Syed Abul Hasan Ali Nadwi Academy - Islamabad Pakistan

Syed Abul Hasan Ali Nadwi  Academy -  Islamabad  Pakistan

Share

Contact Address:Nadwi Academy
PoBox 467,G 9 -Islamabad Pakistan

Photos from Syed Abul Hasan Ali Nadwi  Academy -  Islamabad  Pakistan's post 03/01/2026

صرف دو دن کے اندر تقریباً 150 صاحب ذوق احباب نے مولانا علی میاںؒ کی کتب میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے
ان شاء اللہ ان احباب کو 10 جنوری سے کتب کی ترسیل کا آغاز کر دیا جائے گا فی الوقت مزید احباب کو مطبوعہ کتب فراہم کرنا ممکن نہیں البتہ جو حضرات پی ڈی ایف فارمیٹ میں کتب حاصل کرنا چاہیں ان کے لیے کتب کی فراہمی کی حتی المقدور کوشش کی جائے گی

Photos from Syed Abul Hasan Ali Nadwi  Academy -  Islamabad  Pakistan's post 31/12/2025

آج مولانا علی میاںؒ (سید ابوالحسن علی ندویؒ) کا یومِ وفات ہے
اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، درجات بلند فرمائے۔ آمین
اسی نسبت سے ایک علمی سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے:
جو احباب مولانا علی میاںؒ کی کتب کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں
انہیں اوپر شیئر کردہ فہرست میں سے کوئی ایک کتاب بالکل مفت دی جائے گی۔
شرائط:
منتخب کتاب کا مطالعہ 2 ماہ میں مکمل کرنا ہوگا
مطالعہ کے بعد حاصلِ مطالعہ/Review/تاثرات فیس بک پر شیئر کرنا لازمی ہوگا

براہِ کرم کتاب صرف انہی میں سے منتخب کریں جو پوسٹ میں اوپر شیئر کی گئی فہرست میں موجود ہیں۔
جو احباب شامل ہونا چاہیں، ان باکس/کمنٹ میں رابطہ کریں۔

31/12/2025

مولانا سید ابوالحسن علی ندوی: علمی دنیا کا مرد آہن
الطاف جمیل ندوی

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کا شمار دنیا کی بلند پایہ علمی شخصیتوں میں ہوتا ہے۔ آپ کی ولادت 5 دسمبر 1914ء مطابق 1333ھ کو رائے بریلی بیرون شھر دائرہ حضرت شاہ علم اللہ رح میں ہوئی، آپ کا نام علی، کنیت ابوالحسن ھے۔ آپ کے والد ماجد کا نام سید عبد الحئیتھا، جو اپنے وقت کے زبردست عالم دین تھے۔ آپ کا نسبی تعلق رائے بریلی تکیہ کے مشھور خاندان سید احمد شھید رح سے ھے ۔ وہ بیک وقت مفکر، مدبر، مصلح، قائد، زمانہ شناس، ادیب اور نباضِ وقت، خطیب تھے۔

حضرت مولانا علامہ اقبال کے بڑے شیدائیاور مداح تھے اور ہر مسلمان میں اقبال کا ‘ مرد مومن ‘تلاش کرتے تھے، مو لانا کو اس بات کا بڑا قلق تھا کہ عالم عربی رابندر ناتھ ٹیگور سے توواقف ہے لیکن وہ اتنے بڑے مفکر اور شاعر اسلامی سے ناواقف ہے، چنانچہ مولانا نے عربی میں ‘ روائع اقبال ‘ نامی کتاب لکھی جو اردو میں ‘نقوش اقبال ‘کے نام سے مشہور ہوئی اور اس طرح سے مو لا نا نے علامہ اقبال سے عالم عربی کو روشناس کروایا۔ مو لانا علماء و مشایخ کا تذکرہ بڑے والہانہ انداز میں کرتے اور ان کی دینی غیرت و حمیت اور خدمات کو خوب سراہتے تھے

انارکی، ابن الوقتی اور جھوٹے معیار کے آگے سپر اندازی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسی طرح انہوں نے پاکستان پر اسلامی تہذیب کے تحفظ اور صحیح عقیدہ کی ضرورت واضح کی اور وہاں کے حکمرانوں کو اسلامی حکومت کے آداب و اطوار سمجھائے۔

سمجھائے مولانا کے مزاج میں درویشی تھی وہ تصوف بمعنی احسان کے قائل تھے وہیں حضرت مولانا علی میاں کی شخصیت دانائی اور دور اندیشی سے مزین تھی انکی شخصیت حق پرستی وجرأت کا بھی اعلیٰ مظہر تھی، انہوں نے حق گوئی سے گریز کرکے تلخ حقائق کے اظہار پر مصلحت اندیشی کا غلاف کبھی نہیں چڑھایا بلکہ باطل کے خلاف کھل کر آواز بلند کی مسلکی اختلافات کو امت کے رستے ہوئے ناسور سے تعبیر کیا اور اس کے تدارک میں پیش پیش وفکر مند رہے۔حضرت نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے جو خطبے دیئے، ان میں مسلمانان ہند کے لئے جہاں پرسنل لا کو ناگزیر بتایا، وہیں اسے مسلمانوں کی عزت وآبرو کیلئے اہم قرار دیا اور اس کی حفاظت کواسلامی تہذیب وتشخص کے تحفظ سے تعبیر فرمایا :

حضرت کے خطبات وتقاریر مختلف عنوانات کے تحت کتابی شکل میں شائع ہوچکے ہیں، جن میں سے ایک اہم مجموعہ ’’پاجا سراغ زندگی‘‘ ہے ان تقریروں میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے طلباء کو وہ یہ پیام دیتے ہیں کہ ’’شاخِ ملت انہی کے دم سے ہری ہوسکتی ہے‘‘۔ امریکہ کے سفر پر گئے تو وہاں کی یونیورسٹیوں اور مجلسوں میں جو تقاریریں کیں ’’مغرب سے کچھ صاف صاف باتیں‘‘ اور ’’نئی دنیا‘‘ کے نام سے وہ منظر عام پر آگئی ہیں، ان تقاریروں میں حضرت نے دو ٹوک انداز میں فرمایا کہ’’امریکہ میں مشینوں کی بہار تو دیکھی، لیکن آدمیت اور روح کا زوال پایا‘

