مجھے لڑکیاں چاہئیں، لڑکیاں کدھر ہیں؟ لڑکیوں جلدی سے اسٹیج پر آ جاؤ! ہاں تم، آئے ہائے کیا بات ہے! تم چشمے والی، تم بھی آ جاؤ!
یہ وہ جملے اور اندازِ تخاطب ہے جو آج کے میگا گیم شوز کا طرہ امتیاز بن چکا ہے۔ میزبان فہد مصطفیٰ کا خواتین کو مجمعے سے اس طرح چھانٹ کر اسٹیج پر بلانا اور پھر ان کے حلیے یا چشمے پر فقرے کسنا، دراصل اس فیملی انٹرٹینمنٹ کا اصل چہرہ ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سارا تماشہ اور میزبان کا یہ لچر پن ٹی وی اسکرینوں کے ذریعے کروڑوں لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ گھروں میں بیٹھے خاندان، بوڑھے، بچے اور نوجوان اس تذلیل کو 'تفریح' سمجھ کر ہضم کر رہے ہیں، جس سے معاشرے میں بدتہذیبی کو سندِ قبولیت مل رہی ہے۔
لیکن اس سے بھی زیادہ افسوسناک منظر وہ 'ندیدا پن' ہے جو عوام میں سرایت کر چکا ہے۔ محض ایک واشنگ مشین، جوسر بلینڈر یا موٹر سائیکل کی چابی کے لیے لوگ اپنی عزتِ نفس کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ اسٹیج پر عجیب و غریب حرکات کرنا، چیخنا چلانا اور میزبان کی جملہ بازیوں پر مصنوعی قہقہے لگانا اب انعام پانے کی بنیادی شرط بن چکا ہے۔
چیخ و پکار، شرکاء کا مذاق اڑانا اور غیر ضروری جسمانی حرکات اس شو کا خاصہ بن چکی ہیں۔
گیم شو تو دراصل نیلام گھر تھا، جہاں پاکستان کی پہچان طارق عزیز اسٹیج پر جلوہ افروز ہوتے تھے۔ وہاں "دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں" کو صرف سلام نہیں پہنچایا جاتا تھا، بلکہ انہیں شعور اور آگاہی کی روشنی بھی دی جاتی تھی۔ طارق عزیز کا لباس ان کی شخصیت کے وقار کو چار چاند لگا دیتا تھا اور ان کا اردو تلفظ سماعتوں میں رس گھولتا تھا۔
نیلام گھر کی کامیابی کی بنیاد معلوماتِ عامہ تھی۔ وہاں انعام پانے کے لیے آپ کو علامہ اقبال کا شعر، تاریخ کا کوئی واقعہ یا جغرافیے کی معلومات ہونی ضروری تھیں۔ وہاں کوئی اچھل کود یا غیر اخلاقی حرکت نہیں ہوتی تھی، بلکہ شرکاء اپنی ذہانت کے بل بوتے پر جیتے تھے۔ اب تو اسٹیج پر ٹھمکہ لگانے، عجیب و غریب شکلیں بنانے یا کسی لغو حرکت پر موٹر سائیکل کی چابی تھما دی جاتی ہے۔
کاش آج کے میزبان اور پروڈیوسرز یہ سمجھ سکیں کہ تفریح کا مطلب تذلیل اور لچر پن نہیں ہوتا۔
Faisal Masjid Islamabad
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Faisal Masjid Islamabad, E8 Islamabad, Islamabad.
