Bureau of Emigration & Overseas Employment

Bureau of Emigration & Overseas Employment

Share

BE&OE functions under Emigration Ordinance, 1979 & exports Pakistani manpower abroad on Work Visa.

The BUREAU OF EMIGRATION AND OVERSEAS EMPLOYMENT was setup on 1st of October 1971, by combining three federal government departments namely National Manpower Council, Protectorate of Emigrants and Directorate of Seamen’s Welfare under the directive of Government of Pakistan. The Bureau started functioning under the Emigration Act of 1922 and Rules (1959) which were subsequently replaced by the Emi

08/05/2026

Oman Labour Laws - Employment
عمان کے لیبر قانون (رائل ڈکری نمبر 53/2023) کے تحت ملازمت کے معاہدوں کے لیے ایک واضح اور منظم قانونی نظام مقرر کیا گیا ہے، جس کا مقصد شفافیت، قانونی تحفظ اور آجر و کارکن کے درمیان متوازن ذمہ داریوں کو یقینی بنانا ہے، خصوصاً غیر ملکی کارکنوں کے لیے۔

آرٹیکل 33 کے مطابق ہر ملازمت کا معاہدہ تحریری صورت میں ہونا لازمی ہے اور عربی زبان میں تیار کیا جائے گا، جس کی دو اصل نقول ہوں گی—ایک آجر کے پاس اور ایک کارکن کے پاس۔ اگر کسی دوسری زبان میں معاہدہ بنایا جائے تو اس کے ساتھ عربی ترجمہ بھی شامل کرنا ضروری ہے، اور کسی بھی اختلاف کی صورت میں عربی متن کو حتمی حیثیت حاصل ہوگی۔

آرٹیکل 34 کے تحت معاہدہ دو طرح کا ہو سکتا ہے: مقررہ مدت (fixed-term) یا غیر معینہ مدت (indefinite)۔ مقررہ مدت والا معاہدہ زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک ہو سکتا ہے، جسے باہمی رضامندی سے دوبارہ بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس سے ایک طرف لچک پیدا ہوتی ہے اور دوسری طرف قانونی نگرانی بھی برقرار رہتی ہے۔

آرٹیکل 36 کے مطابق معاہدے میں کچھ بنیادی معلومات شامل ہونا ضروری ہیں، جیسے آجر اور کارکن کا مکمل نام اور پتہ، کارکن کی قومیت، کام کی نوعیت اور شرائط، تنخواہ اور دیگر مراعات (الاؤنسز)، اور نوٹس پیریڈ جو کم از کم ایک ماہ ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ معاہدے میں یہ بھی شامل ہوتا ہے کہ کارکن عمان کے قوانین، ثقافت اور معاشرتی اقدار کا احترام کرے گا۔

آرٹیکل 37 کے تحت آزمائشی مدت (probation period) کو بھی محدود کیا گیا ہے۔ ماہانہ تنخواہ لینے والے ملازمین کے لیے یہ زیادہ سے زیادہ تین ماہ اور دیگر ملازمین کے لیے دو ماہ تک ہو سکتی ہے، تاکہ اس مدت کا غلط استعمال نہ ہو اور یہ مناسب حد تک محدود رہے۔

مجموعی طور پر یہ قانون اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ملازمت کا معاہدہ واضح، تحریری اور مکمل ہو، تاکہ بعد میں کسی بھی قسم کے تنازع سے بچا جا سکے اور دونوں فریق اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ رہیں۔

08/05/2026

Spain Regularization Drive - Clarification

Photos from Bureau of Emigration & Overseas Employment's post 07/05/2026

AWARENESS RAISING SESSION ON PROMOTING SAFE, REGULAR AND INFORMED LABOUR MOBILITY IN INTERNATIONAL LABOUR MARKETS AT SARHAD UNIVERSITY OF SCIENCE AND INFORMATION TECHNOLOGY, PESHAWAR.

Peshawar, May 6 2026 - An awearness session was conducted at Sarhad University of science and technology, Peshawar in collaboration of Migrant Resource Center Peshawar for raising awareness among the students of university/potential emigrants regarding legal pathways, pursuit of lawful emigration and respective available opportunities in global labour markets

07/05/2026

یونیسکو میں بین الاقوامی کیریئر کے مواقع

یونیسکو دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ماہر افراد کے لیے مختلف بین الاقوامی کیریئر کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ یہ نوکریاں مختلف ممالک میں ہوتی ہیں اور ان کے لیے مضبوط پیشہ ورانہ مہارت اور تجربہ درکار ہوتا ہے۔ ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ مختلف کیٹیگریز اور ان کی شرائط کو اچھی طرح سمجھیں۔

