وحدت امت کانفرنس
غربی کراچی ، کلمہ چوک منگھوپیر
20مئی 2026ء
تحریر:
ڈاکٹر طلحہ نصیر
سندھ، کراچی، پاکستان بلکہ پوری دنیا اس وقت جس بے چینی، اضطراب اور انتشار سے گزر رہی ہے، اس میں امن صرف ایک خواہش نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ ہر طرف بڑھتی ہوئی نفرتیں، فرقہ واریت، عدم برداشت اور بدامنی انسانیت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ ایسے حالات میں اتحاد، رواداری اور بھائی چارے کا پیغام وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔
اسی تناظر میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان سندھ کی جانب سے مارچ 2027ء کو منعقد ہونے والا "امن عالم اجتماع" کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعیۃ علماء اسلام کراچی غربی کے زیر اہتمام 20 مئی کو منعقد ہونے والی "وحدت امت کانفرنس" ایک نہایت بروقت، بامقصد اور قابل تحسین اقدام ہے۔ یہ صرف ایک اجتماع نہیں بلکہ ایک پیغام ہے۔۔ امن کا، یکجہتی کا، اور اس عزم کا کہ ہم اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر امت مسلمہ اور انسانیت کی بھلائی کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو سکتے ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر اس پیغام کو عام کریں کہ اختلاف رائے کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے، بلکہ اسے برداشت اور حکمت کے ساتھ حل کیا جائے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں، جہاں مختلف زبانوں، ثقافتوں اور مسالک کے لوگ آباد ہیں، وہاں "وحدتِ امت کانفرنس" جیسے پروگرام امید کی ایک روشن کرن ہیں۔
یہ کانفرنس نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان اور دنیا کے لیے ایک مثبت مثال بن سکتی ہے، اگر ہم سب اس میں بھرپور شرکت کریں اور اس کے مقاصد کو آگے بڑھائیں۔ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس نیک مقصد کا حصہ بنے، اپنے دوستوں، اہل خانہ اور معاشرے کے دیگر افراد کو بھی شرکت کی دعوت دے، اور اس پیغام کو گھر گھر پہنچائے۔
بالخصوص کارکنان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں اس مشن کی کامیابی کے لیے وقف کریں۔ دن رات محنت کریں، نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ کانفرنس اپنی مثال آپ بن جائے۔ آپ کی محنت، آپ کا اخلاص اور آپ کی لگن ہی اس پیغام کو کامیابی سے ہمکنار کرے گی۔
اس عظیم الشان "وحدت امت کانفرنس" کی اہمیت اس اعتبار سے بھی مزید بڑھ جاتی ہے کہ اس میں جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی قائد مولانا فضل الرحمن بطور مہمان خصوصی شرکت فرمائیں گے، جن کی قیادت اور بصیرت پورے ملک میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ اسی طرح صوبہ سندھ کی قیادت بھی اس موقع پر بھرپور انداز میں شریک ہوگی، جہاں علامہ راشد محمود سومرو (قائد سندھ) اور سائیں عبدالقیوم ہالیجوی (امیر سندھ) بطور مہمانان خاص جلوہ افروز ہوں گے۔ مزید برآں صوبائی مجلسِ عاملہ کے معزز ارکان کی شرکت اس اجتماع کو ایک مضبوط تنظیمی قوت اور فکری رہنمائی فراہم کرے گی۔ ان تمام بڑوں کی موجودگی نہ صرف اس کانفرنس کے وقار میں اضافہ کرے گی بلکہ کارکنان کے لیے حوصلہ، رہنمائی اور ایک واضح پیغام بھی ہوگی کہ یہ جدوجہد اتحادِ امت اور قیام امن کے لیے ایک سنجیدہ اور بھرپور کوشش ہے۔۔
آئیں! ہم سب مل کر عہد کریں کہ امن، محبت اور وحدت کے اس سفر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔ اختلافات کو ختم کر کے اتحاد کو فروغ دیں گے، اور اپنے معاشرے کو ایک پرامن، خوشحال اور مضبوط معاشرہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں، بلکہ آگے بڑھ کر کردار ادا کرنے کا ہے۔ "وحدت امت کانفرنس" میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں اور امن کے اس پیغام کو عام کریں۔ یہی ہماری کامیابی ہے، یہی ہماری ضرورت ہے، اور یہی ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
JUI Digital
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from JUI Digital, Social service, Islamabad.
JUI Digital is the official digital media platform of Jamiat Ulema-e-Islam Pakistan, dedicated to presenting the party’s vision, activities, policies, and organizational updates through authentic and responsible digital communication.
