Noon Leak - Asim Yazeed

Noon Leak - Asim Yazeed

Share

مرشد۔۔۔ ہم ہار نہیں ماننے والے۔۔۔!

07/05/2026

یہ وسیم عباس ایکٹر کتنا بڑا بگیرت اور منا فک ہے کہ شہباز گل کو کہتا ہے کہ تمہارے پاس امریکہ کا گرین کارڈ ہے تو تم امریکہ کے خلاف اس کے مظالم پر ویڈیوز بناؤ

جبکہ دوسری طرف یہ جس جماعت کا پٹواری ہے اس کا وزیراعظم یعنی اردلی اسی ظالم امریکا کے صدر ٹرمپ کو ساری دنیا کے سامنے سلوٹ مارتا ہے اور اس کی ٹ پوشی کرتا ہے اور اس کو نوبل امن پرائز کے لیے نامزد بھی کرتا ہے ۔۔۔ لیکن یہ بے شرم منا فکڈ آدمی اپنے وزیراعظم کو نہیں کہے گا کہ ٹرمپ کے مظالم کے خلاف یا امریکہ کے خلاف ایک ٹویٹ کرو

بلکہ شہباز گل جیسے ایک غیر متعلقہ بندے سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ امریکہ یا ٹرمپ کے خلاف اور ان کے مظالم کے خلاف بات کرے ۔۔۔ اور اپنی اوقات یہ ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کی بھتیجی کے پیچھے قطے کی طرح یاؤں یاؤں کر رہا ہے

بندہ نیتن لیگ کا ہو اور منا فک اور قنجر نہ ہو ۔۔۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔!!

تحریر: عاشور بابا

07/05/2026

ایک پٹواری انکل کو غیرت آ گئی۔ شہباز شریف کی عزت افزائی 🤣

06/05/2026

فوج کے حوالے سے ایک دلچسپ معلومات شئیر کرتا چلوں؛

فوج میں جتنے بھی جونئیر کمیشنڈ یا نان کمیشنڈ عہدے ہیں، ان کے ٹائٹل اردو، فارسی یا سنسکرت زبان سے مستعار لیے گئے ہیں، جیسے؛

صوبیدار
حوالدار
نائیک
سپاہی

جبکہ کمیشنڈ آفیسر رینکس کے جتنے بھی ٹائٹل ہیں، وہ انگریزی الفاظ پر مبنی ہیں، جیسے،

کرنل
میجر
کیپٹن
لیفٹیننٹ
برگیڈئیر
جنرل

وغیرہ

اس کی وجوہات شائد برٹش آرمی کے دور میں ڈھونڈنی پڑیں گے۔ یعنی انگریزوں نے یہ تفریق شاید کسی خاص وجہ سے رکھی ہو

جو افراد اس بارے میں معلومات رکھتے ہوں، وہ کومنٹس میں ضرور شئیر کیجیے



شہزاد حسین

06/05/2026

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے جتنے بھی آپریشن ہوتے ہیں ان کے نام بنیان مرصوص یا ضرب عضب جیسے خالص اسلامی ہوتے ہیں.

جبکہ ان کے کاروبار خاص کر ہوٹلز وغیرہ کے نام خالص انگلش ہوتے ہیں.

محسن حدید

06/05/2026

عمران خان کے سیاسی مؤقف کی حمایت یا مخالفت اپنی جگہ، لیکن میں اسے اس کے لیڈرشپ رول اور اچیومنٹ کے حوالے سے بھی بے مثال سمجھتا ہوں۔ جو کچھ عمران خان نے حاصل کیا ہے، اس کی ماڈرن انسانی تاریخ میں مثال ملنا بھی محال ہے

انسانوں کی اچیومنٹس دنیا کے کسی ایک شعبے میں ہوتی ہیں۔ عمران خان نے تین (یا دو کہہ لیجیے) شعبوں میں جو کچھ اچیو کیا ہے، اس کی شاید ہی کوئی مثال موجود ہو یا آئندہ قائم کی جاسکے۔ ان کا ذکر کرتا چلوں

