سرِ لامکاں سے طلب ہوئی
سوئے منتہی وہ چلے نبی
کوئی حد نہ ان کے عروج کی
بلغ العلیٰ بکمالہ
یہی ابتداء یہی انتہا
یہ فروغِ جلوہ حق نما
کہ جہان سارا چمک اٹھا
کشف الدجیٰ بجمالہ
رُخ مصطفیٰ کی یہ روشنی
یہ تجلیوں کی ہماہمی
کہ ہر ایک چیز چمک اٹھی
کشف الدجیٰ بجمالہ
وہ سراپا رحمتِ کبریا
کہ ہر اک پہ جن کا کرم ہوا
یہ کلامِ پاک ہے برملا
حسنّت جمیع خصالہ
یہ کمالِ خُلق محمدی
کہ ہر اک پہ چشمِ کرم رہی
سرِ حشر نعرہ اُمتی
حسنّت جمیع خصالہ
وہی حق نگر وہی حق نما
رُخ مصطفیٰ ہے وہ آئینہ
کہ خدائے پاک نے خود کہا
صلواعلیہ وآلہ
مرادین عنبرِ وارثی بخدا ہے عشقِ محمدی
مرا ذکر و فکر ہے بس یہی
صلواعلیہ وآلہ
Meo News
We are publishing a news paper for latest news and create awareness in people with present condition and we will provide a new platform for people.
ہوشیار باش
میرے نام سے کوئی فرینڈ ریکوسٹ آئے تو اس کو اوکے ناکریں
فراڈ مافیا سرگرم ہے
اور کسی کو میرے نام پر پیسہ نادیں
19/10/2024
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: پانچ قسم کے لوگوں سے بچو
حافظ نعیم الرحمن صاحب اگر انہیں بیان کردہ مقاصد کے لیے نکلے ہیں تو پاکستانی قوم کو ان کے ساتھ ضرور کھڑے ہونا چاہیے وگرنہ بہت دیر ہو جائے گی
09/07/2024
الحمد للّٰہ۔۔۔
انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز اینڈ شریعہ ایم واۓ یونی ورسٹی کے ایم فل سکالر سید افتخار حسین شاہ کا کامیاب ڈیفنس ہوا جس کی صدارت ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر حافظ محسن ضیا قاضی نے کی، ڈین سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر محمد منیر صاحب، ایکسٹرنل ایگزیمینر ڈاکٹر کلثوم فاطمہ اسسٹنٹ پروفیسر نسٹ(NUST )یونی ورسٹی اسلام آباد، انٹرنل ایگزیمینر ڈاکٹر عبد السمیع جیسر کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر نجم الدین کوکب ہاشمی، ڈاکٹر بشری فرقان، ڈاکٹر حافظ محمد رمضان، محمد ذاکر، محبوب الرحمن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر کیو او سی مس ثانیہ اور طلباء وطالبات نے شرکت کی۔ اس کامیابی کی خوشی میں انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز اینڈ شریعہ نے اپنی طرف سے مہمانوں کے اکرام میں پر تکلف ضیافت کا کیفے ٹیریاء میں اہتمام کیا۔ اللہم زد فزد آمین
جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر حسین عسکری اور ایس رحمان نے تحقیق کی کہ اسلامی ممالک کیسے اسلامی ہیں۔ اسلام میں ریاست اور معاشرے کے قوانین پر عمل کرنے والے ممالک کو تلاش کرنے سے معلوم ہوا کہ جو لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں اسلامی احکام پر عمل کرتے ہیں وہ مسلمان ممالک نہیں ہیں۔
اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ *اسلامی اعتبار سے سب سے زیادہ تعمیل کرنے والا ملک نیوزی لینڈ ہے جس کے بعد لکسمبرگ ہے۔ اس کے بعد آئرلینڈ، آئس لینڈ، فن لینڈ، ڈنمارک چھٹے اور کینیڈا ساتویں نمبر پر رہے۔*
ملائیشیا 33ویں، کویت 42ویں، بحرین 61ویں اور حیران کن طور پر *سعودی عرب 91ویں اور ہمارا پیارا پاکستان 145ویں پوزیشن پر ہے۔* گلوبل اکانومی جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں *بنگلہ دیش کی پوزیشن پاکستان سے 141ویں نمبر پر ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مسلمان نماز، روزہ، سنت، قرآن، حدیث، حجاب، داڑھی، لباس کے بارے میں بہت محتاط ہیں لیکن ریاستی، سماجی اور پیشہ ورانہ زندگی میں اسلام کے قوانین پر عمل نہیں کرتے۔
*مسلمان دنیا میں کسی سے زیادہ مذہبی خطبات سنتے ہیں، لیکن کوئی بھی مسلمان ملک دنیا کا بہترین ملک نہیں بن سکا۔ لیکن پچھلے ساٹھ سالوں میں مسلمانوں نے جمعہ کا خطبہ کم از کم 3000 مرتبہ سنا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک غیرت مند چینی تاجر نے کہا کہ مسلمان تاجر ہمارے پاس دو نمبر کی جعلی چیزیں بنانے کا آرڈر لے کر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں فلاں مشہور کمپنی کا لیبل لگاؤ۔ بعد میں جب میں نے ان سے کہا کہ ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ تو انہوں نے کہا کہ یہ حلال نہیں ہے اس لیے میں نہیں کھاؤں گا۔ تو کیا نقلی اشیاء بیچنا حلال ہے؟*
ایک جاپانی نو مسلم نے کہا کہ میں مغربی ممالک میں غیر مسلموں کو اسلام کے اصولوں پر چلتے ہوئے دیکھتا ہوں اور مشرقی ممالک میں میں اسلام کو دیکھتا ہوں لیکن مسلمان نہیں ہیں۔ .
