جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے، جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے
جب اپنی اپنی محبتوں کے عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے
وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا
انہیں درختوں پہ اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے
اس ایک کچی سی عمر والی کے فلسفے کو کوئی نہ سمجھا
جب اس کے کمرے سے لاش نکلی، خطوط نکلے تو لوگ سمجھے
وہ خواب تھے ہی چنبیلیوں سے، سو سب نے حاکم کی کر لی بیعت
پھر اک چنبیلی کی اوٹ میں سے ، جو سانپ نکلے تو لوگ سمجھے
وہ گاؤں کا اک ضعیف دہقاں، سڑک کے بننے پہ کیوں خفا تھا
جب ان کے بچے جو شہر جاکر کبھی نہ لوٹے تو لوگ سمجھے
احمد سلمان
Urdu Vibes
اردو زبان و ادب سے کچھ اقتباسات
اردو زبان کی خدمت کے لیے آن لائن اردو لائبریری
فری اردو بکس پی ڈی ایف فائلز کے ذریعے ڈاون لوڈ کریں ۔
بکس یہاں سکنیر کے نام سے ساتھ پیش کی جائیں گی ۔
ہمارا مقصد کریڈٹ حاصل کرنا نہیں بلکہ آپ تک اردو ادب کا خزانہ پہچانا ہے ۔
امید ہے آپ ہمارے کام کو پسند کرتے ہوئے ہمارا ساتھ دیں گے ۔
شکریہ
کم ظرف کو اخلاقیات کا درس دینا فضول ہے۔
پیارے پاکستانیو! میچ دیکھ کر خون جلانے سے بہتر ہے یہ وقت کوئی سکل 'شکل' سیکھنے میں لگاؤ۔ ہنر سے ڈالر شالر برسیں گے میچ سے تو ٹینشن کے بلب ہی جلیں گے دل و دماغ میں۔
25/09/2025
پاکستان میں Ookla نے موبی لنک Jazz کو انٹرنیٹ پرووائیڈرز میں ٹاپ پر رکھا ہے۔
حالانکہ انٹرنیٹ سروس کے موجودہ حالات دیکھتے ہوئے ہمارے یہاں کسی کو ٹاپ پوزیشن پر براجمان کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
آپ کے علاقے میں انٹرنیٹ کے کیا حالات ہیں؟ کونسی سروس بہتر ہے؟
آج کل فیک آئی ڈیز کی پھر سے بھرمار ہے۔
فیک آئی ڈی بنا کر پیسوں کی لین دین والا فراڈ کافی پرانا ہوچکا ہے لیکن پھر بھی لوگ اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔
عموماً اردو رسم الخط میں آئی ڈی بنائی جاتی ہے تاکہ رپورٹ کرنے پر جلد ایکشن نہ لیا جاسکے۔ اس کے علاوہ فیک پروفائل بناتے وقت تصویر کے گرد بارڈر وغیرہ استعمال کردیے جاتے ہیں جیسے کووڈ وغیرہ کے، تو اس سے بھی رپورٹ کرنے کی باوجود ایکشن لیا جانا مشکل ہوتا ہے۔
اس قسم کی آئی ڈیز کی جانب سے ریکوئسٹ موصول ہو تو کوشش کیا کیجئے کہ فوراً ایکسپٹ نہ کریں۔
اگر کسی جاننے والی آئی ڈی ہے تو فوراً اس سے کال پر یا کسی مستند ذریعہ سے کنفرم کر لیں۔
ابن توقیر
زبانیں مردہ ہو جاتی ہیں، لیکن ان کے الفاظ اور محاورے، علامات اور استعارات نئی زبانوں میں داخل ہوکر ان کا جز بن جاتے ہیں۔
سید سبط حسن
جو چیز آپ کے اختیار میں نہیں اس کے لیے افسوس مت کرو، جو ہے اس کو بہترین طریقے سے استعمال کرو۔
