08/04/2026
اپریل 1968: یوم تاسیس پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن
طلبہ سیاست،قومی شناخت اور مزاحمت کی طویل داستان
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں طلبہ تنظیموں نے ہمیشہ ایک فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے، مگر کچھ تحریکیں ایسی ہوتی ہیں جو محض سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ایک فکری اور قومی بیداری کی علامت بن جاتی ہیں۰پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن (PSF) بھی ایسی ہی ایک تحریک تھی، جس نے 1960ء کی دہائی کے ہنگامہ خیز دور میں جنم لے کر نہ صرف آمریت کو چیلنج کیا بلکہ قومی شناخت کے سوال کو بھی نئی جہت دی
یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا بھر میں نوجوان سامراج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ الجزائر سے ویتنام تک آزادی کی تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں اور یہی لہریں پاکستان تک بھی پہنچ رہی تھیں۔ یہاں جنرل ایوب خان کی فوجی حکومت بظاہر ترقی اور استحکام کا نعرہ لگا رہی تھی، مگر اس کے نیچے معاشی ناہمواری، سیاسی محرومی اور قومی احساسِ بیگانگی شدت اختیار کر رہا تھا۰
ایسے میں ایوبی آمریت کے خلاف 1968-69 کی عوامی تحریک نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۰ اسی طوفانی ماحول میں PSF وجود میں آئی۰ انور کمال پہلے صدر اور شوکت علی جنرل سیکٹری بن گئے۰ بعدازاں عبد السبحان خان آف گلیاڑہ مردان کو جنرل کو سیکٹری بنا دیا گیا ۰
پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کسی سیاسی جماعت کی پیداوار نہیں تھی۰ نہ یہ کسی سیاسی لیڈر کی سوچ کا نتیجہ تھا یا کسی کے ایک شخص کے زہن کا احتراء تھا بلکہ یہ پختون طلبہ کے اپنے معروضی سیاسی، سماجی و معاشی حالات کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ایک فطری اور خود رو (spontaneous )ردعمل تھا۰ابتدا میں پختون ایس ایف کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں تھی۰ یہ ایک ایسی آواز تھی جو آمریت کے خاتمے اور ون یونٹ جیسے غیر منصفانہ نظام کے خلاف بلند ہوئی تھیی۰
پشتون طلبہ نے پختون ایس ایف کے پلیٹ فارم سے صرف سیاسی مطالبات ہی نہیں اٹھائے بلکہ اپنی قومی شناخت کو بھی اجاگر کیا۰ پختون طلبہ کی یہ تحریک جلد ہی پشاور یونیورسٹی سے نکل کر پختونخوا کے میدانوں کہساروں تک پھیل گئی ایک ہر دلعزیز اور منظم قوت بن گئی۰ اس کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں مختلف پس منظر رکھنے والے طلبہ شامل تھے، جو ایک مشترکہ مقصد کے لیے متحد ہوئے۰
1970ء کے انتخابات کے قریب آتے آتے طلبہ سیاست میں مذید ہیجان اور ہلچل مچ گئی ایسے میں PSF نے پشتون طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع رکھا۰ 1972 کے کنونشن میں PSF کی تنظیم نو کی گئی، جس میں عزیز بلور، افراسیاب خٹک، باز محمد خان، نثار شنواری اور بسم اللہ خان کاکڑ جیسے رہنما سامنے آئے۰ اس کنونشن میں نثار شنواری پہلے مرکزی صدر اور بسم اللّہ کاکڑ جنرل سیکٹری منتخب ہو گئے۰ ان رہنماؤں نے سیاست کے ساتھ ساتھ ادب اور ثقافت کو بھی اپنی جدوجہد کا حصہ بنایا۰مشاعرے، ادبی نشستیں اور فکری مباحثے PSF کی شناخت بن گئے۰ان کے محافل میں غنی خان، اجمل خٹک اور حمزہ بابا جیسے شعرا کی شرکت نے اس تحریک کو محض سیاسی نہیں بلکہ ایک ثقافتی تحریک بھی بنا دیا۔ یہی وہ پہلو تھا جس نے PSF کو دیگر طلبہ تنظیموں سے ممتاز کیا۰معروف شاعر اور ادیب سعد اللّہ جان برق نے اپنے مجلے “بانگِ حرم” میں PSF کی ابتدائی نظم “پشتون طلبہ کا مکالمہ” شائع کیا۰
شعوری طور پر بیدار پختون طلبہ کا ریاست کے ساتھ اس کا ٹکراؤ ناگزیر تھا۰ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں، خاص طور پر بلوچستان میں فوجی کارروائیوں کے خلاف، PSF نے کھل کر مزاحمت کی۔ 1974 میں پشاور یونیورسٹی میں بھٹو کے خلاف ہونے والا احتجاج اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ یہ تنظیم کسی بھی طاقت کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۰
پھر ضیاء الحق کا دور آیا، جو طلبہ سیاست کے لیے ایک سخت آزمائش ثابت ہوا۰ اسلامائزیشن، سیاسی پابندیوں اور ریاستی دباؤ نے PSF جیسی ترقی پسند تنظیموں کو کمزور کرنے کی کوشش کی۰، جبکہ مذہبی طلبہ تنظیمیں مضبوط ہوتی گئیں۰اس کے باوجود PSF نے مکمل طور پر دم نہیں توڑا اور اپنی شناخت کو کسی نہ کسی صورت برقرار رکھا۰
آج جب ہم PSF کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ محض ایک طلبہ تنظیم کی کہانی نہیں لگتی بلکہ یہ ایک نسل کی جدوجہد، شعور اور مزاحمت کی داستان محسوس ہوتی ہے۰ اس نے یہ ثابت کیا کہ طلبہ سیاست اگر نظریہ، ثقافت اور عوامی مسائل سے جڑی ہو تو وہ معاشرے میں حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے۰
سوال یہ ہے کہ کیا آج کی نوجوان نسل اس روایت کو آگے بڑھا سکتی ہے؟ کیا طلبہ سیاست دوبارہ اسی فکری گہرائی اور جرات کے ساتھ ابھر سکتی ہے؟ PSF کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ تبدیلی ہمیشہ شعور سے شروع ہوتی ہے اور شعور کا سب سے طاقتور مرکز ہمیشہ نوجوان ہی ہوتے ہیں
محفوظ جان

22/12/2025
22/12/2025
05/12/2025
05/10/2025