مکہ و مدینہ میں پاکستانیوں کے کارنامے۔
1۔ مکہ اور مدینہ میں بلاتفریق بھیک مانگنا اور اکثر تو with family یہ کام کرتے ہیں۔
2۔ افطار کے دسترخوان پر سے دہی اور بن کے دو تین چار پیکٹس پرس یا کپڑوں میں چھپا کر رفو چکر ہوجانا۔
3۔ مقدس مقامات جیسے غار حرا وغیرہ میں اپنے خالہ پھوپھو چاچا جانو کے نام لکھ کر آنا کہ یا اللہ ارشد کو یہاں بلا لے۔۔۔۔یا اللہ یہاں آنے والوں کی مغفرت فرما۔۔۔۔ جو بھی یہاں آئے مجھ خاکسار کو اپنی دعا میں یاد رکھے منجانب قیوم علی، یا اللہ میرے دشمنوں کو نست و نابود کر دے وغیرہ
4۔ غلاف کعبہ کے بعد مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قالین کے دھاگے نوچ نوچ کر یا کاٹ کر بطور تبرک لانا اور امی ابا کے کفن میں رکھنے کی پلاننگ کرنا۔۔۔
5۔ یہ خواتین کے لیے ہے( ریاض الجنہ میں نماز کے لیے دھکا، مکا اور چٹکی کا استعمال کر کے آگے والی کو راستے سے ہٹانے کے بعد عین روضہ مبارک کے سامنے ستون پر چڑھ کر کہنا لا موبائل نکال تصویر لے لوں۔۔۔۔
6۔ کھجور کی گٹھلیاں اور بسکٹ کے ریپرز قالین کے نیچے چھپا دینا۔
7۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندر رکھے زم زم کے کولرلز کے سامنے اسکارف کھول کر گلے اور بالوں پر زم زم ملنا اور سارے ایریا کو پانی میں چھم چھم کرنا پھر عربی خادمہ کے ہاتھوں عربی میں زلیل ہو کر تھوڑی دیر بعد یہی حرکت دوہرانا۔
8۔ کیوں کہ پاکستان میں خواتین کا مساجد میں جانے کا رواج نہیں ہے اس لیے اکثریت کو جماعت سے نماز نہیں آتی بس جماعت کھڑے ہوتے ہی تماشے بازی کا مظاہرہ نہیں مقابلہ شروع۔۔۔ کچھ پتا نہیں کہ کیا کرنا ہے ادھر ادھر نظریں چلا کر جو جیسا کرہا ہے فالو کرنا اور خوب غلطیاں کرنا۔۔۔۔
9۔ مرد حضرات بھی پیچھے نہیں روضہ مبارک کے سامنے گھر پر ویڈیو کال ملا کر سلام کروانا امی یا بیگم بیڈ پر لیٹی ہوئی پیچھے سے سارے مرد دیکھ رہے لیکن عاشق مگن ہے کہ امی بس جلدی سے سلام کرلیں۔۔۔ پریشان مت ہو شبانہ اگلی بار تم بھی یہاں آو گی پیچھے سے پوری قوم شبانہ کا دیدار کر رہی ہے۔۔ ( استغفراللہ )
10۔ ائیر پورٹ پر واشرومز میں کموڈ لگے ہوتے ہیں جن پر بیٹھنا ہماری آدھی عوام کو نہیں آتا تو جوتے چپلیں لے کر کموڈ پر ڈبلو سی کے اسٹائل میں بیٹھ جانا۔
11۔ حرم کے صحن میں چپل بیگ سے نکال کر زور سے پٹخنا اور پھر پہننا۔
12۔ خواتین کا مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندر بیٹھ کر گھریلو سیاست پر کھل کر تبصرے کرنا۔
13۔ ہماری پیاری خواتین عبایا پہننا گناہ سمجھتی ہیں شاید بہت بڑی تعداد میں لان کے چھلکا جیسے کپڑوں میں گھومتی ہوئی پائی جاتی ہیں۔
14۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں صحن میں ویل چئیرز رکھی ہوتی ہیں تاکہ ضرورت مند افراد استعمال کریں۔ دیگر ممالک کی خواتین استعمال کر کے وہیں چھوڑ جاتیں تاکہ کوئی اور استعمال کرے۔ ہمارے یہاں کی شاہکار خواتین ویل چیئر پر چپلیں، زم زم کی بوتلیں، بیگ جائے نماز سب لٹکا کر اسے فقیر کا ٹھیلا بنا کر خود نیچے بیٹھ جاتی ہیں اور اگر کوئی مانگ لے تو ایسے تیور دیکھائے جاتے ہیں کہ بندہ سہم جائے اور جو ویل چیئر اماں وغیرہ کے لیے لیتی ہیں وہ حرم سے نکال کر ہوٹل تک لے جاتی ہیں۔۔۔۔ مطلب کوئی احساس ہی نہیں کہ یہ حرم کے لیے ہے اور استعمال کے بعد وہیں رکھ دیں تاکہ کوئی اور استعمال کر لے۔۔۔۔
15۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نکاح کی اڑ میں بیباکی، گستاخی اور جہالت کا شاندار مظاہرہ کرنا۔ دولہن کو مکمل سجا سنوار کر عین گنبد خضرا کے سامنے بیٹھا کر نکاح کروانا، دولہن ہوٹل سے اسی حلیے میں آتی اور جاتی ہے۔۔۔ سوچیں کتنے نامحرموں کی آنکھوں کا رزق بنتی ہے۔۔
نوٹ: ہوسکتا ہے کوئی کارنامہ لکھنے سے رہ گیا ہو اس کے لیے پیشگی معذرت ، یہ کارنامے ایک ساتھ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ شاید تھوڑی سے شرم آجائے ہمیں اور ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر اس نام نہاد عشق کو دیکھنے کا موقع ملے جس عشق کے بعد ہم ادب نہیں سیکھ پائے تو دراصل یہ عشق ہے ہی نہیں کیوں کہ جو عشق محبوب اور اس کے در کا ادب نہ سیکھائے، محبوب کی لائی ہوئی شریعت نہ سیکھائے وہ عشق نہیں خالی دعوی ہے۔ ۔۔۔ میں چونکہ خواتین کی طرف رہی تو زیادہ مشاہدہ اور تجربہ ان سے ہوا۔ مرد حضرات مزید کون کون سے کارنامے کرتے ہیں وہ آپ کمنٹ میں ضرور بتائیں۔
ہمیں بطور قوم اخلاقی تربیت کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ ہمارا جہل ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔ علماء حق خاص طور پر اس مسئلے پر کام کریں۔ عوام کے غیر تربیتی یافتہ عشق کو ادب کی جانب موڑ دیں ورنہ ان کا جہل ان کو لے ڈوبے گا۔
04/03/2026
AoA to everyone all are fine?