آج کا لکھنے والا غالب اور میر نہیں بن سکتا ۔ وہ شاعرانہ عظمت اور مقبولیت اس کا مقدر نہیں ہے۔ اس لئے کہ وہ ایک بہرے ،گونگے، اندھے معاشرے میں پیدا ہوا ہے۔
انتظار حسین
انسان، انسان کے ساتھ مل کر رہے تو ملا رہتا ہے، خوش رہتا ہے لیکن کبھی کبھار ایسی کیفیات بھی آجاتی ہیں کہ سب کے ساتھ رہتا سہتا، سب کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا وہ تنہا رہ جاتا ہے۔ بات کسی سے کرتا ہے دھیان کسی طرف رہتا ہے۔ بیٹھا کہیں ہوتا ہے دھیان کہیں رہتا ہے۔ سامنے کوئی ہوتا ہے اور ذہن کے پردے پر تصویر کسی اور کی ابھرتی ہے۔ یہ تنہائی کے دکھ کی ابتدائی علامت ہوتی ہے۔
پھر جب انسان کسی ایسے سے بچھڑ رہا ہوں جس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحے خواب سے زیادہ حسین، سپنوں سے زیادہ سہانے رہے ہیں اور جس کی بات بات پہ دل کے تاروں میں جلترنگ بجتا رہا ہو تو یہ بچھڑنا قیامت کا بچھڑنا ہوتا ہے۔ تب بیتے ہوئے سارے لمحے، گزری ہوئی ساری باتیں، کہے ہوئے سارے بول آپس میں گڈ مڈ ہو جاتے ہیں، نمی کا غبار بن کر آنکھوں میں اتر آتے ہیں۔ انسان بھری محفل میں تنہا رہ جاتا ہے۔ سب کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی اکیلا رہ جاتا ہے۔
اکیلے پن کا یہ دکھ بڑا اذیت ناک ہوتا ہے۔ انسان کو کچھ دیکھنے دیتا ہے نہ سوچنے دیتا ہے۔ بس اندر ہی اندر چاٹتا رہتا ہے۔ موسم کی آنکھ مچولیاں ہوں یا پھولوں اور کلیوں کی مسکراہٹیں،خزاؤں کے رنگ ہوں یا بہار کی شوخیاں، برسات کی پن پن ہو یا دمکتے سورج کی لش لش، اس کی آنکھوں میں اتری نمی کا غبار اسے رنگوں سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ بس وہ اپنے اندر قید ہو جاتا ہے اور اس کی ذات کے قفل کی چابی بچھڑنے والا اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔
( کرنل اشفاق حسین کی کتاب " جنٹل مین الحمد للہ" سے اقتباس)
ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا
ندا فاضلی
یا ترا تذکرہ کرے ہر شخص
یا کوئی ہم سے گفتگو نہ کرے
شکیل احمد ضیا
عورت بیوہ ہو جاتی ہے تو اس کی چوڑیاں توڑ دیتے ہیں۔
مرد کی گھڑی یا عینک یا حقہ توڑنے کا کبھی کسی کو خیال نہیں آیا۔
بیوہ لباس میں بھی تبدیلی کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ رنگا دوپٹہ پہنے یا ہاتھوں میں چوڑیاں ڈال لے تو لوگوں کے کلیجے پھٹ جائیں۔
مرد وہی سوٹ بوٹ اچکن انگرکھ ڈالے پھرتا ہے کیسی بے رحمی ہے کہ دکھاوے کے لیے بھی سوگ نہیں مناتا۔
حالانکہ عورتوں کو جیسے شوہر کا غم ہوتا ہے، مرد کو بیوی کا غم ہوتا ہے۔ بہت سی عورتوں اور مردوں کو نہیں ہوتا۔ مگر عورتوں کو ڈھونگ رچانا پڑتا ہے۔
عورت از عصمت چغتائی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Website
Address
Islamabad
44000