وہاں کے مسلمانوں کو تعلق باللہ، اپنے کام میں اخلاص اور انابت کی روح پیدا کرنے پر زور دیا، یہی پیغام وہ ہر جگہ ہر ملک اور ہر شہر میں دیتے رہے،جو نیا نہیں تھا لیکن کچھ ایسے ایمانی ولولے، قلبی درد اور داعیانہ انداز میں اس کا اعادہ کرتے کہ سننے والوں کے قلوب گرما جاتے، اسی طرح یوروپ، برطانیہ، سوئزرلینڈ اور اسپین کی یونیورسٹیوں اور علمی مجلسوں میں تخاطب کے دوران یہ پیام دیا کہ ’’وہاں کے مسلمان مغربی تہذیب و تمدن کے گرویدہ نہ ہوں کیونکہ اس کا ظاہر روشن اور باطن تاریک ہے، مسلمان اس سرزمین پر اسلام کے داعی بن کر رہیں، اسلام کی ابدیت پر مکمل اعتماد رکھیں اور مشرق ومغرب کے درمیان نئی نہر سوئز تعمیر کرنے کے لئے کام کریں۔

حضرت نے ملی مسائل کے حل کے لئےبھی جو بن پڑا اس سے دریغ نہیں کیا ’’دینی تعلیمی کونسل‘‘ ہو، ’’مسلم پرسنل لا بورڈ‘‘ یا ’’پیام انسانیت‘‘ کا پلیٹ فارم سب کا استعمال مسلمانوں کی فلاح وبہبود اور ان کے حقوق کی بازیابی کے لئے کیا، بالخصوص ’’پیام انسانیت‘‘ کے ذریعہ جہاں برادران وطن کوایک مہذب انسان اور ذمہ دار شہری بننے، اپنے اندر وسعت نظر اور وسعت قلبی پیدا کرنے کا درس دیا، وہیں مسلمانوں کوتلقین کی کہ وہ ہندوستان کو اپنا ملک سمجھیں، اس کی رنگا رنگ تہذیب کےماننے والوں کے ساتھ شرافت وانسانیت کا سلوک کریں، مل جل کر رہیں، ہندو اور مسلمانوں کو ایک ہی کشتی کا سوار تصور کرکے باہم معاملہ کریں، اس تحریک کا مسلمانوں کو اچھا پھل یہ ملا کہ اکثریت کے حلقوں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم ہوئی اور گرم فضا کو معتدل بنانے میں مدد ملی، حضرت نے ہندوستان کی خوابیدہ ملت کو جگانے کی بھی بھرپور کوشش کی۔ شہر شہر، قریہ قریہ اپنی تقریروں کے وسیلہ سے یہ بتایا کہ دنیا پر خودغرضی اور بداخلاقی کا مانسون چھایا ہوا ہے، اسے چادروں سے نہیں روکا جاسکتا لیکن انسانیت کا درد محسوس کرکے اور اپنے ملک کو نمونہ کا ملک بناکر اس صورت حال پر ضرو ر قابو پایا جاسکتا انسانیت کا یہ پیغام زندگی کے آخری مرحلہ تک وہ لوگوں تک پہونچاتے رہے۔حضرت سرگرم سیاست سے دور رہے لیکن وطن کی محبت اس کی بھلائی اور ترقی کی فکر نے انہیں ہمیشہ بے چین رکھا، ’’پیام انسانیت‘‘ تحریک بھی گویا ایک نسخہ کیمیا تھی جس کے ذریعہ وہ قوم اور ملت کو مل جل کر رہنے اور ایک دوسرے کا احترام کرنے کا درس دیتے تھے۔ اس کی بنیاد اگرچہ ایک تقریر کے ذریعہ ۱۹۵۴ء میں رکھی گئی لیکن عملی طو ر پر اس تحریک کاآغاز ۱۹۷۴ء سے ہوا اور زندگی کے آخری مرحلہ تک حضرت کا اس سے والہانہ لگاؤ جاری رہا۔ ملت اس تحریک کی معنویت کو سمجھے اور اس کے پیغام پر توجہ دے تو آج بھی تعصب وتنگ نظری کی دیواریں منہدم ہوسکتی ہیں اور بحیثیت انسان مسلمانوں کے لئے دوسروں کا درد وتکلیف سمجھنا آسان ہوجائے گا، اس موضوع پر حضرت مولانا علی میاں نے جو تقریریں فرمائیں ’’دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے‘‘ کہ مصداق نہایت موثر ہیں، ان تقاریر میں ان کے دل کا درد اور فکر کی روشنی جلوہ گر نظر آتی ہے