*اسلام صرف نماز اور روزہ نہیں ہے بلکہ یہ زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے اور دوسروں کے ساتھ رابطے اور رفاقت کا معاملہ ہے۔*
جو شخص روزہ دار نماز پڑھتا ہے اور اس کی پیشانی پر نشان ہے وہ اللہ کے نزدیک منافق ہو سکتا ہے۔
*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حقیقی پرولتاریہ اور خالی ہاتھ وہ لوگ ہیں جو روزے، نماز، کثرت حج، صدقات کے ساتھ حاضر ہوں گے، لیکن بدعنوانی، مال ہڑپ کرنے کی وجہ سے خالی ہاتھ جہنم میں جائیں گے۔ دوسروں کو حقوق نہ دینا اور لوگوں پر ظلم کرنا۔" "*
*اسلام کے دو حصے ہیں، ایک 'ایمان' کہلانے والے عقیدے کا عوامی اعلان، اور دوسرا 'احسان' نامی ایمان کا موضوع، جو کہ صحیح معاشرتی اصولوں پر عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر دونوں پر عمل نہ کیا جائے تو اسلام ادھورا رہ جاتا ہے جو ہر نام نہاد مسلم ملک میں ہو رہا ہے۔
*مذہبی ممنوعات کی پابندی انسان کی ذاتی ذمہ داری ہے اور یہ اللہ اور بندے کے درمیان معاملہ ہے۔ لیکن معاشرتی اصولوں کی پابندی ایک بندے اور دوسرے کے درمیان معاملہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر مسلمان اپنی زندگیوں میں اسلامی اصولوں پر عمل نہیں کریں گے تو مسلم معاشرہ بگڑ جائے گا اور ہمارا مستقبل بے عزت ہو جائے گا۔*
لارڈ برنارڈ شا نے ایک بار کہا تھا کہ ’’اسلام بہترین مذہب ہے اور مسلمان بدترین پیروکار ہیں‘‘۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(کاپی پیسٹ )
01/07/2024
دریا کے ساحل پر، ضلع نیلم، آزاد کشمیر، میرے بیک گراؤنڈ میں جو پہاڑ نظر آرہا ہے یہ مقبوضہ کشمیر کا علاقہ ہے۔
25/06/2024
رجیم چینج کے بعد بجلی کے صارفین انتہائی ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔
112 یونٹ کا بل 2570، جبکہ ٹوٹل بل 3932، 1428 روپے ایکسٹرا چارجز کی مد میں کاٹے جائیں گے
عیاشیاں یہ ناجائز حکومت اور اس ناجائز حکومت کو لانے والے کریں اور جیب ہماری کاٹیں، ظلم عظیم ہے۔
جب تک یہ ناجائز طور پر لوگوں کی جیبیں کاٹتے رہیں گے اس وقت تک نہ یہاں سرمایہ کاری ہوگی اور نہ ہی ملک ترقی کرے گا۔
سب لوگ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اور جب تلک یہ ظلم ختم نہ ہو احتجاج جاری رکھیں۔
ملک بینک بنانے کی بجائے دائیوں کا رواج پروان چڑھایا جائے، جیساکہ عربوں کے ہاں رواج تھا، کہ دائیاں اجرت پر دودھ پلاتی تھیں، نا کہ مغربی تہذیب کو پروان چڑھایا جائے۔
اگر یہ تحریر سچ ہے تو پھر اس پر علم نفسیات کے نقطہ نظر سے ایک پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا جاسکتا ہے۔
اس تحریر کو پڑھ کر ایک دم سے جھٹکا لگا کہ طلاقیں تو ہوتی ہیں لیکن اتنی طلاقیں وہ بھی ایک شہر میں، یہ خبردار کردینے والی صورت حال ہے۔
طلاقیں کیوں ہوتی ہیں.
