19/03/2024
اتوار 27 مئی کا دن ایک عجیب آزمائش لے کر آیا۔ اولاد آدم کی برابری اور تکریم کی بنیاد پر وضع کردہ اصول وضوابط اور تعریف و توصیف کی چاہ رکھنے والی بنیادی انسانی سرشت آمنے سامنے آ گئے۔ اتوار 27 مئی 2108, وہ آخری اتوار تھا جو میرے طے کردہ طریقہ کار کی رو سے پبلک آفس میں میری موجودگی کا متقاضی تھا اور میں نے گذشتہ دس برس میں اپنی کسی بھی ذاتی وجہ یا مصروفیت کو اسکے آ ڑے نہیں آنے دیا تھا۔ اتوار کی صبح اطلاع ملی کہ سہہ پہر تین بجے وزیر اعلی پنجاب ایک تقریب میں اعلی ترین کارکردگی پر مختلف اداروں کے سربراہان کو تعریفی ایوارڈ دیں گے جس میں میرا نام بھی شامل ہے۔ جون 2013 کے دورہ چین سے شروع ہو کر آج تکمیل کو پہنچنے گوادر بحریہ سکول معاہدے تک پانچ سال کی جگر توڑ بے آرامی، پیہم محنت اور حاصل کی گئی بے مثال قومی اور بین الاقوامی کامیابیوں کے اعتراف اور انعام کا تصور ہی روح افزا اور راحت آفریں ہے۔ انعام اور اعزاز فخر اور مسرت سے لئے جاتے ہیں اور شہباز پاکستان کی توصیف لینا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں۔ لیکن جو خدمت اللہ کی رضا اور نبی ص کی اتباع میں دس سال لگاتار سرانجام دی، اسکے آخری اتوار کی سعادت سے محرومی کا تصور بھی کرب انگیز اور روح فرسا تھا۔ محض چند منٹ پر محیط اس کشمکش کا جو نتیجہ نکلا وہ میرے عقیدے اور نظریات کے عین مطابق تھا لہذا اپنے عوامی دفتر کا رخ کر لیا کہ یہ تعریف و توصیف اور محنت و مشقت کے مواقع بھی انہی لوگوں کے مرہون منت ہیں۔ یہ امنتخب کرتے ہیں تو کارکردگی دکھانے کے وہ مواقع ملتے ہیں۔ وزیر اعلی دفتر کے میزبان افسران کا یہ شکوہ بجا کہ اتنی اعلی سطح پر انعام لینے والوں میں ایک ہی نام ایسا تھا کہ جب پکارا گیا تو وصول کنندہ غیر حاضر تھا مگر ان کو کوئی کیسے سمجھائے کہ ترجیحات تو اپنی اپنی ہوتی ہیں۔

02/03/2024
15/02/2024