https://www.facebook.com/ZeemalHjiab/ please like and promote my page
Zee Collection For order and queries inbox us
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from حکومت ِ الٰہیہ, Library, Islamabad.
حکومت الہیہ سے مراد وہ نظام حکومت ہے جس میں اللہ کی حاکمیت اور اس کے نازل کردہ احکام و قوانین کی فوقیت کو من و عن تسلیم کیا جائے۔ اورانھی کے مطابق ہدایات اور فروعی قوانین وضع کیے جائیں۔ جس مملکت کی بنیاد اس نظریہ پر قائم ہوگی اس کے لیے قانون کے لانے والے اور اس پر عمل کرکے دکھانے والے کے نقش قدم پر چلنا ناگزیر ہوگا۔
’’خلیفۃ اللہ فی الارض‘‘ ہونے کی وجہ سے انسان مجبر ہے کہ اللہ تعالٰی کی اطاعت و فر
https://www.facebook.com/ZeemalHjiab/ please like and promote my page
Zee Collection For order and queries inbox us
جانے کہاں گئے وہ دن ۔۔۔!
کیا حسین دور تھا جب کوئی کسی کی اصلیت سے واقف نہیں تھا ، کسی کو نہیں پتا تھا کہ کون شیعہ ہے، سنی ہے، وہابی ہے ، بریلوی ہے یا دیوبندی ہے۔کسی کی پہچان اُس کا مذہب یا فرقہ نہیں تھی،ہم اکٹھے کھیلتے تھے، ایک گلاس میں پانی پیتے تھے، ایک جیسی گالیاں نکالتے تھے اور ایک جیسے ہی گھروں میں رہتے تھے۔ ہر گھرمعمولی تھا، ہر مکین بے ضرر تھا ۔کسی گھر سے کھانے کی کوئی چیز پلیٹ میں ڈھکی ہوئی آتی تو کوئی نہیں پوچھتا تھا کہ یہ نیاز ہے، کونڈے ہیں یا ختم کی چیز ہے۔ کسی کو کسی کے پہناوے پر اعتراض نہیں تھا، سب بچے عید میلاد النبیﷺ کی محفلوں میں بھی کھانے پینے کے لیے موجود ہوتے تھے اور محرم میں شربت کی سبیلوں پر بھی گلاس کے گلاس چڑھا جاتے تھے، کسی گھر میں دیگ پکتی تھی تو عقیدے سے زیادہ چاولوں کی مہک سب کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔بے فکری ایسی کہ گلی میں چارپائیاں ڈال کر سونے کا رواج عام تھا۔ خوف ابھی اتنے بڑے نہیں ہوئے تھے، اُن کا حجم بہت کم تھا، سکائی لیب گرنے کا خوف، سرکٹے کے آنے کا خوف،سیلاب کا خوف، کچی چھت گر جانے کا خوف، امتحان میں فیل ہوجانے کا خوف، بیٹی کی شادی میں کھانا کم پڑ جانے کا خوف۔یہ خوف بڑوں سے بچوں میں منتقل ہوتے تھے ۔
ہر گھر کے دروازے کھلے رہتے تھے، بچے کھیلتے ہوئے کسی بھی گھر میں گھس جاتے تھے اور بعض اوقات کھانا بھی کھا آتے ۔بدمعاش وہ ہوتا تھا جس کا گریبان کھلا ہوتا، نیفے میں گراری والا چاقو ہوتا اوروہ اونچی آواز میں بولتا تھا، تاہم اِس بدمعاش کی بدمعاشی بھی صرف ہوٹلوں میں مفت چائے پینے تک محدود ہوتی تھی۔ اُس دور میں ماسٹر اگر بچے کو مارتا تھا تو بچہ گھر آکر اپنے باپ کو نہیں بتاتا تھا، اور اگر بتاتا تھا تو باپ اُسے ایک اور تھپڑ رسید کردیتا تھا ۔ کسی گھر میں مہمان آجاتا تو اِردگرد کے ہمسائے حسرت بھری نظروں سے اُس گھر کودیکھنے لگتے اور فرمائشیں کی جاتیں کہ ”پروہنے“کو ہمارے گھر بھی لے کر آئیں
کسی موت پر پورا محلہ سوگوار ہوجایا کرتا ۔لڑکیاں سٹاپو، ککلی ،کوکلا چھپاکی، پرچیاں، اور گڑیوں سے کھیلتی تھیں، لڑکے اڈا کھڈا،پٹھو گول گرم، لکن میٹی، باندر کلِا،بنٹے،چورسپاہی، اونچ نیچ، یسوپنجو، چڑی اڈی کاں اُڈا، کیرم بورڈ اور لڈ و کے شیدائی تھے۔تاش کھیلنے والے کو بہت برا سمجھا جاتاتھا۔
کبھی کسی نے اپنا عقیدہ کسی پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی، کبھی کافر کافر کے نعرے نہیں لگے، سب کا رونا ہنسنا سانجھا تھا، سب کے دُکھ ایک جیسے تھے ، سب غریب تھے، سب خوشحال تھے، کسی کسی گھر میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ہوتا تھا اور سارے محلے کے بچے وہیں جاکر ڈرامے دیکھتے تھے۔ دوکاندار کو کھوٹا سکا چلا دینا ہی سب سے بڑا فراڈ ہوتا تھا ۔کسی نے شوگر، ہپاٹائٹس، ایڈز، ڈینگی، بلڈ پریشر،ڈپریشن کانام تک نہیں سنا تھا، سب کو نیند آتی تھی اور خوب آتی تھی ۔