حضرت کا عوام سے خطاب ہو یا طلباء سے گفتگو، اہل علم سے درد دل کہہ رہے ہوں یا حاکم وامراء کو نصیحت فرما رہے ہوں سب کو وعظ ونصائح کے بجائے آئینہ دکھانے پر وہ یقین رکھتے تھے اور سننے والے اس آئینہ میں اپنی صورت وسیرت کی کمزوریوں، اپنے دل ودماغ کی کوتاہیوں کا مشاہدہ کرتے جاتے تھے، اس بالواسطہ ترسیل سے انہون نے وہ کام لیا جو زورِ خطابت اور جوش بیان سے نہیں ہوسکتا تھا، اسی طریقہ نے عوام الناس سے اہل علم تک سب کو متاثر کرکے ان کا گرویدہ بنادیا تھا۔ ان تقریروں کوپڑھنے سے ایک منضبط تحریر کی خوبی نظر آتی ہے، جو دماغ سے زیادہ دل کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، قرآنی آیات واحادیث کی روشنی میں بزرگوں کی سیرت وسوانح کے حوالہ سے حضرت جوفرماتے وہ سامع کے دل میں اترجاتا اور زبانِ حال سے وہ پکار اٹھتا ؂دیکھنا تقریر کی لذت جو اس نے کہامیں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے مولانا نے بہت کچھ لکھا اور پوری قوت سے لکھا وہ جہاں بے باک خطیب تھے وہیں اللہ تعالی نے ان کے قلم میں وہ قوت و طاقت دی تھی جسے مولانا جب تھام لیتے تو اس کا حق ادا کردیتے ان کی کچھ تصانیف علمی دنیا کی شاہکار ہیں خاص کر رسالہ التوحید، الطریق الی المدینہ المنورہ، العرب والاسلام القراہ الراشدہ قصص النبیین مختارات سیرت سید احمد شھید رح، پرانے چراغ، النبی الخاتم صلی اللہ علیہ وسلم، روائع اقبال، حضرت مولانا الیاس رح اور ان کی دینی دعوت، تاریخ دعوت و عزیمت اسلامی تہذیب شرق اوسط کی ڈائری، جب ایمان کی باد بہار چلی ارکان اربعہ پاجا سراغ زندگی، اسلامیت و مغربیت کی کشمش، دستور حیات اور مسلمانوں کےعروج و زوال کا اثر جیسی شاندار کتابیں آج بھی زندہ و تابندہ ہیں اور قیامت تک ان کا نفع امت و انسانیت کو ان شاءاللہ تعالی پہنچتا رہیگا۔

وفات

31 دسمبر 1999ء مطابق 23 رمضان المبارک 1420ھ بروز جمعہ کو تکیہ شاہ علم اللہ رائے بریلی میں قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے مالک حقیقی سے جاملے۔ اللہ تعالی آپ کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے آمین

31/12/2025

مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ، شخصیت اور تحریک کا علمی و تاریخی مطالعہ:شاہ عمران حسن
تعارف:اطہر شمسی
برادرم شاہ عمران حسن ہندوستان کے ایک معروف سوانح نگار ہیں ۔سچ تو یہ ہے کہ سوانح نگاری میں اُنھیں اجتہاد کا درجہ حاصل ہے ۔حال ہی میں موصوف نے حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی علیہ الرحمۃ کی شخصیت اور تحریک کے تعارف پر ایک نہایت ہی موضوعی نوعیت کی کتاب تیار کی ہے ۔میرے نزدیک یہ کتاب بھی حضرت مولانا کی سوانح پر ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ۔میں نے اس کتاب کو حرف بحرف پڑھا ہے ۔یہ کتاب صرف مولانا ابو الحسن علی ندوی کی سوانح نہیں بلکہ ملی اور دعوتی کام کرنے والے ہر شخص کے لیے ایک گائیڈ کی حیثیت رکھتی ہے ۔

شاہ عمران حسن اس کتاب میں اپنی محبوب شخصیت کی مدح سرائی نہیں کرتے بلکہ وہ صدی کی شخصیت کا ایک علمی اور موضوعی مطالعہ پیش کرتے ہیں ۔
میرا مشورہ ہے کہ ملی شخصیات اور تحریکات سے دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کو یہ کتاب لازما پڑھنی چاہیے ۔