پروفیشنل اور اعلیٰ سطح کی کیٹیگریز

بین الاقوامی سطح کی زیادہ تر نوکریاں پروفیشنل (P) اور اس سے اوپر کی کیٹیگری میں آتی ہیں۔ ان عہدوں کے لیے مضبوط تجزیاتی صلاحیت، بہترین کمیونیکیشن اسکلز اور قیادت کی اہلیت ضروری ہوتی ہے۔

ابتدائی سطح (P-1، P-2):
P-2 کے لیے کم از کم 2 سال کا تجربہ ضروری ہوتا ہے، جس میں ایک سال بین الاقوامی تجربہ شامل ہونا چاہیے۔
درمیانی سطح (P-3، P-4):
ان کے لیے 4 سے 7 سال تک کا تجربہ درکار ہوتا ہے۔
اعلیٰ سطح (P-5، D-1، D-2):
یہ سینئر عہدے ہوتے ہیں جن کے لیے 10 سے 15 سال کا تجربہ ضروری ہوتا ہے، جس کا بڑا حصہ بین الاقوامی ہونا چاہیے۔

اس کے علاوہ نیشنل پروفیشنل آفیسرز بھی ہوتے ہیں جو اپنے ہی ملک میں کام کرتے ہیں لیکن ان کے انتخاب کے معیار بین الاقوامی ملازمین جیسے ہی ہوتے ہیں۔

یونیسکو مختلف منصوبوں کے لیے کنسلٹنٹس بھی رکھتا ہے، جو ریسرچ یا مخصوص کاموں کے لیے ہوتے ہیں، اور بعض اوقات یہ کام گھر بیٹھ کر (ریموٹ) بھی کیا جا سکتا ہے۔

اہلیت اور ضروری صلاحیتیں

یونیسکو میں نوکری حاصل کرنے کے لیے عموماً ماسٹرز یا اس کے مساوی اعلیٰ ڈگری ضروری ہوتی ہے، خاص طور پر تعلیم، ثقافت، سائنس، سوشل سائنسز، کمیونیکیشن یا بزنس ایڈمنسٹریشن جیسے شعبوں میں۔

زبان کی مہارت بہت اہم ہے۔ انگریزی یا فرانسیسی میں سے کسی ایک زبان پر مکمل عبور لازمی ہے، جبکہ دوسری زبان جاننا اضافی فائدہ دیتا ہے۔ اس کے علاوہ عربی، چینی، ہسپانوی یا روسی زبانوں کی معلومات آپ کے مواقع کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ آپ کی سافٹ سکلز بھی اہم ہوتی ہیں، جیسے دباؤ میں کام کرنے کی صلاحیت، مختلف ثقافتوں میں کام کرنے کی اہلیت، اور اچھی تحریری و تحقیقی صلاحیت۔

تنخواہ اور سہولیات

یونیسکو اپنے ملازمین کو ایک معیاری اور مسابقتی پیکیج فراہم کرتا ہے جس میں بنیادی تنخواہ کے ساتھ اضافی الاؤنس شامل ہوتا ہے، جو اس ملک کے اخراجاتِ زندگی کے مطابق ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ:

خاندانی الاؤنس
بچوں کی تعلیم کے اخراجات میں مدد
رہائش اور منتقل ہونے کے اخراجات
مشکل علاقوں میں کام کرنے پر اضافی الاؤنس

بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔

درخواست دینے کا طریقہ

تمام درخواستیں یونیسکو کی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے دی جاتی ہیں۔ انتخاب کا عمل عام طور پر درج ذیل مراحل پر مشتمل ہوتا ہے:

ابتدائی جانچ
تحریری ٹیسٹ
انٹرویو
ریفرنس چیک

موجودہ نوکریوں کی تفصیل کے لیے یہ لنک دیکھیں:
https://careers.unesco.org/go/All-jobs-openings/784002/

اگر آپ عالمی سطح پر ایک باوقار اور مؤثر کیریئر بنانا چاہتے ہیں تو یونیسکو ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے، جہاں آپ اپنی مہارت کو عالمی سطح پر استعمال کر سکتے ہیں۔

07/05/2026

UAE Drugs Laws - Inciting of Facilitating Others
متحدہ عرب امارات کے قانون کے تحت نہ صرف منشیات کا استعمال اور قبضہ جرم ہے بلکہ کسی دوسرے شخص کو اس جرم کی طرف مائل کرنا، سہولت فراہم کرنا، دھوکہ دینا یا زبردستی شامل کرنا بھی قابلِ سزا جرم شمار ہوتا ہے۔ فیڈرل ڈیکری بائی لاء نمبر (30) آف 2021 کے تحت، خصوصاً آرٹیکل 48، 50 اور 51 میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص براہِ راست منشیات استعمال یا قبضے میں ملوث نہ بھی ہو، لیکن کسی دوسرے کو اس میں شامل ہونے پر اُکسائے، مدد دے یا اس عمل کو ممکن بنائے تو وہ بھی قانونی ذمہ داری کے دائرے میں آتا ہے۔

