12/06/2021
بٹ کوائن کو قانونی کرنسی قرار دے دیا جائے تو آپ کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
ہارورڈ یونیورسٹی میں معیشت کے پروفیسر اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سابق چیف اکنامسٹ کین روگوف کہتے ہیں کہ کسی کامیاب کرنسی کی دو اہم خصوصیات یہ ہیں کہ یہ لین دین کے لیے ایک مؤثر حیثیت رکھتی ہو اور یہ آپ کی دولت کی قدر محفوظ رکھ سکتی ہو۔
وہ کہتے ہیں کہ بٹ کوائن میں دونوں خصوصیات نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بٹ کوائن کا استعمال تقریباً کُلّی طور پر صرف سٹے بازی کے لیے ہو رہا ہے۔
لاطینی امریکہ کے ملک ایل سلواڈور بٹ کوائن کو قانونی کرنسی قرار دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔
مگر کیا بٹ کوائن یا کرپٹو کرنسی ترسیلاتِ زر کے لیے بہترین ذریعہ بن جائے گی؟
‘کوئی مڈل مین نہیں‘
بٹ کوائن یا کرپٹو کرنسی کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ایسے کسی درمیانی فریق پر منحصر نہیں ہوتی۔
نتیجتاً بٹ کوائن غریب ممالک اور اُن افراد کے لیے پرکشش ہو سکتا ہے جو ان فیسوں سے بچنا چاہتے ہیں۔
مگر یہ حقیقت مدِ نظر رکھنی چاہیے کہ کرپٹو کرنسیاں دوسرے کئی بڑے خطرات کا سبب بن سکتی ہیں۔
ڈی ویئر گروپ کی چیف ایگزیکٹیو اور بانی نائیجل گرین کہتے ہیں کہ ’ہم امید کر سکتے ہیں کہ ایل سلواڈور نے جس جانب قدم بڑھائے ہیں اس طرف دوسرے ممالک بھی جائیں گے۔‘
’یہ اس لیے ہے کیونکہ کم آمدنی والے ممالک کو طویل عرصے سے اپنی کرنسیوں کے کمزور ہونے اور مارکیٹ کی اُن تبدیلیوں کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا ہے جو افراطِ زر کا سبب بنتی ہیں۔‘
اگر بٹ کوائن کو مزید قبولیت حاصل ہو جائے اور یہ بڑے پیمانے پر استعمال ہونے لگے تو اس کی قیمت مستحکم ہو سکتی ہے۔
’اس لیے زیادہ تر ترقی پذیر ممالک لین دین مکمل کرنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک کی بڑی کرنسیوں مثلاً ڈالر کا استعمال کرتے ہیں۔‘
’مگر کسی دوسرے ملک کی کرنسی پر بھروسہ کرنے سے بہت مہنگے مسائل بھی ہوتے ہیں۔‘ مثال کے طور پر اس سے کسی ملک پر غیر ملکی دباؤ بڑھ سکتا ہے اور یہ مکمل خود مختاری کے ساتھ اپنی مالیاتی پالیسی ترتیب دینے کی صلاحیت کھو سکتا ہے۔
قدر میں اتار چڑھاؤ
مگر کرپٹو کرنسی کے بھی نقصانات ہیں اور اس سے بھی سلواڈوریئن افراد کے پیسے وصول کرنے کی صلاحیت پر اثر پڑ سکتا ہے۔
بٹ کوائن ایک ورچوئل اثاثہ ہے اور اس کا حقیقی معیشت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کی قدر میں بہت کم عرصے کے دوران بہت زیادہ اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔
اور ہر کسی کو اس کے کام کرنے کا طریقہ اور اس سے وابستہ خطرات کا علم نہیں ہے۔
روایتی بینکاری نظام کے برعکس بٹ کوائن میں ایسا کوئی نظام موجود نہیں جو کسی صارف کو بٹ کوائن کی قدر میں اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھے۔
ہارورڈ یونیورسٹی میں معیشت کے پروفیسر اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سابق چیف اکنامسٹ کین روگوف کہتے ہیں کہ کسی کامیاب کرنسی کی دو اہم خصوصیات یہ ہیں کہ یہ لین دین کے لیے ایک مؤثر حیثیت رکھتی ہو اور یہ آپ کی دولت کی قدر محفوظ رکھ سکتی ہو۔
وہ کہتے ہیں کہ بٹ کوائن میں دونوں خصوصیات نہیں ہیں۔
’حقیقت یہ ہے کہ یہ قانونی معیشت میں بہت زیادہ استعمال نہیں ہوتا۔ ہاں ایک امیر شخص اسے دوسرے شخص کو بیچ دیتا ہے مگر یہ حتمی استعمال نہیں ہے۔ اور اس کے بغیر اس کا کوئی طویل مدتی مستقبل نہیں ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ بٹ کوائن کا استعمال تقریباً کُلّی طور پر صرف سٹے بازی کے لیے ہو رہا ہے۔
بھلے ہی بٹ کوائن کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے مگر اسے اب بھی لین دین کے لیے ش*ذ و نادر ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ لوگ جن کے پاس بٹ کوائن ہے وہ اپنی کرپٹو کرنسی کو اپنے پاس رکھ کر اس سے مزید رقم کمانا چاہتے ہیں۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسیاں شدید مہنگائی سے بچنے کا ایک ذریعہ ہو سکتی ہیں۔
عالمی وبا کے دوران کئی بڑے ممالک اپنی معیشت کو چلائے رکھنے کے لیے نوٹ چھاپتے رہے ہیں۔
روایتی کرنسی نظام میں آپ جتنے زیادہ نوٹ چھاپیں گے، کرنسی کی قدر اتنی ہی کم ہوتی جاتی ہے۔
عام طور پر لوگ قدر میں اس کمی کو نوٹس نہیں کر پاتے کیونکہ اُن کے پاس موجود پیسہ اتنا ہی رہتا ہے۔ مگر وہ یہ ضرور نوٹ کرتے ہیں کہ اُن کی خریداری، باہر کھانا پینا اور فلمیں دیکھنا وغیرہ زیادہ سے زیادہ مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔
بٹ کوائن کا معاملہ مختلف ہے۔ بٹ کوائنز کی سپلائی کو محتاط طور پر کنٹرول کیا جاتا اور محدود رکھا جاتا ہے۔ کوئی شخص بھی اپنی مرضی سے مزید بٹ کوائنز نہیں بنا سکتا۔
دنیا میں کبھی بھی دو کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ بٹ کوائنز موجود نہیں ہوں گے اور ہر بٹ کوائن کو ستوشی کہلانے والے 10 کروڑ مزید یونٹس میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
Source: https://www.bbc.com/urdu/science-57432273

04/06/2020
08/05/2020
04/03/2020
27/05/2019
12/04/2019