25/04/2026
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کی جامعہ سراج العلوم لودھراں میں مقامی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو
24 اپریل 2026
صحافی: مولانا صاحب مہنگائی کی جو لہر ہے اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بھی بتا دیجیے گا۔
مولانا صاحب: دیکھیں جہاں تک بلدیاتی انتخابات ہیں تو وہ ایک آئینی اور قانونی تقاضا ہے لیکن چوں کہ صوبائی معاملہ ہے، صوبائی حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے، پہلے اسے دیکھا جائے گا پھر اس کے بعد تبصرہ کیا جائے گا۔ تو اس کے علاؤہ جہاں تک مہنگائی کا مسئلہ ہے، مہنگائی تو ایک طوفان بن کر ہمارے اوپر بھی اور پوری دنیا میں بھی، خاص طور پر جو عالمی سطح پر کشیدگی کا ماحول پیدا ہوا ہے اس نے پوری انسانیت کو اضطراب میں ڈال دیا ہے اور صرف پاکستان نہیں، بلکہ دنیا بھر میں بے چینی کی ایک کیفیت ہے۔ اور یہ امریکا اپنے طاقت کے نشے میں اس قسم کے حالات پیدا کرتا ہے، پہلے اپنے آپ کو مظلوم بنا دیتا ہے پھر اس کے بعد جو قومیں اپنی ترقی کے لیے اقدامات کرتی ہے اس کو خطرہ قرار دیتے ہیں۔ اسی کا شکار افغا--نستان ہوا، اسی کا شکار عراق، لیبیا اور آج ایران اس کا نشانہ بنا ہوا ہے۔
تو ایسی صورتحال میں بہرحال مہنگائی کے حوالے سے تو جمعیۃ علماء اسلام بہت سنجیدہ ہے، ہم نے جو پورے ملک میں مہنگائی کے خلاف مظاہروں کی کال دی تھی وہ ہم نے کچھ معروضی حالات کی وجہ سے مؤخر کیں، منسوخ نہیں کیا ہے۔ اور ان شاءاللہ اس حوالے سے ہم ضرور عوام کے شانہ بشانہ ہیں، عوام کے اس حق کی ہم جنگ لڑیں گے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دینا چاہتے ہیں کہ ملک میں آئین کی حکمرانی ہونی چاہیے، قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے، کسی ایک ادارے کی بالادستی وہ تو شائد عام آدمی کی نہ تو مسائل حل کرسکے اور انہیں عدل و انصاف مہیا کرسکے، صرف ایک ادارے کی پورے ملک پر گرفت اور اپنی اتھارٹی کو مظبوط کرنا، ہم اس پولیٹکس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ہم کہتے ہیں آئین جس کو سپریم کہتا ہے ، پارلیمنٹ کی سپریمیسی ہو، سول سپریمیسی ہو، اس حوالے سے ہمیں قوم کو مظبوط کرنا چاہیے، عوام کو مظبوط کرنا چاہیے اور جمعیۃ علماء اسلام عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔ صوبے ہیں ہم صوبوں کی خودمختاری کی بات کرتے ہیں، اٹھارویں ترمیم نے صوبوں کو بہت سے اختیارات دیے ہیں، آج این ایف سی ایوارڈ کے مسئلے کو دوبارہ چھیڑا جا رہا ہے جبکہ وہ صوبوں کا نہ تبدیل ہونے والا حق ہے جس کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ اور اگر وہ صوبوں کا حق ہے اور اس کو تبدیل کرنے کا کسی کو اختیار نہیں، تو پھر اس کا علاج یہ ہے کہ صوبے توڑ دیے جائیں، چھوٹے چھوٹے نئے صوبے بناکر پھر کہا جائے کہ نیا این ایف سی ایوارڈ ہو، امن و امان خالصتاً صوبوں کا مسئلہ ہے اور صوبائی حکومت امن و امان کے زمہ دار ہیں لیکن امن و امان کا ادارہ اگر وفاق کی سطح پر بنایا جائے گا تو ذمہ داری صوبوں کی ل، ادارہ وفاق کا، یہ شائد ملک کے اندر توازن برقرار نہ رکھ سکے۔ قانونی لحاظ سے گنجائشیں موجود ہیں، اگر امن و امان کے حوالے سے کوئی صوبہ محسوس کریں کے اسے مدد کی ضرورت ہے تو وہ ایف سی کو بلا سکتے ہیں، وہ رینجرز کو بلا سکتے ہیں، وہ فوج کو بلا سکتے ہیں۔ جب یہ گنجائشیں موجود ہیں تو پھر وفاق کی سطح پر امن و امان کے لیے اداروں کی قیام کے تجاویز یہ شائد صوبائی خودمختاری کے روح کے منافی ہو۔
سو اس اعتبار سے ہمیں آئین کا بھی تحفظ کرنا ہے، آئین کی روح کا بھی تحفظ کرنا ہے اور ایک جائز انتخابی عمل کا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک میں ایک ایسا الیکشن کہ جو حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندگی کرے اور عوام اس سے مطمئن ہو، آج جو حکومت قائم ہے اسے عوام کا نمائندہ نہیں سمجھتے۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
ضبط تحریر:
ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کانٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
سوشل میڈیا پر سیاسی پارٹیوں کی صفوں میں قا--دیانیت کی سازشیں
جب بھی مولانا صاحب اسلام دشمنوں اور ملک دشمنوں کی سازشوں سے پردہ اٹھاتے ہیں اور سرکاری مشینری کے غلط استعمال پر آواز بلند کرتے ہیں، تو سوشل میڈیا پر قا--دیانی مر--تد مختلف پلیٹ فارمز پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے کردارکشی شروع کر دیتے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے بعض مسلمان بھائی بھی نادانستہ طور پر اس مرتد طبقے کے ہم آواز بن جاتے ہیں۔
سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر بعض افراد کو جب بھی کوئی گالم گلوچ پر مبنی پوسٹ یا جعلی ویڈیو/تصویر نظر آتی ہے تو وہ محض بغضِ مولانا میں اس قا---دیانی مہم کا حصہ بن جاتے ہیں۔
