دنیا کا ظالم و وحشی ترین انسان ہلاکو خان اپنے گھوڑے پہ شان سے بیٹھا ہوا تھا، چاروں طرف تاتاری افواج کی صفیں کھڑی تھی، سب سے آگے ہلاکو خان کا گھوڑا تھا، ہلاکو خان کے سامنے قیدی مسلمانوں کی تین صفیں کھڑی کی گئی تھیں، جنکو کو آج ہلاکو خان نے اپنے حکم پر قتل ہوتے دیکھنا تھا ،پھر وہ ظالم بولا، انکے سر قلم کردو!
اور جلاد نے لوگوں کے سر کاٹنے شروع کردئیے، پہلی صف میں ایک کی گردن گئی دوسرے کی گردن گئی، تیسرے چوتھے کی، پہلی صف میں ایک بےقصور بوڑھا غریب قیدی جوکہ اپنے گھر کا واحد کفیل، بھی کھڑا تھا، وہ موت کے ڈر کی وجہ سے دوسری صف میں چلا گیا، پہلی صف کا مکمل صفایا ہوگیا ،ہلاکو خان کی نظروں نے اس بوڑھے کو دیکھ لیا تھا کہ وہ موت کے خوف سے اپنی پہلی صف چھوڑ کر دوسرے صف میں چلا گیا تھا، ہلاکو خان گھوڑے پہ بیٹھا ہوا ہاتھ میں طاقتور گرز لیے اچھال کر اس سے کھیل رہا تھا اور مسلمان عں کے قتل کا منظر دیکھ کر اس کھیل سے خود کو خوش کررہا تھا ،جلادوں نے دوسری صف پہ تلوار کے وار شروع کیے ، گردنیں آن کی آن میں گرنے لگیں ،
جلاد تلوار چلا رہے تھے اور خون کے فوارے اچھل اچھل کر زمین پہ گررہے تھے، اس بوڑھے بابا نے جب دیکھا کہ دوسری صف کے لوگوں کی گردنیں کٹ کر اس کی باری بہت جلد آنے والی ہے تو وہ بھاگ کر تیسری صف میں کھڑا ہوگیا، ہلاکو خان کی نظریں بوڑھے پہ جمی ہوئی تھی کہ اب تو تیسری صف آخری ہے اسکے بعد یہ کہاں چھپنے کی کوشیش کرے گا ؟ اس بیوقوف بڈھے کو میری تلوار سے کون بچا سکتا ہے، میں نے لاکھوں انسان مار دیئے تو یہ کب تک بچے گا ؟تیسری صف پہ جلادوں کی تلوار بجلی بن کر گر رہی تھی، ہلاکو خان کی نظریں مسلسل اس بوڑھے پہ تھی کہ کیسے وہ بے چین ہوکر موت کی وجہ سے بے قرار ہے، تیسری صف کے انسانوں کی گردنیں گررہی تھی، جلاد بجلی کی سی تیزی سے اس بوڑھے بابا کو پہنچا تو ہلاکو خان کی آواز گونجی ،رک جاو! اس کو ابھی کچھ نہ کہو ،بابا بتا پہلی صف سے تو دوسری صف میں بھاگ آیا،جب وہ ختم ہوئی تو تو تیسری صف میں بھاگ آیا،بابا اب بتا، پیچھے تو کوئی اور صف بھی نہیں اب تو بھاگ کی کہاں جائیگا، اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا ؟
اس بوڑھے نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا، میں نے پہلی صف کو اسلیے چھوڑا کہ شاید میں دوسرے میں بچ جاو، لیکن موت وہاں بھی پہنچی، پھر میں دوسری صف کو چھوڑ دیا، کہ شاید تیسری میں بچ جاؤں ،ہلاکو نے گرز کو ہاتھ میں اچھالتے ہوے کہا بابا کیسی حام خیالی ہے یہ کیسی بہکی باتیں کررہے ہو بھلا تمہیں میری تلوار سے بھی کوئی بچا سکتا ہے؟بوڑھے مسلمان نے زمین وآسمان کی ہر چیز کے مالک اس واحد لاشریک رب پر بےانتہا یقین کے ساتھ کہا، وہ اوپر والی ذات اگر چاہے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے اور اگر وہ چاہے تو مجھے تجھ سے بچا سکتا ہے ،
