Online Quran Madrasah

Online Quran Madrasah

Share

Add 1-2 sentences to describe Online Quran Madrasah to help people understand what you offer.

26/04/2026

"خوشخبری ہے؛ اس شخص کیلئے، جِس کو اُس کے اپنے عیبوں نے لوگوں کے عیوب سے غافل کر رکھا ہے، اور تباہی ہے؛
اُس شخص کیلئے، جو اپنے عیبوں کو بھول کر لوگوں کے عیوب ٹٹولتا پھرتا ہے!"
امام ابنِ القيم رحمه اللہ
(مفتاح دار السعادة : 298/1)

25/04/2026

تاریخ دانوں نے روایت کیا ہے کہ عمر بن خطابؓ، جنہیں ان کی سختی اور قوت کے لیے جانا جاتا ہے، ایک دن مدینہ میں لوگوں کے لیے کھانے کے دسترخوان لگا رہے تھے۔ انہوں نے ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے کھاتے ہوئے دیکھا، تو پیچھے سے آ کر کہا:

"اے عبداللہ! دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔"
اس شخص نے جواب دیا: "اے عبداللہ! میرا دایاں ہاتھ مصروف ہے۔"
عمرؓ نے دوبارہ یہی بات کہی۔
شخص نے پھر وہی جواب دیا۔
عمرؓ نے پوچھا: "اسے کیا مصروفیت ہے؟"
تو اس نے جواب دیا: "یہ ہاتھ غزوۂ مؤتہ میں زخمی ہوا تھا، اب حرکت نہیں کرتا۔"

یہ سن کر عمرؓ اس کے پاس بیٹھ گئے اور رونے لگے، اور سوالات کرنے لگے:

"تجھے وضو کون کراتا ہے؟
تیرے کپڑے کون دھوتا ہے؟
تیرا سر کون دھوتا ہے؟
اور۔۔۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔؟"

اور ہر سوال کے ساتھ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
پھر انہوں نے اس کے لیے ایک خادم، ایک سواری اور کھانے کا بندوبست کیا، اور اس سے معذرت کرنے لگے کہ انہوں نے نادانستہ طور پر ایسی بات کہہ دی جو اسے تکلیف دے گئی۔

اسی طرح قوانین بنتے ہیں...

عمرؓ رات کو مدینے کی گلیوں میں گشت کرتے تھے، نہ کہ رعایا پر نظر رکھنے کے لیے، بلکہ ان کے حالات جاننے کے لیے۔

ایک رات انہوں نے ایک دیہاتی عورت کو اپنے شوہر کی یاد میں اشعار پڑھتے سنا:

"طویل ہو گیا ہے یہ رات، اور اس کا اندھیرا بڑھ گیا ہے
مجھے نیند نہیں آتی کہ میرا محبوب میرے ساتھ نہیں
اگر نہ ہوتی وہ ذات جس کا عرش آسمانوں پر ہے
تو یہ بستر میرے ہجر کی شدت سے ہل گیا ہوتا"

امیر المؤمنین قریب آئے، سنا، اور پھر دروازے کے پیچھے سے پوچھا:
"اے بہن! کیا ہوا؟"

عورت نے جواب دیا:
"میرے شوہر کئی مہینوں سے جہاد کے لیے گئے ہوئے ہیں، میں انہیں یاد کرتی ہوں۔"

عمرؓ فوراً اپنی بیٹی حفصہؓ کے پاس گئے اور پوچھا:
"عورت اپنے شوہر کی جدائی کتنے عرصے برداشت کر سکتی ہے؟"

بیٹی شرما گئی اور سر جھکا لیا، تو عمرؓ نے عاجزی سے کہا:
"اللہ حق کہنے سے نہیں شرماتا، اگر یہ سوال رعایا کے معاملے کے لیے نہ ہوتا تو میں نہ پوچھتا۔"

حفصہؓ نے جواب دیا:
"چار، پانچ یا چھ مہینے۔"

عمرؓ واپس گئے اور تمام فوجی کمانڈروں کو لکھا:
"فوجوں کو چار ماہ سے زیادہ نہ روکا جائے۔"

یوں عورت کے ایک فطری حق کی بنیاد پر ایک قانون بنا۔
یہ قانون ریاست نے نہیں، بلکہ معاشرے (ایک دیہاتی عورت اور حفصہؓ) نے تشکیل دیا۔ ریاست نے صرف اسے نافذ کیا۔