31/12/2025

مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ؒ کا کلامِ اقبال سے تاثر اور ان کی نظر میں اس کی ایمانی معنویت
-----------------------------
(یوم وفات(31 دسمبر 1999ء) کی مناسبت سے)
--------------
مولانا علی میاں ؒ کی شخصیت کے علمی، عملی ، فکری اور روحانی اعتبار سے کئی تکوینی عناصر ہیں جن سے ان کی شخصیت تیار ہوئی۔وہ اپنے آپ کو مدرسۂ ایمان کا طالب علم قرار دیتے ہیں۔ اس مدرسے( جو کبھی زمان ومکاں کے تغیرات سے کہنہ نہیں ہوتا، بلکہ "برق گرتی ہے تو یہ نخل ہرا ہوتا ہے" کے مصداق تغیرات اسے مزید نکھارتے اور پختہ کرتے ہیں) سے مناسبت رکھنے والے ہر پیغام اور شخصیت سے وہ اثر لیتے ہیں اور اسے اپنی فکر میں جگہ دیتے ہیں۔ اپنی علمی اور مطالعاتی زندگی کی سرگذشت میں انھوں نے کئی شخصیات اور کتابوں کا نام لیا ہے، جن سے انھوں نے سیکھا اور اپنی تشکیل میں حصہ پایا۔ ان میں ایک اہم ترین شخصیت علامہ اقبالؒ کی بھی ہے۔یہ ساحر ان کی فکرودماغ پر طویل عرصے تک چھایا رہا ، جس کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنی تحریر و تقریر میں جابجا اقبال کے اشعارسے استدلال کرتے اور اسے اپنے کلام کی زینت بناتے ہیں۔ اس تاثر کی روداد وہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
"زندگی کے طویل تر دور میں دماغ پر علامہ اقبال مرحوم کا بڑا غلبہ رہا ہے اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی معاصر شخصیت کے افکار کا اتنا گہرا اثر دماغ پر نہیں پڑا جتنا علامہ اقبالؒ کے کلام کا۔غالبااس کی وجہ یہ ہے کہ ان خیالات و تمناؤں کی ترجمانی کرتے ہیں جو روح وجسم میں پیوست ہو چکی ہیں۔ اقبال اور ان کے کلام پر اردو میں اتنی کتابیں شائع ہو ئی ہیں جو شاید کسی معاصر شخصیت اور اس کے فکر پر شائع نہیں ہوئیں، لیکن سب سے زیادہ پر مغر اور روح پرور کتاب ڈاکٹر یوسف حسین خاں کی"روحِ اقبال" معلوم ہوئی۔
علامہ مرحوم سے 1356ھ/1937ء میں دوسری ملاقات کی اور کئی گھنٹے ان کے التفات و ارشادات سے محظوظ رہا ، جس کا خلاصہ پنجاب کے ایک رسالہ میں "عارف ہندی کی خدمت میں چند گھنٹے" کے عنوان سے شائع ہوا۔
بلادِ عربیہ کے مسلمانوں کی بے التفاتی اور ناشناسی پر دل کھول کھول کر رہتا اور ٹیگور کی قدر افزائی پر غصہ آتا۔ علامہ مرحوم کی وفات کے بعد مصر میں پڑھے جانے کے لیے ایک مفصل وطویل مضمون علامہ مرحوم کی زندگی و خصوصیات پر لکھا اور بعد میں عالمِ عربی میں ان کے تعارف کی سب سے زیادہ کام یاب کوشش کی توفیق" روائع اقبال" کے ذریعہ ہوئی جس نے بلادِ عربیہ کے نوجوانوں میں بڑی مقبولیت حاصل کی۔ابتدائی استغراق و انہماک کے دور میں تنبیہ ہوئی کہ کسی انسان کے کلام سے اس قدر انہماک اور شیفتگی اچھی نہیں، اصل شغف اور انہماک کی چیز اللہ تعالیٰ کا ابدی پیغام اور کلام ہے جو قرآن مجدی کی شکل میں محفوظ ہے اور جس کو جو کچھ ملا ہے، اسی سے ملا ہے۔
لیکن اب بھی ان کے اشعار خون میں تموج اور جذبات میں حرکت پیدا کر دیتے ہیں اور عالمِ اسلام کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے اب بھی اس کی طاقت و خود اعتمادی کا بڑا سرچشمہ سمجھتا ہوں۔(میری علمی اور مطالعاتی زندگی،ص: 70، 71)
کلامِ اقبال کو پسند کرنے کے اسباب اور اس کی فکری و پیامی قدروقیمت پر روشنی ڈالتے ہوئے "نقوشِ اقبال" (اردو ترجمہ"روائع إقبال" از شمس تبریز خان) میں کہتےہیں:" اقبال کو پسند کرنے کے اسباب بہت سے ہو سکتے ہیں اور ہر شخص اپنی پسند کی مختلف وجوہ بیان کر سکتا ہے۔ انسان کی پسند کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ کسی فن پارے کو اپنے خوابوں کا ترجمان اور اپنے دل کی زبان پانے لگتا ہے۔ انسان بہت خود بیں و خودپسند واقع ہوا ہے، اس کی محبت اور نفرت ، تمناؤں اور دل چسپیوں کا مرکز ومحور بڑی حد تک اس کی ذات ہی ہوتی ہے ، اس لیے اسے ہر وہ چیز اپیل کرتی ہے جواس کی آرزؤں کا ساتھ دے سکے اور اس کے احساسات سے ہم آہنگ ہو جائے۔ میں بھی اپنے کو اس کلیہ سے الگ نہیں کرتا۔میں نے کلام اقبال کو عام طور پر اسی لیے پسند کیا ہے کہ وہ میری پسند کے معیار پر پورا اترتا اور میرے جذبات و محسوسات کی ترجمانی کرتا ہے۔ وہ میرے فکروعقیدہ ہی کے ساھ ہم آہنگ نہیں،بلکہ اکثر میرے شعور اور احساسات کا بھی ہم نوا بن جاتا ہے۔
سب سے بڑی چیز جو مجھے ان کے فن کی طرف لے گئی، وہ بلند حوصلگی ، محبت اور ایمان ہے جس کا حسین امتزاج ان کے شعر اور پیغام میں ملتا ہے اور جس کا ان کے معاصرین میں کہیں پتا نہیں لگتا۔میں بھی اپنی طبیعت اور فطرت میں انھی تینوں کا دخل پاتا ہوں۔میں ہر اس ادب اور پیغام کی طرف بے اختیار بڑھتا ہوں جو بلند نظری، عالی حوصلگی اور احیاے اسلام کی دعوت دیتااور تسخیر کائنات اور تعمیرانفس وآفاق کے لیے ابھارتا ہے، جو مہرووفا کے جذبات کو غذا دیتا اور ایمانی شعور کو بیدار کرتا ہے، جو محمد ﷺ کی عظمت اور ان کے پیغام کی آفاقیت و ابدیت پر ایمان لاتا ہے۔میری پسند اور توجہ کا مرکز وہ اسی لیے ہیں کہ وہ بلدن نظری، محبت اور ایمان کے شاعر ہیں، ایک عقیدہ ، دعوت اور پیغام رکھتے ہیں اور مغرب کی مادی تہذیب کے سب سے بڑے ناقد اور باغی ہیں---وہ اسلام کی عظمت رفتہ اور مسلمانوں کے اقبالِ گذشتہ کے لیے سب سے زیادہ فکرمند ، تنگ نظر قومیت و وطنیت کے سب سے بڑے مخالف اور انسانیت و اسلامیت کے عظیم داعی ہیں۔"(ابوالحسن علی ندوی، نقوشِ اقبال،ص: 33، 34)
مولانا علی میاں ؒ کی ایک عربی کتاب "نظرات في الأدب" ہے۔ اس میں ان کا علامہ اقبال سے متعلق ایک خطبہ ہے جو انھوں نے مسجدِ نبوی کے قریب مدینہ منورہ میں حاضرین کی ایک بڑی تعداد کے سامنے دیا اور "دور محمد إقبال في توجيه الأدب والشعر" (ادب و شاعری کی سمت متعین کرنے میں محمد اقبال کا کردار)کے نام سے اس مجموعے میں شامل ہے۔مسجدِ نبوی کے قرب میں وہ حاضرین سے کہتے ہیں کہ مجھے اللہ اور اس کے رسول سے حیا آتی ہے کہ اس جگہ رسولِ عربی ﷺ کے علاوہ کسی اور شخص کا ذکر کروں، لیکن یہ ایسی شخصیت کا ذکر ہے جس کا تعلق نبی کریم ﷺ کی شخصیت سے بہت قوی تھا اور ان کے ذکر کے وقت ان کی آنکھیں قابو میں نہ رہتی تھیں۔ اس کے بعد انھوں نے شعر اقبال کی قدروقیمت اور اس کے اثرات پر خوب صورت گفت گو کی ہے۔ اس خطبے میں مولانا علی میاںؒ عربوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں:"إن العالم العربي والحمد لله غني بكبار العلماء، غني بالمفكرين، غني بالمؤلفين، غني بالجامعات ، غني بالمكتبات، ولكنه لم يرزق شاعرا عبقريا مثل إقبال، لقد كان شوقي أميرا الشعراء في عصره مصره، وله مواقف إسلامية ونغمة إيمانية في الشعر العربي الحديث، ويليه حافظ إبراهيم، ولكنه ما جاء على أفق العالم العربي من المغرب إلى الشرق من يقوم مقام محمد إقبال، فيقول الشعر الإسلامي القوي البليغ، المثير الذي يحرك أوتار القلب، ويكهرب الجو ويتغلغل في أحشاء المجتمع العربي الإسلامي وفي أحشاء الأدب العرب، وهذا هو الدور القيادي الثوري في الأدب والشعر الذي مثله محمد إقبال في عصره وبيئته." (عرب دنیا ، بحمد للہ، جلیل القدر علما سے مالامال ہے، افکار کے حامل مفکرین سے لبریز ہے، نام ور مؤلفین، عظیم جامعات اور وسیع کتب خانوں کی دولت سے بہرہ مند ہے، مگر اس کے نصیب میں محمد اقبال جیسا نابغۂ روزگار شاعر نہیں آیا۔ شوقی اپنے زمان ومکاں میں بجا طور پر امیرُالشعراء تھا اور جدید عربی شاعری میں اس کے ہاں اسلامی موقف اور ایمانی نغمہ نمایاں طور پر جلوہ گر ہے اور اس کے بعد حافظ ابراہیم کا درجہ آتا ہے، لیکن پورے عالمِ عرب میں، مغرب سے لے کر مشرق تک، کوئی ایسی ہستی طلوع نہ ہوئی جو محمد اقبال کے مقام و مرتبے کی ہم سر ہو۔ جو ایسی قوی، بلیغ اور ولولہ انگیز اسلامی شاعری کہے جو دل کے تاروں کو چھو لے، فضا کو برق آسا کر دے اور عرب اسلامی معاشرے کے رگ و ریشے میں، بلکہ عربی ادب کے باطن تک سرایت کر جائے۔ یہی وہ انقلابی اور قیادی کردار ہے جس کی نمائندگی محمد اقبال نے اپنے عہد اور اپنے ماحول میں ادب و شاعری کے میدان میں کی۔)(ابوالحسن علی الندوی،نظرات في الأدب،112)
فیس بک کی پوسٹ پہلے ہی طویل ہو گئی، ورنہ اس خطبے کا خلاصہ یہاں ذکر کیا جاتا۔ مولانا علی میاںؒ اور اقبالؒ دونوں کے پیغام کی مناسبت سے یہ کہنا بہتر ہوگا کہ ہمیں اپنی نسلوں کو ایمان کے پیغام کے حاملین سے ضرور شناسا کرنا چاہیے اور اس