کیسے بچا سکتا ہے؟ ہلاکو خان نے اتنے تکبر میں آکر کہا کہ اسکے ہاتھ سے گرز گر پڑا ،ہلاکو خان چابک دست ہوشیار جنگجو اور چالاک انسان تھا، ہلاکو خان گھوڑے کے اوپر بیٹھے بیٹھے گرے ہوئے گرز کو اٹھانے کے لیے خود کو جھکایا کہ زمین پہ گرنے سے پہلے وہ اسے ہوا میں ہی پکڑ لے، اسی کوشیش میں ہلاکو خان کا ایک پاوں رکاب سے نکلا اور وہ اپنے گھوڑے سے نیچے آپڑا، جبکہ دوسرا پاؤں رکاب میں ہی پھنس کر رہ گیا ،ہلاکو خان کا گھوڑا اتنا ڈر گیا کہ بھاگ نکلا، ہلاکو نے خود کو بچانے کی بڑی کوشیش کی، لشکر بھی حرکت میں آگیا لیکن گھوڑا اتنا طاقتور تھا کہ کسی کے قابو میں نہ آیا، وہ ہلاکو کو پتھروں میں گھسیٹ گھسیٹ کر بھاگتا رہا، یہاں تک کہ ہلاکو کا سر پتھروں سے پٹخ پٹخ کر اسقدر لہولہان ہوگیا کہ اس کی روح چند ہی منٹوں میں اپنے اس تکبر بھرے وجود کو چھوڑ کر جہنم رسید ہوگئی ،لشکر نے جب بےانتہا کوششوں کے بعد ہلاکو خان کے طاقتور گھوڑے کو قابو کیا تو اس وقت تک اسکا سر برے طریقے سے کچلا جاچکا تھا ،ہلاکو کا لشکر اس بوڑھے بزرگ سے اتنا خوفزداہ ہوگیا کہ لشکر نے اسے جان بوجھ کر نظر انداز کردیا اور وہ بابا بڑے آرام وسکون سے پیدل ہی اپنے گھر کیطرف چل پڑا ٬مظلوم کی آہ سے ڈرو کیونکہ جب وہ اللہ سے رجوع کرتا ہے تو قبولیت بہت دور سے اسکا استقبال کرنے آتی ہے!یہ تحریر تمام اہل ایمان خصوصاً قانون و انصاف کے رکھوالوں کے لئے ہے۔
(و اللہ عالم )
اللّٰہُ اکبرسبحان اللّٰہِ وبحمدہ سبحان اللّٰہِ العَظِیم
حلقہ دانش کدہ
حلقہ دانش کدہ بازوق لوگوں کے لیےایک تخلیقی،ادبی کاوش ہ?
اصلی ٹھگز آف ھندستان کون تھے؟
ٹھگ لفظ سنتے ہی لوگوں کے دماغ میں ایک چالاک اور مکار آدمی کی تصویر ابھرتی ہے جو جھانسا دے کر کچھ قیمتی سامان ٹھگ لیتا ہے لیکن انڈیا میں 19ویں صدی میں جن ٹھگوں سے انگریزوں کا پالا پڑا تھا، وہ اتنے معمولی لوگ نہیں تھے۔
ٹھگوں کے بارے میں سب سے دلچسپ معلومات سنہ 1839 میں شائع ہونے والی کتاب ’کنفیشنز آف اے ٹھگ‘ سے ملتی ہیں۔ کتاب کے مصنف پولیس سپریٹنڈنٹ فلپ میڈوز ٹیلر تھے لیکن کتاب میں انھوں نے بتایا ہے کہ انھوں نے ’اسے صرف قلم بند کیا ہے۔‘
دراصل، ساڑھے پانچ سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب ٹھگوں کے ایک سردار امیر علی خان کا ’کنفیشن‘ یعنی اعترافی بیان ہے۔
فلپ میڈوز ٹیلر نے امیر علی خان سے جیل میں کئی دنوں تک بات کی اور سب کچھ لکھتے گئے۔ ٹیلر کے مطابق ’ٹھگوں کے سردار نے جو کچھ بتایا، اسے میں تقریباً لفظ بہ لفظ لکھتا گیا، یہاں تک کہ اسے ٹوکنے یا پوچھنے کی ضرورت بھی کم ہی پڑتی تھی۔‘
امیر علی خان کا بیان اتنا تفصیلی اور دلچسپ ہے کہ وہ ایک ناول بن گیا اور چھپتے ہی اس نے دھوم مچا دی۔ رڈیارد کپلنگز کے مشہور ناول ’کم‘ (اشاعت:1901) سے تقریباً 60 سال پہلے شائع ہونے والی اس کتاب کی ایک اور خاصیت تھی کہ یہ کسی انگریز کا نظریہ نہیں لیکن ایک ہندوستانی ٹھگ کا ’فرسٹ پرسن اکاؤنٹ‘ یعنی اس کی اپنی کہانی ہے جو اس نے خود سنائی۔