اسی طرح عورت کا قانون تشکیل پایا۔

ایک رات عمرؓ گشت پر تھے تو ایک بچے کی رونے کی آواز سنی۔ قریب گئے اور پوچھا:
"کیا ہوا بچے کو؟"

ماں نے کہا:
"میں اسے دودھ چھڑوا رہی ہوں، اس لیے رو رہا ہے۔"

ظاہر ہے، یہ عام بات تھی۔ لیکن عمرؓ نے اس سے بات چیت کی تو معلوم ہوا کہ وہ عورت صرف اس لیے بچے کو وقت سے پہلے دودھ چھڑا رہی ہے تاکہ بیت المال سے ملنے والے سو درہم حاصل کر سکے، جو صرف دودھ چھڑانے کے بعد دیے جاتے تھے۔

عمرؓ گھر واپس گئے، مگر نیند نہ آئی۔ اس بچے کی سسکیوں نے دل کو جھنجھوڑ دیا تھا۔
انہوں نے فوراً حکم جاری کیا:
"بچے کو پیدائش کے وقت ہی سے سو درہم دیے جائیں، نہ کہ دودھ چھڑانے کے بعد۔"

یوں بچوں کے لیے قانون بنا جو ان کی مناسب غذا اور صحت کا ضامن بن گیا۔
اگر عمرؓ اس عورت سے گفتگو نہ کرتے تو یہ قانون نہ بنتا۔

یوں بچے کا قانون بھی تشکیل پایا۔

عمرؓ کو اپنے بھائی زید سے محبت تھی، جو حروبِ ارتداد میں شہید ہو گئے تھے۔
ایک دن بازار میں عمرؓ کی ملاقات زید کے قاتل سے ہوئی، جو اب مسلمان ہو چکا تھا۔

عمرؓ نے غصے سے کہا:
"اللہ کی قسم! میں تجھ سے اتنی نفرت کرتا ہوں جتنا زمین بہتے ہوئے خون سے کرتی ہے!"

اعرابی نے پوچھا:
"کیا اس نفرت سے میرے حقوق متاثر ہوں گے، اے امیر المؤمنین؟"

عمرؓ نے کہا:
"نہیں۔"

تو اعرابی نے بے پروائی سے کہا:
"محبت کا غم تو عورتیں کرتی ہیں۔"
(یعنی مجھے تمہاری محبت کی پروا نہیں، میرے اور تمہارے درمیان صرف حقوق اور فرائض کا رشتہ ہے)

عمرؓ نے غصے کے باوجود نہ اسے جیل بھیجا، نہ سزا دی۔
اس کی آزادی رائے کا احترام کیا۔

یوں معاشرے میں آزادیِ اظہار کا قانون بنا۔

ایک عورت نے ایک جمعے کے خطبے کے دوران کہا:
"اے عمر! تم غلطی پر ہو۔"

یہ اس وقت ہوا جب عمرؓ نے مہر کی حد مقرر کرنے کا قانون تجویز کیا۔
وہ عورت عام تھی، مگر اس کی دلیل درست تھی۔

عمرؓ نے نہ اسے گرفتار کیا، نہ سزا دی، نہ شرمندہ کیا، بلکہ علی الاعلان کہا:
"عمر غلطی پر تھا، اور عورت نے درست کہا۔"

اور اس قانون کو واپس لے لیا۔
یوں مہر کی مقدار کا فیصلہ معاشرے پر چھوڑ دیا گیا۔

یوں قوانین بنتے ہیں۔۔۔ معاشرے کی ضرورت، خواہش، روایت، اور فطری تقاضوں سے۔

قانون نہ ایوان اقتدار میں بنتے ہیں، نہ محلات میں، بلکہ لوگوں کی نبض پر ہاتھ رکھ کر، ان کی حالت سن کر، ان سے سیکھ کر۔
اصل قانون ساز معاشرہ ہے،؛ اقتدار
نہیں۔

فاطمہ۔ قمر۔ کے قلم سے

25/04/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا چاہیئے، ایک اس آدمی پر جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور وہ اس میں سے رات دن (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتا ہے، دوسرا اس آدمی پر جس کو اللہ تعالیٰ نے علم قرآن دیا اور وہ رات دن اس کا حق ادا کرتا ہے.
سنن الترمذي : 1936