عمران خان نے بطور اسپورٹس مین، اپنے لیے اور ملک کے لیے، بلند ترین اعزاز حاصل کیا۔ وہ پاکستان کا واحد، ون ڈے ورلڈ کپ ونر کپتان ہے۔ لیکن یہ کوئی ایسی انہونی بات نہیں۔ دنیا میں بہت سے کھلاڑیوں نے اپنے ملک کے ورلڈ کپ جیت رکھے ہیں چاہے کرکٹ ہو، ہاکی، فٹبال یا دیگر اسپورٹس

لیکن،

ان سارے کھلاڑیوں کی زندگی کی یہ واحد اچیومنٹ رہی

عمران خان ورلڈ کپ جیت کر آگے اگلی منزل کی طرف بڑھ گیا

اس کے بعد اس نے اس وقت کا، پاکستان کا واحد کینسر ہسپتال قائم کرکے دکھایا جو ایک بہت بڑی اچیومنٹ تھی

دنیا بھر میں بہت سے لوگوں نے کینسر ہسپتال یا اس لیول کے ہیلتھ سسٹم بنائے ہوئے ہیں۔ کراچی میں واقع انڈس ہسپتال بھی ڈاکٹر باری کا ایک ناقابلِ یقین کارنامہ ہے

لیکن، جن لوگوں نے ورلڈ کلاس لیول کے ہسپتال بنائے، وہ ان کی زندگی کی واحد اچیومنٹ تھی۔ کینسر ہسپتال عمران خان کی واحد اچیومنٹ نہیں

ہسپتال قائم کرنے کے بعد عمران خان نے سیاست میں قدم رکھا اور 96 میں اپنی سیاسی پارٹی لانچ کی۔ 15 سال بعد وہ ایک صوبے میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگیا اور 22 سال بعد، وہ پاکستان کا وزیراعظم بن چکا تھا۔ یعنی پارلیمانی سیاست کی معراج حاصل کرلی۔ کتنی ہی پارٹیاں، کتنے ہی عشروں سے سیاست کررہی ہیں لیکن ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے سوا، کوئی اس مقام تک نہیں پہنچ سکا

وزیراعظم تو دنیا میں بہت آتے اور جاتے ہیں۔ لیکن دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو اسپورٹس ورلڈ کپ جیت چکے ہوں، عالمی معیار کا ہسپتال قائم کرچکے ہوں اور پھر کسی ملک کے وزیراعظم بن چکے ہوں؟

وزیراعظم بننے والوں کی اکثریت کی واحد اچیومنٹ، وزیراعظم بننا ہی ہوتی ہے۔ ان کی سیاسی اچیومنٹ پارلیمانی سیاست تک محدود ہوتی ہیں۔ وزیراعظم بننا، عمران خان کی واحد اچیومنٹ نہیں

وزارت عظمیٰ کے بعد اس نے اس میدان میں قدم رکھا، جسے دنیا کا سب سے خطرناک عمل سمجھا جاتا ہے یعنی رائج نظام کے خلاف آواز اٹھانا۔ اس پاداش میں اس کی حکومت ختم ہوئے 4 سال ہونے کو آئے۔ جیل قید میں وہ 1000 دنوں سے زائد گزار چکا ہے۔ اس پر پریشر ڈالنے واسطے اس کی بیوی کو بھی سال سے زائد عرصہ قید میں ہوچکا۔ نظام کے وفادار صحافی بارہا بیان دے چکے ہیں کہ خان صاحب نظام سے لڑنا چھوڑ کر صلح اور مفاہمت کا راستہ اپنائیں۔ اس کے مخالفین کتنا ہی کہیں کہ وہ اپنے کیسز کی وجہ سے جیل میں ہے (مخالفین نے یہی کہنا ہے، مجبوری ہے) لیکن پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ سیاستدان ڈٹے رہیں تو جیل جاتے ہیں، نواز شریف کی طرح ڈیل کرلیں تو کیسز کھڑے کھڑے ائیرپورٹ پر ہی خارج ہوجاتے ہیں۔