آپ کمال ملاحظہ کریں گجرانوالہ میں ماسٹرز کی طالبہ نے وین ڈرائیور کے ” چکر ” میں اپنے پڑھے لکھے ، محبت کرنے والے شوہر سے طلاق لے لی ۔
یہ میرے نہیں سیشن کورٹ گجرانوالہ کے الفاظ ہیں ۔
آپ حیران ہونگے صرف گجرانوالہ شہر میں 2005 سے 2008 تک طلاق کے 75000 مقدمات درج ہوئے ہیں ۔ ایک نیوز رپورٹ کے مطابق محض 10 مہینوں میں 12913 خلع کے مقدمات تھے ۔ صرف ستمبر کے مہینے میں گجرانوالہ شہر میں 2385 خلع کے مقدمات آئے ۔
آپ ہماری جینے مرنے کی قسمیں کھانے والی نسل کی سچی محبت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ 2017 میں 5000 خلع کے کیسسز آئے جن میں سے 3000 ” لو میرجز ” تھیں ۔
پاکستان کے دوسرے بڑے اور پڑھے لکھے شہر میں روزانہ اوسط 150 طلاقیں رجسٹرڈ ہوتی ہیں ۔
یہ تو دیگ کا صرف ایک دانہ ہے ۔
عرب ممالک میں طلاق و خلع کا اوسط تو کئی یورپی ممالک سے بھی گیا گذرا ہے ۔
اس سے انکار نہیں ہے کہ ان میں سے بہت سارے واقعات میں عام طور پر سسرال والوں کا لڑکی سے رویہ اور شوہر کا بیوی کو کوئی حیثیت نہ دینا بھی اصل وجوہات ہیں لیکن آپ کسی بھی دارالافتاء چلے جائیں ہفتے کی بنیاد پر سینکڑوں خطوط ہیں جو خواتین نہیں مرد حضرات لکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ہماری بیوی کو کسی اور کے ساتھ ” محبت ” ہوگئی ہے ۔ وہ مجھ سے طلاق مانگ رہی ہے ۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے یا بچہ بھی ہے ۔ بتائیں کیا کروں
نبی مہربانﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالی کو جائز کاموں میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ طلاق ہے “۔
ایک عالم دین نے کیا خوب فرمایا تھا ” یہ قوم اسلام پر مرنے کے لئیے تیار ہے لیکن اسلام پر جینے کے لئیے تیار نہیں ہے “۔
آپ قرآن کا مطالعہ کریں سورۃ البقرہ سے لے کر والناس تک چلے جائیں ۔ آپ کو نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ میں سے کسی ایک فرض کی تفصیلات نہیں ملینگی ۔ آپ کو یہ تک نظر نہیں آئیگا کہ نماز کا طریقہ کیا ہے ؟ آپ کو ان عبادات کی تسبیحات تک نہیں پتہ چل پائینگی ۔
لیکن نکاح ، طلاق ، خلع ، شادی ، ازدواجی معاملات ، میاں بیوی کے تعلقات ، گھریلو ناچاقی ، کم یا زیادہ اختلاف کی صورت میں کرنے کے کام ۔آپ کو سارا کچھ اللہ تعالی کی اس مقدس ترین کتاب میں مل جائیگا جس کو ہم اور آپ” چوم چوم ” کر رکھتے ہیں ۔
آپ مان لیں کہ ہمارے معاشرے میں طلاق اور خلع کی سب سے بڑی وجہ عدم برداشت ہے ۔
یاد رکھیں اچھا اور صحت مند گھرانہ کسی اچھے مرد سے نہیں بنتا بلکہ ایک اچھی عورت کی وجہ سے بنتا ہے۔
” جب دین گھر کے مرد میں آتا ہے تو گویا گھر کی دہلیز تک آتا ہے لیکن اگر گھر کی عورت میں دین آتا ہے تو اس کی سات نسلوں تک دین جاتا ہے “۔
قربانی، ایثار ، احسان، درگذر ، معافی، محبت اور عزت یہ اسلام اور قرآن کی ڈکشنری میں آتے ہیں ۔
خواتین کی نہ ختم ہونے والی خواہشات نے بھی معاشرے کو جہنم میں تبدیل کیا ہے ۔
الیکٹرانک میڈیا نے گوٹھ گاؤں اور کچی بستیوں میں رہنے والی لڑکیوں تک کے دل میں ” شاہ رخ خان “جیسا آئیڈیل پیدا کر دیا ہے ۔
