۔ ۔۔۔اج فیس بک پر تحصیل چوبارہ ضلع لیہ سےیہ پوسٹ نظر سے گزری۔ تصویر میں موجود شخصیات کو دیکھ کر دل بے اختیار بھر آیا اور آنکھیں نم ہو گئیں۔ انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ زمین اپنے اندر کیسے کیسے نایاب اور عظیم لوگوں کو سمو لیتی ہے۔ احمد شیرخان۔ان کے بھائی سکواڈرن لیڈر فتح شیر خان امام حقانی خان رئیس موضع فاروق چوبارہ ضلع لیہ سب اچھے لوگ تھے۔البتہ میرا واسطہ زیادہ تر محترم فقیر عبدالمجید خان مرحوم مغفور کے ساتھ تھا وہ؛ سابق ضلع ناظم، سابق رکنِ صوبائی اسمبلی، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل کے قریبی دوست، ایک بڑے زمیندار، مگر مزاج کے اعتبار سے سراپا درویشی۔ وہ میرے محسن، مربی اور رہنما تھے۔ زندگی کے کئی اہم موڑوں پر انہوں نے ، میری رہنمائی کی اور مجھے حوصلہ دیا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ
میں ان دنوں راولپنڈی کا باسی تھا اور فقیر صاحب جب بھی راولپنڈی تشریف لاتے تو مجھے آنے کی ضرور اطلاع کرواتے۔ اور مشاورت کے لئے بلواتے۔ایک مرتبہ ملک مجید بلال مرحوم کا فون آیا کہ وکیل صاحب ! فقیر صاحب آپ کو یاد کر رہے ہیں وہ کوئین میری ہوٹل، کمیٹی چوک، راولپنڈی میں مقیم ہیں۔وہ یا تو کوئی میری ہوٹل ٹھہرا کرتے تھے یا پھر اسلام اباد میں الحجرات ہوٹل ستارہ مارکیٹ میں ٹھہرا کرتے تھے۔ہوٹل کے مالکان اج بھی انہیں اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں جو ہی میں نے ان کا فون سناتو میں اپنے انتہائی قریبی دوست کے ساتھ ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ہم کمرے میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ حضرت ہاتھ میں تسبیح لیے بستر پر بیٹھے ذکرِ الٰہی میں مشغول ہیں۔
میں نے دوست کا تعارف کروایا تو بہت خوش ہوئے اور انہیں اپنے قریب بٹھا لیا۔ ملک صاحب نے انہیں یاد دلایا کہ جب ان کے والد مرحوم میانوالی جیل میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل تھے تو فقیر عبدالمجید خان نے مسجد کی تعمیر کے لیے خطیر رقم عطیہ کی تھی۔ یہ سن کر وہ مسکرائے اور ماضی کی باتوں میں کھو گئے۔
فقیر صاحب کی ایک خاص عادت تھی کہ اگر انہیں کوئی قانونی مسئلہ درپیش ہوتا تو مجھ سے ضرور مشورہ کرتے۔ آخری بار جب وہ لاہور کے حمید لطیف ہسپتال میں زیرِ علاج تھے تو مجھے خصوصی پیغام بھیجا کہ ملاقات کے لیے آؤ۔ میں فوراً لاہور پہنچا۔ وہاں سردار سبطین خان، سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی، سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ فقیر صاحب نے خاص طور پر ہدایت کی ہے کہ سیف کو اکیلے اندر بھیجا جائے۔
میں ان کے کمرے میں داخل ہوا۔ انہوں نے ایک گلدستے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار جناب دوست محمدکھیمٹہ صاحب دے کر گئے ہیں۔ پھر کچھ دیر خاموش رہے اور بولے:
"مجھے نہیں لگتا کہ اب میں زیادہ دن زندہ رہ سکوں گا۔ میں تمہیں ایک نصیحت کرنا چاہتا ہوں۔ جب تمہارے بزرگ جب ریاست کوٹہ میں انگریزوں کے عتاب کا شکارہوئے ۔تو ہمارے بزرگوں (شیردسول خان شیرعباس خان ) کی پناہ میں آ گئے تو میرے بزرگوں نے انہیں اپنی وسیع جاگیر میں ایسی پناہ دی کہ انگریزوں کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ رسالدار محراب باغی کا خاندان یہاں چھپا ہے۔ انہوں نے مقامی لوگوں میں گھلا ملا کر کیمو فلاج کر دیا۔ راز کو راز رکھا، ان کی مدد کی اور مصیبت کے وقت ان کا ساتھ دیا۔ آج حالات بدل چکے ہیں۔ انگریز جا چکے ہیں پاکستان میں ہر شخص آزاد ہے۔اب تم پر کسی کا خوف نہیں، اس لیے محنت کرو، آگے بڑھو اور اپنے خاندان کے نام کو روشن کرو۔ تمہارے بزرگوں نے بہت دکھ جھیلے ہیں،ا نگریزوں کے خوف میں زندگی گزاری ہے ۔ میں نے بزر گو ں کی بات کو نبھایا ہے۔تمہارے خاندان کی بقا کی ضمانت ہمارے بزرگوں نے دی تھی۔ تم میں اور ظہیر احمد خان اورکیپٹن نعیم احمد خان میں کوئی فرق نہیں کیا۔"
میں نے عرض کیا:
"حضرت اپ نے بالکل بجا فرمایا ہے۔اللہ پاک اپ کو خوش رکھے اور! اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے۔ آپ کی دعائیں ہمارے ساتھ ہیں تو کامیابیاں ہمارے قدم ضرور چومیں گی۔"
فقیر صاحب کے بزرگوں کو اللہ خوش رکھے جب ہمارے دادا بمع اپنے 30 سروہی نسل کے اونٹوں کے اپنے ایک اور ساتھی جو خود بھی خواجہ کا مرید تھاحالات کے ہاتھوں پناہ گزین ہوئے تو انہوں نے ان کی شناخت کوکیمو فلاج کروایا کہ ملک مظفر جیسے باخبر ذیلدار کو بھی خبر نہ ہو سکی ان کو رہائش کے لیے ایسی جگہ دی جو شہر سے باہرالگ تھلگ تھی اور ان کے ارد گرد مکان بنانے پر پابندی لگا دی تاکہ راز راز رہے خواجہ کی اصلیت کسی پر ظاہرنہ ہو سکےاور حکم دیا کہ اس جگہ اور کوئی مکان نہیں بنے گا خدا کی شان دیکھیے اج بھی وہاں کوئی مکان نہیں بنا۔کیونکہ فقیر صاحب اپنے بزرگوں کی حکمت سے اگاہ تھے۔انہوں نے کوئی مکان نہیں بننے دیا۔واقعی لجپال لجپال ہوتے ہیں وہ اپنے بزرگوں کی لج کو پالتے ہیں چاہے کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو جائے۔لوگوں نے بہت کہا کہ یہ جگہ بہت زرخیز ہے یہ جگہ نہیں دینی چاہیے تھی اپ کے بزرگوں کو تو انہوں نے کہا جو بھی کیا میرے بزرگوں نے ٹھیک کیا۔۔۔
یقینا اج یہی وجہ ہے کہ فقیر عبدلمجید خان یا اس کے خاندان کا ہر فرد ہمارے لیے قابل احترام اور واجب تعظیم ہے
انہوں نے مجھے ڈھیروں دعائیں دیں اوراپنے ڈرائیور کو حکم دیا کہ مجھے اسلام آباد جانے والی گاڑی میں بٹھا کر آئے ۔
مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ میری اپنے محسن سے آخری ملاقات ہے۔
اگلی صبح فجر کے وقت میرے چھوٹے بھائی کی روتی ہوئی آواز فون پر سنائی دی:
"بھائی جان! فقیر عبدالمجید خان صاحب انتقال کر گئے ہیں۔"
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
میں فوراً تمام کام چھوڑ کر ان کے گھرکی طرف روانہ ہوا۔ جنازے میں انسانوں کا سمندر امڈ آیا تھا۔ لاکھوں سوگوار موجود تھے۔ نمازِ جنازہ مولانا طارق جمیل صاحب نے پڑھائی اور اس کے بعد ایسا رقت آمیز بیان کیا کہ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ وہ دونوں تبلیغی ساتھی تھے اور مولانا صاحب اپنے پرانے رفیق کو یاد کرکے بار بار آبدیدہ ہو رہے تھے۔
یہ بھی میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میرا نکاح بھی فقیر عبدالمجید خان صاحب نے خود پڑھایا تھا۔کہنے لگے کہ جس کی شادی میں بھی میں شرکت کرتا ہوں اسے سلامی میں رہائشی پلاٹ دیتا ہوں بتاؤ پلاٹ چاہیے یا دکان چاہیے میں نے عرض کی حضرت اپ کی دعائیں اور شفقت چاہیے اللہ کا دیا بہت ہے۔