نظام سے جنگ لڑنا اور اس کے خلاف جیت جانا ناممکن کی حد تک مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک اس میدان میں کوئی کامیاب نہیں ہوسکا۔ لیکن عمران خان جس قسم کی مافوق الفطرت صلاحتیں اور قسمت لے کر پیدا ہوا ہے، اس نے اس مقابلے کو سنسنی خیز بنادیا ہے۔ جیت یا ہار اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن عمران خان کی ثابت قدمی نے اس نظام کا جو حال کیا ہے، وہ سارے ملک کے سامنے ہے۔

پاکستانیوں نے پہلی بار دیکھا کہ نظام کی حمایت یافتہ سیاستدانوں کی الیکشنز میں ضمانتیں ضبط ہوگئیں۔ الیکٹیبلز کی سیاست کا پہلی بار بھرکس نکل گیا۔ الیکشن سے کچھ دن پہلے نشان چھین لینے تک کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ لوگوں نے نشانات ڈھونڈ ڈھونڈ کر ووٹ کاسٹ کیے۔ بدترین دھاندلی بھی کسی کام نہ آسکی۔ آخرکار فارم 47 کا سہارا لینا پڑا جو پاکستان کی انتخابی سیاست میں گالی بن چکا ہے۔ اس کے بعد بھی نظام چلنے کی ضمانت نہ مل سکی تو شرمناک آئینی ترامیم کرکے، عدلیہ کھڈے لائن لگا کر نظام کو زندگی عطاء کی گئی۔ سارا بندوبست کرنے کے باوجود، معشیت کا برا حال ہے اور آئے روز ٹیکس میں اضافہ کیا جارہا ہے کہ نظام چلایا جاسکے۔

بہرحال،

بات کہیں اور نکل گئی۔۔۔۔۔۔

ورلڈ کپ، کینسر ہسپتال، وزارت عظمیٰ اور اب نظام کے خلاف ڈٹ جانا،

یہ تین چار ایسے شعبے یا میدان ہیں، کہ high achievers انسان کی اکثریت، کسی ایک ہی میدان میں ساری زندگی گزار دیتی ہے

میں نے ماڈرن تاریخ میں، عمران خان سے زیادہ high achiever لیڈر نہیں دیکھا۔ ایسا انسان دنیا میں آنا ممکن بھی نہیں جو اتنے میدانوں میں، معراج تک پہنچا ہو

عمران خان اگر اس نظام کے سانے، دیگر سیاسی لیڈران کی طرح سرنڈر کرگیا، یا اس نے ڈیل کرلی، تو اس کی لیڈرشپ کا سارا کرزما ضائع ہوجائے گا۔ عوام امید رکھتی ہے کہ عمران خان ہی اب اس نظام کو شکست دے گا۔ حالانکہ نظام کو شکست دینا ممکن نہیں۔ پر دیکھتے ہیں اس مقابلے کا نتیجہ کیا رہتا ہے

عمران خان بڑا سیاسی لیڈر ہے تو اس سے انتہائی نفرت کرنے والے بھی کم نہیں۔ ہر سیاسی لیڈر سے نفرت کرنے والے موجود ہوتے ہیں۔ عمران خان کے بھی مخالفین ہیں۔ یقیناً وہ اس پوسٹ پر بھی اعتراض کرنے لازمی آئیں گے۔ انھیں عمران خان کی سیاست پر اعتراض ہوگا۔ وہ بتائیں گے کہ عمران خان کو وزیراعظم بنانے واسطے اسٹیبلشمنٹ نے رول ادا کیا تھا۔ حالانکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے بے شمار وفادار موجود ہیں پر وہ کبھی وزیراعظم نہیں بن سکے۔ وہ کروڑوں ووٹ حاصل نہ کرسکے۔ ان کی الٹا ضمانتیں ضبط ہوگئیں۔ عوام نے انھیں ریجیکٹ کردیا۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور سپورٹ کے باوجود، ایک کامیاب جلسہ تک نہیں کرسکتے لیکن مخالفین لاجک کی بجائے، جذبات سے کام لینے والوں کا نام ہے۔ وہ یہ سب باتیں کہاں سوچتے ہیں