ناشتے اوررات کے کھانے پر سب اکٹھے بیٹھتے تھے۔مذہب کبھی موضوع ِ گفتگو نہیں ہوتا تھا کیونکہ اُس وقت سبھی مسلمان تھے۔یہ وہ وقت تھا جب زمینی فاصلے زیادہ اور دِلوں کے فاصلے بہت کم تھے۔۔
ایک شخص کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ ماں کو گالیاں دیتا ہے۔ امیرالمؤمنین عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو بلوایا اور حکم دیا کہ پانی سے بھری ہوئی مشک لائی جائے ،، پھر وہ مشک اس کے پیٹ پر خوب کس کر بندھوا دی اور اس کو کہا کہ اسے اسی مشک کے ساتھ چلنا پھرنا بھی ہے اور کھانا پینا بھی ہے اور سونا جاگنا بھی ہے۔ ایک دن گزرا تو وہ بندہ بلبلاتا ہوا حاضر ہوا کہ اس کو معاف کر دیا جائے وہ آئندہ ایسی حرکت نہیں کرے گا۔ آپؓ نے پانی آدھا کر دیا مگر مشک بدستور اس کے پیٹ پر بندهی رہنے دی۔ مزید ایک دن کے بعد وہ بندہ ماں کو بھی سفارشی بنا کر ساتھ لے آیا کہ اس کو معاف کر دیا جائے اور اس مشک کو ہٹا دیا جائے وہ دو دن سے نہ تو سو سکا ہے اور نہ ہی ٹھیک سے کچھ کھا سکا ہے۔
آپ نے اس کی ماں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اس نے تجھے پیٹ کے باہر نہیں،،، بلکہ پیٹ کے اندر اتنے ہی وزن کے ساتھ 9 ماہ اٹھا کر رکھا ہے۔ نہ وہ ٹھیک سے سو سکتی تھی اور نہ ٹھیک سے کھا سکتی تھی، پھر تو اسے موت کی سی اذیت دے کر پیدا ہوا اور 2 سال اس کا خون پیتا رہا ، اور جب اپنے پاؤں پر کھڑا یوا تو اس کا شکر ادا کرنے کے بجائے اس کے لئے تیرے منہ سے گالیاں نکلتی ہیں ،،،،، اگر آئندہ یہ شکایت موصول ہوئی تو تجھے نشانِ عبرت بنا دونگا۔
(فتاوی و اقضیتہ عمر ابن الخطاب
دعا کی بڑی خوبی تو یه ھے که جھاں دعا کرنے والا ھے وھیں دعا قبول کرنے والا بھی ھے
زبان سے اچھی بات کے علاوہ کچھ نہ کہو...!!
Aur Phir Youn Hota Hai Jholiyan Bhar de jati hai ...Dainy Wala Nazar nhin ataa....
(حدیث پاک)
تم میں سے بہترین مومن وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور دوسروں کو سیکھایا...!!
#لائک
ایک وقت تھا جب ملک کے بادشاہ کے اندر عبادت، پرہیز گاری اور دینی سمجھ بوجھ کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ آج کے اس گئے گزرے دور میں آدمی ان واقعات کو سنے تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔ چنانچہ عقل کو حیران کردینے والا واقعہ سنیے۔
جب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کی وفات ہوئی تو کہرام مچ گیا۔ جنازہ تیار ہوا، ایک بڑے میدان میں لایا گیا۔ بے پناہ لوگ نماز جنازہ پڑھنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ انسانوں کا ایک سمندر تھا جو حد نگاہ تک نظر آتا تھا۔ جب جنازہ پڑھنے کا وقت آیا، ایک آدمی آگے بڑھا اور کہنے لگا کہ میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کا وکیل ہوں۔ حضرت نے ایک وصیت کی تھی۔ میں اس مجمعے تک وہ وصیت پہنچانا چاہتا ہوں۔ مجمعے پر سناٹا چھاگیا۔ وکیل نے پکار کر کہا۔ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ وصیت کی کہ میرا جنازہ وہ شخص پڑھائے جس کے اندر چار خوبیاں ہوں۔
زندگی میںاس کی تکبیر اولیٰ کبھی قضا نہ ہوئی ہو۔
اس کی تہجد کی نماز کبھی قضا نہ ہوئی ہو۔
اس نے غیر محرم پر کبھی بھی بری نظر نہ ڈالی ہو۔
اتنا عبادت گزار ہو کہ اس نے عصر کی سنتیں بھی کبھی نہ چھوڑی ہوں۔
جس شخص میں یہ چار خوبیاں ہوں وہ میرا جنازہ پڑھائے۔ جب یہ بات سنائی گئی تو مجمعے پر ایسا سناٹا چھایا کہ جیسے مجمعے کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ کافی دیر گزر گئی، کوئی نہ آگے بڑھا۔ آخر کار ایک شخص روتے ہوئے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کے جنازے کے قریب آئے۔ جنازہ سے چادر اٹھائی اور کہا۔ حضرت! آپ خود تو فوت ہوگئے مگر میرا راز فاش کردیا۔
اس کے بعد بھرے مجمعے کے سامنے اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر قسم اٹھائی کہ میرے اندر یہ چاروں خوبیاں موجود ہیں۔ یہ شخص وقت کا بادشاہ شمس الدین التمش تھے۔