05/06/2026
بھارہ کہو"Bhara Kahu"
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from بھارہ کہو"Bhara Kahu", .
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقے بھارہ کہو،پھلگراں ومضافات کی تاریخ، تاریخی، سماجی،سیاسی،صحافتی،تعلیمی،شعروادب اور دیگر شعبوں میں بہترین خدمات سرانجام دینے والی شخصیات کے تعارف اور تازہ ترین صورتحال، مستند مواد اور معلومات کیلئےیہ پیج فالوکریں
05/06/2026
04/06/2026
ہوشیارباش ۔۔۔ نئی آبادی کےشہری پانی کیلئےپریشان !۔
04/06/2026
ڈہوک جیلانی کی معروف سماجی وسیاسی شخصیت اورپاکستان پیپلزپارٹی بھارہ کہو کےسابق صدرمحمدعبدالرشید عباسی صاحب علیل اور"علی میڈیکل"میں زیرعلاج ہیں۔
رشید عباسی صاحب کی علاقے کی فلاح وبہبود کے حوالے سے کاوشوں کاموں اور جدوجہد پرخراج تحسین و سلام عقیدت ۔۔۔
عباسی صاحب کے صاحبزادگان متحرک سماجی دینی اور سیاسی نوجوان عثمان رشید عباسی۔ حمزہ رشیدایڈووکیٹ ۔راشدرشیدعباسی.عابدرشیدعباسی ۔اسدرشیدعباسی اورحماد رشید عباسی ہیں
اللہ پاک محمدعبدالرشید عباسی صاحب کوصحت کاملہ عاجلہ ومستمرہ عطافرمائے۔آمین
03/06/2026
خوشخبری ۔۔کوٹ ہتھیال شمالی پابندی ختم ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھارہ کہوکوٹ ہتھیال شمالی زون فور۔ای میں شامل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہدرہ تلہار۔گوکینہ زون 3میں شامل تعمیر پر پابندی علاقےسی ڈی اےحاصل کریگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منصوبہ بندی کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمیٹی پندرہ دن کے اندر اپنی تجاویز تیار کرے گی اور سی ڈی اے بورڈ میں پیش کرے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سی ڈی اے بورڈ کی منظوری کے بعد، ایک سمری فیصلے کے لیے وزارت داخلہ کے ذریعے وفاقی کابینہ کو پیش کی جائے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفاقی کابینہ کے فیصلے کے بعد، سی ڈی اے بورڈ ان زونز کے بلڈنگ ریگولیشنز کی منظوری دے گا
x۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔x
کارروائی ایجنڈا وفیصلہ جات
۔۔۔۔۔۔۔۔
سی ڈی اے بورڈ اجلاس زوننگ اینڈریگولیشن (انیس سوبانوے) آئی سی ٹی میں ترمیم
۔۔۔۔۔۔۔
بورڈ نے اجلاس ایجنڈے پر تفصیل سے غور کےبعد درج ذیل نکات کی منظوری دی
مارگلہ ہلز نیشنل پارک کے طور پر نوٹیفائیڈ علاقے کو زون تھری قرار دیا جائے گا۔
مارگلہ ہلزنیشنل پارک سے گھرے ہوئے غیر حصول شدہ علاقے جن میں بنیادی طور پر شاہدرہ، تلہار، گوکینہ وغیرہ شامل ہیں، کو زون-تھری اے قرار دیا جائے گا۔ یہ علاقہ سی ڈی اے حاصل کرے گا
اورمارگلہ ہلزنیشنل پارک زون-تھری کا حصہ بنایا جائے گا۔ موجودہ دیہات/آبادیاں محدود رہیں گی اور ان علاقوں میں کسی بھی قسم کی مزید تعمیر کی اجازت نہیں ہوگی۔
مارگلہ ہلزنیشنل پارک اور سیکٹرز کے درمیان، مارگلہ ایونیو کے شمال میں سیکٹر سی سولہ تک کے علاقے کو زون-اے۔ون قرار دیا جائے گا۔ سی ڈی اے نجی زمین حاصل کرے گا اور پچھلی سی ڈی اے زمین کے ساتھ نئے حاصل شدہ علاقے پر زون-ون کے مطابق اسکیمیں تیار کرے گا۔ موجودہ دیہات/آبادیاں محدود رہیں گی اور نجی زمین پر مزید کسی تعمیر کی اجازت نہیں ہوگی۔