نئی نسل کے نوجوانوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ مولانا صاحب اور جمعیۃ علماء اسلام کی پالیسی و کردار سے اختلاف کرنا کوئی جرم نہیں، لیکن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں کی مہم کا حصہ بننا معمولی بات نہیں۔ ایسا عمل انسان کے ایمان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، چاہے انجانے میں ہو یا جان بوجھ کر۔
مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں سے گزارش ہے کہ آپ لاکھ بار سیاسی اختلاف کریں، مگر قا---دیانیت کے ک-فر کے مسئلے پر اس ملک میں کوئی دو رائے نہیں۔ اس موضوع پر تمام مسلمان ایک ہیں۔ ہزار اختلافات کے باوجود ہم سب ایک دوسرے کے بھائی، ہمسفر اور ہم نظر ہیں اور رہیں گے۔
دوستو! ذرا نہیں، بلکہ بار بار سوچیں۔
مولانا صاحب نے یہو--دیت کے خلاف دلیل کے ساتھ بات کی ہے۔ اس کا اثر قا--دیانیت پر کیوں ہوا؟ سوشل میڈیا پر جگہ جگہ مرزا مسرور کی تصویر کے ساتھ مولانا فضل الرحمن کی تصویر لگا کر مہم چلائی جا رہی ہے، حالانکہ بات اسر--ائیل کی ناجائز ریاست اور یہو--دیت کے خلاف کی گئی تھی۔ آخر قا--دیانی طبقہ کیوں تڑپ رہا ہے؟
اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں:
اول: قا--دیانی جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخالف ہیں، اسی طرح پاکستان کے قیام اور استحکام کے بھی مخالف رہے ہیں۔ جبکہ مولانا صاحب نے اپنی تقریر میں پاکستان کی مضبوط حیثیت اور اسلامی ریاست کے کردار کو اجاگر کیا۔
دوم: مولانا صاحب نے دلیل سے واضح کیا کہ اسر--ائیل جیسی ناجائز ریاست نے اپنے ابتدائی بیانات میں پاکستان کے خاتمے کی بات کی تھی، جبکہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اسے زہریلا سانپ قرار دے کر تسلیم نہ کرنے کا مؤقف اختیار کیا، جس پر آج تک عمل ہو رہا ہے۔
ملک کے اندر قا--دیانی لابی گزشتہ 70 سال سے سرگرم ہے، مگر مسلمانوں نے ہمیشہ انہیں ناکام بنایا ہے۔ ختم نبوت کے مسئلے پر مسلمان ہر دور میں متحد ہو کر سامنے آئے ہیں، یہی اتحاد قا--دیانیت کے لیے سب سے بڑی تکلیف ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اب قا--دیانی مختلف سیاسی جماعتوں میں گھس کر انہی کے پلیٹ فارمز سے علماء خصوصاً مولانا صاحب کے خلاف مہم چلا رہے ہیں، اور سیاسی کارکن اس حقیقت سے بے خبر ہیں۔
اگر کارکنان کو اس چالاکی کا ادراک ہو جائے تو سوشل میڈیا پر ان کی اس مہم کا خاتمہ ممکن ہے۔
جب قا--دیانی اپنے پروفائل پر کسی بھی سیاسی جماعت کا لیبل لگا کر علماء کے خلاف کردارکشی کرتے ہیں اور ہمارے اپنے لوگ اس مہم کا حصہ بن جاتے ہیں، تو یہ بہت بڑا نقصان ہے۔
یاد رکھیں! قا--دیانیت کا اختلاف کسی ایک شخصیت سے نہیں بلکہ اس رکاوٹ سے ہے جو ان کی سازشوں کے راستے میں کھڑی ہے، اور وہ ہے جمعیۃ علماء اسلام اور اس کی قیادت۔
لہٰذا جب بھی کسی سیاسی پلیٹ فارم پر دلیل کی بجائے گالم گلوچ اور کردارکشی نظر آئے، تو سمجھ لیں کہ یہ یا تو قا--دیانی ہے یا ان کے پروپیگنڈے سے متاثر ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر اس حمایت اور مخالفت سے محفوظ رکھے جس سے دشمنانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فائدہ پہنچتا ہو۔
عزیز اللہ پکتوی
اتحاد تنظیمات مدارس کے مرکزی قائدین سے چند گزارشات۔
تحریر:
مولانان اللہ حقانی
گزشتہ روز اتحادِ تنظیماتِ مدارس کے ذمہ داران کا صوبائی سطح پر ایک نہایت اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایک حساس اور بنیادی نوعیت کا مسئلہ زیرِ بحث آیا۔ اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ حکومت کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ اتحادِ تنظیماتِ مدارس کے ذمہ داران ممبر و محراب کو حکومتی اور ریاستی بیانیے کی تشہیر کے لیے استعمال کریں، اور جمعہ و عیدین کے خطبات مرتب کر کے علماء و خطباء کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ انہی متعین خطبات کو عوام کے سامنے پیش کریں۔
اگرچہ اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا کہ یہ معاملہ صوبائی نظم کے دائرۂ اختیار سے باہر ہے، اور حکومت کو اس سلسلے میں مرکزی نظم سے رجوع کرنا چاہیے، لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ بات پہلے ہی سے حکومت کے علم میں ہے کہ اس نوعیت کے فیصلوں کا اختیار صرف مرکزی قیادت کے پاس ہے، تو پھر صوبائی ذمہ داران سے اس طرح کا مطالبہ آخر کس مقصد کے تحت کیا گیا؟
دراصل حقیقت یہ ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں “متحدہ علماء بورڈ” کے نام سے حکومت کی سرپرستی میں ایک ایسا بورڈ تشکیل دیا گیا ہے، جس کی کوئی واضح قانونی حیثیت نہیں۔ اس میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا ہے جن کی اس نوعیت کے اہم معاملات میں نہ کوئی نمائندہ حیثیت ہے اور نہ علمی و عوامی اثر و رسوخ، تاہم انہیں بھاری معاوضے اور مراعات سے نوازا جاتا ہے تاکہ حکومت وقتاً فوقتاً اپنے مخصوص مقاصد اور ایجنڈے کی تکمیل کے لیے انہیں استعمال کر سکے۔
چند روز قبل ریاستی اداروں کے ساتھ اسی بورڈ کے ایک اجلاس میں جب ان کے سپرد یہ ذمہ داری کی گئی تو نہ ان کے اندر اس کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت تھی، نہ علماء و خطباء کے حلقوں میں ان کی کوئی وقعت۔ چنانچہ اپنی مراعات کو جواز دینے اور اپنی ناکامی چھپانے کے لیے انہوں نے اتحادِ تنظیماتِ مدارس کو درمیان میں لا کھڑا کیا۔