ایک عابد نے خدا کی زیارت کے لیے 40 دن کا چلہ کھینچا،دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا۔
اعتکاف کی وجہ سے خدا کی مخلوق سے یکسر کٹا ہوا تھا, اس کا سارا وقت آہ و زاری اور راز و نیاز میں گزرتا تھا.
36 ویں رات اس عابد نے ایک آواز سنی, "شام 6 بجے،تانبے کے بازار میں فلاں تانبہ ساز کی دکان پر جاو اور خدا کی زیارت کرو".
عابد وقت مقررہ سے پہلے پہنچ گیا اور مارکیٹ کی گلیوں میں تانبہ ساز کی اس دکان کو ڈھونڈنے لگا.
وہ کہتا ہے,”میں نے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو تانبے کی دیگچی پکڑے ہوئے تھی اور اسے ہر تانبہ ساز کو دکھا رہی تھی؟“ اسے وہ بیچنا چاہتی تھی،وہ جس تانبہ ساز کو اسے 6 ریال میں بیچوں گی کیا آپ چھ ریال دیں گے ؟تانبہ ساز نے پوچھا صرف چھ ریال میں کیوں؟
بوڑھی عورت نے بتایا کہ میرا بیٹا بیمار ہے، ڈاکٹر نے اس کے لیے نسخہ لکھا ہے, جس کی قیمت 6 ریال ہے۔
تانبہ ساز نے دیگچی لے کر کہا:ماں یہ دیگچی بہت عمدہ اور نہایت قیمتی ہے،اگر آپ بیچنا ہی چاہتی ہیں تو میں اسے 25 ریال میں خریدوں گا!! بوڑھی عورت نے کہا: کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟ تانبہ ساز نے کہا ہرگز نہیں،میں واقعی پچیس ریال دوں گا.
یہ کہہ کر اس نے برتن لیا اور بوڑھی عورت کے ہاتھ میں 25 ریال رکھ دیئے !!!
بوڑھی عورت، بہت حیران ہوئی دعا دیتی ہوئی جلدی اپنے گھر کی طرف چل پڑی.
عورت چلی گئی تو میں نے تانبے والے سے کہا: چچا لگتا ہے آپ کو کاروبار نہیں آتا، بازار میں کم و بیش سبھی تانبے والے اس دیگچی کو تولتے تھے اور 4 ریال سے زیادہ کسی نے اسکی قیمت نہیں لگائی اور آپ نے 25 ریال میں اسے خریدا،
بوڑھے تانبہ ساز نے کہا: میں نے برتن نہیں خریدا، میں نے اس کے بچے کا نسخہ خریدنے کے لیے اسے پیسے دئیے ہیں،میں نے اسے اس لئے یہ قیمت دی کہ گھر کا باقی سامان بیچنے کی نوبت نہ آئے، عابد کہتا ہے کہ اتنے میں غیبی آواز آئی،چلہ کشی سے کوئی میری زیارت کا شرف حاصل نہیں کرسکتا, گرتوں کو تھامو اور غریب کا ہاتھ پکڑو، میں خود تمہاری زیارت کو آوں گا !!
17/10/2021
آجکل ڈینگی وائرس کی وبا پھیلی ہوئی ہے
سوچا اس متعلق لوگوں کو مطلع کردوں کہ جس شخص کو ڈینگی وائرس تشخیص ہو جائے وہ
صرف و صرف پیراسیٹامول ٹیبلیٹ دو گولی صبح دو گولی دوپہر اور دو گولی رات میں کھائے تا کہ بخار کا زور ٹوٹتا رہے.. ڈینگی ایک وائرس ہے یہ اپنی مدت 7 سے 14 دن کے اندر ہی جاتا ہے.