اور مری روڈ/سری نگر ہائی وے کے درمیان واقع علاقے کو زون-فور ای قرار دیا جائے گا۔ نجی شعبے کو سی ڈی اے کے زوننگ ریگولیشنز کے مطابق اسکیمیں تیار کرنے اور سی ڈی اے سے منظوری حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔
مزید برآں، سی ڈی اے خود بھی سی ڈی اے کی پہلے سے حاصل شدہ زمین پر اسکیمیں تیار کر سکتا ہے۔ زونز کے یہ ذیلی سیٹ فیصلے کے ساتھ منسلک نقشے پر بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔
سی ڈی اے بورڈ نے نئے تشکیل شدہ ذیلی زونز کے تمام ذیلی سیٹوں کے لیے دیہات کے ناموں اور رہائشیوں کی تفصیلات کے ساتھ ڈرافٹ زوننگ ریگولیشنز (استعمال اور منصوبہ بندی کی حکمت عملی) تیار کرنے کے لیے درج ذیل کمیٹی تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا:
۔ممبر (پی اینڈ ڈی)، سی ڈی اے - کمیٹی کے چیئرمین
ممبر اسٹیٹ، سی ڈی اے
۔نیئر علی دادا، ممبر سی ڈی اے بورڈ
ڈائریکٹر جنرل ماحولیات، سی ڈی اے
ڈائریکٹر ٹیکنیکل برائے چیئرمین سی ڈی اے
ڈائریکٹر ماسٹر پلان، سی ڈی اے
کمیٹی کسی بھی دوسرے رکن کو شامل کر سکتی ہے۔
کمیٹی پندرہ دن کے اندر اپنی تجاویز تیار کرے گی اور سی ڈی اے بورڈ میں پیش کرے گی۔ سی ڈی اے بورڈ کی منظوری کے بعد، ایک سمری فیصلے کے لیے وزارت داخلہ کے ذریعے وفاقی کابینہ کو پیش کی جائے گی۔ وفاقی کابینہ کے فیصلے کے بعد، سی ڈی اے بورڈ ان زونز کے بلڈنگ ریگولیشنز کی منظوری دے گا۔
03/06/2026
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ فیصلہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت منعقد ہونے والے کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا جس کا مقصد معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری کیے گئے سرکاری اعلامیے کے مطابق اب شہر کی تمام دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل اسٹورز رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں بھی نرمی کی گئی ہے اور انہیں رات 11 بجے تک کاروبار چلانے کی اجازت ہوگی۔
حکومتی اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ ریسٹورنٹس کی ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز پر اس وقت کا اطلاق نہیں ہوگا اور وہ اس پابندی سے مستثنیٰ رہیں گی۔
دوسری جانب شادی ہالز اور دیگر تقریباتی مقامات کے اوقات کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور انہیں رات 10 بجے بند کرنے کا پرانا فیصلہ ہی برقرار رکھا گیا ہے۔
اس کے علاوہ شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے فارمیسی، ہسپتال اور پٹرول پمپس کو اوقات کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح آئی ٹی اور ٹیلی کام سیکٹر سے متعلق تمام ضروری سروسز بھی وقت کی کسی پابندی کے بغیر چوبیس گھنٹے کام جاری رکھ سکیں گی۔
02/06/2026
سانحہ بھارہ کہواٹھال چوک ...
