کی بنیاد والدین کے رویّوں سے ہی کمزور ہو چکی ہے۔
بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے بڑوں کو کرتے دیکھتے ہیں۔ جب والد خود احترامِ علم اور اہلِ علم کا پاس نہیں رکھے گا تو بچے سے ادب کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ استاد کا مقام، رہنمائی کی حرمت اور قومی شخصیات کا احترام سب سے پہلے گھروں میں سکھایا جاتا ہے، مگر جب یہی درس والدین خود پامال کر دیں تو نسلوں کی تربیت کھوکھلی ہو جاتی ہے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کیسا انسان بنا رہے ہیں۔ اگر آج ہم نے ان کے سامنے احترام، شائستگی اور شعور کی مثال قائم نہ کی تو کل یہی بچے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کریں گے جہاں نہ علم کی قدر ہو گی اور نہ محسنوں کا لحاظ۔
یہ وقت بچوں کو نہیں، خود ہمیں رک کر سوچنے کا ہے۔ کیونکہ جو تھپڑ آج اقبالؒ کے مجسمے پر مارا گیا، اس کی گونج آنے والی نسلوں کے کردار میں سنائی دے گی۔
تحریر: محمد نعمان بازر

15/12/2025
09/12/2025
03/12/2025