24/04/2026

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا: رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجنا گناہوں کو اس سے بھی بڑھ کر مٹانے والا ہے جتنا ٹھنڈا پانی آگ کو بجھانے والا ہے..!
(ابن الجوزی، بستان الواعظین، ص 306)
[ترجمانی: طاہر اسلام عسکری]

24/04/2026

رسول اللہ ﷺ ایک ایسے درخت کے پاس سے گزرے جس کی پتیاں سوکھ گئی تھیں، آپ نے اس پر اپنی چھڑی ماری تو پتیاں جھڑ پڑیں اور فرمایا:
الْحَمْدَ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ
کہنے سے بندے کے گناہ ایسے ہی جھڑ جاتے ہیں جیسے اس درخت کی پتیاں جھڑ گئیں.
(سنن الترمذي: 3533)

22/04/2026

‏حضرت ابوقتادہ ؓ نے اپنے ایک قرض دار کو تلاش کیا تو وہ اُن سے چھپ گیا، پھر (بعد میں) اُنہوں نے اُسے پا لیا، تو اُس شخص نے کہا: میں تنگدست ہوں (ادائیگی سے عاجز ہوں). اس پر ابوقتادہ ؓ نے پوچھا: کیا الله کی قسم؟ اُس شخص نے جواب دیا: الله کی قسم!

ابوقتادہ ؓ نے کہا: میں نے رسول الله ﷺ سے سنا تھا، آپ ﷺ فرما رہے تھے:

"جس شخص کو یہ پسند ہو کہ الله اُسے روز قیامت کی سختیوں سے نجات دے دے، تو وہ تنگدست کو سہولت دے، یا اُسے (قرض) معاف کر دے."

مسلم 4000
(مشکوٰۃ المصابيح 2902، 2903)

22/04/2026

حضرت حکیم الا مت اشرف علی تھانوی کے ایک مرید تھے، انھوں نے ایک دفعہ حضرت تھانوی کے پاس خط لکھا کہ حضرت! میرے اندر غصہ بہت زیادہ ہے، میں یہ چاہتا ہوں کہ میری اصلاح ہوجائے: لہذا اس کے لئے کوئی نسخہ تجویز فرمادیں۔ وہ صاحب لکھنؤ سےقریب رہنے والے تھے، حضرت نے ان کو جواب لکھا کہ لکھنو میں میرے خلیفہ فلاں حکیم صاحب ریتے ہیں، فلاں جگہ پر ان کا مطب، کلینک ہے، تم ان سے اجازت لے کر ان کے پاس بیٹھ جایا کرو ، وہ تو اپنے کام میں مشغول رہیں گے، لیکن تم ان کے پاس جاکر بیٹھ جایا کرو اور یہ بھی لکھا کہ پندرہ دن تک بیٹھنے کے بعد مجھے خط لکھنا کہ کیا اثر ہوا ؟ چنانچہ وہ صاحب پتہ تلاش کرتے ہوئے حکیم صاحب کے کلینک پہ پہنچ گئے، اور ان سے اجازت لیکر ان کے پاس بیٹھ گئے۔ وہ حکیم صاحب تو اپنے کام میں مشغول رہتے، بیماروں کی نبض دیکھتے، اور دوائیاں تجویز کرتے تھے۔ اور یہ صاحب ان کے پاس بیٹھے رہتے تھے، پندرہ دن بعد انھوں نے حضرت تھانوی کو خط لکھا کہ اللہ کا فضل ہے کہ غصہ بلکل کافور ہوگیا، انھوں نے اسی کے ساتھ یہ بھی لکھا کہ حضرت! غصہ تو میرا کافور ہوگیا ، لیکن ایک سوال ذہن میں آگیا ہے کہ حکیم صاحب نے نہ مجھے کچھ کہا اور نہ میں نے ان سے کچھ کہا، صرف ان کے پاس بیٹھنے سے میرا غصہ کیسے ختم ہوگیا ؟ یہ فلسفہ میری سمجھ میں نہیں آیا حضرت کے پاس خط آیا تو اس کا جواب لکھا کہ جی, نہ انہوں نے کچھ کہا اور نہ تم نے کچھ پوچھا ، لیکن ان کے دل میں جو حلم کا مادہ ہے، صحبت کی تاثیر سے وہ منتقل ہوکر تمہارے دل میں آگیا - اللہ اکبر! یہ ہے تاثیر صحبت اولیاء کی - نیک لوگوں کی مصاحبت و مجالست بہت ضروری ہے، مجالست ایک بڑا ذریعہ ہے اللہ کی معرفت کو پانے کا، اللہ کی محبت کو پانے کا - اللہ تعالی ہم سب کو نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنےکی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العلمین۔
مفتی محمد امجد مردانوی