کی ضرورت آج کے دور میں بہت زیادہ ہے۔
سید متین احمد
بشکریہ
Syed Mateen Ahmad

Photos from Syed Abul Hasan Ali Nadwi  Academy -  Islamabad  Pakistan's post 13/04/2025
31/12/2024

مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ، شخصیت اور تحریک کا علمی و تاریخی مطالعہ:شاہ عمران حسن
تعارف:اطہر شمسی
برادرم شاہ عمران حسن ہندوستان کے ایک معروف سوانح نگار ہیں ۔سچ تو یہ ہے کہ سوانح نگاری میں اُنھیں اجتہاد کا درجہ حاصل ہے ۔حال ہی میں موصوف نے حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی علیہ الرحمۃ کی شخصیت اور تحریک کے تعارف پر ایک نہایت ہی موضوعی نوعیت کی کتاب تیار کی ہے ۔میرے نزدیک یہ کتاب بھی حضرت مولانا کی سوانح پر ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ۔میں نے اس کتاب کو حرف بحرف پڑھا ہے ۔یہ کتاب صرف مولانا ابو الحسن علی ندوی کی سوانح نہیں بلکہ ملی اور دعوتی کام کرنے والے ہر شخص کے لیے ایک گائیڈ کی حیثیت رکھتی ہے ۔

شاہ عمران حسن اس کتاب میں اپنی محبوب شخصیت کی مدح سرائی نہیں کرتے بلکہ وہ صدی کی شخصیت کا ایک علمی اور موضوعی مطالعہ پیش کرتے ہیں ۔
میرا مشورہ ہے کہ ملی شخصیات اور تحریکات سے دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کو یہ کتاب لازما پڑھنی چاہیے ۔

Syed Abul Hasan Ali Nadwi Academy - Islamabad Pakistan Contact Address:Nadwi Academy
PoBox 467,G 9 -Islamabad Pakistan

08/05/2024

مولاناسید ابوالحسن علی ندوی رح کی بکس کے مطالعہ کے حوالے سے ایک WhatsApp گروپ ہے کیا کوئی اس کا لنک یا نمبر شئیر کرسکتا ہے

16/04/2024

مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش
تصنیف: مفکر اسلام مولانا ابو الحسن علی ندوی
مبصر: ایم آئی حقانی
____________ کتاب شناسی ____________

دین حق کے خلاف آغاز اسلام سے ہی باطل قوتیں طرح طرح کی سازشوں میں مصروف رہی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام کا دفاع کرنے والے نابغہ روزگار عبقری شخصیات اور رجال کار بھی ہر دور میں موجود رہے ہیں، ہر عہد میں کئی مشاہیر اسلام نے باطل افکار و نظریات کا نہ صرف علمی انداز میں ٹھوس نقد پیش کیا بلکہ غیر اسلامی افکار و نظریات کا اسلامی محاسبہ اور محاکمہ کرتے ہوئے مضبوط نقلی اور عقلی دلائل سے ثابت کیا کہ وہ ناقص، بودے، کھوکھلے اور انسانیت کےلئے زہر قاتل ہیں، نیز انہوں نے اسلام کی حقانیت اور آفاقیت کو دلائل اور براہین سے روز روشن کی طرح واضح کیا، انہیں علماء اور مفکرین میں ایک ممتاز نام مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کا بھی ہے جو علمی اور فکری کے حلقوں میں محتاج تعارف نہیں،ان کی علمی اور انقلابی نگارشات سینکڑوں کی تعداد میں منظر عام پر آچکے ہیں اور دنیا علم کے زعماء اور مفکرین سے داد تحسین وصول کر چکے ہیں _____

