شاباش ٹیم عمران خان
PTI NA 32
آن لائن کتابیں ہوم ڈیلیوری پر دستیاب ہیں
سب سے بڑی خبر تھی جو حامد میر کے واقع سے دب گئی اور جسے میڈیا نے کوریج نہیں دی۔۔
حکومت نے ایک ہی دن میں جرائم پیشہ 46 ایس پی اور 198
ڈی ایس پی جبری ریٹائیرڈ کر دیئے۔
آج کچھ سوال پاکستانی قوم سے کرنا چاہتا ہوں. جانتا ہوں اس پوسٹ کو اگنور ہی کیا جائے گا لیکن پھر بھی کرتا ہوں.
اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا.
اللہ کا حکم جاننے کے باوجود آپ کیسے کسی کی جان لے سکتے ہو.
آجکل تو قتل، ریپ، چوری وغیرہ کی نیوز فیس بک پر آ جاتی ہیں اور ہم حکومت کو کوسنا شروع کر دیتے ہیں لیکن اگر آپ نے سوشل میڈیا سے پہلے اخبار کا دور دیکھا ہو جب لوگ اخبار پڑھا کرتے تھے وہاں ایک حصہ کرائم کا ہوتا تھا وہاں پورا پیپر روزانہ ان نیوز سے بھرا ہوا ہوتا تھا.
حکومت تو چلو جو کرے گی سو کرے گی اور ایسے واقعات کوئی آج نہیں ہو رہے بلکہ ماضی بھرا ہوا ہے ان واقعات سے لیکن کیا ہم لوگ واقعی محمد عربی صل اللہ علیہ والہ وسلم کے امتی ہیں؟
قتل ہم کرتے ہیں،
زنا ہم کرتے ہیں،
چوری ہم کرتے ہیں،
رشوت ہم لیتے ہیں،
ہم جنس پرستی ہم کرتے ہیں،
ناپ تول میں کمی ہم کرتے ہیں،
دو نمبر اشیاء ہم خریدتے ہیں،
سود ہم کھاتے ہیں،
غرض ایسا کوئی گناہ نہیں جو ہم نہ کرتے ہوں.
میں اراکین اسلام کی بات نہیں کرتا کیونکہ اسکا جواب دہ انسان اللہ کو ہے اور لازمی بات ہے ایک انسان ہوتے کے ناطے اراکین اسلام پورے کرنے میں کوتاہی میں بھی کرتا ہوں. لیکن حقوق العباد کی معافی تو اللہ تب تک نہیں دیتا جب تک بندہ دوسرے بندے کو معاف نہ کرے.
کم سن بچے سرعام زنا کر رہے ہیں،
بازار کے حاجی صاحب سود کھاتے ہیں،
ناپ تول میں کمی کرتے ہیں،
ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں.
اس ملک میں چھوٹے بچوں کے ساتھ ریپ ہوتے ہیں کرنے والی یہی عوام ہے.
ان گناہگار افراد کے تحفظ کے لئے وکیل آتے ہیں جو کہ عوام ہیں، انکو بری عدلیہ کرتی ہے جو عوام کا حصہ ہیں،
پولیس جانتے ہوئے کیس درست نہیں بناتی،
ڈاکٹر جھوٹی میڈیکل رپورٹ بنواتے ہیں ۔
یہ سب عوام ہی تو ہیں اور انکو ایسا کرنے پر مجبور کرنے کا ملزم بھی تو عوام کا ہی حصہ ہے.
کیا ہم کو خوف خدا نہیں ہے؟
کیا ہم بھول چکے کہ مرنے کے بعد اس زندگی کا حساب دینا ہے؟
کیا اس ملک کا قاضی بھول جاتا ہے کہ یہاں کا قاضی تو وہی ہے لیکن مرنے کے بعد روز محشر جس ذات کے سامنے وہ پیش ہوگا وہ ذات جج ہوگا اور اسکا فیصلہ اٹل ہوگا وہاں نہ کوئی اپیل نہ کوئی review پٹیشن ہوگی.
سچ کہو تو جس دور میں ہم زندہ ہیں ہم سب کے اندر ایک مافیا ہے.
کسی کا مافیا چھوٹا کسی کا مافیا بڑا ہے.
لوگوں کی عزت اچھالنا ہمارا پسندیدہ کھیل ہے. واقعی یہ دور ایک فتنے کا دور ہے.
آپ اگر حقوق اللہ ادا کرنے والوں کو دیکھیں تو انہی کو جب حقوق العباد کیسے وہ ادا کرتے ہیں دیکھ جاو تو دل کرتا ہے یہ کس چیز کی عبادت کرتا ہے بندہ.
حقوق اللہ کے ساتھ خدارا حقوق العباد کی طرف آؤ.
اللہ اپنے حقوق معاف کر سکتا ہے لیکن حقوق العباد نہیں.
میں نے جتنی نمازیں ادا نہ کی ہوں اگر میں اللہ سے معافی مانگوں تو وہ زات مجھے معاف کر دے گی لیکن اگر میں حقوق العباد ادا نہیں کرتا تو معافی کی ایک ہی صورت ہے بندہ معاف کرے اور آپ تو جانتے ہیں ایک قول کہ اللہ معاف کر دیتا ہے لیکن بندہ معاف نہیں کرتا.
Ali Abbasi
بقلم علی عباسی.
قرضوں کی واپسی
عمران خان نے ابتک زرداری اور نواز شریف دور کا بیرونی قرضہ ساڑھے 11 ارب ڈالر واپس کر دیا ہے۔
عمران خان نے اپنے دور میں نیا قرضہ لیا 5 ارب ڈالر اور واپس کیا ساڑھے 16 ارب ڈالر۔
جبکہ اندرونی قرضہ 15 کھرب واپس کیا
ٹوٹل قرضہ لیا ساڑھے 4 کھرب اور واپس کیا ساڑھے 19 کھرب۔
جبکہ ملک کو اب مذید قرضوں کی ضرورت نہیں رہی بلکہ واپسی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
جبکہ زردای دور میں نیا قرضہ 7000 ارب لیا گیا
اور شیروں کہ آخری پانچ سالہ دور میں 14000 ارب لیا گیا۔
04/12/2020
کسی قسم کے کوئی بھی بکس چاہیے ہو تو رابطہ کریں فری ہوم ڈلیوری کے ساتھ
03/12/2020
خلائی مخلوق
قیمت 250 روپے
150 ہوم ڈیلیوری چارجز
03/12/2020
لال حویلی سی اقوام متحدہ
قیمت 15 سو روپے فری ہوم ڈلیوری کے ساتھ
پاکستان کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرسکتا۔
وزیراعظم عمران خان نے دوٹوک الفاظ میں اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح کردیا۔
بی آر ٹی کے افتتاح کے موقع پر محسن پاکستان جناب وزیراعظم عمران خان
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Telephone
Website
Address
46000