بہرحال

ممکن ہو تو اس پوسٹ کی سیاسی جہت کو اگنور کیجیے گا۔ یہ پوسٹ اچیومنٹس کے بارے میں ہے۔ میری ان سے گزارش ہے کہ آپ کسی ایسے hugh achiever کو جانتے ہوں، جس نے تین چار مختلف میدانوں میں "بلندی کی معراج" حاصل کر رکھی ہو، تو کومنٹس میں اس کا ذکر ضرور کیجیے گا۔ میں ضرور سننا چاہوں گا

عمران خان پاکستان کا فخر ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ یہ مشکل دور جب گزر جائے گا تو تاریخ میں اس کا ذکر بلند ہوگا۔ پاکستان کی دھرتی پر، عمران خان سے بڑا نام پیدا نہیں ہوا۔ اتنی جہتوں میں کمال حاصل کرنا، کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔ بطور پاکستانی مجھے فخر ہے، کہ عمران خان اس دھرتی کا سپوت ہے۔

پاکستان، ذندہ باد۔۔۔۔۔۔!!!!


شہزاد حسین

04/05/2026

اقرار الحسن نے سید ذیشان عزیز کا چیلنج قبول کیا اور سات منٹ کا ویلاگ بنا کر اپنے والد سید اسماعیل شاہ بخاری کے بارے میں وضاحت دینے کی ناکام کوشش کی ہے ۔

مگر میں نے وہ پورا ویلاگ دیکھا اور صاف نظر آیا کہ اقرار الحسن نے صرف یہ کہا کہ انہیں اپنے والد پر فخر ہے اور باقی وقت اپنا دکھڑا روتے رہے کہ والد کی وجہ سے مجھ پر توہین رسالت کا الزام لگا دیا گیا۔

اقرار الحسن صاحب عوام نے آپ سے جو سوالات پوچھے ہیں ان میں سے ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔

پہلا سوال

آپ نے خود ایک انٹرویو میں کہا کہ جب آپ چھٹی جماعت میں تھے تو آپ کے والد نے دوسری شادی کی اور پھر جرمنی چلے گئے۔ آپ نے کہا کہ آپ کو نہیں معلوم وہ کہاں رہتے ہیں کیا کرتے ہیں یا انہوں نے کتنی شادیاں کی ہیں۔  مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف دوسری شادی کی وجہ سے کوئی ملک چھوڑ کر جرمنی میں پناہ لیتا ہے؟ ملک چھوڑنے کی اصل وجہ کیا تھی وہ آپ نے آج تک نہیں بتائی۔

دوسرا سوال

آپ کے والد سید اسماعیل شاہ بخاری پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی شان میں گستاخی کے الزامات ہیں اور اس کی ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں۔  آپ کے والد پر 295C کی دفعات بھی درج ہیں۔ اگر یہ سب جھوٹے الزامات تھے تو آپ کے والد نے عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا اور پاکستان چھوڑ کر بھاگنے کو ترجیح کیوں دی؟

تیسرا سوال

آپ کی کمپنی Perfectum Pakistan کا واحد بیرون ملک دفتر جرمنی کے فرینکفرٹ میں ہے جہاں آپ کے والد مقیم ہیں۔  یہ محض اتفاق ہے یا آپ کے اور آپ کے والد کے درمیان کاروباری تعلق بھی ہے؟ اگر آپ کو اپنے والد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تو پھر جرمنی میں دفتر کیوں؟

چوتھا سوال

آپ نے خود ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ آپ نے اہم معاملات پر والد سے رابطہ کیا اور ان سے مشورہ لیا۔  جب آپ انہیں نہیں جانتے اور ان سے کوئی تعلق نہیں تو پھر مشورہ کس بات پر لیا گیا؟ یہ تضاد کیسے؟

پانچواں سوال

آپ کہتے ہیں آپ کو فخر ہے مگر برسوں میں ایک بار بھی والد سے ملاقات کا کوئی ویڈیو ثبوت سامنے نہیں آیا۔ جس باپ پر فخر ہو اس کے ساتھ ایک تصویر ایک مشترکہ ویڈیو بھی نہیں؟ یہ کیسا فخر ہے جو چھپ کر ہو؟