اگر کوئی شخص کسی کو منشیات کے جرم کی طرف مائل کرے یا اس میں سہولت فراہم کرے تو اس کی سزا کم از کم پانچ سال قید اور کم از کم 50,000 درہم جرمانہ ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص دھوکہ دہی کے ذریعے، مثلاً کسی کے علم کے بغیر کھانے یا مشروب میں نشہ آور چیز شامل کرے تو اسے زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید اور کم از کم 20,000 درہم جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اگر اس عمل کے نتیجے میں کسی کی جان چلی جائے تو سزا عمر قید یا سزائے موت تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ مزید برآں، کسی دوسرے شخص کو زبردستی منشیات استعمال کروانے کی صورت میں کم از کم دس سال قید جیسی سخت سزا مقرر ہے۔

یہ قوانین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر فرد اپنی ذاتی ذمہ داری کو مکمل طور پر سمجھے اور ایسے ماحول یا افراد سے دور رہے جہاں غیر قانونی سرگرمیوں کا امکان ہو۔ تارکینِ وطن، مسافروں اور بیرونِ ملک کام کرنے والے افراد کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ اپنی سماجی اور پیشہ ورانہ حدود کو واضح رکھیں، کیونکہ بالواسطہ طور پر بھی کسی غیر قانونی سرگرمی میں شمولیت سنگین قانونی نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

اسی طرح، قانونی طور پر تجویز کردہ ادویات کا استعمال بھی انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے۔ ایسی ادویات کسی بھی صورت میں ساتھیوں، یا دیگر افراد کے ساتھ شیئر نہیں کی جانی چاہییں۔ سفر سے پہلے اور دورانِ قیام ان قانونی ذمہ داریوں سے مکمل آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ غیر ارادی غلطیوں سے بچا جا سکے اور مکمل قانونی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

07/05/2026

UAE Social Media Laws - Criticism on State
متحدہ عرب امارات کے سائبر جرائم سے متعلق قانون UAE Federal Decree-Law No. 34 of 2021 on Combatting Rumours and Cybercrimes کے تحت سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف تنقید، مذاق اڑانے یا لوگوں کو اکسانے جیسے معاملات پر سخت قانونی پابندیاں عائد ہیں۔ اس قانون میں مختلف دفعات کے ذریعے قومی سلامتی، ریاستی اداروں کے وقار اور معاشرتی استحکام کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

دفعہ 20 کے مطابق ایسے آن لائن مواد یا ویب سائٹس بنانا یا پھیلانا جرم ہے جن کا مقصد ریاست کے نظامِ حکومت کو نقصان پہنچانا، آئین کو معطل کرنے کی بات کرنا یا حکومتی نظام کے بنیادی اصولوں کے خلاف لوگوں کو اکسانا ہو۔ اگر کوئی شخص انٹرنیٹ کے ذریعے اس طرح کی سرگرمیوں میں شامل پایا جائے تو اسے انتہائی سخت سزا دی جا سکتی ہے، حتیٰ کہ عمر قید بھی ہو سکتی ہے۔

دفعہ 22 ریاستی مفادات اور حساس معلومات کے تحفظ سے متعلق ہے۔ اس کے تحت اگر کوئی شخص انٹرنیٹ یا ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے ایسی معلومات یا رپورٹ کسی ادارے یا فرد تک پہنچاتا ہے جو ریاست یا اس کے اداروں کی ساکھ، مفاد یا وقار کو نقصان پہنچا سکتی ہو، تو اسے عارضی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

دفعہ 23 کے تحت ایسا آن لائن مواد پھیلانا بھی جرم ہے جس سے ملک کی سلامتی یا امنِ عامہ کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہو۔ اگر کوئی شخص سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ کے ذریعے ایسی خبریں، تصاویر یا معلومات پھیلائے جن سے ریاست کے اعلیٰ مفادات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو، تو اسے قید کے ساتھ بھاری جرمانہ بھی ہو سکتا ہے جو دس لاکھ درہم تک پہنچ سکتا ہے۔

دفعہ 25 ریاست کے وقار اور قومی علامات کے تحفظ سے متعلق ہے۔ اس کے مطابق اگر کوئی شخص انٹرنیٹ کے ذریعے ایسی معلومات، تصاویر یا افواہیں پھیلائے جن سے متحدہ عرب امارات کی ساکھ کو نقصان پہنچے یا اس کا مذاق اڑایا جائے تو یہ جرم تصور ہوگا۔ یہ قانون ریاستی اداروں، سرکاری حکام، ملک کے بانی رہنماؤں اور قومی علامات جیسے پرچم، کرنسی، قومی نشان اور قومی ترانے کے احترام کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو پانچ سال تک قید اور پانچ لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