انتخابات کے سلسلے میں ایک مقدمہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت تھا۔ انہوں نے مجھے چھ لاکھ روپے دیے اور کہا کہ بہترین وکیل کی خدمات حاصل کرو۔ میں نے ریٹائرڈ جسٹس چوہدری مشتاق صاحب کو وکیل مقرر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب نے حکمِ امتناعی جاری کر دیا۔ بعد ازاں وسیم سجاد صاحب نے مقدمہ لڑا اور کامیابی حاصل ہوئی۔
جب مقدمہ کامیاب ہوا تو فقیر صاحب نے انتہائی محبت اور شفقت کے ساتھ میری کاوشوں کو سراہا۔ ان کی یہی ادا تھی کہ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور ان کی محنت کا کھلے دل سے اعتراف کرتے تھے۔
ان کی عاجزی اور حوصلہ افزائی کا یہ عالم تھا کہ مجھ جیسے ایک معمولی آدمی کو وہ غیر معمولی عزت دیتے تھے۔
ایک مرتبہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد حیدر وائیں صاحب سے ملنے لاہور گئے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کے دروازے پر سکیورٹی اہلکاروں نے روک لیا۔ فقیر صاحب نے صرف اتنا کہا:
"وزیراعلیٰ صاحب کو بتاؤ کہ فقیر صاحب آئے ہیں۔"
سکیورٹی والے شاید انہیں ایک عام درویش سمجھ رہے تھے، لیکن جب پیغام اندر پہنچا تو خود وزیراعلیٰ صاحب ننگے پاؤں استقبال کے لیے باہر آ گئے اور انتہائی عزت و احترام کے ساتھ اندر لے گئے۔
فقیر صاحب کی زندگی کا بڑا حصہ تبلیغِ دین کے لیے وقف تھا۔ ایک مرتبہ بلوچستان میں تبلیغی دورے کے دوران ساتھیوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی تک دعوتِ دین پہنچانا آسان نہیں، یہ کام صرف آپ کر سکتے ہیں۔ وہ نواب صاحب سے ملے اور گفتگو کا آغاز ان کے پسندیدہ مشغلے، گھوڑوں، سے کیا۔ چونکہ خود فقیر صاحب بھی بڑے زمیندار تھے اور اس شوق سے واقف تھے، اس لیے ایسی دلنشین گفتگو ہوئی کہ نواب اکبر بگٹی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور بعد ازاں مسجد میں بیان سننے بھی آئے۔
فقیر عبدالمجید خان صاحب کے ساتھ میرا تعلق صرف عقیدت یا رسمی تعلق نہیں تھا بلکہ ایک روحانی، خاندانی اور فکری رشتہ تھا۔ راولپنڈی میں ہونے والی ہماری ملاقاتیں آج بھی یادوں کے چراغ روشن کر دیتی ہیں۔ ان کی مجلس میں بیٹھ کر انسان صرف دین نہیں سیکھتا تھا بلکہ معاملاتِ زندگی، بصیرت، انسان شناسی اور کردار کی مضبوطی کا درس بھی حاصل کرتا تھا۔ ان کی شخصیت میں درویشی، وقار، محبت اور اخلاص کا ایسا حسین امتزاج تھا جو کم ہی لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔
فقیر عبدالمجید خان صرف ایک بڑے جاگیردار، سیاست دان یا سماجی شخصیت نہیں تھے؛ وہ ایک مخلص انسان، شفیق سرپرست، بہترین منتظم، صاحبِ بصیرت رہنما اور اللہ کے نیک بندے تھے۔ ان کے ساتھ گزارا ہوا ہر لمحہ ایک درسگاہ تھا۔ ان کی یاد آج بھی دل کو گرما دیتی ہے اور ان کی نصیحتیں آج بھی زندگی کا سرمایہ ہیں۔اب جب بھی ستارہ مارکیٹ میں چاہتا ہوں اور الحجرات کے سامنے سے گزرتا ہوں تو اس عظیم شخصیت فقیر عبدالمجید خان کی یاد ہمیشہ اتی ہے
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔
Kalam-e-Saif Serohey
Poetry
Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Islamabad