چھٹا سوال

آپ کے والد کا تعلق اہل تشیع مکتب فکر سے ہے اور وہ ایک مذہبی مقرر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔  اگر آپ واقعی ان کی سوچ اور عقائد سے الگ ہیں تو آپ نے کبھی عوامی سطح پر اپنے والد کے ان مبینہ بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کیوں نہیں کیا؟

ساتواں سوال

آپ نے پاسپورٹ شناختی کارڈ اور اسناد دکھا کر والد کا نام ثابت کیا مگر کسی نے آپ کی والدیت پر سوال نہیں اٹھایا۔ عوام آپ کے والد کے مبینہ کارناموں کے بارے میں حقائق جاننا چاہتی ہے جو زبان زد عام ہیں۔

آخری بات

آپ سر عام جیسے پروگراموں میں دوسروں کی ایک ایک بات کا حساب مانگتے ہیں اور قانون کی گرفت سے کوئی بچ نہ سکے یہ آپ کا نعرہ رہا ہے۔ مگر جب اپنے والد کے بارے میں صفائی دینے کا وقت آیا تو آپ نے ایک سوال کا بھی جواب نہیں دیا۔ اگر آپ کے والد واقعی بے قصور ہیں تو ایک بیٹے کا حق اور فرض بنتا ہے کہ وہ باپ پر لگائے گئے الزامات کا قانونی مقابلہ کرے انہیں نظرانداز کرنا کوئی جواب نہیں ہوتا۔

اقرار الحسن صاحب امید ہے آپ ان سوالات کا جواب ضرور دیں گے​​​​​​​​​​​​​​​​ دوستوں سے اپیل ہے کہ ان سوالات کو اقرار الحسن تک پہنچا دیں

03/05/2026

‏آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی کی بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے ساتھ مل کر لکھی گئی کتاب میں ایبٹ آباد آپریشن پر بھی گفتگو کی گئی ہے اور جنرل اسد درانی نے آئی ایس آئی کے ایک افسر کرنل اقبال کے بارے میں لکھا ہے کہ اس نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت میں انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا ’’ کرنل اقبال نے 5 کروڑ ڈالر(تقریباً5ارب روپے) لے کر امریکی کمانڈوز کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ تک پہنچایا تھا، اب کرنل سعید امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سین ڈیاگو میں رہائش پذیر ہے۔
یہ شخص اس "میجر شہریار اقبال" کا والد ہے جو پرویزمشرف کا سٹاف آفیسر اور بزنس پارٹنر ہے۔
یہ دونوں مل کر دبئی میں ایک پرائیویٹ ہسپتال چلا رہے ہیں اور اس ہسپتال میں شرما نامی بھارتی ڈاکٹر بھی شراکت دار ہے۔‘‘

اسی کرنل کے بارے میں ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ میں بھی گواہی موجود ہے جو میجر عامر عزیز نے دی۔

ڈان نیوز کے مطابق میجر عامر عزیز نے ایبٹ آباد کمیشن کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا تھا کہ ’’لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) سعید اقبال دو سے تین بار میرے گھر آئے تھے جو اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ کے قریب ہی واقع تھا۔

کرنل سعید مجھ سے بظاہر میری زمین خریدنا چاہتے تھے تاہم زمین کی خریداری کا معاملہ انجام کو نہ پہنچ سکا۔
کرنل سعید انتہائی مہنگی گاڑی پر میرے پاس آتے تھے جس کی قیمت تین سے چار کروڑ روپے ہو گی۔
یہ گاڑی ساؤنڈ پروف اور بلٹ پروف تھی۔
کوئی ریٹائرڈ کرنل اتنی مہنگی گاڑی کی استطاعت نہیں رکھ سکتا۔
ایک بار کرنل سعید اقبال میرے گھر کی چھت پر بھی گئے اور میرے پالتوں جانوروں کی تصاویر بنائیں۔
میں نہیں جانتا کہ اس دوران انہوں نے اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ کی تصاویر بھی بنائی تھیں یا نہیں۔
ان کے پاس جدید ترین ڈیجیٹل کیمرا تھا جو کوئی بھی شخص محض جانوروں کی تصاویر بنانے کے لیے نہیں رکھ سکتا۔