۔۔۔۔
ملزم واسق کی عمر 16 سال اور جماعت نہم کاطالب علم .... کم عمری وبلالائسنس گاڑی چلانے کابھی ارتکاب ۔۔۔
۔۔۔۔۔
دوگاڑیوں میں ریس نہیں بلکہ اوورٹیک کرتےہوئے"ایکوا"گاڑی نے سائیڈ دی جسکی بنا پرکم سن ڈرائیور حواس اوررگاڑی پرقابونہ رکھ سکا اور حادثہ رونما ہوگیا ۔۔۔
۔۔۔۔
ایکواگاڑی تاج ماربل والوں کی نکلی جوملزم واسق کی فیملی کی بتائی جارہی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔
تاج ماربل والوں پر دس بارہ سال قبل عبدالحمیدنامی شخص کے قتل کے الزام میں ایف ائی آر بھی درج ہوچکی ۔۔۔
۔۔۔۔
ملزم واسق کے والد کانام بشارت کیانی ہے نہ کہ واحد کیانی۔
۔۔۔۔
ملزم کاوالد سیاسی شخصیت بتایا
جاتاہےاس بات میں صداقت نہیں ۔۔۔
۔۔۔۔
پولیس کوملزم نے گرفتار کیا یا اسکے والد نے خود پیش کیا ؟
۔۔۔۔
سابق چیئرمین راجہ واحد کیانی کے بیٹے کو سوشل اور الیکٹرنک میڈیا پر ملزم ظاہر کرکے انکی سیاسی ساکھ کونقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ۔۔۔
۔۔۔۔
سانحے کے شہداء کہاں کہاں کے رہنے والے تھے ؟ شہید ٹیکسی ڈرائیورعدیل کے والد کااٹھال چوک میں عدیل کی لاش رکھ کر احتجاج بارے اہم انکشاف
۔۔۔۔
ٹریفک پولیس کی چشم پوشی۔ ناہلی یا فرائض سے سنگین غفلت ۔۔۔ برلب سڑک پارکنگ۔اڈے اور موٹر بایک اور گاڑیاں کھڑی ہوتیں ؟
۔۔۔۔۔
سانحےکااصل مجرم کون ؟
ٹیوٹا لینڈ کروزرکاکم سن ڈرائیورجونامزدملزم بھی ہے یاایکوا گاڑی کاڈرائیور جس نے اوور ٹیک کرتے ہوئے سائیڈدی ؟
یاپھر ٹریفک پولیس انچارج بھارہ کہو اور دیگر اہلکار جنکی غفلت کی بناپر شاہراہ کے اطراف تجاوزات ؟
۔۔۔۔۔۔
پاکستان مسلم لیگ ن حلقہ این اے47 اور سابق چیئرمین یوسی بھارہ کہو کے کیساتھ تفصیلی ٹیلی فونک گفتگو کااحوال پڑھیں اور حقائق کاتجزیہ کریں
x۔۔۔۔۔۔.......۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔....۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔.....۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔.....۔۔۔۔۔۔x۔
سانحہ اٹھال چوک اور اب تک کی صورتحال بارے بھارہ کہو کے سابق چیئرمین اور مسلم لیگ ن کے حلقہ این اے 47 کے صدر راجہ واحد کیانی کیساتھ میری تفصیلی ٹیلی فونک بات ہوئی
میرے مختلف سوالات کےجوابات دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ سانحے کانامزد ملزم انکے ایک قریبی عزیز کا بیٹاہے جو میری معلومات کیمطابق 30 اور31مئی کی درمیانی شب 11بجے اپنےگھر سے ڈرائیور کے ہمراہ گاڑی لیکر نکلا اور
ارم بیکری والی گلی سے مین مری روڈ پرجاتےیوٹرن لیکرمری کی طرف گیالیکن پنجاب کیش اینڈ کیری سے یوٹرن لیکروآپس
اٹھال چوک سانحےکی طرف آیا 11:27بجےحادثہ رونماہوگیا۔