موصوف کی معروف اور مشہور کتاب الصراع بین الفکرۃ الاسلامیه و الفکرۃ الغربیه فی الاقطار الاسلامیہ بھی اپنے موضوع پر قیمتی کاوش ہے جس کا اردو ترجمہ ”مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش“ کے نام سے برصغیر میں متداول کتاب ہے، اس کتاب میں انہوں نے وقت کے سب سے بڑے ‎چیلنج مغربی تہذیب کی کامل پیروی، یعنی مغربیت اور جدیدیت پسندی کا پردہ چاک کیا ہے اور اس بات کی بھی خوب وضاحت کی ہے کہ دنیائے اسلام نے مغربیت کو کس طرح قبول کیا اور مختلف اسلامی ممالک نے اس کے متعلق کیا کیا موقف اختیار کیے اور عالم اسلام کے لیے اس بارے میں صحیح راہ کیا ہے ؟ اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ کون کون کس طرح جدیدیت کی راہ پر چل نکلیں اور عالم اسلام کی جدید تاریخ کا نیا اور اہم باب اسلامیت اورمغربیت کی کشمکش کی عبرت انگیز داستان اور احیاء اسلام کی جدید تحریکوں پر سیر حاصل بحث کی ہے ____

مولانا علی میاں نے جب ترکی کی تاریخ پڑھی تو انہیں احساس ہوا کہ مغرب سے مرعوبیت اور ان کی تہذیب کو بلا کسی تنقید کے پورے طور پر اپنانے کا مرض ترکی کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ پورا عالم اسلام اس سے دوچار ہے تو انہوں نے ایک مضمون لکھا الموقف الحضاری تجاه الغرب پھر جب وہ لندن تشریف لے گئے تو بچشمِ خود وہاں کے حالات کا مشاہدہ کیا اور مغربی تہذیب کی اثر انگیزی اور جادوگری کو بہت قریب سے دیکھا، جب انکا احساس بہت بڑھ گیا اور اس کے حساس دماغ میں اس وقت یہ خیال پیدا ہوا کہ اس جانب توجہ کرنے کی بہت اشد ضرورت ہے اور عالم اسلام کی صحیح رہنمائی اور اس کو مشورہ دینا ہمارا فرض بنتا ہے، وہیں پہ انہوں نے ایک ادارے میں ایک بلیغ تقریر کی جو بہت موثر ثابت ہوئی، اور عالم عرب میں اس عظیم ہندی اسکالر کا یہ جملہ بہت مشہور ہوگیا تھا الشرق شرق و الغرب غرب، و بینهما برزخ لا یلتقیان یعنی مشرق اور مغرب کے درمیان اس کی طبیعت اور مزاج کے درمیان ایک دیوار ہے، دونوں کبھی ایک ہو نہیں سکتے، اس کے بعد انہوں الصراع بین الفکرة الاسلامية والفكرة الغربية جیسا فکر انگیز کتاب لکھی، اس میں انگریزی اور دیگرزبانوں کی کتابوں کے بہت سے حوالے ہیں _____

مسلمانوں میں مغربیت کی فروغ اور اشاعت اور مشرقی خطوں میں جدیدیت کی آمد وغیرہ مباحث پر یہ ایک بہترین تفہیمی کتاب ہے اس اہم موضوع کے متعلق بہتریں مواد اس پائے جاتے ہے، اس کتاب کے لئے انہوں بہت سے انگریزی، عربی، فارسی اور اردو کتابوں سے بہت استفادہ کیا ہے، لیکن زیادہ تر استفادہ انہوں نے مولانا ابو الاعلی مودودی مرحوم کی اہم ترین کتاب تنقیحات سے کیا گیا ہے اور مولانا علی میاں نے اس بات کا عتراف بھی کیا ہے کہ میرا اصلی ماخذ تنقیحات ہے، اس کے علاوہ علامہ محمد اسد مرحوم بھی اسکے استفادہ کا مرجع ہے، اس لئے بعض نقادان فکر و فلسفہ مغرب فرماتے ہیں کہ مولانا علی میاں کی یہ کتاب اس موضوع پر کمزور تریں کتاب ہے، اس لئے کہ چونکہ موصوف کا مرجع علامہ اسد مرحوم تھے اور علامہ اسد مرحوم خود بھی فکر مغرب سے نا آشنا تھے
بہر حال! الصراع میں مغربیت سے مقابلے کےلئے بھر پور مواد موجود ہے اور اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اس کا اردو کے علاوہ دیگر مختلف زبانوں میں بڑے پیمانے پر ترجمے ہوئے ہیں (واللہ اعلم بالصواب) ____

مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش
تصنیف: مفکر اسلام مولانا ابو الحسن علی ندوی
مبصر: ایم آئی حقانی

دین حق کے خلاف آغاز اسلام سے ہی باطل قوتیں طرح طرح کی سازشوں میں مصروف رہی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام کا دفاع کرنے والے نابغہ روزگار عبقری شخصیات اور رجال کار بھی ہر دور میں موجود رہے ہیں، ہر عہد میں کئی مشاہیر اسلام نے باطل افکار و نظریات کا نہ صرف علمی انداز میں ٹھوس نقد پیش کیا بلکہ غیر اسلامی افکار و نظریات کا اسلامی محاسبہ اور محاکمہ کرتے ہوئے مضبوط نقلی اور عقلی دلائل سے ثابت کیا کہ وہ ناقص، بودے، کھوکھلے اور انسانیت کےلئے زہر قاتل ہیں، نیز انہوں نے اسلام کی حقانیت اور آفاقیت کو دلائل اور براہین سے روز روشن کی طرح واضح کیا، انہیں علماء اور مفکرین میں ایک ممتاز نام مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کا بھی ہے جو علمی اور فکری کے حلقوں میں محتاج تعارف نہیں،ان کی علمی اور انقلابی نگارشات سینکڑوں کی تعداد میں منظر عام پر آچکے ہیں اور دنیا علم کے زعماء اور مفکرین سے داد تحسین وصول کر چکے ہیں _____