کرنل سعید کا ایک بیٹا سابق صدر پرویز مشرف کا اے ڈی سی بھی تھا اور اب ان کے پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر کام کر رہا ہے۔‘‘ ایبٹ آباد کمیشن کے اراکین نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’’میجر عزیز کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں سی آئی اے کا نیٹ ورک کیسے کام کر رہا ہے۔
میجر عزیز کے مطابق کرنل سعید اقبال نے آئی ایس آئی کے سابق اہلکاروں کو اپنے سکیورٹی بزنس میں بھی بھرتی کیا۔
ان کے بیان سے کرنل سعید ایک انتہائی مشکوک شخص کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے اسامہ بن لادن کی موت میں اہم اور متحرک کردار ادا کیا۔
ایبٹ آباد کا واقعہ ہونے کے فوری بعد کرنل سعید اقبال پاکستان چھوڑ کر امریکہ منتقل ہو گیا تھا۔

02/05/2026

اخلاقیات - پی ٹی آئی ورسز نیتن لیگ

پی ٹی آئی کے متعلق ہمیشہ جھوٹ اور پروپیگنڈا کیا گیا لیکن آپ جب بھی حقیقت کھوجنے جائیں گے تو آپ کو ہمیشہ مختلف تجربہ حاصل ہو گا۔ ابھی کل ہی کے دو واقعات سن لیں، باقی تفصیلی تجزیہ پھر کسی دن پیش کروں گا

نیتن لیگی پٹواری وسیم عباس نے نوازشریف کی تعریف کی تو عوام نے ان پر تنقید شروع کر دی۔ اب پھر وہی دماغی خناس اور ازلی جہالت کہ بجائے عوامی تنقید کو ایڈریس کرنے کے، کم عقل پٹواری وسیم عباس نے یوٹیوبرز پر چڑھائی کر دی کہ ان کی وجہ سے عمران خان جیل میں ہے اور خاص طور پر شہباز گِل کو بے تکی سنا ڈالی۔ جس پر شہباز گِل نے وسیم عباس کے اعتراضات کا تفصیلی جواب دیا، پھر وسیم عباس نے ایک ویڈیو بنائی جس پر عوام نے پھر اس پر شدید تنقید کی، اس دفعہ وسیم عباس نے براہ راست شہباز گِل کے خلاف ایک ویڈیو بنائی اور شدید برا بھلا کہا

آج شہباز گِل نے اس کا جواب دیا اور آپ حیران رہ جائیں گے کہ کیا جواب دیا

سب سے پہلے شہباز گِل نے وسیم عباس کا اپنے متعلق سارا بیان من و عن اپنے چینل سے پیش کیا اور کہا کہ چونکہ وسیم عباس کے پاس زیادہ ریچ نہیں ہے تو میں نے ان کا یہ بیان اپنے چینل سے چلایا ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک یہ پہنچ جائے۔ اور رہی بات جواب کی تو میں کہنا چاہوں گا کہ پچھلا بیان ان کا سیاسی تھا جس پر میں نے جواب دیا تھا، وہ بات سیاست سے متعلق تھی، لیکن یہ موجودہ بیان چونکہ میری ذات کے متعلق ہے تو اس پر میں کوئی جواب نہیں دوں گا، ان کو حق ہے کہ وہ جو چاہے بات کریں، میں یہ عوام پر چھوڑتا ہوں کہ وہ کس کو صحیح سمجھتے ہیں اور کس کو غلط۔ اور ساتھ عوام سے یہ اپیل کی کہ پلیز کوئی گالم گلوچ نہ کرے۔

دوسرا واقعہ:

