Swat beauty

Swat beauty

Share

Swat Valley is Switzerland of Pakistan

25/09/2022

لنڈیکس #مینگورہ حاجی صاحب کور اور ایلم ہوٹل کے درمیان والا پل ،لنڈیکس باغچہ، فارم (حالیہ گراؤنڈ) ،(کانٹینٹل ہوٹل جہاں بنا ہے وہ) دھوبی گھاٹ نمایاں ہیں، ہالے ڈے ہوٹل کے عقب میں فارم شروع ہوتا تھا۔ اور مین روڑ پر ہالی ڈے ہوٹل آخری عمارت تھی پھر سڑک کنارے درخت تھے ، جس میں موسم بہار میں مینا بچے دیتی اور کچھ لوگ چڑھ کر کھوکھلے تنوں کے اندر سے مینا کے بچے نکالتے۔ جنگلات کا دفتر تھا درختوں کی جھرمٹ ، اور #دارالعلوم کی اکلوتی عمارت بغیر چار دیواری مقبرے کے کنارے۔ پھر تاحد کھیت اور ایک مسجد ایک کنواں جس میں مقدس اوراق پورے شہر سے جمع ہوتے ،
#لنڈیکس میں موجودہ سٹرک ایک پگ ڈنڈی تھی اور دونوں اطراف لمبے درخت۔ اور ساتھ میں آلوچے کے باغات۔ مینگورہ خوڑ کا صاف شفاف پانی پوری رفتار سے اس جگہ تک آتا اور اس پل سے گزرتے ہوئے تیز آواز پانی کے طاقت کی شہادت کرتی۔
اسی لنڈیکس کے ریتلے میدان میں درختوں کے بیچ میرے چچا میجر حمید الحق نے جل کر جان دی تھی۔
اب تو شہر میں کنکریٹ کے پہاڑ، لوہے کے درخت اور انسان ہی انسان ہیں۔ کسی زمانے اسی جگہ خوڑ کے دونوں جانب درخت ہی درخت تھے بے شمار ، کنکریٹ کے دیوہیکل عمارتوں کی جگہ گھروندے تھے اور نفیس لوگ مقیم تھے۔ وقت نے ترقی کے نام پر مسائل کے انبار کھڑے کردیے ، بڑے بننے کی دوڑ میں شناخت چھین لی۔ سب کچھ دیا مگر سکون کی قیمت پر۔
اب شہر میں چند ہی درخت ہیں جو اپنی آخری عہد گزار کر اپنی جڑوں کو کنکریٹ کی تہہ میں قید کر لینگے۔
ذرا سا آگے کے بنگلے کے آگے مٹی اور پتھروں کے چٹان تھے اور ان سے نکلنے والے چشمے بڑے مشہور تھے ۔
لنڈیکس ایک وسیع ریتلا جزیرہ نما تھا جس میں اس وقت ابادی کا کوئی سوچتا تو اس وقت کا سب سے زیادہ ہنسانے والا لطیفہ ہوتا۔ سامنے حاجی بابا کا مقبرہ ، پرائمری سکول بغیر چار دیواری کے اور کچی مسجد جس میں وضو کے لیے پانی چھوٹے چھوٹے حوضوں میں اتا۔ کے ساتھ صاف پانی کا گزرتا ہوا چمچماتا "ولہ" سکول کے بچوں کی تختیوں کو بہا لے جاتا۔
دوسری طرف سٹینڈرڈ ، ایلم ، ہالی ڈے اور پارک ہوٹلز کے پر شکوہ عمارتیں اور آگے واقعی گراسی گروانڈ، جس میں لمبے اور گھنے درختوں کی چھاؤں کیا پر سکون ماحول تھا۔ گراؤنڈ کے پیچے چنار کے درخت اور پن چکیاں تھیں اور سیدو خوڑ کا مغرور گزر گاہ تھا سیدو خوڑ بے چھین اور بے تاب بہت شور کے ساتھ بہتا ۔
اب بوڑھے اور ضعیف مینگورہ اور سیدو خوڑ اپنا دور شباب یاد کرتے ہونگے۔
لنڈیکس میں میں کاکو کا ٹال پھولوں اور پودوں کا مرکز تھا اور ساتھ ہی ٹھنڈے پانی کا ابلتا ہوا خزانہ۔
ساتھ ہی ڈاکٹر نیاز صاحب کے گھر کے سامنے بھٹیارن مکئی کے دانے بھنتی، دور دور سے لوگ اپنے دانے لیکر آتے ، ایک #بھٹیارن رنگ محلہ کے میدانوں میں بھی تھی ڈاکٹر سیراج صاحب کے گھر کے اردگرد وسیع میدان میں۔
