یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلہ سے ملا کرو
ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا
تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو
مجھے اشتہار سی لگتی ہیں یہ محبتوں کی کہانیاں
جو کہا نہیں وہ سنا کرو جو سنا نہیں وہ کہا کرو
کبھی حسن پردہ نشیں بھی ہو ذرا عاشقانہ لباس میں
جو میں بن سنور کے کہیں چلوں مرے ساتھ تم بھی چلا کرو
نہیں بے حجاب وہ چاند سا کہ نظر کا کوئی اثر نہ ہو
اسے اتنی گرمیٔ شوق سے بڑی دیر تک نہ تکا کرو
یہ خزاں کی زرد سی شال میں جو اداس پیڑ کے پاس ہے
یہ تمہارے گھر کی بہار ہے اسے آنسوؤں سے ہرا کرو
بشیر بدر
یہ میری اداس غزلیں"
For a true sensation n a true taste of poetry...
اور دِل کا تھک جانا بڑا غم ہے۔۔ 🥀🤎
وُسعت دل میں، تنگ دلی کا ، عالم تو دیکھیۓ
ایک کو چاہنا ، فقط اُسی کو چاہنا ، پھر کچھ نہ چاہنا !
تُو مرے بس سے نکلتا ہُوا وہ لمحہ ہے
جو مرے بس میں کبھی ہو بھی نہیں سکتا تھا
میں نے کچھ دن کی توجہ پہ قناعت کر لی
میرے حق میں تُو سخی ہو بھی نہیں سکتا تھا💔
اُسکی جُدائی کھا گئی، گُھن کی طرح ہمیں
ہم سخت جان، پہلے تو یوں کھوکھلے نہ تھے
جو کچھ ہمارے ساتھ ہُوا، یہ بجا نہ تھا
اتنے بُرے بھی کب تھے اگر ہم بھلے نہ تھے
ہم کو مطلوب ہیں کچھ فیصلے جلدی جلدی،
کُرہِ ارض ذرا تیز گُھمایا جائے---🍁🍁
ہم تجھے ایمان کہا کرتے تھے۔۔۔!
🖤🍁
آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ
عمر گزری تجھے دیکھے ہوئے بہلائے ہوئے
یاد ہے؟
ہم تجھے دل مانتے تھے
اپنے سینے میں مچلتا ہوا ضدی بچہ
تیرے ہر ناز کو انگلی سے پکڑ کر اکثر
نت نئے خواب کے بازار میں لے آتے تھے✨
تیرے ہر نخرے کی فرمائش پر
ایک جیون کہ تمناؤں کی بینائی سے ہم دیکھتے تھکتے ہی نہ تھے
سوچتے تھے
ایک چھوٹا سا نيا گھر
نيا ماحول
محبت کی فضا
ہم دونوں
اور کسی بات پہ تکیوں سے لڑائی اپنی
پھر لڑائی میں کبھی ہنستے ہوئے رو پڑنا😢
اور کبھی روتے ہوے ہنس پڑنا
اور تھک ہار کے گر پڑنے کا معصوم خوشی بخش خیال
یاد ہے؟
ہم تجھے سکھ جانتے تھے❤️
رات ہنس پڑتی تھی بےساختہ درشن سے ترے
دن تری دوری سے رو پڑتا تھا
یاد ہے؟
ہم تجھے جاں کہتے تھے🥀
تیری خاموشی سے ہم مرجاتے
تیری آواز سے جی اٹھتے تھے
تجھ کو چھو لینے سے اک زندگی آ جاتی تھی شریانوں میں
تھام لینے سے کوئی شہر سا بس جاتا تھا ويرانوں میں
یاد ہے؟
ہم تجھے ملنے کے لیے
وقت سے پہلے پہنچ جاتے تھے
اور ملاقات کے بعد
ہم بہت دیر سے گھر آتے تو کہتے کہ ہمیں کچھ نہ کہو
ہم بہت دور سے گھر آئے ہیں✨❤️
اس قدر دور سے آئے ہیں کہ شاید ہی کوئی آ پائے
یاد ہے؟
ہم تجھے بھگوان سمجھتے تھے مگر کفر سے ڈر جاتے تھے
تیرے چھن جانے کا ڈر ٹھیک سے رکھتا تھا مسلمان ہمیں
آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ
تیرے بھولے ہوئے رستوں پہ لیے پھرتا ہے ایمان ہمیں
اور کہتا ہے کہ پہچان ہمیں
یاد ہے؟
ہم تجھے ایمان کہا کرتے تھے…
اپنی دستیابی کو اتنا کٹھن رکھیں کہ آپ تک رسائی خواہش نہیں، بلکہ ایک اعزاز بن جائے ۔ ۔ 🥂🖤🚬
رُوحوں کے متبادل نہیں ہوتے، رُوحوں کے چاہنے والے بِچھڑیں تو فنا ہو جاتے ہیں۔۔ 🥀🤎
خسارہ تو کوئی نہیں ہُوا مجھے
میں تیرے بعد خُدا کا ہوگیا..
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Address
Islamabad
11000