یہ معتبر صحافی ایثار رانا اور ایک نیتین لیگ کے اعلیٰ لیڈر کے درمیان مکالمہ ہے، میں نیتین لیگ کے اس gandi naali k keeray کا نام بھی لکھنا پسند نہیں کروں گا، اس کو ہم "چمونہ" کا نام دے دیتے ہیں۔ ایثار رانا کی تنقید کے جواب میں اس چمونے نے کئی گالیوں والی ویڈیوز بنائی اور باقاعدہ ایثار رانا کو ماں بہن کی گالیاں دے ڈالیں۔ اس کے جواب میں ایثار رانا نے اپنی ویڈیو میں یہ کہہ کر جواب نہیں دیا کہ آپ کی بات سیاسی ہوتی تو میں جواب دیتا لیکن ماں بہن کی گالیوں کے جواب میں بس اتنا ہی کہتا ہوں کہ آپ کی ماں میری ماں اور آپ کی بہن میری بہن ہے۔

یہ صرف پچھلے چوبیس گھنٹے کے دو واقعات ہیں، اندازہ کریں کہ شہباز گِل جو کہ پی ٹی آئی کے لیڈر ہیں، اور ایثار رانا جن کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں لیکن وہ بطور صحافی عمران خان اور انسانی حقوق کے متعلق ہمیشہ آواز بلند کرتے ہیں، انہوں نے نیتن لیگ کے چمونوں کو کیسا شائستگی اور اخلاقیات سے بھرا جواب دیا ہے۔

جبکہ دوسری طرف نیتین لیگ جس کی پیدائش ہی فوجی نرسری میں ہوئی اور اب ایک قطرنڈی کے نرغے میں ہے جو اپنے باپ اور چاچا کے ساتھ بیٹھ کر کہتی ہے کہ میرے پاس لوگوں کی گندی ویڈیوز ہیں، اور باپ چاچا بھی وہ جو ایک دلے ہاراں والے کی نسل سے ہیں، خود اندازہ کریں کہ یہ لوگ کس gandi naali k keeray ہیں۔

یہ ہے دونوں جماعتوں کے اخلاقیات کا تقابل، میڈیا لاکھ پروپیگنڈا کرے لیکن سچ یہی ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے ہمیشہ چور کو چور کہا جس کے جواب میں پروپیگنڈا کیا جاتا تھا کہ پی ٹی آئی والے گالیاں دیتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نیتین لیگ ایک اخلاق باختہ کلٹ ہے، جس نے پاکستان کی پوری سیاسی اور سماجی تاریخ کو تباہ کر دیا ہوا ہے۔۔۔۔!!

تحریر: عاشور بابا

02/05/2026

‏کتاب کا نام ہے، غدار کون؟ “نواز شریف کی کہانی، نواز شریف کی زبانی”اور مصنف کا نام ہے سہیل وڑائچ، اس کتاب پر فورا پابندی لگنی چاہئے ورنہ لوگ پڑھ کر مس لیڈ ہونگے

اگر اُسوقت پیکا ایکٹ ہوتا تو کیا نواز شریف پر اسکا اطلاق ہو سکتا تھا؟ ذرا ملاحظہ کریں، اس کتاب میں کیسے الفاظ کا استعمال ہوا ہے؟

نواز شریف فرماتے ہیں، اس طرح کے جرنیلوں کا کیا بھروسا؟ یہ تو ماضی میں بھی سیاستدانوں کو مروانے آۓ ہیں؟ اور آئندہ بھی یہی کام کریں گے، ان جرنیلوں نے تو کبھی کسی قانون یا آئین کی پرواہ نہیں کی، انہوں نے تو جسکو چاہا مروایا دیا، جس کو چاہا پکڑ لیا، جیل میں بند کر دیا، ملک بدر کر دیا، ان کے خلاف آرٹیکل 6 لگنا چاہیے، اور اب مثال قائم کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ یہ ملک نہیں چلے گا، اور نہ دنیا میں کبھی ترقی کرے گا بلکہ ہم پستی سے پستی کی طرف چلتے جائیں گے، اگر ہم نے انکو چھوڑ دیا،

اور ہاں اس کتاب کے مطابق آپ کو کلثوم نواز کی بہادری “12 گھنٹے گاڑی میں بیٹھے رہنا سے پتہ چلی” اُنکے گھر سے باہر نکلنے سے ہوئ،