دفعہ 27 کے تحت لوگوں کو ملک کے قوانین کی خلاف ورزی پر اکسانا بھی جرم ہے۔ اگر کوئی شخص سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ کے ذریعے دوسروں کو قانون نہ ماننے یا اسے توڑنے کی ترغیب دے تو اسے قید اور ایک لاکھ سے پانچ لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

آخر میں دفعہ 52 جھوٹی خبروں اور گمراہ کن افواہوں کے پھیلاؤ سے متعلق ہے۔ اگر کوئی شخص آن لائن ذرائع سے غلط معلومات یا افواہیں پھیلائے جس کے نتیجے میں عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف بھڑکایا جائے، تو یہ سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں کم از کم دو سال قید اور دو لاکھ درہم سے کم جرمانہ نہیں ہو سکتا۔

مجموعی طور پر یہ قانون اس بات کو واضح کرتا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں آن لائن سرگرمیوں کے لیے سخت قانونی حدود مقرر ہیں۔ ان قوانین کا مقصد قومی سلامتی، ریاستی اداروں کے وقار اور معاشرتی ہم آہنگی کو برقرار رکھنا ہے، اس لیے ملک میں انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت افراد کو انتہائی احتیاط برتنے اور قوانین کی مکمل پابندی کرنے کی ضرورت ہے۔

07/05/2026

Oman Labour Laws - Occupational Safety and Health
عمان کے لیبر قانون (رائل ڈکری نمبر 53/2023) کے تحت محنت کشوں کی صحت اور حفاظت (Occupational Safety and Health) کے لیے ایک جامع اور منظم نظام قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد کام کی جگہ کو محفوظ بنانا اور حادثات و صحت کے خطرات کو کم کرنا ہے۔

سب سے پہلے ادارہ جاتی سطح پر اقدامات کیے گئے ہیں۔ آرٹیکل 103 کے مطابق وزارتِ محنت کے اندر ایک خصوصی Occupational Safety and Health کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو کام کی جگہ پر حفاظتی معیار اور پالیسیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ اس کمیٹی کے طریقہ کار اور ذمہ داریاں وزارت کے فیصلے کے تحت طے کی جاتی ہیں تاکہ مؤثر نگرانی ممکن ہو سکے۔

اسی طرح آرٹیکل 106 کے تحت وزیرِ محنت کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ تمام متعلقہ فریقین (حکومت، آجر، اور کارکنان) سے مشاورت کے بعد حفاظتی اور صحت سے متعلق تفصیلی قواعد جاری کرے۔ ان قواعد میں کام کی جگہ کی بنیادی ضروریات شامل ہیں، جیسے مناسب روشنی، ہوا کا نظام، پینے کا صاف پانی، صفائی کے انتظامات، دھول اور آلودگی کا کنٹرول، رہائش کے معیار، اور آگ سے حفاظت کے اقدامات۔ ساتھ ہی خطرناک شعبوں کے لیے خصوصی حفاظتی اصول بھی مقرر کیے جاتے ہیں۔ ان قوانین کی خلاف ورزی پر سزائیں بھی مقرر کی جا سکتی ہیں۔

اس قانون میں سب سے بڑی ذمہ داری آجر (employer) پر عائد کی گئی ہے۔ آرٹیکل 104 کے مطابق آجر کو لازمی ہے کہ وہ ملازمین کو کام شروع کرنے سے پہلے تمام ممکنہ خطرات اور حفاظتی اقدامات کے بارے میں آگاہ کرے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ملازم پہلے ہی دن سے خطرات سے واقف ہو۔

آجر کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ محفوظ کام کی جگہ فراہم کرے، صفائی اور حفاظتی معیار برقرار رکھے، اور مشینری کو درست حالت میں رکھے۔ اس کے علاوہ ملازمین کو حفاظتی تربیت (training) بھی دینا لازمی ہے تاکہ وہ خود کو محفوظ رکھ سکیں۔

اہم بات یہ ہے کہ حفاظتی انتظامات کے اخراجات ملازم سے وصول کرنا سختی سے منع ہے، یعنی اس کی تنخواہ سے کوئی کٹوتی نہیں کی جا سکتی۔

طبی سہولیات کے حوالے سے آرٹیکل 57 کے تحت ہر ادارے میں ابتدائی طبی امداد (first aid) کا انتظام لازمی ہے۔ اگر کسی ادارے میں 200 سے زائد ملازمین ہوں تو وہاں ایک نرس یا منظور شدہ میڈیکل سروس فراہم کرنا ضروری ہے۔ اگر ملازم کو علاج کی ضرورت پڑے اور اس کے پاس انشورنس نہ ہو تو تمام اخراجات آجر برداشت کرے گا، بشمول علاج، ادویات اور ہسپتال کے اخراجات۔