اب اتحادِ تنظیماتِ مدارس کی مرکزی قیادت سے بصد احترام ہماری گزارش ہے کہ وہ اس معاملے میں باز پرس فرمائیں کہ آخر ایسی کیا ضرورت پیش آئی کہ اس نہایت حساس مسئلے پر صوبائی سطح کا اجلاس بلایا گیا؟ کیا یہ کسی ایک صوبے کا مسئلہ ہے یا پوری ملت اور تمام دینی طبقات سے متعلق ایک قومی معاملہ؟
مزید یہ کہ اتحادِ تنظیماتِ مدارس کے صوبائی ذمہ داران کو اس امر کا پابند بنایا جائے کہ وہ مرکزی قیادت کے علم و اجازت کے بغیر حکومتی اداروں سے ملاقاتوں کا سلسلہ بند کریں، اور اب تک حکومتی و ریاستی اداروں سے “متحدہ علماء بورڈ” کے پلیٹ فارم سے ان کی جتنی ملاقاتیں ہوئی ہیں، ان کی مکمل تفصیل طلب کی جائے اور ساتھ ساتھ ان سے یہ بھی پوچھا جائے کہ انہوں نے ان ملاقاتوں میں مدارس کے کتنے مسائل حل کرائے، تاکہ حقائق قائدین کے علم میں بھی آجائے۔
21/04/2026
مولانا فضل الرحمن ان شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی فکری گہرائی، سیاسی بصیرت، خطیبانہ قوت اور عملی حکمتِ عملی کے ذریعے قومی سطح پر ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ اُن کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ حالات کو محض ظاہری سطح پر نہیں دیکھتے بلکہ ان کے پس منظر، نتائج اور آئندہ امکانات کو بھی سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ پیچیدہ سیاسی حالات میں بھی ایسا راستہ نکال لیتے ہیں جو عام نگاہ سے اوجھل ہوتا ہے۔
ان کی گفتگو میں وقار، اعتماد اور دلیل کا حسین امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ جب وہ اظہارِ خیال کرتے ہیں تو الفاظ میں وزن، لہجے میں سنجیدگی اور انداز میں اثر پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ محض گفتگو نہیں کرتے بلکہ اپنے سامعین کے ذہن پر نقش چھوڑتے ہیں۔ اُن کی خطابت میں علم کی روشنی بھی نظر آتی ہے اور تجربے کی پختگی بھی، جس سے سننے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔
مولانا فضل الرحمن کی شخصیت کا ایک قابلِ قدر پہلو اُن کی وسیع النظری اور مفاہمتی مزاج ہے۔ وہ اختلاف کے باوجود دروازے بند نہیں کرتے بلکہ مکالمے، برداشت اور سیاسی تدبر کے ذریعے راستہ نکالنے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ ہی صلاحیت ایک بڑے قائد کی پہچان ہوتی ہے کہ وہ مختلف خیالات رکھنے والوں کو ایک میز پر بٹھا سکے اور اجتماعی مفاد کے لیے راہیں ہموار کر سکے۔
ان کی زندگی استقامت، محنت اور مسلسل جدوجہد کی مثال بھی ہے۔ سیاست کے نشیب و فراز، مخالفتوں اور مشکلات کے باوجود وہ ثابت قدم رہے۔ انہوں نے حالات سے گھبرا کر کنارہ کشی اختیار نہیں کی بلکہ ہر دور میں سرگرم کردار ادا کیا۔ یہ وصف اُن لوگوں کے لیے سبق ہے جو مشکلات کے سامنے ہمت ہار دیتے ہیں۔
وہ دینی روایت اور عصری سیاست کے درمیان ایک پل کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ اُن کی شخصیت میں مذہبی سنجیدگی، علمی وقار، سیاسی فہم اور عوامی رابطے کی قوت ایک ساتھ جمع نظر آتی ہے۔ یہ ہی امتزاج انہیں دیگر شخصیات سے ممتاز کرتا ہے۔ وہ اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے قومی معاملات میں مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
عقل رکھنے والے لوگ کسی شخصیت کو محض پسند یا ناپسند کی بنیاد پر نہیں دیکھتے بلکہ اُس کے اوصاف، صلاحیتوں اور اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو مولانا فضل الرحمن کی شخصیت تدبر، حکمت، جراتِ اظہار، صبر اور قیادت کی متعدد مثالوں سے مزین دکھائی دیتی ہے۔ اُن کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ علم، حکمت، استقامت اور درست حکمتِ عملی کے ذریعے انسان اپنے اثرات کو دیرپا بنا سکتا ہے۔
تحریر ! عبدالباری بادیزئی
صوبائی ممبر ڈیجیٹل میڈیا سیل جےیوآئی بلوچستان
"سیاست کے استاد اور پیچیدہ مسئلہ کی دومنٹی طربیہ تفہیم "
نوفل ربانی
سید سلمان گیلانی سیمینار میں مولانا کا مزاحیہ انداز میں ماسٹر پیس جملے جو زیر نظر کلپ میں ہیں جنہوں نے جہاں کشت زعفران کا کام کیا وہاں سیاسی رموز کی جامعیت بھی لئے ہوئے تھے
کہتے ہیں کہ یہ تو دو منٹ میں حل کردوں گا یہ دومنٹ کا کلپ ہے استاذ سیاست ، امام سیادت ، مجسمہ تدبر سیاست مولانا فضل الرحمان کا ایک عالمی مسئلہ ایران اسرائیل وامریکہ جنگ جسکے سرے پر تیسری عالمی جنگ کروٹیں لے رہی تھی، جو علاقائی مفادات کا گھن چکر بن چکا تھا ، جو ہرروز الجھی ڈور کی طرح مزید الجھتا جاتا ہے ،جس پر گھنٹوں کے تجزئے تبصرے کالمز فیچرز مقالے مضامین لکھے جارہے ہیں۔ ایسے گنجلک مسئلہ کو یوں چٹکیوں میں اتنی جامعیت کیساتھ ہلکے پھلکے انداز میں بیان کرنا یہ فضل الرحمان ہی کرسکتے ہیں ۔
امریکہ کی فرعونیت اور گھمنڈ کی مثال محلے کے بدمعاش کیساتھ دے کر کسقدر خوبصورتی سے اسکو تبادر الی الفہم کیا اور کس مہارت سے اسکے خدوخال واضح کئے اسکی دھمکیوں کو بدقماش کی تڑیوں اور گیدڑ بھبکیاں سے جاملایا اور ایک عام آدمی کے سامنے دنیاوی سپر پاور کا "سپرا"نکال کر رکھ دیا ۔
