I've never seen such a sweet bird! 😘 🐦
Pakistan Amazing
Pakistan Amazing Stories (Beautiful Land & People,Culture & Traditions,Politics & Social ,Foods & Travelling & Life Style & Sports Videos & Pictures)
Pakistan has a total area of 803,940 square kilometers, slightly greater than France and the United Kingdom put together. Pakistan is located in South Asia. To the south is the Arabian Sea, with 1,046 km of Pakistani coastline. To Pakistan's east is India, which has a 2,912 km border with Pakistan. To its west is Iran, which has a 909 km border with Pakistan. To Pakistan's Northwest lies Afghanist
رابطے بھی رکھتا ہوں راستے بھی رکھتا ہوں
لوگوں سے بھی ملتا ہوں فاصلے بھی رکھتا ہوں
غم نہیں ہوں کرتا اب، چھوڑ جانے والوں کا
توڑ کر تعلق میں، در کھلے بھی رکھتا ہوں
موسموں کی گردش سے میں ہوں اب نکل آیا
یاد پر خزاؤں کے حادثے بھی رکھتا ہوں
خود کو ہے اگر بدلا وقت کے مطابق تو
وقت کو بدلنے کے حوصلے بھی رکھتا ہوں
بھر کے بھول جاتے ہیں گھاؤ فکر ہے مجھ کو
زخم کچھ پرانے سو ان سلے بھی رکھتا ہوں
گو کسی بھی منزل کی اب نہیں طلب مجھ کو
ہر گھڑی میں پیروں میں، آبلے بھی رکھتا ہوں
مانتا ہوں ابرک میں، بات یار لوگوں کی
سوچ کے مگر اپنے، زاویے بھی رکھتا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتباف ابرک
Rok Sako Tu Rok Lo Tabdeeli Ayi Re Pti new song 2017 Imran Ismail -
بہت پیارا جواب
(دل وچ ٹھنڈ پے گئی)
اللہ تعالی، بھائی کو مزید رنگ بھاگ لگائیں
صدر رجب طیب ایردوان نے انقرہ میں "جامع مسجد ملیکہ خاتون" کے افتتاح کے موقع پر تلاوت قرآن مجید کی-
کاش پاکستان کو بھی ایسے حکمران نصیب ہوں
27/10/2017
انگورحلال اور شراب حرام کیوں؟
ﻓﺮﺍﻧﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﺸﻨﺮ ( ﻣﻮﺭﯾﺲ ﺳﺎﺭﺍﯼ ) ﺗﻌﯿﻨﺎﺕ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﻤﺸﻨﺮ ﻧﮯﺍﯾﮏ ﺿﯿﺎﻓﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻣﺸﻖ ﮐﮯ ﻣﻌﺰﺯﯾﻦ، ﺷﯿﻮﺥ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﻮ ﻣﺪﻋﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﺿﯿﺎﻓﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﻔﯿﺪ ﺩﺳﺘﺎﺭ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻔﯿﺪ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﺰﺭﮒ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﻧﺸﺴﺖ ﮐﻤﺸﻨﺮ ﮐﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﮭﯽ۔ ﮐﻤﺸﻨﺮ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻟﮯ ﻣﺰﮮ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺟﺐ ﮐﮧ ﭼﮭﺮﯼ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻨﻈﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﻤﺸﻨﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﮐﺮﺍﮨﺖ ﺍﻭﺭ ﻏُﺼﮯ ﺳﮯ ﺑُﺮﺍ ﺣﺎﻝ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﻣﮕﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﻧﮧ ﭘﺎ ﺳﮑﺎ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﺮﺟﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺑُﻼ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍِﺱ ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﮐﮧ ﺁﺧﺮ ﻭﮦ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺗﺎ؟ ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺗﺮﺟﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﺳﻨﺠﯿﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ : ﺗﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺎﮎ ﺳﮯ ﮐﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ؟ ﮐﻤﺸﻨﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ، ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﭼﮭﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺗﮯ؟ ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ : ﻣُﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﯿﺰﮔﯽ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﯾﻘﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮨﮯ، ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﮭﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﯿﺰﮔﯽ ﭘﺮ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮨﮯ؟ ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﮐﻤﺸﻨﺮ ﺟﻞ ﺑﮭﻦ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ۔ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺗﮩﯿﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺍﮨﺎﻧﺖ ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﺗﻮ ﺿﺮﻭﺭ ﻟﮯ ﮔﺎ۔ ﮐﻤﺸﻨﺮ ﮐﯽ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﻃﺮﻑ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﻃﺮﻑ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮐﻤﺸﻨﺮ ﻋﺮﺑﻮﮞ ﮐﯽ ﺛﻘﺎﻓﺖ، ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻦ ﺩﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﺗﮭﺎ، ﻣﺰﯾﺪ ﺑﺮﺍﮞ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺿﯿﺎﻓﺖ ﻣﯿﮟ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﻣﻌﺰﺯﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﻮ ﻣﺪﻋﻮ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﺳﺐ ﺭﻭﺍﯾﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻮﮌﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﺷﺮﺍﺏ ﻣﻨﮕﻮﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺟﻼﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﻃﻤﻄﺮﺍﻕ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ، ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮔﻼﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﻧﮉﯾﻠﯽ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻼﺱ ﺳﮯ ﭼُﺴﮑﯿﺎﮞ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ : ﺳﻨﻮ ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﺍﭼﮭﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ، ﮐﯿﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﮯ ﻧﺎﮞ؟ ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻣﺨﺘﺼﺮﺍً ﮐﮩﺎ : ﮨﺎﮞ۔ﮐﻤﺸﻨﺮ ﻧﮯ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻧﮕﻮﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ : ﯾﮧ ﺷﺮﺍﺏ ﺍﻥ ﺍﻧﮕﻮﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻟﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ۔ ﺗﻢ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﺷﺮﺍﺏ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ! ﺿﯿﺎﻓﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﻤﺸﻨﺮ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﭘﯿﺶ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﺱ ﺳﺎﺭﯼ ﺻﻮﺭﺕ ﺣﺎﻝ ﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﺎﺩﯾﺪﮦ ﺧﻮﻑ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﻧﻈﺮ ﺁ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﻣﮕﺮ ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﻧﮧ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺭُﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺁﺋﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﻤﺸﻨﺮ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ ﺋﮯ ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﯾﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﮨﮯ۔ﺗﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ، ﺗﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ۔ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﺗﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﺍﻭﭘﺮ ﺣﻼﻝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﺗﺠﮫ ﭘﺮ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ؟ ﻣﺼﻨﻒ ﻟﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﻤﺸﻨﺮ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﮨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﯿﺰ ﺳﮯ ﺷﺮﺍﺏ ﺍُﭨﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺣُﮑﻢ ﺩﯾﺪﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔
انرجی سیورخود گھرمیں ہی ٹھیک کریں کہیں جانےکی ضرورت نہیں وڈیودیکھیں اورشیئر ضرور کریں
27/10/2017
ﺷﻮﮨﺮ ﺑﺮﺍﺋﮯ ﻓﺮﻭﺧﺖ
بازار میں ایک نئی دکان کھلی ،جہاں شوہر فروخت کیے جاتے تھے۔ اس دکان کے کھلتے ہی لڑکیوں اور عورتوں کا اڑدہام بازار کی طرف چل پڑا۔ سبھی خواتین دکان میں داخل ہونے کے لیے بے چین تھیں۔ دکان کے داخلہ پر ایک بورڈ رکھا تھا جس پر لکھا تھا۔”اس دکان میں کوئی بھی عورت یا لڑکی صرف ایک وقت ہی داخل ہو سکتی ہے “پھر نیچے ہدایات دی گئی تھیں۔۔اس دکان کی چھ منزلیں ہیں۔ ہر منزل پر اس منزل کے شوہروں کے بارے میں لکھا ہو گا۔ جیسے جیسے منزل بڑھتی جائے گی،
شوہر کے اوصاف میں اضافہ ہوتا جائے گا۔خریدار لڑکی یا عورت کسی بھی منزل سے شوہر کا انتخاب کر سکتی ہے اور اگر اس منزل پر کوئی پسند نہ آئے تو اوپر کی منزل کو جا سکتی ہے۔مگر ایک بار اوپر جانیکے بعد پھر سے نیچے نہیں آ سکتی سوائے باہر نکل جانے کے۔ایک خوبصورت لڑکی کو دکان میں داخل ہونے کا موقع ملا۔ پہلی منزل کے دروازے پر لکھا تھا۔اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ لڑکی آگے بڑھ گئی۔دوسری منزل کے دروازہ پر لکھا تھا۔اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ اللہ والے ہیں لڑکی پھر آگے بڑھ گئی۔تیسری منزل کے دروازہ پر لکھا تھا۔” اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ اللہ والے ہیں بچوں کو پسند کرتے ہیں اور خوبصورت بھی ہیں”یہ پڑھ کر لڑکی کچھ دیر کے لئے رک گئی ‘ مگر پھریہ سوچ کر کہ چلو ایک منزل اور اوپر جا کر دیکھتے ہیں۔وہ اوپر چلی گئی۔چوتھی منزل کے دروازہ پر لکھا تھااس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ اللہ والے ہیں بچوں کو پسند کرتے ہیں ‘ خوبصورت ہیں اور گھر کیکاموں میں مدد بھی کرتے ہیں یہ پڑھ کر اس کو غش سا آنے لگا ‘ کیا ایسے بھی مردہیں دنیا میں ؟ وہ سوچنے لگی کہ شوہرخرید لے اور گھر چلی جائے ، مگر اس کا دل نہ مانا اور وہ ایک منزل اوراوپر چل دی۔ وہاں دروازہ پر لکھا تھا۔ اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ اللہ والے ہیں بچوں کو پسند کرتے ہیں ‘
بیحد خوبصورت ہیں ‘ گھر کی کاموں میں مدد کرتے ہیں اور رومانٹک بھی ہیں اب اس عورت کے اوسان جواب دینے لگے 150 وہ سوچنے لگی کہ ایسے مرد سے بہتر بھلا اور کیا ہو سکتاہے مگر اس کا دل پھر بھی نہ مانا اور وہ آخری منزل پر چلیآئی۔ یہاں بورڈ پر لکھا تھا. آپ اس منزل پر آنے والی 3338 ویں خاتوں ہیں 150 اس منزل پر کوئی بھی شوہر نہیں ہے 150 یہ منزل صرف اس لئے بنائی گئی ہے تا کہ اس بات کا ثبوت دیا جا سکےکہ عورت کو مطمئن کرنا نا ممکن ہے” ہمارے سٹور پر آنے کا شکریہ!۔۔۔۔۔ یہ سیڑھیاں باہر کی طرف جاتی ہیں۔
ایک ہندو ” اچاریہ پرامود کرشنن“ پیارے نبی ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ وسلم کی محبت میں جھوم اُٹھا ۔ اگر نہیں یقین تو وڈیو میں سن لیجئیے ۔ ایسے اشعار پڑھے کہ لوگ بھی جھوم اُٹھے۔
پوسٹ اچھی لگی ہو تو شیئر ضرور کیجئیے گا۔
سیاستدان سیاستدان کھا گئے سارا پاکستان 🤓
ویڈیو کو جنگل میں آگ کی طرح پھیلا دیں تاکہ یہ پیغام اس ملک کے بچے بچے تک پہنچ جائے ۔ شکریہ
OLD Lahore memories
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Islamabad
44000