دوسری طرف ملازمین پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں۔ آرٹیکل 105 کے مطابق ملازم کو حفاظتی ہدایات پر عمل کرنا لازمی ہے، حفاظتی آلات کا درست استعمال کرنا ہوگا، اور کسی بھی حفاظتی نظام کو نقصان پہنچانا یا اس کے استعمال میں رکاوٹ ڈالنا ممنوع ہے۔ ملازم کو مشینری اور آلات کو احتیاط سے استعمال کرنا اور تمام حفاظتی اصولوں کی پابندی کرنا ضروری ہے۔

نفاذ (enforcement) کے حوالے سے آرٹیکل 107 کے تحت حکام کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ خلاف ورزی کرنے والے اداروں کو تحریری نوٹس جاری کریں اور انہیں مخصوص مدت میں اصلاح کرنے کا حکم دیں۔ اگر کسی جگہ پر فوری اور سنگین خطرہ موجود ہو تو وزارت ِمحنت فوری طور پر کارروائی کر سکتی ہے، جس میں کام کی جگہ کو جزوی یا مکمل طور پر بند کرنا یا مشینری بند کرنا شامل ہے۔ ضرورت پڑنے پر اس عمل میں رائل عمان پولیس کی مدد بھی لی جا سکتی ہے۔

06/05/2026

فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن میں کیریئر کے مواقع

ایف اے او میں ملازمت کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ ادارے کے عالمی کردار اور مختلف ذمہ داریوں کو پورا کر سکے۔ یہاں ملازمین کو عموماً دو بڑی کیٹیگریز میں رکھا جاتا ہے:

پروفیشنل (P): یہ عہدے بین الاقوامی سطح پر بھرتی کیے جاتے ہیں۔
جنرل سروس (G): یہ مقامی سطح پر اسی ملک سے بھرتی کیے جاتے ہیں جہاں نوکری موجود ہو۔

اس کے علاوہ FAO مخصوص منصوبوں یا قلیل مدتی ضروریات کے لیے کنسلٹنٹس، انٹرنز اور رضاکاروں کو بھی شامل کرتا ہے۔

تنخواہ اور مراعات کا نظام اقوامِ متحدہ کے مشترکہ نظام کے مطابق ہوتا ہے، جس کے تحت بنیادی تنخواہ (گریڈ اور خاندانی حیثیت کے مطابق) دی جاتی ہے، اور اس کے ساتھ ایک اضافی رقم (پوسٹ ایڈجسٹمنٹ) بھی شامل ہوتی ہے جو اس ملک کے اخراجاتِ زندگی اور کرنسی کے فرق کے مطابق ہوتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مختلف ممالک میں کام کرنے والے ملازمین کی قوتِ خرید تقریباً برابر رہے۔

زیادہ تر تنخواہیں اور الاؤنسز مقامی انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہوتے ہیں، جبکہ مشکل یا دور دراز علاقوں میں کام کرنے والوں کو اضافی الاؤنس بھی دیا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے ان کے اور ان کے اہلِ خانہ کے سفری اخراجات بھی ادا کیے جاتے ہیں، اور گھر کا سامان منتقل کرنے کے اخراجات بھی دیے جا سکتے ہیں۔

ملازمت کے آغاز پر ابتدائی اخراجات کے لیے ایک خصوصی گرانٹ دی جاتی ہے، جبکہ اگر رہائش مہنگی ہو تو کرایہ میں سبسڈی بھی مل سکتی ہے۔ ملازمت ختم ہونے پر بعض صورتوں میں ریپیٹری ایشن گرانٹ (واپسی کے اخراجات) بھی دی جاتی ہے۔

خاندانی سہولیات میں بچوں کے لیے تعلیمی اخراجات میں مدد شامل ہے، جو پوسٹ سیکنڈری تعلیم (یونیورسٹی) کے ابتدائی چار سال تک دی جا سکتی ہے، اور بعض اوقات تعلیمی سفر کے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔

چھٹیوں کے حوالے سے، ملازمین کو سالانہ تقریباً 30 دن کی چھٹی اور 10 سرکاری تعطیلات ملتی ہیں۔ بین الاقوامی ملازمین کو بعض صورتوں میں اپنے وطن جانے کے لیے بھی چھٹی اور سفری سہولت دی جاتی ہے۔ اسی طرح زچگی، پدری اور بچوں کو گود لینے کی صورت میں مکمل تنخواہ کے ساتھ 2 سے 16 ہفتوں تک کی چھٹیاں بھی دی جاتی ہیں۔