محبت کی شادیاں عام طور پر چند ” ڈیٹس ” ، کچھ فلموں اور تھوڑے بہت تحفے تحائف کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ لڑکیاں اور لڑکے سمجھتے ہیں کہ ہماری باقی زندگی بھی ویسے ہی گذرے گی جیسا فلموں میں دکھاتے ہیں ، لیکن فلموں میں کبھی شادی کے بعد کی کہانی دکھائی ہی نہیں جاتی ہے ۔ اس سے فلم فلاپ ہونے کا ڈر ہوتا ہے ۔
گھریلو زندگی کی تباہی میں سب سے بڑا عنصر ناشکری بھی ہے ۔ کم ہو یا زیادہ ، ملے یا نہ ملے یا کبھی کم ملے پھر بھی ہر حال میں اپنے شوہر کی شکر گزار رہیں ۔
سب سے بڑی تباہی اس واٹس ایپ اور فیس بک سوشل میڈیا نے مچائی ہے ۔
پہلے لڑکیاں غصے میں ہوتی تھیں یا ناراض ہوتی تھیں تو ان کے پاس اماں ابا اور دیگر لوگوں تک رسائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا تھا ۔شوہر شام میں گھر آتا ،بیوی کا ہاتھ تھام کر محبت کے چار جملے بولتا ، کبھی آئسکریم کھلانے لے جاتا اور کبھی ٹہلنے کے بہانے کچھ دیر کا ساتھ مل جاتا اور اس طرح دن بھر کا غصہ اور شکایات رفع ہوجایا کرتی تھیں ۔
لیکن ابھی ادھر غصہ آیا نہیں اور ادھر واٹس ایپ پر سارے گھر والوں تک پہنچا نہیں ۔
یہاں میڈم صاحبہ کا ” موڈ آف ” ہوا اور ادھر فیس بک پر اسٹیٹس اپ لوڈ ہو گیا ۔ اور اس کے بعد یہ سوشل میڈیا کا جادو وہ وہ گل کھلاتا ہے کہ پورے کا پورا خاندان تباہ و برباد ہوجاتا ہے یا نتیجہ خود کشیوں کی صورت میں نکلتا ہے ۔
مائیں لڑکیوں کو سمجھائیں کہ خدارا ! اپنے شوہر کا مقابلہ اپنے باپوں سے نہ کریں ۔ ہوسکتا ہے آپکا شوہر آپ کو وہ سب نہ دے سکے جو آپ کو باپ کے گھر میں میسر تھا ۔
لیکن یاد رکھیں آپ کے والد کی زندگی کے پچاس ، ساٹھ سال اس دشت کی سیاحی میں گذر چکے ہیں اور آپ کے شوہر نے ابھی اس دشت میں قدم رکھا ہے ۔ آپ کو سب ملے گا اور انشاء اللہ اپنی ماں سے زیادہ بہتر ملے گا اگر نہ بھی ملے تو بھی شکر گذاری کی عادت ڈالیں سکون اور اطمینان ضرور ملے گا ۔
بیویاں شوہروں کی اور شوہر بیویوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تعریف کرنا اور درگذر کرنا سیکھیں ۔
زندگی میں معافی کو عادت بنالیں ۔
خدا کے لئیے باہر والوں سے زیادہ اپنے شوہر کے لئیے تیار ہونے اور رہنے کی عادت ڈالیں ۔ساری دنیا کو دکھانے کے لئیے تو خوب ” میک اپ” لیکن شوہر کے لئیے ” سر جھاڑ منہ پھاڑ ” ایسا نہ کریں ۔
خدا کو بھی محبت کے اظہار کے لئیے پانچ دفعہ آپ کی توجہ درکار ہے ۔ ہم تو پھر انسان ہیں جتنی دفعہ ممکن ہو محبت کا اظہار کریں کبھی تحفے تحائف دے کر بھی کیا کریں۔ قیامت کے دن میزان میں پہلی چیز جو تولی جائیگی وہ شوہر سے بیوی کا اور بیوی سے شوہر کا سلوک ہوگا ۔
یاد رکھیں
مرد کی گھر میں وہی حیثیت ہے جو سربراہ حکومت کی ریاست میں ہوتی ہے ۔ اگر آپ ریاست کی بہتری کی بجائے ہر وقت سربراہ سے بغاوت پر آمادہ رہینگی تو ریاست کا قائم رہنا مشکل ہوجائیگا ۔ جس کو اللہ نے جو عزت اور مقام دیا ہے اس کو وہی عزت اور مقام دینا سیکھیں چاہے آپ مرد ہیں یا عورت ۔
ایک مثالی گھر ایک مثالی خاندان تشکیل دیتا ہے اور ایک مثالی خاندان سے ایک صحتمند معاشرہ وجود میں آتا ہے اور یہیں اسلام کی منشاء ہے ۔🌷.
منقول
Copied from Faheem Arshad wall
20/06/2024
Please share the post with others
17/06/2024
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Islamabad
44000
