30/12/2025
💔 💔 💔
---
"آج پاکستان کی سپریم کورٹ کی اس عظیم الشان عمارت کے قریب سے گزر ہوا۔ باہر سے دیکھنے میں تو یہ ویسی ہی شاندار، مضبوط اور قابل فخر لگ رہی تھی، جیسے صدیوں سے کھڑی ہو۔
لیکن پھر اچانک... میری سانسوں میں ایک عجیب سی بدبو اتر گئی۔ یہ کوئی عام بدبو نہیں تھی۔ نہ گرد کی، نہ گندگی کی۔ یہ تو گہری، کسیٹھی ہوئی، اور دل متلانے والی بدبو تھی۔ ایسے محسوس ہوا جیسے یہ عمارت اپنے پتھروں کے اندر سے ناانصافی کے سڑتے ہوئے زخموں کی بو خارج کر رہی ہو۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے قانون کی کتابوں میں پڑے بے شمار سوالوں کی بیٹھک سانس لے رہی ہو۔
ایک پل کو تو یہ بھی خیال آیا کہ کہیں یہ فضل علی جیسے بے آواز لوگوں کے خون کی وہ بو تو نہیں، جو انصاف کے دروازے پر ہی رہ گئی ہو؟
*عمارت کی دیواریں تو خاموش تھیں، لیکن ہوا میں پھیلی یہ گھنی بدبو چیخ رہی تھی کہ "دیکھو! اندر کچھ سڑ رہا ہے۔ کچھ گل رہا ہے۔"
سوال یہ نہیں کہ عمارت کھڑی کیسے ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ اس کے ہالوں اور گلیاروں میں یہ تعفن زدہ ہوا کیوں بھری ہوئی ہے؟ کیا اس کا سبب جاننے کی ہمت کسی میں write

16/04/2020