سوشل سکیورٹی کے طور پر، ملازمین کو ہیلتھ انشورنس، حادثات یا بیماری کی صورت میں سفری انشورنس، اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اگر کوئی ملازم چھ ماہ یا اس سے زیادہ عرصہ کام کرے تو وہ اقوامِ متحدہ کے پنشن فنڈ (UNJSPF) کا حصہ بن جاتا ہے، جس سے مستقبل میں ریٹائرمنٹ کے لیے مالی تحفظ ملتا ہے۔

مجموعی طور پر FAO کا یہ پیکیج اچھی تنخواہ کے ساتھ مختلف مراعات فراہم کرتا ہے، جو ملازمین کی نقل و حرکت، خاندانی ضروریات اور طویل مدتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

دستیاب نوکریوں کی تفصیل کے لیے یہ لنک ملاحظہ کریں:
https://jobs.fao.org/careersection/fao_external/jobsearch.ftl

اگر آپ بین الاقوامی سطح پر ایک مستحکم اور باوقار کیریئر کے خواہشمند ہیں تو FAO ایک مضبوط موقع فراہم کرتا ہے جہاں آپ پیشہ ورانہ ترقی کے ساتھ عالمی خدمت کا حصہ بن سکتے ہیں۔

Photos from Bureau of Emigration & Overseas Employment's post 06/05/2026

وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز و ترقیِ انسانی وسائل، چوہدری سالک حسین نے بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) کے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا اور مائیگریشن اصلاحات اور مائیگرنٹس کی فلاح و بہبود کے اقدامات پر ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔
اسلام آباد، 06 مئی 2026 — وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی و ترقیِ انسانی وسائل، چوہدری سالک حسین نے سیکرٹری وزارتِ سمندر پار پاکستانی و ترقیِ انسانی وسائل کے ہمراہ بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے ہیڈکوارٹرز کا سرکاری دورہ کیا۔انھوں نے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی جس میں وزارت اور بیورو کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مائیگریشن پالیسی اصلاحات، بیرونِ ملک پاکستانی کارکنوں کی فلاح و بہبود، اور ادارہ جاتی ترقی سے متعلق اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔
I. اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے لائسنسنگ فریم ورک میں اصلاحات
ڈائریکٹر جنرل، BEOE نے وفاقی وزیر کو ایمیگریشن آرڈیننس 1979 اور ایمیگریشن رولز 1979 میں مجوزہ ترامیم پر بریفنگ دی۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد وفاقی وزیر نے درج ذیل ہدایات جاری کیں
1۔ عارضی لائسنس نظام: نئے درخواست دہندگان کے لیے عارضی ریکروٹمنٹ لائسنس متعارف کرایا جائے گا۔ صرف وہی درخواست دہندگان جو عارضی مدت کے دوران تسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے، انہیں تین سالہ مستقل لائسنس کے لیے اہل قرار دیا جائے گا، جس سے میرٹ پر مبنی نظام کو فروغ ملے گا۔
2۔ اہلیت کے معیار میں بہتری: ریکروٹمنٹ لائسنس کے اجرا کے موجودہ معیار کا ازسرنو جائزہ لے کر اسے مزید سخت بنایا جائے گا تاکہ صرف مالی طور پر مستحکم اور سنجیدہ درخواست دہندگان کو لائسنس جاری کیے جائیں، جس سے بدعنوانی کا خاتمہ اور احتساب کو فروغ ملے گا۔
3۔ ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس (DSCs) کے اجرا کی مالیاتی طریقہ کار: سیکرٹری صاحب نے ہدایت کی کہ ایمیگریشن رولز 1979 میں مناسب ترامیم شامل کی جائیں تاکہ لائسنس لینے کیلئے وزارت کے جوائنٹ سیکرٹری کے حق میں جمع کروائے گئے DSCs کو قابلِ وصول بنانے کا مؤثر نظام وضع کیا جا سکے۔ لائسنس کی منسوخی کی صورت میں، جمع شدہ DSCs بمعہ منافع ضبط کر لیے جائیں گے، جس سے مالیاتی تحفظ اور احتساب کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
II. اسٹیٹ لائف ایمیگرنٹس انشورنس فنڈ — فلاحی اقدامات میں بہتری
وفاقی وزیر کو اسٹیٹ لائف ایمیگرنٹ انشورنس فنڈ اور انشورنس کلیمز کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے مائیگرنٹس اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے درج ذیل ہدایات جاری کیں۔
1۔ ایمیگرانٹس کی وفات کی اطلاع کا نظام: بیورو ایک مؤثر نظام وضع کرے گا تاکہ بیرونِ ملک پاکستانی کارکنوں کی وفات کی بروقت اطلاع کو یقینی بنایا جا سکے، خصوصاً پاکستانی مشنز میں تعینات کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کے ساتھ بہتر رابطہ کاری کے ذریعے، تاکہ متاثرہ خاندانوں تک فوری رسائی اور کلیمز کی بروقت تکمیل ممکن ہو سکے۔
2۔ انشورنس تجدید سے آگاہی: ایسے مائیگرنٹس جن کی انشورنس مدت ختم ہونے کے قریب ہو، ان کے لیے بروقت یاددہانی اور آگاہی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ ان کے فلاحی حقوق متاثر نہ ہوں۔
3۔ ویڈیو کے ذریعے آگاہی مہم: انھوں نے ہدایت کی کہ مختصر اور مؤثر ویڈیوز تیار کی جائیں جن میں مائیگرنٹس کے لیے دستیاب فلاحی سہولیات اور حقوق کے بارے میں آگاہی دی جائے، اور انہیں ڈیجیٹل و سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے وسیع پیمانے پر نشر کیا جائے۔
III. انفراسٹرکچر اور ادارہ جاتی ترقی
وفاقی وزیر نے BEOE کے انفراسٹرکچر اور ادارہ جاتی استعداد کو بہتر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کی ہدایت کی:
1۔ ہیڈکوارٹرز اور پروٹیکٹوریٹ دفاتر کی بہتری: بیورو ہیڈکوارٹرز اور ملک بھر میں قائم پروٹیکٹوریٹ آف ایمیگرنٹس دفاتر کی فوری اپ گریڈیشن کی جائے تاکہ شہریوں کو معیاری اور سہل خدمات فراہم کی جا سکیں۔
2۔ گجرات میں پروٹیکٹوریٹ کے قیام میں تیزی: گجرات اور ملحقہ اضلاع سے مائیگریشن کے زیادہ رجحان کے پیش نظر، وہاں پروٹیکٹوریٹ دفتر کے قیام کو فوری طور پر مکمل کیا جائے۔
3۔ خودمختار ادارہ بنانے کی فزیبلٹی اسٹڈی: بیورو کو ہدایت دی گئی کہ اسے خودمختار ادارہ بنانے کے امکانات پر ایک جامع فزیبلٹی اسٹڈی تیار کی جائے اور اس کی طویل مدتی پائیداری کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی جائے۔
4۔ کارکردگی پر مبنی مراعات: ملازمین کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر مراعاتی نظام متعارف کرایا جائے تاکہ احتساب، شفافیت اور بہتر سروس ڈیلیوری کو فروغ مل سکے۔