پھر چند لمحوں میں مذاکرات کی سائنس اور امن کے لئے سنجیدگی اور درکار ماحول کو کیسے اجاگر کرکے چٹکلے کے انداز میں دنیا کو سبق بھی پڑھادیا
پھر اپنی حکومت کی بھی کا قدر گہرے طنز سے کلاس لیتے ہوئے ریاستی پولیٹیکل انجینئرنگ کو بھی چٹکی کاٹ گئے
مجھے اس وقت لگا کہ خطابت کا یہ وہ ہنر ہے جس میں سنجیدگی بھی تالیاں بجاتی ہے اور مزاح بھی سجدہ ریز ہوتا ہے”
کون تھا جو اس وقت سرتا پاؤں سرشار نا ہوگیا ہو سر دھنتا مجمع نہال ہی تو ہوگیا تھا عالمی شطرنج کو چوپال کی دانش میں بھی اتار دیا اندرونی و بیرونی سازشوں کو قہقہوں کی چاشنی میں ڈبو کر سامعین کے کانوں کے حوالے کرکے فہم و ادراک کے دریچے وا کردئیے ۔
پچھلے کئی دنوں سے بھاری بھر کم خشک الفاظوں میں اس مسئلہ پر اہل سیاست کے فلسفے سن کر طبیعت بوجھل تھی وہ مولانا نے دو منٹ کی شگفتہ گفتاری اور طربیہ انداز سے سمجھایا ۔ سفارتی آداب ، رموز جہاں بانی، اسرار سیاست ،قوت دلیل ،زور استدلال مولانا خطابت نہیں جادو کرتے ہیں جس میں قہقہ بھی دلیل بن جاتا ہے کاش ہماری ریاست اس عالی دماغ سے فائیدہ اٹھاتی خدا نے ایسا بے مثال عدیم النظیر قائد ہمیں دیا
سید سلمان گیلانی سیمینار میں مولانا کے خطاب کا ایک قطعہ ویڈیو کلپ
21/04/2026
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان سندھ
امن عالم اجتماع
19, 20 ,21 مارچ 2027ء
قطب الدین عابد
فضا یہ امن و اماں کی سدا رکھیں قائم
سنو یہ فرض تمہارا بھی ہے ہمارا بھی
دنیا اس وقت جس نازک موڑ پر کھڑی ہے، وہاں امن صرف ایک خواہش نہیں بلکہ پوری انسانیت کی فوری ضرورت بن چکا ہے۔ بڑھتی ہوئی بدامنی، جنگوں کی فضا اور عالمی کشیدگی نے ہر باشعور انسان کو فکر مند کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں اگر کوئی آواز انسانیت، رواداری اور بقائے باہمی کے لیے بلند ہوتی ہے تو وہ امید کی کرن بن جاتی ہے۔
اسی تناظر میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (سندھ) کا 19, 20, 21 مارچ 2027ء میں “ امن ِ عالم اجتماع” منعقد کرنے کا فیصلہ نہایت بروقت، دانشمندانہ اور قابلِم تحسین اقدام ہے۔
یہ صرف ایک اجتماع نہیں بلکہ پوری دنیا کو امن، محبت، برداشت اور انسانی احترام کا پیغام دینے کی ایک سنجیدہ اور عملی کوشش ہے۔
اس عظیم اجتماع میں بیت اللہ شریف کے امام، بیت المقدس کے پیش امام، اور دنیا بھر سے جید علماء، فقہاء، دانشور، اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات کی شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ ایک عالمی سطح کا تاریخی اور مؤثر اجتماع ہونے جا رہا ہے۔
ابھی سے لوگ امیجن کر رہے ہیں
امام کعبہ آرہے ہیں ؟
دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہونے جا رہا ہے ؟؟
آج جب عالمی طاقتیں اپنے مفادات کی جنگ میں انسانیت کو داؤ پر لگا رہی ہیں، ایسے میں جمعیۃ علماء اسلام کا یہ قدم انسانیت کی بقا، عالمی ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ یہ اقدام نہ صرف قابلِ صد ستائش ہے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
اسلام ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے جس کی بنیاد ہی امن، سلامتی اور آشتی پر قائم ہے۔ اس کی تعلیمات انسان کو نہ صرف اپنے رب سے جوڑتی ہیں بلکہ بندوں کے ساتھ محبت، رواداری، عدل اور احترام کا درس بھی دیتی ہیں۔ اسلام ہر قسم کے ظلم، فساد اور ناانصافی کی نفی کرتا ہے اور معاشرے میں بھائی چارہ، برداشت اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔
ملنے وقت سلام کو سنت اور جواب کو واجب قرار دیا گیا ہے، بلکہ “سلام” خود اسلام کی پہچان ہے، جو ہر ملنے والے کے لیے خیر، حفاظت اور امن کی دعا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو دنیا کے ہر کونے میں سکون، استحکام اور انسانیت کی بقا کی ضمانت بن سکتا ہے۔
ایک تختی امن کے پیغام کی
ٹانگ دیجے اونچے میناروں کے بیچ
اس وقت سندھ صوبائی مجلس عاملہ قاید سندھ علامہ راشد محمود سومرو کی قیادت میں صوبے سے لے کر اضلاع، ٹاؤنز اور یونین کونسلز تک کارکنان جس محنت، جذبے اور لگن کے ساتھ تیاریوں میں مصروف ہیں، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اجتماع ایک تاریخ ساز کامیابی بننے جا رہا ہے۔
ہم پوری قوم، تمام مکاتبِ فکر، سول سوسائٹی، طلبہ، علماء، تاجر برادری اور ہر محبِ وطن فرد سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس عظیم مقصد کا حصہ بنیں، اس پیغام کو عام کریں، اور اس اجتماع کی کامیابی کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔
آئیے! ایک نعرہ مستانہ لگاتے ہیں
کہ
امن ہر شخص کی ضرورت ہے
اس لئے امن سے محبت ہے
آئیے! ہم سب مل کر امن، محبت اور انسانیت کے اس قافلے کا حصہ بنیں، کیونکہ یہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور یہی ہماری مشترکہ ذمہ داری بھی۔
سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں
آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت
19/04/2026
*قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا ایوان اقبال لاہور میں سید سلمان گیلانی سیمینار سے خطاب*
19 اپریل 2026
*الحمد للہ رب العالمین، الصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء والمرسلین، وعلی آلہ وصحبہ ومن تبعھم باحسان الی یوم الدین۔ أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطنِ الرَّجِيمِ بِسمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتَابًا مُّؤَجَّلًا ۗ وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا ۚ وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ۔ صَدَقَ اللَّهُ الْعَظِيمُ*
جناب صدر محترم، اکابر علماء کرام، زعماء ملّت، برادران امت، میرے دوستو اور بھائیو! آج کی یہ محفل ہمارے بہت ہی پیارے اور محبوب بھائی جناب سلمان گیلانی کی یاد میں سجی ہے۔ وہ ہم سے چلے گئے اور بہت دور چلے گئے، لیکن ان کی یادیں ہماری دلوں میں ہیں اور ان شاءاللہ العزیز جب تک ہم ہیں وہ ہمارے دلوں میں رہیں گے۔
سلمان گیلانی سے جس طرح کا تعلق تھا، پچاس سال سے زیادہ عرصے پر محیط تعلق، کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم دنیا میں ہوں گے اور اس طرح جدا ہوں گے، لیکن اللہ کا نظام محکم ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، جب اللہ چاہتا ہے دنیا میں لے آتا ہے اور جب اللہ چاہتا ہے دنیا سے لے جاتا ہے، لیکن کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنی ذات کے نہیں ہوتے ہیں، اپنے خاندان کے نہیں ہوتے ہیں، اپنے بال بچوں کے نہیں ہوتے ہیں، وہ لوگ امت کے ہوتے ہیں، ان کے جانے سے ایک جہان یتیم ہو جاتا ہے اور وہ سب کے تھے۔
یہ سیمینار اور اس اجتماع میں آپ حضرات کی شمولیت جس نسبت سے ہوئی ہے یہ اس کی ایک چھوٹی سی جھلک ہے، تا حد نظر انسانوں کا سمندر وہ بھی سلمان کی یادوں کے لئے کم تھا، اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس کے مزے لوٹنے کا ابد الآباد تک قسمت نصیب فرمائے۔ وہ اپنے والد حضرت سید امین گیلانی کے امین تھے، ان کی سوچوں کے امین تھے، ان کے فکر و نظر کے امین تھے، اور ان کے شعر و ادب کے امین تھے، ان کے طرز شعر اور لہجے کے امین تھے، اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ مجھے ان کی سرپرستی نصیب ہوئی تھی، اس کا دست شفقت نصیب ہوا تھا۔
ہم قاسم العلوم میں ملتان میں پڑھتے تھے، میرے سکول کا زمانہ تھا اور ہم امین گیلانی کا نام غائبانہ سنتے تھے، ایک دن ملتان میں جلسے کا اعلان ہوا، باغ لانگے خان میں جلسہ ہے اور یہ اطلاع بھی ملی کہ امین گیلانی آ رہے ہیں۔ میں صرف امین گیلانی کو سننے اور دیکھنے کے لئے گیا، میں سٹیج کے قریب بیٹھ گیا، امین گیلانی کا اعلان ہوا، اب ذہن میں جو تصویر تھی کہ وہ ایک قدآور شخصیت ہوں گے، بڑے رعب و دبدبے کے ساتھ سٹیج پر آئیں گے، بڑا کرّ و فرّ ہوگا، اب سٹیج پر ایک شخص آیا دھوتی باندھے ہوئے، ہلکی پھلکی قمیص پہنے ہوئے، جالی دار ٹوپی پہنے ہوئے، ایک فقیر سا بندہ سٹیج پر آیا، میں بڑی حیرت میں ڈوبا ہوا تھا یہ امین گیلانی ہے؟ یہ شعر پڑھے گا؟ لیکن آپ یقین جانیے جب انہوں نے پہلا شعر پڑھا، تو پورے اجتماع کو پلٹ کر رکھ دیا، ہاں! میں نے کہا یہ امین گیلانی ہے۔ تو اس وقت سے ایک تعلق ہے اور آخری وقت تک انہوں نے نبھایا، ایک وفادار بھائی کی طرح، ان کا پورا خانوادہ اس وقت اجتماع میں موجود ہے اللہ تعالیٰ اس تعلق کو اگلی نسلوں تک زندہ و تابندہ رکھے۔
میرے محترم دوستو! جیسے کہ میں نے عرض کیا اور تمام مقررین نے اس کا ذکر کیا کہ وہ ایک فکری اور نظریاتی شخصیت تھے، عقیدہ ختم نبوت کے لیے ان کا کردار اور ان کی قربانیاں تاریخ کے اوراق پر ثبت ہیں۔ مجھے سن تریپن کی تحریک تو یاد نہیں کہ سن انیس سو تریپن میری پیدائش کا سال ہے اور مجھے والد صاحب رحمہ اللہ مذاق میں کہا کرتے تھے کہ سن تریپن میں، میں بھی جیل سے آیا اور تم بھی جیل سے آئے، حضرت شاہ جی رحمت اللہ علیہ ان کا انتقال انیس سو اکسٹھ میں ہوا ہے اور یہ میرا ملتان جانے کا پہلا سال تھا، سات آٹھ سال کا ہوں گا، مجھے یاد نہیں کہ ان کی شکل و شباہت کیا تھی لیکن ان کی وفات کا دن اتنا ہنگامہ خیز تھا اور پورا ملتان اور پنجاب قاسم العلوم کی طرف امڈا ہوا تھا، ہر اخبار والا ایک جملہ کہتا تھا سید عطاء اللہ شاہ بخاری انتقال فرما گئے، رحلت فرما گئے، وفات پا گئے، بس وہ لوگوں کا ہجوم وہ ہنگامہ اور اس ہنگامے کے اندر عطاء اللہ شاہ بخاری کا نام وہی ذہن پر ثبت ہے اور بعد میں تو جب شعور بڑھا تو سید عطاء اللہ شاہ بخاری ہمارے اکابر کے صف کے ایک تابندہ ستارہ تھا، ان کی قربانیوں نے اور ان کی قیادت نے اور ان کے جذبے اور ولولے نے عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کیا۔ لیکن انیس سو چوہتر کی تحریک مجھے یاد ہے، ہم اس تحریک کا حصہ تھے، میں ایک ہفتہ ملتان جیل میں بھی رہا ہوں، قومی اسمبلی میں ختم نبوت کا مقدمہ لڑا گیا، حضرت والد گرامی مفکر اسلام رحمہ اللہ کی مصروفیتیں میرے آنکھوں کے سامنے تھیں، پوری رات جاگتے رہتے تھے، اگلے دن مباحثے کے لئے تیاری کرتے تھے، کمرہ کتابوں سے بھرا ہوتا تھا، علماء کرام کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہوتی تھی اور پھر جس کامیابی کے ساتھ وہ مقدمہ وہ جیتے اس نے امت کو ایک حجت فراہم کر دی، امت کو دلیل فراہم کر دی اور وہ سارا ریکارڈ پورے مباحثے کا ہماری اسمبلی کی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ وہ نیٹ پر آ چکا ہے، لیکن آج بھی ہماری اسمبلی وہ دستاویز کسی ممبر اسمبلی کو بھی مہیا کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، اور اگر یہ دستاویز کسی حوالے سے بھی قا---دیانیوں کی تائید کرتی تو آج یہ منظر عام پر ہوتی، لیکن یہ دستاویز منظر عام پر آتی ہے تو یہ ہر جگہ بطور حوالہ پیش کی جائے گی، جب تک نیٹ پر ہے وہ تو بطور حوالہ پیش نہیں کی جا سکتا، لیکن جب اسمبلی باضابطہ طور پر اس کو منظر عام پر لائے گی، ممبران اسمبلی کے حوالے کرے گی تو آپ کسی بھی عدالت میں، دنیا کے کسی فورم پر بھی اس کو بطور حوالہ پیش کرسکتے ہیں، اس لیے کہ وہ مسلمانوں اور اسلام کے حق میں ایک دستاویز ہے، جس کو آج تک قا---دیانیت توڑ نہیں سکی، نئی نسل شائد اس سے ناواقف ہے، اور نئی نسل کو ناواقف رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ بے خبر رہے۔ پچھلے سال سپریم کورٹ میں مسئلہ درپیش ہوا، چیف جسٹس صاحب نے ایک فیصلہ دے دیا جس میں ایسے ریمارکس تھے، کچھ ایسے حوالے تھے کہ جو امت کے موقف سے متصادم تھے، ان کو احساس ہوا کہ مجھ سے کچھ غلطی ہو گئی ہے اور پھر ان کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی پڑی، یہ میری زندگی میں بہتّر سالوں میں پہلا موقع تھا جب میں کسی عدالت کے سامنے پیش ہو رہا تھا اور الحمدللہ یہاں پر بھی ہم وہ مقدمہ جیت کر واپس آگئے۔
سیاسی محاذ پر سلمان گیلانی کا سٹیج جمعیۃ علماء اسلام تھا، انہوں نے ہر محاذ پر جمعیۃ کے نظریات کی ترجمانی کی، بڑی جرات کے ساتھ کی اور جب وقت آتا تھا حکمرانوں کو للکارنے کا تو بھرپور انداز کے ساتھ حکمرانوں کو للکارتے تھے اور ہم شانہ بشانہ تھے۔ سو یہ مسائل اگر آج وہ دنیا میں نہیں، حضرت شاہ جی دنیا میں نہیں، حضرت مفتی صاحب دنیا میں نہیں، امین گیلانی دنیا میں نہیں، سلمان گیلانی دنیا میں نہیں، لیکن عقیدہ تو ہے، نظریہ تو ہے، مشن تو موجود ہے، اب یہ آپ کے اور ہمارے لئے امانت ہے اب ہم نے اس کو پورے امانت کے ساتھ آگے لے کر چلنا ہے۔
پاکستان بنا لا الہ الا اللہ کے نعرے پر، اٹھہتر سال بیت چکے ہیں آج بھی لا الہ الا اللہ ہمیں نظر نہیں آرہا، بین الاقوامی دنیا کے دباؤں میں ہم نے اٹھہتر سال گزار دئیے، ان کی ترجیحات پر ہم قانون سازی کرتے رہے ہیں، وہ آئین جو کہتا ہے کہ قانون سازی قرآن و سنت کے تابع ہوگی اور قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنے گا آج اس آئین کی صریح خلاف ورزی کی جارہی ہے، سو محاذ آج بھی گرم ہے، اور یہ بات یاد رکھیں کہ میں حکومت سے لڑتا ہوں، میں کسی سیاسی پارٹی سے نظریاتی اختلاف کرتا ہوں، لیکن حکمرانوں سے لڑنے کا معنی یہ نہیں کہ میں وطن عزیز کے چہرے کو بھی نوچا کروں، ملک میرا ہے اس ملک کی حفاظت ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں، یہ ہمارا گھر بھی ہے، یہ ہماری عزت بھی ہے، یہ ہمارا ناموس بھی ہے، یہ کسی جرنیل کا نہیں، یہ کسی بیوروکریٹ کا نہیں، یہ کسی خان اور نواب کا نہیں، یہ کسی جاگیردار کا نہیں، یہ کسی صنعت کار کا نہیں، یہ کسی سرمایہ دار کا نہیں، یہ اس ملک کے غریب عوام کا ملک ہے۔ اگر ہند---وستان نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی تو سب سے پہلے ہم میدان میں اترے کہ اس مرحلے پر اب قوم ایک ہے، ہم ایک صف ہیں اور جب جمعیۃ علماء اسلام نے پہلا قدم اٹھایا تو جس مختلف اطراف سے اور کونوں سے کچھ غلط توقعات تھی ان کے دروازے بند کر دیے گئے۔ آج اگر پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر رہا ہے، تو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ مسئلہ ایران اور امریکہ کا نہیں، اگر پاکستان کے پاس ثالثی کے کردار کا کوئی موقع آیا ہے تو وہ دنیا کو عالمی جنگ سے بچانی کی کوشش ہے، ہم ایسے وقت میں پاکستان کی اس اعزاز کا احترام کرتے ہیں، لیکن ہمیں اپنی پالیسیاں ٹھیک کرنی چاہیے، ہمارے کچھ سوالات ہیں، شائد کچھ دن ہم اپنے داخلی مسائل کی طرف توجہ نہ دے سکیں، لیکن بہرحال وہ ہمارے مسائل ہیں، ہمارے سامنے یہ سوال ہے پالیسی ساز لوگوں سے جو ملک کی خارجہ پالیسی بناتے ہیں، جو ملک کی داخلہ پالیسی بناتے ہیں، ان لوگوں سے سوال ہے کہ اس وقت آپ کا پورا مشرقی سرحد بند ہے، اس وقت آپ کا پورا مغربی سرحد بند ہے اور ہماری دو ہی سرحد ہے ایک مشرقی سرحد ہے اور ایک مغربی سرحد ہے دونوں سرحدیں ہم نے اپنے اوپر بند کر دی ہیں، دونوں اطراف میں ہم نے تجارتی راستے بند کر دیے ہیں، کاروبار کے راستے دنیا کے ساتھ ہم نے بند کر دیے ہیں اور چائنا ایک کوریڈور ہے جو پاکستان سے مایوس ہے اور وہ پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریز کر رہا ہے اور ایران اس وقت نہ اچھے نہ برے کا ہے، تو بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ بتایا جائے کہ اس پاکستان کے اقتصادی مستقبل کیا ہے؟ بتایا جائے اس ملک کو آپ کدھر لے جانا چاہیں گے؟ گرانی اور منہگائی ایک تو ہوتا نا حالات کی وجہ سے کچھ تدریجی طور پر قیمتیں بڑھتی ہیں لوگ بھی اس کے ساتھ مانوس ہوتے ہیں، کچھ دن اس کا احساس رہتا ہے، پھر معمول زندگی بن جاتا ہے، لیکن آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے ساتھ ہی پاکستان میں تیل کی قیمتوں نے ایسا جمپ لگایا ہے کہ ہر انسان حیران اور ششدر ہے، جب ہم نے پورے ملک میں مظاہروں کا اعلان کر دیا، تو ایک طرف مظاہروں کا اعلان دوسرے طرف سے یہ دوسرے حالات، حکمران میرے پاس آئے کہ ان حالات میں آپ کو یہ مظاہرے نہیں کرنے چاہیے، میں نے کہا بالکل نہیں کرنے چاہیے، ہم نے ملک کے لئے مظاہروں کے کال واپس لی، لیکن پورے ملک میں مظاہروں کے کال دینا یہ ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہ مؤخر ہوا ہے منسوخ نہیں ہوا ہے۔ ہم سوچ سمجھ کر آگے بڑھتے ہیں، جذباتی ہو کر فیصلے نہیں کیا کرتے اور یہ بھی آپ کو بتا دیں کہ جہاں دنیا میں دو بڑے نظام مد مقابل تھے مغرب و مشرق، مغرب کی سرمایہ داریت جو جمہوریت کی اوٹ میں چھپی ہوئی تھی اور مشرق کی آمریت جو کیمونزم کے اوٹ میں چھپی ہوئی تھی، آج جمہوریت بھی دنیا میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے اور کیمونیزم بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ہے۔ اب کردار یا سرمایہ داریت کا ہے اور یا آمریت کا، اور اس کے ساتھ اگر عسکریت بھی جمع کر دو، سرمایہ داریت جمع آمریت جمع عسکریت، پورا انسانی معاشرہ آج اس کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے وقت میں ہمیں سوچنا ہے کہ اگر تمہارا ایک نظام بھی ناکام، اگر تمہارا دوسرا نظام بھی ناکام، متبادل کیا ہے تمہارے پاس؟ میں متبادل دیتا ہوں، آؤ اسلام کے دین فطرت کی طرف، آؤ اسلام کے نظام عدل کی طرف، آؤ اسلام کے نظام معیشت کی طرف، اور آؤ اسلام کی شورائیت کی طرف، یہ جمہوریت کی بھی جگہ لے گی، یہ تمہاری سرمایہ داریت کی بھی جگہ لے گی، یہ تمہاری امریت کی بھی جگہ لے گی۔ ایک بہتر نظام حکومت ہمیں دینا ہے اور یہ صرف جمعیۃ علماء اسلام کا مسئلہ نہیں، یہ صرف جماعت اسلامی پاکستان کا مسئلہ نہیں، یہ صرف ایک تنظیم کا مسئلہ نہیں، یہ یا پوری قوم کا مسئلہ ہے یا پوری امت کا مسئلہ ہے۔
پاکستان میں بین الاقوامی مذاکرات ایران امریکہ مذاکرات جاری ہے، کل سے شائد پھر امریکی اور ایرانی قیادت پاکستان آ جائے، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ جیسی بڑی طاقت کا صدر، ایک عالمی قوت کا سربراہ، لیکن اس کی سفارتکاری دیکھیے جب وہ زبان کھولتا ہے، بولتا ہے بخدا ہمارے محلے کا ایک بدمعاش ایسی بات نہیں کرتا جس طرح وہ کرتا ہے، ابھی بھی دھمکیاں دے رہا ہے، آخری موقع ہے ایران مان جائے، ہم تاریخ تبدیل کر دیں گے، کچل کر کے رکھ دیں گے، یہ مذاکرات نہیں ہوتی، پھر مذاکرات کی میز پر جانے کے لیے اس طرح کی گفتگو کی جاتی ہے، ان کے پلانٹس، ان کے تیل، ان کے ذخائر ہم برباد اور تباہ کر دیں گے، یہ مذاکرات کی گفتگو ہے، پہلے مذاکرات کی گفتگو کے اداب تو سیکھو، میز پر جانے سے پہلے کی گفتگو کیا ہوتی ہے؟ میز سے اٹھنے کے بعد کی گفتگو کیا ہوتی ہے؟ اس کو سمجھنا پہلے ضروری ہے اور یہی وجہ ہے، کہتے ہیں جی کہ پھر وہ کچھ کروں گا جو سینتالیس سال میں نہیں ہوا، ایک دفعہ کہتے ہیں جی امریکہ کہتا ہے کہ ہم سینتالیس سال کے بعد ایرانیوں کے ساتھ امنے سامنے بیٹھے ہیں، ایرانی بھی کہتے ہیں ہم سینتالیس سال کے بعد آمنے سامنے بیٹھے ہیں اور ہم بھی کہتے ہیں کہ ہم نے دونوں کو سینتالیس سال کے بعد بٹھایا ہے پاکستان میں، اور ہم بھی کہتے ہیں پاکستان 1947 میں بنا ہے اور ہم بھی کہتے ہیں پاکستان کی حکومت بھی فارم سینتالیس کی ہے۔
تو نظام حکومت کو ٹھیک کرو، نظام حکومت کی اساس کو ٹھیک کرو، دنیا کے ناکام نظاموں کے مقابلے میں اگر آج آپ عالمی جنگ سے دنیا کو بچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، میں بہت پہلے سے اس بات کا دعوی دار ہوں کہ پاکستان پچیس کروڑ مسلمانوں کا ملک، یہ امت مسلمہ کی قیادت کی صلاحیت رکھتا ہے، حکمرانوں میں خدا کرے وہ صلاحیت آ جائے۔ آج ان کے مظاہر آپ دیکھ رہے ہیں، آؤ امت مسلمہ کو اکٹھا کرو، کہہ دو ان کو کہ نظام ناکام ہو چکے ہیں، اب متبادل نظام اللہ کے دیے ہوئے نظام کے بغیر نہیں ہو سکتا، اب ہم نے اسی طرف جانا ہے۔
تو آج سلمان گیلانی کی یاد میں ہم یہ پیغام دینے کی اس مقام پر بیٹھے ہیں کہ ہم ان کے مشن کو دیکھیں، ان کے نظریے اور فکر کو دیکھیں اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے صفوں کو متحد کریں، سوچیں، بہت سوچیں، گہرا سوچیں، وسیع انداز کے ساتھ سوچیں، امت مسلمہ کی بہتری کے لیے سوچیں اور پاکستان کی بہتری کے لیے سوچیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
،ضبط تحریر: #محمدریاض
ممبرز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
https://www.teamjuiswat.com/2026/04/Maulana-address-at-Syed-Salman-Gilani-Seminar.html
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Website
Address
Islamabad
720000