ٹیلر کا کہنا ہے کہ امیر علی خان جیسے سینکڑوں سردار تھے جن کی سرپرستی میں ٹھگی کا دھندا چل رہا تھا۔ امیر علی خان سے جب ٹیلر نے پوچھا کہ تم نے کتنے لوگوں کو مارا تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’اور صاحب، وہ تو میں پکڑا گیا، نہیں تو ہزار پار کر لیتا۔ آپ لوگوں نے 719 پر ہی روک دیا۔‘
ٹھگی کا عالم تھا کہ انگریزوں کو ان سے نمٹنے کے لیے ایک الگ محکمہ بنانا پڑا تھا، وہی محکمہ بعد میں انٹیلی جنس بیورو یا آئی بی کے نام سے جانا گیا۔
ٹیلر نے لکھا تھا کہ ’اودھ سے لے کر دکن تک ٹھگوں کا جال پھیلا ہوا تھا، انھیں پکڑنا بہت مشکل تھا کیونکہ وہ بہت خفیہ طریقے سے کام کرتے تھے۔ انھیں عام لوگوں سے الگ کرنے کا کوئی طریقہ ہی سمجھ نہیں آتا تھا۔ وہ اپنا کام منصوبہ بندی اور بے حد چالاکی سے کرتے تھے تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔‘
ٹھگوں سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے ڈپارٹمنٹ کے سپریٹنڈنٹ کپٹن رینولڈز نے سنہ 1831 سے 1837 کے درمیان ٹھگوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا 1838 میں تفصیلات بیان کی تھیں۔
اس بیورو کے مطابق پکڑے گئے جن 1059 لوگوں کا جرم پوری طرح ثابت نہیں ہو سکا تھا انھیں دور ملائشیا کے پاس پیناگ جزیرے پر لے جا کر چھوڑ دیا گیا تاکہ وہ دوبارہ واردات نہ کر سکیں۔ اس کے علاوہ 412 کو پھانسی دی گئی اور 87 کو عمر قید کی سزائے ہوئی۔
#ٹھگوں کی پراسرار زندگی
ٹھگوں کے لیے انگریزوں نے ’سیکرٹ کلٹ‘، ’ہائی وے روبرز‘ اور ’ماس مرڈرر‘ جیسے الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ ’کلٹ‘ کہلائے جانے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اپنے رسم و رواج، اقدار، روایات، اصول اور طور طریقے تھے جن کا وہ بہت پابندی سے مذہب کی طرح احترام کرتے تھے۔ ان کی اپنی ایک الگ خفیہ زبان تھی جس میں وہ آپس میں بات کرتے تھے۔ اس زبان کو رماسی کہا جاتا تھا۔
انڈیا میں ٹھگوں کی کمر توڑنے کا سہرا میجر جنرل ولیم ہینری سلیمن کو دیا جاتا ہے جنھیں انگریز حکومت نے ’سر‘ کے خطاب سے نوازا تھا۔
سلیمن نے لکھا ہے کہ ’ٹھگوں کے گروہ میں ہندو اور مسلمان دونوں ہیں۔ ٹھگی کی شروعات کیسے ہوئی یہ بتانا ناممکن ہے، لیکن اونچے رتبے والے شیخ سے لے کر خانہ بدوش مسلمان اور ہر ذات کے ہندو اس میں شامل تھے۔‘
مہورت سے ہوتا تھا ہر کام چاہے ہندو ہوں یا مسلمان، ٹھگ شبھ مہورت دیکھ کر، پوجا پاٹھ کر کے اپنے کام پر نکلتے تھے، جسے ’جتائی پر جانا‘ کہا جاتا تھا۔ ٹھگی کا موسم عام طور پر درگا پوجا سے لے کر ہولی کے درمیان ہوتا تھا۔
تیز گرمی اور بارش میں رستوں پر مسافر بھی کم ملتے تھے اور کام کرنا مشکل ہوتا تھا۔ الگ الگ گروہ اپنے عقیدے کے حساب سے مندروں میں درشن کرنے جاتے تھے۔
زیادہ تر ٹھگ گروہ کالی ماتا کی پوجا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ہر اگلے قدم سے پہلے شگن اور اپشگن کا وچار کرتے تھے۔ الّو کے بولنے، کوّے کے اڑنے، مور کے چلّانے، لومڑی کے دکھائی دینے جیسی ہر چیز کا وہ اپنے حساب سے مطلب نکالتے تھے۔
