یہ میری اداس غزلیں"

یہ میری اداس غزلیں"

Share

For a true sensation n a true taste of poetry...

30/05/2026

یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلہ سے ملا کرو

ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا
تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو

مجھے اشتہار سی لگتی ہیں یہ محبتوں کی کہانیاں
جو کہا نہیں وہ سنا کرو جو سنا نہیں وہ کہا کرو

کبھی حسن پردہ نشیں بھی ہو ذرا عاشقانہ لباس میں
جو میں بن سنور کے کہیں چلوں مرے ساتھ تم بھی چلا کرو

نہیں بے حجاب وہ چاند سا کہ نظر کا کوئی اثر نہ ہو
اسے اتنی گرمیٔ شوق سے بڑی دیر تک نہ تکا کرو

یہ خزاں کی زرد سی شال میں جو اداس پیڑ کے پاس ہے
یہ تمہارے گھر کی بہار ہے اسے آنسوؤں سے ہرا کرو

بشیر بدر

29/05/2026

اور دِل کا تھک جانا بڑا غم ہے۔۔ 🥀🤎

29/05/2026

‏وُسعت دل میں، تنگ دلی کا ، عالم تو دیکھیۓ
ایک کو چاہنا ، فقط اُسی کو چاہنا ، پھر کچھ نہ چاہنا !

29/05/2026

تُو مرے بس سے نکلتا ہُوا وہ لمحہ ہے
جو مرے بس میں کبھی ہو بھی نہیں سکتا تھا

میں نے کچھ دن کی توجہ پہ قناعت کر لی
میرے حق میں تُو سخی ہو بھی نہیں سکتا تھا💔

29/05/2026

اُسکی جُدائی کھا گئی، گُھن کی طرح ہمیں
ہم سخت جان، پہلے تو یوں کھوکھلے نہ تھے

جو کچھ ہمارے ساتھ ہُوا، یہ بجا نہ تھا
اتنے بُرے بھی کب تھے اگر ہم بھلے نہ تھے

24/05/2026

ہم کو مطلوب ہیں کچھ فیصلے جلدی جلدی،
کُرہِ ارض ذرا تیز گُھمایا جائے---🍁🍁

24/05/2026

ہم تجھے ایمان کہا کرتے تھے۔۔۔!
🖤🍁

آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ
عمر گزری تجھے دیکھے ہوئے بہلائے ہوئے
یاد ہے؟
ہم تجھے دل مانتے تھے
اپنے سینے میں مچلتا ہوا ضدی بچہ
تیرے ہر ناز کو انگلی سے پکڑ کر اکثر
نت نئے خواب کے بازار میں لے آتے تھے✨
تیرے ہر نخرے کی فرمائش پر
ایک جیون کہ تمناؤں کی بینائی سے ہم دیکھتے تھکتے ہی نہ تھے
سوچتے تھے
ایک چھوٹا سا نيا گھر
نيا ماحول
محبت کی فضا
ہم دونوں
اور کسی بات پہ تکیوں سے لڑائی اپنی
پھر لڑائی میں کبھی ہنستے ہوئے رو پڑنا😢
اور کبھی روتے ہوے ہنس پڑنا
اور تھک ہار کے گر پڑنے کا معصوم خوشی بخش خیال
یاد ہے؟
ہم تجھے سکھ جانتے تھے❤️
رات ہنس پڑتی تھی بےساختہ درشن سے ترے
دن تری دوری سے رو پڑتا تھا
یاد ہے؟
ہم تجھے جاں کہتے تھے🥀
تیری خاموشی سے ہم مرجاتے
تیری آواز سے جی اٹھتے تھے
تجھ کو چھو لینے سے اک زندگی آ جاتی تھی شریانوں میں
تھام لینے سے کوئی شہر سا بس جاتا تھا ويرانوں میں
یاد ہے؟
ہم تجھے ملنے کے لیے
وقت سے پہلے پہنچ جاتے تھے
اور ملاقات کے بعد
ہم بہت دیر سے گھر آتے تو کہتے کہ ہمیں کچھ نہ کہو
ہم بہت دور سے گھر آئے ہیں✨❤️
اس قدر دور سے آئے ہیں کہ شاید ہی کوئی آ پائے

یاد ہے؟
ہم تجھے بھگوان سمجھتے تھے مگر کفر سے ڈر جاتے تھے
تیرے چھن جانے کا ڈر ٹھیک سے رکھتا تھا مسلمان ہمیں
آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ
تیرے بھولے ہوئے رستوں پہ لیے پھرتا ہے ایمان ہمیں
اور کہتا ہے کہ پہچان ہمیں

یاد ہے؟

ہم تجھے ایمان کہا کرتے تھے…

24/05/2026

اپنی دستیابی کو اتنا کٹھن رکھیں کہ آپ تک رسائی خواہش نہیں، بلکہ ایک اعزاز بن جائے ۔ ۔ 🥂🖤🚬

24/05/2026

رُوحوں کے متبادل نہیں ہوتے، رُوحوں کے چاہنے والے بِچھڑیں تو فنا ہو جاتے ہیں۔۔ 🥀🤎

23/05/2026

خسارہ تو کوئی نہیں ہُوا مجھے
میں تیرے بعد خُدا کا ہوگیا..

Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address

Dist And Teh Kotli Azad Kashmir
Islamabad
11000