Federal Minister for Overseas Pakistanis & HRD Visits BEOE Headquarters; Chairs High-Level Review Meeting on Emigration Reforms and Welfare Measures for Emigrants

Islamabad, 06 May 2026 — The Federal Minister for Overseas Pakistanis and Human Resource Development, Chaudhry Salik Hussain, accompanied by the Secretary, Ministry of Overseas Pakistanis & Human Resource Development (OP&HRD), paid an official visit to the Headquarters of the Bureau of Emigration and Overseas Employment (BEOE), Islamabad today. The Minister chaired a high-level review meeting attended by senior officers of the Ministry and the Bureau, covering critical areas of emigration policy reform, overseas worker welfare, and institutional development.
I. Reforms to Emigration Licensing Framework
The Director General, BEOE, briefed the Federal Minister on the proposed amendments to the Emigration Ordinance, 1979 and the Emigration Rules, 1979. Following a detailed deliberation, the Federal Minister issued the following directions:
• Provisional Licence System: A provisional recruitment licence shall be introduced for new applicants. Only those who demonstrate satisfactory performance during the provisional period shall be considered eligible for the standard three-year licence, thereby instituting a merit-based progression mechanism.
• Enhanced Eligibility Criteria: The existing criteria for grant of recruitment licences shall be reviewed and strengthened to ensure that only financially sound and genuinely committed applicants are awarded licences, thereby curbing malpractice and ensuring greater accountability within the manpower recruitment sector.
• Security Encashment Mechanism for Defence Saving Certificates (DSCs): The Secretary, OP&HRD, directed that appropriate amendments be incorporated in the Emigration Rules, 1979 to institute a mechanism for encashment of Defence Saving Certificates (DSCs) pledged in favour of the Joint Secretary of the Ministry. Under this framework, upon cancellation of a licence, the pledged DSCs together with accrued profit shall be forfeited, reinforcing the financial security and deterrence framework.