اسلئے مری سے آنے والی باتوں میں کوئی سچائی نہیں ۔۔۔
انکا کہنا تھا کہ2گاڑیوں کے درمیان ریس کاقصہ بھی درست نہیں کیونکہ دوسری گاڑی نہ ہی واسق کی فیملی کی تھی اور نہ اسے معلوم تھا کس کی ہے اور کون ڈرائیو کررہاہےاس حوالے سے جوالزامات لگائے گئے کہ دوسری گاڑی بھی اسی فیملی کی بےبنیادثابت ہوچکے ۔۔۔
دوسری گاڑی بارے انکا کہنا تھا کہ "ایکوا" گاڑی جس کے بارے میں انھیں معلوم ہواہے کہ وہ "تاج ماربل" کرنل امان اللہ روڈ بھارہ کہو والوں کی تھی جس کے بارے میں پتہ چلاہے کہ حادثےکے بعد اٹھال چوک سے یوٹرن لیکر کیانی روڈ پر بھارہ کہوبائی باس کے انڈرپاس سے بائیں مڑی اور محلہ سیداں سے ہوتی ہوئی کرنل امان اللہ روڈ تاج ماربل کے مقام پر پہنچی۔
انکا کہناتھا کہ دونوں گاڑیوں میں کوئی ریس نہیں لگی تھی البتہ ممکن ہےرفتار تیز ہوئی ہو۔
اٹھال چوک کے قریب مبینہ طورپر "ایکوا"گاڑی کے ڈرائیورنے"واسق"کی گاڑی کو اوورٹیک کرتے ہوئے "سائیڈ" کروائی جسکے بعد نوعمر ڈرائیورتذبذب کاشکار ہوکرگاڑی کونہ سنبھال سکا اور یوں گاڑی بے قابوہوکر "8"افراد" 7سے 8 موٹر بائیکس اور "1"ایف ایکس گاڑی کے ڈرائیورکو روندتی ہوئی"موتی بازارمارکیٹ"کےسامنےجارکی۔۔۔
سانحے کے بعد واسق موقع سے فرار ہوگیا تاہم پولیس نے قلیل وقت میں اسے گرفتار کرلیا۔
ایس ایس پی آپریشن قاضی علی رضاء کےاحکامات پر"45"رکنی پولیس ٹیم سانحے سے متعلق تفیشی عمل کاحصہ ہے
سانحے کے بعد اسلام آباد پولیس میں محکمانہ تبدیلی وتقرریوں کے نتیجے میں سابق ایس ایچ اوتنویر مگسی کاتبادلہ کرتےہوئے نئے ایس ایچ او"نعیم الحسن"کو نیاایس ایچ اوتھانہ بھارہ کہو تعینات کردیاگیا۔
سانحےمیں متاثرہ"8"افرادمیں سے "4"شہید جبکہ"4"زخمی ہوئے
سانحے میں شہید ہونےوالوں میں ایک کاتعلق بھارہ کہو۔ دوسرے کاسندھ۔تیسرےکاراولپنڈی سے بتایاجاتاہے جبکہ چوتھےشخص کی شناخت کاعمل جاری ہے۔
راجہ واحد کیانی کاکہناتھا کہ سانحے میں زخمی ہونے والے "4"افراداب الحمداللہ صحتیاب ہیں اور انکی زندگیاں کسی قسم کے خطرے سے باہر بتائی جارہی ہیں اللہ پاک شہداء کواپنی جواررحمت اںکے لواحقین کوصبر جمیل اور بہتر نعم البدل کیساتھ ساتھ زخمیوں کوصحت کاملہ عاجلہ ومستمرہ عطافرمائے۔
اس کیس کے حوالے سے مختلف چہ مگوئیاں اور باتیں جاری ہیں
جن میں ملزم کوایک مقامی سیاسی شخصیت کابیٹا بتایا جارہاہے۔ کچھ لوگ یہ کہہ رہے کہ اس مقامی سیاسی شخصیت "راجہ واحدکیانی" اور انکے بیثے کوایس پی نے ہمراہ ٹیم گرفتار کرکے تھانے بند کردیا جس بارے میں راجہ واحد کیانی نے کہا کہ یہ بے بنیاد من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا ہے ...