موصوف کی معروف اور مشہور کتاب الصراع بین الفکرۃ الاسلامیه و الفکرۃ الغربیه فی الاقطار الاسلامیہ بھی اپنے موضوع پر قیمتی کاوش ہے جس کا اردو ترجمہ ”مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش“ کے نام سے برصغیر میں متداول کتاب ہے، اس کتاب میں انہوں نے وقت کے سب سے بڑے ‎چیلنج مغربی تہذیب کی کامل پیروی، یعنی مغربیت اور جدیدیت پسندی کا پردہ چاک کیا ہے اور اس بات کی بھی خوب وضاحت کی ہے کہ دنیائے اسلام نے مغربیت کو کس طرح قبول کیا اور مختلف اسلامی ممالک نے اس کے متعلق کیا کیا موقف اختیار کیے اور عالم اسلام کے لیے اس بارے میں صحیح راہ کیا ہے ؟ اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ کون کون کس طرح جدیدیت کی راہ پر چل نکلیں اور عالم اسلام کی جدید تاریخ کا نیا اور اہم باب اسلامیت اورمغربیت کی کشمکش کی عبرت انگیز داستان اور احیاء اسلام کی جدید تحریکوں پر سیر حاصل بحث کی ہے ____

مولانا علی میاں نے جب ترکی کی تاریخ پڑھی تو انہیں احساس ہوا کہ مغرب سے مرعوبیت اور ان کی تہذیب کو بلا کسی تنقید کے پورے طور پر اپنانے کا مرض ترکی کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ پورا عالم اسلام اس سے دوچار ہے تو انہوں نے ایک مضمون لکھا الموقف الحضاری تجاه الغرب پھر جب وہ لندن تشریف لے گئے تو بچشمِ خود وہاں کے حالات کا مشاہدہ کیا اور مغربی تہذیب کی اثر انگیزی اور جادوگری کو بہت قریب سے دیکھا، جب انکا احساس بہت بڑھ گیا اور اس کے حساس دماغ میں اس وقت یہ خیال پیدا ہوا کہ اس جانب توجہ کرنے کی بہت اشد ضرورت ہے اور عالم اسلام کی صحیح رہنمائی اور اس کو مشورہ دینا ہمارا فرض بنتا ہے، وہیں پہ انہوں نے ایک ادارے میں ایک بلیغ تقریر کی جو بہت موثر ثابت ہوئی، اور عالم عرب میں اس عظیم ہندی اسکالر کا یہ جملہ بہت مشہور ہوگیا تھا الشرق شرق و الغرب غرب، و بینهما برزخ لا یلتقیان یعنی مشرق اور مغرب کے درمیان اس کی طبیعت اور مزاج کے درمیان ایک دیوار ہے، دونوں کبھی ایک ہو نہیں سکتے، اس کے بعد انہوں الصراع بین الفکرة الاسلامية والفكرة الغربية جیسا فکر انگیز کتاب لکھی، اس میں انگریزی اور دیگرزبانوں کی کتابوں کے بہت سے حوالے ہیں _____

مسلمانوں میں مغربیت کی فروغ اور اشاعت اور مشرقی خطوں میں جدیدیت کی آمد وغیرہ مباحث پر یہ ایک بہترین تفہیمی کتاب ہے اس اہم موضوع کے متعلق بہتریں مواد اس پائے جاتے ہے، اس کتاب کے لئے انہوں بہت سے انگریزی، عربی، فارسی اور اردو کتابوں سے بہت استفادہ کیا ہے، لیکن زیادہ تر استفادہ انہوں نے مولانا ابو الاعلی مودودی مرحوم کی اہم ترین کتاب تنقیحات سے کیا گیا ہے اور مولانا علی میاں نے اس بات کا عتراف بھی کیا ہے کہ میرا اصلی ماخذ تنقیحات ہے، اس کے علاوہ علامہ محمد اسد مرحوم بھی اسکے استفادہ کا مرجع ہے، اس لئے بعض نقادان فکر و فلسفہ مغرب فرماتے ہیں کہ مولانا علی میاں کی یہ کتاب اس موضوع پر کمزور تریں کتاب ہے، اس لئے کہ چونکہ موصوف کا مرجع علامہ اسد مرحوم تھے اور علامہ اسد مرحوم خود بھی فکر مغرب سے نا آشنا تھے
بہر حال! الصراع میں مغربیت سے مقابلے کےلئے بھر پور مواد موجود ہے اور اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اس کا اردو کے علاوہ دیگر مختلف زبانوں میں بڑے پیمانے پر ترجمے ہوئے ہیں (واللہ اعلم بالصواب) ____

16/04/2024

مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش
تصنیف: مفکر اسلام مولانا ابو الحسن علی ندوی
مبصر: ایم آئی حقانی

دین حق کے خلاف آغاز اسلام سے ہی باطل قوتیں طرح طرح کی سازشوں میں مصروف رہی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام کا دفاع کرنے والے نابغہ روزگار عبقری شخصیات اور رجال کار بھی ہر دور میں موجود رہے ہیں، ہر عہد میں کئی مشاہیر اسلام نے باطل افکار و نظریات کا نہ صرف علمی انداز میں ٹھوس نقد پیش کیا بلکہ غیر اسلامی افکار و نظریات کا اسلامی محاسبہ اور محاکمہ کرتے ہوئے مضبوط نقلی اور عقلی دلائل سے ثابت کیا کہ وہ ناقص، بودے، کھوکھلے اور انسانیت کےلئے زہر قاتل ہیں، نیز انہوں نے اسلام کی حقانیت اور آفاقیت کو دلائل اور براہین سے روز روشن کی طرح واضح کیا، انہیں علماء اور مفکرین میں ایک ممتاز نام مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کا بھی ہے جو علمی اور فکری کے حلقوں میں محتاج تعارف نہیں،ان کی علمی اور انقلابی نگارشات سینکڑوں کی تعداد میں منظر عام پر آچکے ہیں اور دنیا علم کے زعماء اور مفکرین سے داد تحسین وصول کر چکے ہیں _____