لیکن آج علیمہ خان اڈیالہ کے باہر پچھلے ایک سال سے ہر منگل کو 12 گھنٹے سڑک پر گزارتی ہیں، سردی کی یخ راتوں میں پریشر سے پانی پھینکا گیا، آنسو گیس بھی ماری گئی، دھکے بھی دئیے گئے، بار بار اُٹھا کر چکری پھینکا گیا لیکن ڈٹی ہوئ ہیں، اور عمران خان کی اہلیہ پچھلے ایک سال سے قید میں ہیں، فیملی سے ملاقات مہینوں بعد ہوتی ہے، ایک آنکھ خراب ہو چکی ہے،

نواز شریف صاحب آپ سے اقتدار چلا جاۓ تو آپ جرنیلوں پر “غدار کون؟ کتاب لکھتے ہیں، اور اگر اقتدار مل جاۓ تو لندن اور جاتی اُمرا میں انجواۓ کرتے ہیں، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ سہیل وڑائچ کو بھی آپکا کھلا تضاد نظر نہ آیا

نواز شریف صاحب آپ جیل میں ٹوٹل ڈیڑھ سال رہے ہیں، جبکہ عمران خان کو تین سال ہونے والے ہیں، آپ کو علاج کیلئے لندن بھیجا جاتا تھا، جبکہ عمران خان کے علاج کا کسی کو نہیں پتہ، سُنا ہے کہ ایک آنکھ بھی تقریباً ضائع ہو چکی ہے

اب قوم کو پتہ چل چکا ہے کہ اس ملک کے اصل غدار کون ہیں

02/05/2026

تیل اسمگلنگ میں ادارے خود ملوث اور عوام کو چونا لگا رہے

01/05/2026

نہ کوئی ڈیل ۔۔۔ نہ کوئی سرنڈر ۔۔۔ صرف مزاحمت ✊

بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا عمران خان نے مجھے ملاقات میں جو کہا وہ میں عدالت کے سامنے لفظ بلفظ بیان کر رہا ہوں۔ عمران خان نے کہا کہ اُنہیں 22 گھنٹے تک قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہاں تک کہ کوئی میرے سلام کا بھی جواب تک نہیں دیتا، بشریٰ بی بی کو چوبیس چوبیس گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔

ذرا اندازہ کیجیے، ایک سیاسی قیدی پر کس قدر ظلم کیا جا رہا ہے، ایسا ظلم پاکستان کی تاریخ میں کسی پر نہیں کیا گیا۔ اور ہمیشیہ یاد رکھیں کہ یہ ظلم ایک آمر ، ایک ڈکٹیٹر فوجی جرنیل کے براہ راست حکم پر کیا جا رہا ہے۔ بشریٰ بی بی ایک غیر سیاسی عورت ہے، جس کا حکومتی معاملات سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن یہ ظلم صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تا کہ وہ عمران خان کو توڑ سکیں۔ زعم تو یہ تھا کہ وہ ایک رات بھی جیل میں نہ گزار سکے گا اور اب پریشانی یہ ہے کہ وہ نڈھال ہو کر بھی سرنڈر نہیں کر رہا۔

عمران خان مرشد کی یہ مزاحمت اسلامی تاریخ میں بڑے بڑے صالحین کے ساتھ لکھی جائے گی انشاءاللہ ۔۔ ظلم کا کیا ہے، ظلم تو شیطان کی طرف سے ہے اور ظالم کا کوئی خدا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ لیکن مزاحمت تو بغیر اللہ کی مدد اور نصرت کے ہو ہی نہیں سکتی۔ جب تک ایمان ہی کامل نہ ہو ۔۔۔ کوئی مزاحمت نہیں کر سکتا۔ عمران خان عزم و استقلال کا نام تو تھا ہی لیکن مزاحمت کا نشان بھی بن چکا ہے۔

نہ کوئی ڈیل ۔۔۔ نہ کوئی سرنڈر ۔۔۔ صرف مزاحمت ✊

تحریر: عاشور بابا

Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Islamabad