بتایاجاتاہے کہ ملزم "واسق" کے والدکانام"بشارت کیانی"ہے جوکسی قسم کاسیاسی پس منظر نہیں رکھتے البتہ "راجہ واحد کیانی کے چچازاد ہیں اور کبھی کسی سیاسی یاانتخابی عمل میں امیدوار یاعہدیدار نہیں رہے
"راجہ واحدکیانی"جوپاکستان مسلم لیگ ن کے حلقہ این اے 47 کےصدراور سابق چیئرمین بھارہ کہو ہیں کاکہناتھا کہ میرے بیٹے کوملزم ظاہرنا سچ پر مبنی نہیں۔
انھوں نے دلچسپ بات بتائی جس کی تصدیق پولیس ذرائع سمیت مقامی لوگوں نے بھی کی کہ سانحے کی اطلاع ملنے کے بعد" راجہ واحدکیانی"نے شہداء اور زخمیوں کے لواحقین کیساتھ مکمل اظہاریکجہتی کیا اورواقعے کی مذمت کیساتھ ساتھ ملزم کے والد کو پابند کیاکہ وہ ملزم کو تھانہ پیش کریں اور اس دوران نہ صرف راجہ واحد کیانی خود بلکہ اپنے بیٹے کے ہمراہ خود تھانے پہنچے اور سانحے میں متاثرین کے لواحقین کو یقین دہانی کروائی کہ وہ بیٹے کے ہمراہ تھانے میں موجود ہیں جب تک کہ واقعے میں ملوث ملزم کو تھانے پیش کیاجاتا وہ دونوں تھانے میں موجود رہیں گے بلکہ اگر مدعی مجھے یامیرے بیٹے کونامزد کریں تو ہم گرفتاری دینے کوتیار ہیں۔
ملزم کے والد نے ملزم کو تھانے پیش کردیا یا پولیس نے کسی مقام سے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کیا قصہ مختصر مقدمے میں نامزد ملزم پولیس کی تحویل میں پہنچا یوں سیاسی شخصیت راجہ واحد کیانی کے بیٹے پر واقعے میں ملوث ہونے کے الزامات دم توڑگئے تاہم راجہ واحد کیانی کاکہناہے کہ کچھ عناصر اس سانحے کوسیاسی رنگ دیکر انکی ذات اور فیملی کونشانہ بارپےہیں۔
انکاکہناہے کہ وہ شہید ہونے والوں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور متاثرہ خاندانوں کیساتھ مکمل رابطے میں ہیں۔۔۔
پولیس نے ملزم کوعدالت میں پیش کرتے ہوئے14روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پر عدالت نے4یوم کاریمانڈ دیا ۔۔۔
یہاں راجہ واحد کیانی کیمطابق یہ تکلیف دہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ سانحے میں شہید ہونے والے "عدیل" کے والد کوغم الم اور کرب کی اس گھڑی میں انکے بیٹے کی نعش اٹھال چوک میں عدیل کے والد کی مرضی کیخلاف رکھ کرنہ صرف بےحرمتی کی گئی بلکہ راجہ واحد کیانی نے بتایا کہ اسکے والد نے احتجاج کرنے والوں بارے نہایت سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنےبیٹے کاجنازہ پڑھنےنہیں دیااور میں بیٹےکی چارپائی کےپیچھے بھاگتارہا۔عدیل کے والدسےملاقات کااحوال بتاتے ہوئے راجہ واحد کیانی کایہ بھی کہناتھا کہ ملزم کے والد اوردیگر معززین علاقہ ہمارےگھرآئے اظہارافسوس کیا اور یہاں تک کہا کہ ہمارے جس بندے کوآپ نامزد کریں گے ہم اسے پولیس کے حوالے کرنے کیلئے تیار ہیں۔
راجہ واحد کیانی کایہ بھی کہناتھا کہ شہید عدیل کاسگاماموں انکاڈرائیور ہے اور عدیل کاانکے ڈیرے پر مستقل آناجانا بھی ہمارے فیملی ممبرزی طرح تھا جس کاہمیں شدید قلق ہے
راجہ واحد کیانی نے کہا کہ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس پر ہر شخص غمزدہ ہے میں شہید اور زخمی ہونے والوں کی فیملیوں کیساتھ کھڑاہوں جسطرح وہ چاہیں ایسے ہی پولیس کارروائی کرے تاہم میرے اوپر یامیرے بیٹے کواس واقعے میں ملوث کرنا بدنیتی اور سیاسی فائدہ لینے کی کوشش ہےجوپس پردہ رہ کرحاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔۔۔