اس سال میں پچاس سال کا ہو جاؤں گا یعنی تقریبا آدھی صدی سے اس شہر کو بدلتے، الجھتے ، بھو بھلیوں میں تبدیل ہوتے دیکھ رہا ہوں
کی گلی میں پرانا مکان جو اب کمرشل ہوکر مارکیٹ بن گیا ہے ، ہماری رہائش تھی ، میرے والد صاحب بھی وہیں پیدا ہوئے اور شاید دادا جان کا جنم بھی وہی ہوا۔
وہ چھتوں پر کھیلنا مجھے یاد ہے، "چم " میں بولنے والے لگتا تھا نیچے قریب میں بول رہے ہیں یوں صاف آواز آتی تھی ۔
حاجی بابا چوک جہاں پر آفتاب میڈیکل سٹور ہے یہ ہماری منڈی تھی جس میں دو ہماری بسیں کھڑی ہوتیں تھیں ، جہاں اسکے اگے رکشے کھڑے ہوتے ہیں وہاں چارپائیاں مستقل پڑی ہوتیں تھیں اور محفل جمی رہتی تھی روڑ کے اس طرف ایک حجام کی دوکان تھی جسمیں اخبار بھی ہوتا تھا اور مستقل لوگ بحث میں مشغول بھی ۔
آگے اصل ڈاکخانہ ایک دوکان میں تھا جس کو اب ڈاکخانہ روڑ کہتے ہیں۔
محلہ #بنجاریاں میں کئی گھروں میں سرمہ فروخت ہوتا تھا وہ یاد ہے
برہان خیل میں پھوپھی کا گھر تھا اور تاج چوک پر ہی مینگورہ کا اختتام ہوتا تھا ، پلوشہ سنیما کے سامنے کی دوکانوں کے پچھواڑے سے لیکر سوات سنیما کے پیچھے اور تک کھیت ہی کھیت تھے ۔ پیپلز پیٹرولیم پیپلز چوک میں ایک یاداشت ہے
الگ گاؤں تھا اور شہر سے کافی دور لگتا تھا۔
ایر پورٹ روڑ ایک سنسان سڑک کے علاؤہ کچھ نہ تھا
نیو روڑ میں اور
اور پیڑول پمپ پر مینگورہ ختم ، #چنگی کا پاٹک مسجد اور پمپ کے درمیان ہوتا اور لوگ ٹیکس ادا کرتے۔
ملابابا روڑ مستری خانوں اور خیرادیوں کی بازار تھی ، بڑے بڑے مستری ، اور بہت مشہور تھے ، ایودھیانہ مارکیٹ بھی ایک مستری خانہ تھا اور ساتھ ہی ٹانگو اڈا ٹانگہ بانوں کا مرکز ، جہاں گھوڑے ، نال لگانے والے اور بگھی ٹھیک کرنے والے تھے۔
ایک بڑی پانی کی ٹینکی جس کے پانی کے نلکے بہت مشہور تھے اور ساتھ ہی ایک ٹریولز کمپنی ، ٹیکسی کرایے پر ۔
اڈہ پل کے ساتھ میدان میں #سرکس لگتا اور جوانی میں شعلہ گانا بجاتے ، اور اس کے پیچھے خوڑ سے امان کوٹ تک وسیع باچا صاحب فارم درختوں کی نرسری تھی ۔ مکان باغ ٹانک میں صرف ایک چشمہ اور ایک بھینسوں کا باڑا تھا۔ باقی ریت ہی ریت ،
سہراب خان چوک میں مارکیٹ پر شاید ایک پیٹرول پمپ تھا اور کی جگہ پر ایک پیٹرول پمپ تھا۔
پھر ایک مل یا چکی تھی پھر نشاط چوک میں ملک سرائے
مین بازار چوک میں حبیب بینک اور حاجی بابا چوک میں سبزی، فروٹ منڈیاں۔
ہم اس شہر میں پیدا ہوئے یہ نہیں کہہ سکتے اس شہر کی ترقی یا بربادی میں ہمارا کتنا ہاتھ ہے یہ فیصلہ شاید آیندہ نسلیں کریں مگر ہم کچھ اچھا چھوڑ کر نہیں جارہے جیسا اچھا ہمیں ملا تھا
مینگورہ

29/07/2022

Swat Valley

Photos 23/11/2013

River Swat

Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Islamabad
04489