II. State Life Emigrant Insurance Fund — Strengthening Welfare Outreach
The Federal Minister was comprehensively briefed on the State Life Emigrant Insurance Fund and the current status of insurance claims processing. He issued the following directions to strengthen welfare delivery for Pakistani overseas workers and their families:
• Death Reporting Mechanism: BEOE shall devise a robust mechanism to ensure timely reporting of deaths of Pakistani workers abroad, with particular emphasis on strengthening coordination and liaison with Community Welfare Attachés (CWAs) stationed at Pakistani Missions. This will enable prompt communication with bereaved families and facilitate timely processing of insurance claims.
• Insurance Renewal Awareness: BEOE shall establish a proactive system to educate and remind emigrants whose insurance coverage is approaching expiry to ensure timely renewal, thereby preventing lapse of welfare entitlements.
• Awareness Campaigns via Short Videos: The Minister directed BEOE to produce short, targeted awareness videos covering key topics related to emigrant welfare benefits, entitlements, and available support services. These materials shall be disseminated across digital and social media platforms to maximise outreach to Pakistani workers and their families.

III. Infrastructure and Institutional Development
The Federal Minister directed a series of measures aimed at modernising BEOE’s physical infrastructure and strengthening its institutional capacity:
• Improvement of BEOE Headquarters and Protectorate Offices: The Bureau shall take immediate steps to upgrade its Headquarters and the offices of the Protectorates of Emigrants across the country to ensure provision of quality, citizen-friendly services to intending migrants.
• Expedited Establishment of Protectorate of Emigrants, Gujrat: Given the significant volume of labour emigration from Gujrat and its surrounding districts, the Federal Minister directed that the establishment of the Protectorate of Emigrants office in Gujrat be expedited without further delay.
• Feasibility Study on Autonomous Authority Status: The Minister directed BEOE to undertake a comprehensive study on the feasibility of transforming the Bureau into an autonomous authority. The study shall critically assess the long-term sustainability of such an arrangement, with findings to be submitted for policy consideration.
• Performance Incentives for BEOE Employees: The Federal Minister stressed the importance of introducing meaningful performance-based incentives for Bureau employees to foster a culture of accountability, excellence, and service delivery.

06/05/2026

UAE Drugs Laws - Smuggling and Promotion of Drugs
متحدہ عرب امارات میں منشیات کی اسمگلنگ، ترسیل، اور ان کی تیاری یا فروغ کو انتہائی سنگین جرائم میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کے حوالے سے ملک کا قانونی نظام نہایت سخت رویہ رکھتا ہے۔ فیڈرل ڈیکری بائی لاء نمبر (30) آف 2021، خصوصاً آرٹیکل 57 اور 58 کے مطابق اگر کوئی شخص منشیات کو ملک میں لانے، باہر لے جانے، تیار کرنے یا اپنے پاس رکھنے کا عمل اس نیت سے کرے کہ انہیں آگے فروخت، تقسیم یا فروغ دیا جائے، تو اسے انتہائی سخت سزا دی جاتی ہے، جس میں سزائے موت بھی شامل ہو سکتی ہے۔

اسی طرح اگر کوئی فرد منظم جرائم پیشہ گروہوں (organized criminal networks) کا حصہ ہو یا ان کی سرگرمیوں میں معاونت کرے تو اسے سزائے موت یا عمر قید تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ سخت اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

عملی اور حفاظتی نقطہ نظر سے یہ قوانین خاص طور پر بیرونِ ملک سفر کرنے والے مزدوروں اور مسافروں کے لیے ایک واضح انتباہ ہیں کہ وہ ہر وقت اپنے سامان پر مکمل کنٹرول رکھیں۔ کسی بھی صورت میں کسی جاننے والے، اجنبی یا درمیانی فرد کی طرف سے دی جانے والی درخواست پر پارسل، بیگ، خوراک یا ادویات ساتھ لے جانے سے سختی سے گریز کریں، کیونکہ قانونی ذمہ داری مکمل طور پر اس شخص پر عائد ہوتی ہے جس کے سامان میں وہ اشیاء موجود ہوں، خواہ اسے اس بارے میں علم ہو یا نہ ہو۔

اس لیے ضروری ہے کہ مسافر اپنا سامان خود تیار کریں، اسے ہر وقت اپنی نگرانی میں رکھیں، اور سفر کے دوران انتہائی احتیاط اختیار کریں تاکہ کسی بھی غیر ارادی قانونی ذمہ داری یا پیچیدگی سے محفوظ رہا جا سکے اور متحدہ عرب امارات کے داخلہ و کسٹمز قوانین کی مکمل پابندی یقینی بنائی جا سکے۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address

Bureau Of Emigration & Overseas Employment, Emigration Tower, Plot No. 10, Mauve Area, G-8/1
Islamabad

Opening Hours

Monday 07:30 - 15:30
Tuesday 07:30 - 15:30
Wednesday 07:30 - 15:30
Thursday 07:30 - 15:30
Friday 07:30 - 03:30