سانحے میں جس دوسری گاڑی "ایکوا" کاذکر ہے وہ ایک مقامی ماربل کاررخانے"تاج ماربل"والوں کی بتائی جاتی ہے جسے پولیس نے ٹریس کرلیاپے اور زیرنظر سطورلکھتے وقت ممکنہ طور پر اسکے ڈرائیور کو بھی پولیس حراست میں لے چکی ہوگی۔
ایکواگاڑی کے مالکان تاج ماربلز والوں کے بارے میں یہ بتایا جاتاہے کہ کم و بیش دس سے بارہ سال قبل ایک واقعے میں ان کے ہاتھوں ڈہوک موہری تھانہ بھارہ کہو کے ایک رہائشی "عبدالحمید" نامی شخص قتل ہواتھااور الزام یہ تھا کہ وہ شخص تاج ماربلز والوں کی گلی میں مارا گیاتھا جسکا مقدمہ انکے خلاف درج ہواجسکے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم یاملزمان کو گرفتار بھی کرلیا تھا تاہم مقتول کی فیملی کو"دیت"اداکرتے ہوئے انکے درمیان صلح ہوگئی تھی۔
سانحہ اٹھال چوک ایک المناک اور درد ناک واقعہ ہے جس میں8 کے قریب افراد زخمی یاشہید ہوئے اور یوں 8کنبے اپنے کفیلوں کی سرپرستی سے محروم یاکچھ کے وقتی طور پر متاثر ہوگئے۔
سانحہ رونماہوگیا 4قیمتی انسانی جانوں کاضیاع اور چار زخمہ ہوگئے یہ واقعہ برلب سڑک موٹربائیکس اور گاڑیوں کی پارکنگ اور تجاوزکے زمرے میں آتی ہے
اور ٹریفک پولیس کی ناہلی کی بناپر یہ لوگ بالکل ایک مصروف ترین شاہراہ پر کھڑے حادثے کاشکار ہوئے۔ جو نہایت تکلیف دہ امر ہے
وہیں اس حادثے یاسانحے کے اصل محرک کاتعین بھی ضروری ہے کیونکہ مبینہ طور پر "ایکوگاڑی" کی جانب سےدوران اوور ٹیکنگ سائیڈ دینے کی بناپر مبینہ طور پر واسق حواص باختہ ہوا اور اسکی گاڑی بےقابو ہوئی جس میں اس کی جان بھی جاسکتی تھی ۔۔۔
ملزم کم عمر تھا یہ بھی جرم ہے جس کااس نے ارتکاب کیا اور اسکی متعین سزاکا حق دار بھی ٹھہرا تاہم کیا اس واقعے کااصل ملزم کوئی اور ہے جس کی بنا پر یہ حادثہ رونما ہوا اور 4قیمتی انسانی جانوں کیساتھ ساتھ لاکھوں روپے کے موٹر بائیکس اور دوگاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا؟
یقینا پولیس تمام پہلوؤں کاجائزہ لیتے ہوئے بہترین تفتیش کررہی ہوگی اور قصور وار کوسزا دلوائیگی
اسکے ساتھ سانحے میں شہید اور زخمی ہونے والوں کے نقصان کا کسی حدتک ازالہ کرنے اور انکی فیملیوں کی دادرسی بھی کی جائیگی۔
اسکے ساتھ ٹریفک پولیس اپنی عیاشیوں اورر غفلت سے بیدار ہوتے ہوئے مین مری روڈ سملی ڈیم روڈ اور کیانی روڈ کے اطراف میں غیر قانونی پارکنگ اڈوں اور گاڑیاں کھری کرنے والوں کیخلاف بھی منظم مربوط اورمسلسل کارروائی کریگی۔
02/06/2026
نئے ایس ایچ او تھانہ بھارہ کہو محمدنعیم الحسن نےاپنے عہدے کاچارج سنبھال لیا
01/06/2026
یکم جون سےنیااوقات کار ۔۔۔ حکومتی حکم نامہ جاری!۔
31/05/2026
انا للہ وانا الیہ راجعون
گزشتہ شب اٹھال چوک ٹریفک حادثےمیں جاں بحق ہونے والوں میں سے عدیل عباسی کی میت کولواحقین نےاٹھال چوک میں رکھ کرشدید احتجاج کیا اور حادثے میں ملوث لینڈکروزر ڈرائیور کی فوری گرفتاری کامطالبہ کیا
پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کی یقین دہانی کے بعد نماز جنازہ ادا کردی گئی
نمازجنازہ میں مرحوم کےعزیزواقارب اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