موصوف کی معروف اور مشہور کتاب الصراع بین الفکرۃ الاسلامیه و الفکرۃ الغربیه فی الاقطار الاسلامیہ بھی اپنے موضوع پر قیمتی کاوش ہے جس کا اردو ترجمہ ”مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش“ کے نام سے برصغیر میں متداول کتاب ہے، اس کتاب میں انہوں نے وقت کے سب سے بڑے ‎چیلنج مغربی تہذیب کی کامل پیروی، یعنی مغربیت اور جدیدیت پسندی کا پردہ چاک کیا ہے اور اس بات کی بھی خوب وضاحت کی ہے کہ دنیائے اسلام نے مغربیت کو کس طرح قبول کیا اور مختلف اسلامی ممالک نے اس کے متعلق کیا کیا موقف اختیار کیے اور عالم اسلام کے لیے اس بارے میں صحیح راہ کیا ہے ؟ اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ کون کون کس طرح جدیدیت کی راہ پر چل نکلیں اور عالم اسلام کی جدید تاریخ کا نیا اور اہم باب اسلامیت اورمغربیت کی کشمکش کی عبرت انگیز داستان اور احیاء اسلام کی جدید تحریکوں پر سیر حاصل بحث کی ہے ____

مولانا علی میاں نے جب ترکی کی تاریخ پڑھی تو انہیں احساس ہوا کہ مغرب سے مرعوبیت اور ان کی تہذیب کو بلا کسی تنقید کے پورے طور پر اپنانے کا مرض ترکی کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ پورا عالم اسلام اس سے دوچار ہے تو انہوں نے ایک مضمون لکھا الموقف الحضاری تجاه الغرب پھر جب وہ لندن تشریف لے گئے تو بچشمِ خود وہاں کے حالات کا مشاہدہ کیا اور مغربی تہذیب کی اثر انگیزی اور جادوگری کو بہت قریب سے دیکھا، جب انکا احساس بہت بڑھ گیا اور اس کے حساس دماغ میں اس وقت یہ خیال پیدا ہوا کہ اس جانب توجہ کرنے کی بہت اشد ضرورت ہے اور عالم اسلام کی صحیح رہنمائی اور اس کو مشورہ دینا ہمارا فرض بنتا ہے، وہیں پہ انہوں نے ایک ادارے میں ایک بلیغ تقریر کی جو بہت موثر ثابت ہوئی، اور عالم عرب میں اس عظیم ہندی اسکالر کا یہ جملہ بہت مشہور ہوگیا تھا الشرق شرق و الغرب غرب، و بینهما برزخ لا یلتقیان یعنی مشرق اور مغرب کے درمیان اس کی طبیعت اور مزاج کے درمیان ایک دیوار ہے، دونوں کبھی ایک ہو نہیں سکتے، اس کے بعد انہوں الصراع بین الفکرة الاسلامية والفكرة الغربية جیسا فکر انگیز کتاب لکھی، اس میں انگریزی اور دیگرزبانوں کی کتابوں کے بہت سے حوالے ہیں _____

مسلمانوں میں مغربیت کی فروغ اور اشاعت اور مشرقی خطوں میں جدیدیت کی آمد وغیرہ مباحث پر یہ ایک بہترین تفہیمی کتاب ہے اس اہم موضوع کے متعلق بہتریں مواد اس پائے جاتے ہے، اس کتاب کے لئے انہوں بہت سے انگریزی، عربی، فارسی اور اردو کتابوں سے بہت استفادہ کیا ہے، لیکن زیادہ تر استفادہ انہوں نے مولانا ابو الاعلی مودودی مرحوم کی اہم ترین کتاب تنقیحات سے کیا گیا ہے اور مولانا علی میاں نے اس بات کا عتراف بھی کیا ہے کہ میرا اصلی ماخذ تنقیحات ہے، اس کے علاوہ علامہ محمد اسد مرحوم بھی اسکے استفادہ کا مرجع ہے، اس لئے بعض نقادان فکر و فلسفہ مغرب فرماتے ہیں کہ مولانا علی میاں کی یہ کتاب اس موضوع پر کمزور تریں کتاب ہے، اس لئے کہ چونکہ موصوف کا مرجع علامہ اسد مرحوم تھے اور علامہ اسد مرحوم خود بھی فکر مغرب سے نا آشنا تھے
بہر حال! الصراع میں مغربیت سے مقابلے کےلئے بھر پور مواد موجود ہے اور اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اس کا اردو کے علاوہ دیگر مختلف زبانوں میں بڑے پیمانے پر ترجمے ہوئے ہیں (واللہ اعلم بالصواب) ____

16/04/2024

کیا ہمارے وہ احباب اور ارباب علم و فکر مولانا ابو الحسن علی ندوی رح کی کتاب " مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش " کے اس باب یا صفحات کی نشاندہی کر سکتے ہیں جسکی وجہ سے وفاق المدارس کے نصاب میں اسکو کتاب کو شامل کرنے پر متنازعہ بنایا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔

غالبا یہ کتاب 340 صفحات پر مشتمل ہے جس میں جماعت اسلامی کا ذکر خیر صرف 3 صفحات پر جبکہ آیت اللہ خمینی کے انقلاب کا ذکر 7 صفحات پر ہے اس کتاب میں ایسی کونسی باتیں ہیں جو ہمارے نئی نسل کے مدارس کے طلباء اور علما کو راہ حق سے ہٹا سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔

جعفر بھٹی

Syed Abul Hasan Ali Nadwi Academy - Islamabad Pakistan Contact Address:Nadwi Academy
PoBox 467,G 9 -Islamabad Pakistan

Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Office : H No 3, Street No 4, Umer Block H13, Khayaban-e/Faiz
Islamabad
44000