تب تک آپ نے اس وائرس کو بس کنٹرول کرنا ہے تاکہ یہ قوت مدافعت کو کمزور نہ کردے...
اس وائرس کو کنٹرول کرنے یا ختم کرنے کی کوئی دوا آج تک دریافت نہ ہوسکی.... اکثر دو نمبر ڈاکٹرز ڈینگی کے مریض کو اینٹی ملیریا ادویات لکھ دیتے ہیں جو اور بھی نقصان دہ ثابت ہوجاتی ہیں....
آپ نے ڈینگی کے متاثرہ شخص کو بس ہلکی پھلکی غذاء دینی ہے... جیسے کے ڈبل روٹی، یا صرف روٹی چائے یا دودھ کیساتھ... سخت غذاء سالن وغیرہ نہیں دینا تا کہ انٹرنل بلیڈنگ وغیرہ نہ ہو... یاد رہے کہ انٹرنل بلیڈنگ ہونا ؤائرس کے بگڑ جانے کی علامت میں سے ہے...
ایسے میں دانت برش کرنا بھی منع ہے... کیوں کے وائرس آپکا خون کا پلیٹلیس گرا رہا ہوتا ہے جس سے آپکا کہی سے بھی بلیڈ کرنے کو روکنا مشکل ہوجاتا ہے...
پلیٹلیس بڑھانے کیلئے پپیتے کا جوس اور سیب کا جوس فائدے مند ہے...
ایک نارمل انسان میں پلیٹلیس کی تعداد 150000 سے 450000 یونٹ ہوا کرتی ہے... جب کے ڈینگی سے متاثرہ شخص میں یہ یونٹ 10000 تک چلے جاتے ہیں جس سے جان جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے...
یہ تمام معلومات انسانیت کے ناطے لکھی گئی ہیں..
اس پوسٹ کو شئیر کریں.. تاکہ عوام الناس کو افادیت حاصل ہو
As many as 25 faithful will begin observing ‘aitkaf’ at the Faisal Masjid before Maghrib prayer on May 3 under the supervision of the Dawah Academy of the International Islamic University amid strict enforcement of the standard operating procedures issued by the government.
‘Aitkaf’ is a retreat by worshippers to the mosque for the last 10 days of Ramazan.
Incharge of the Islamic Centre, Faisal Masjid, Dr. Qari Ziaur Rehman said after scrutiny of the applications, 25 people had been selected for ‘Aitkaf’ at Faisal Masjid and they would maintain 10 feet distance in the main hall of the mosque.
The Faisal Masjid Islamic Centre of Dawah Academy used to manage hundreds of ‘Motakifeen’ before the start of the COVID-19 pandemic but the SOPs and social distancing requirements reduced the number to 25.
Dr Zia said ‘Motakifeen’ would be given ‘sehar’ and ‘iftar’ food within the hall to keep them from te virus.
The Islamic Centre of Faisal Majsid will also hold special lectures during this period for the faithful.
Dr Zia said ‘Motakifeen’ will also participate in ‘Qiyam-ul-Lail’ (‘Mehfil e Shabeena’) at Faisal Mosque that will be organized by Dawah Academy in collaboration with the Ministry of Religious Affairs and Interfaith Harmony from 25th night of Ramazan. Famous ‘Qura’ across the country will recite Quran in ‘Qiyamul Lail’.
"Special measures have been taken for implementation of SOPs as social distancing is already being observed in ‘Namaz-i-Taraweeh’. He added that social distancing markers have been installed for the faithful. In addition, disinfectant showering gates have been installed by Dawah Academy and the availability of soaps and hand sanitisers are being ensured on a daily basis for the faithful," he said.
03/02/2021
Beautiful lighting view of Masjid Islamabad
Deen o Duniya ki bhalai by Maulana Tariq Jameel sb
Asslam o Alaikum,
It is Requested to all Muslim Brothers who live specially in Pakistan Please celebrate Eid ul Azha With Police who provide us security for our lives.
Please Serve them with food at Lunch and Dinner at there Duties places.
During Eid Holidays they cannot get food from Hotels because all closed.
Please Share it.
09/08/2015
Executive Car Carrier door to Door Service for Lahore
Krachi Quetta Peshawar Multan Faisalabad Rawalpindi
Islamabad.
Website: www.executivepackers.com
Cell: 03335303000
www.executivepackers.com packers, movers, packers and movers in Islamabad, Rawalpindi, Pakistan,packer and mover, Packing and Shipping, packing services, Best and Reliable Packers and Movers,freight forwarding, international moving, forwarding by air, forwarding by sea, door to door deliveries,domestic moving, local shiftin…
Islamabad Weather is 50 Fifty
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the business
Telephone
Website
Address
E8 Islamabad
Islamabad
44000