راقتنی فنقلتہا

22/04/2026

حج کا موسم آ گیا ہے، حجاج کرام اپنے اپنے سفر کی تیاریوں میں مصروف ہیں، استاد محترم مفتی شفیق الرحمان صاحب دام ظلہ نے پچھلے سالوں ایک نشست میں فرمایا کہ حجاج کرام کچھ باتوں کا اپنی تیاریوں میں اضافہ کر لیں۔

* ایسا نہ ہو کہ آپ حج پر جائیں اور یہاں کی ادائیگیاں رہتی ہوں، سبزی والا دودھ والا گوشت والا دوکان والا آپکی تلاش میں نکلے اور اسے خبر ہو کہ کہ آپ حج پر ہیں تو اسکے دل سے دعا نہیں آہ نکلے گی۔

* کم از کم جنکے معاملات آپکے ذمے ہوں انہیں خبر ہو کہ آپ حج پر جا رہے ہیں اور واپس آ کر معاملات کلئیر کر دیں گے۔

* اپنی نماز کسی بھی مستند عالم دین کو سنا کر انسے غلطیوں کی اصلاح کروا کر جائیں۔

* خصوصا وہاں ہر نماز میں کئی کئی جنازے ہوتے ہیں، جنازے کی نماز مع دعا یاد کر کے جائیں۔

* عموما ہمارے حجاج حج تمتع کرتے ہیں، تو انکے سفر کا جو پہلا عمرہ ہے وہ حج تمتع کا حصہ ہے، اسے بہتر سے بہتر انداز میں ادا کرنے کی کوشش کریں۔

* نمازیں جماعت کے ساتھ پڑھنے کا معمول بنائیں، راتوں کو بازار میں فالتو گھومنے سے پرہیز کریں تاکہ صبح تازہ دم ہو کر حرم حاضری کی توفیق مل سکے۔

* حج سے واپسی پر حج کے دوران آنے والی مشکلات کا ذکر کسی سے نہ کریں، بلکہ ایسا ذکر خیر ہو کہ سننے والے کے دل میں بھی اشتیاق ہو اور اگلے سال وہ حج کی نیت کر لے۔

* حج نام ہے مشقت کا، اللہ سے ہر قدم پر اپنے لئے آسانیاں مانگیں، مشقتوں کا خندہ پیشانی اور صبر کے ساتھ سامنا کریں۔

* وقوف عرفہ کے دوران تعلق صرف اپنے اللہ سے جوڑ لیں، عرفات کو صرف دعاوں کے لئے خاص رکھیں۔

اللہ پاک ہم سب کو حج مبرور عطا فرمائیں، حجاج کرام کو آسانیاں اور راحتیں نصیب فرمائیں۔ اللہم آمین

مصعب شبیر گگن

20/04/2026

رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
”اندھیرے میں چل کر مسجد آنے والوں کو قیامت کے دن کامل نور ( بھرپور اجالے ) کی بشارت دے دو“۔
سنن ترمذی: 223

17/04/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب میری امت مغرورانہ چال چلے گی اور بادشاہوں کے بیٹے فارس (ایران)اورروم (یورپ)کے لوگ، ان کی خدمت کریں گے تب بدترین لوگ بہترین لوگوں پر مسلط کر دیئے جائیں گے۔
صحيح البخاري: (5451) .

13/04/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جو شخص اپنے بھائی کی عزت (اس کی غیر موجودگی میں) بچائے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے کو جہنم سے بچائے گا۔
سنن الترمذی:1931

12/04/2026

حضرت اسماء بن عمیس ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جعفر ؓ کی اولاد کو بہت جلد نظر لگ جاتی ہے ، کیا میں انہیں دم کراؤں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، کیونکہ اگر تقدیر پر کوئی چیز غالب ہوتی تو اس پر نظر غالب آتی ۔‘‘
(مسند احمد، سنن ترمذی و ابن ماجہ)

Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address

Islamabad
Islamabad
44000