جتائی پر جانے سے سات دن پہلے سے 'ساتا'، شروع جاتا تھا۔ اس دوران ٹھگ ان کے خاندان کے ارکان کھانے پینے، سونے اٹھنے اور نہانے حجامت بنانے وغیرہ کے معاملے میں کڑے اصولوں کا خیال رکھا کرتے تھے۔
ساتا کے دوران باہر کے لوگوں سے میل جول، کسی اور کو بلانا یا اس کے گھر جانا نہیں ہوتا تھا۔ اس دوران کوئی دان نہیں دیا جاتا تھا، یہاں تک کہ کتّے بلّی جیسے جانوروں کو بھی کھانا نہیں دیا جاتا تھا۔ جتائی سے فارغ ہو کر لوٹنے کے بعد پوجا اور خیرات جیسے کام ہوتے تھے۔
اسی طرح ’اٹب‘ کے اصولوں کا احترام ہوتا تھا۔ ٹھگوں کا اس بات پر یقیقن تھا کہ کام پر نکلنے سے پہلے پوری طرح تیار ہونا بہت ضروری ہوتا تھا۔ گروہ کے کسی ٹھگ کے گھر میں کوئی پیدائش یا موت ہونے پر دس دنوں کے لیے، پالتو جانوروں کی موت ہونے پر تین دن کے لیے، اور اسی طرح جنم ہونے پر سات دن کے لیے یا تو پورا گروہ رک جاتا تھا یا وہ ٹھگ کام پر نہیں جاتا تھا، جس کے خاندان میں جنم یا موت ہوئی ہو۔
’میری کتاب میرے مرنے کے بعد شائع کی جائے‘
'یہ لڑکیاں کیا لڑکوں سے کم ہیں؟'
’کسی‘ کی اہمیت، مارے جانے والے لوگوں کی قبر جس کدال سے کھودی جاتی تھی، اسے ’کسی‘ کہا جاتا تھا۔ کسی سب سے زیادہ اہمیت کی چیز تھی۔
تحقیق کے بعد اردو اور ہندی میں لکھے گئے ناول ’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘ میں شمس الرحمان فاروقی نے کسی کی پوجا کا طریقہ کچھ اس طرح بیان کیا ہے۔
’ایک صاف ستھری جگہ پر تھالی میں پانی سے کدالی کو دھو دیا جاتا ہے۔ پھر پوجا کا طریقہ کار جاننے والا ٹھگ بیچ میں بیٹھتا ہے، باقی ٹھگ نہا دھو کر اس کے چاروں طرف بیٹھتے ہیں، کدالی کو پہلے گڑ کے شربت، پھر دہی کے شربت اور آخر میں شراب سے نہلایا جاتا ہے۔ پھر تل، اور پھول سے اس کی پوجا کی جاتی ہے۔ کدالی کی نوک پر سندور سے سات ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔ اس کدالی سے ایک ناریل پھوڑا جاتا ہے۔ ناریل پھوٹنے پر سبھی ٹھگ، چاہے ہندو ہوں یا مسلمان 'جے دیوی مائی کی' بولتے ہیں۔‘
ٹھگوں کے درمیان ایسی کہانیاں مشہور تھیں کہ ان پر کدال دیوی کا مہربانی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور خاص بات یہ تھی کہ ٹھگوں کا یقین تھا کہ اگر وہ اصولوں کا احترام کرتے ہوئے اپنا کام کریں گے تو دیوی ماں کی ان پر مہربانی رہے گی۔
پہلا اصول یہ تھا کہ قتل میں ایک بوند بھی خون نہیں بہنا چاہیے، دوسرا کسی خاتون یا بچے کو کسی حال میں نہیں مارا جانا چاہیے، تیسرا جب تک مال ملنے کی امید نہ ہو، قتل بالکل نہیں ہونا چاہیے۔
ٹیلر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ امیر علی خان کو اپنے کیے پر ذرا بھی پچھتاوا نہیں تھا۔ دوسرا سبھی ٹھگوں کے بارے میں بھی میجر جنرل سلیمن نے لکھا ہے کہ ’وہ مانتے ہی نہیں تھے کہ وہ کچھ غلط کر رہے ہیں، جن کی نظر میں یہ مختلف پیشوں کی طرح کا ایک پیشہ تھا اور ان کے من میں ذرا بھی پچھتاوا یا دکھ نہیں تھا کہ کس طرح معصوم لوگوں کو مار کر وہ غائب کر دیتے ہیں۔‘
#کیسے ہوتی تھی راستوں پر ٹھگی؟
جتائی پر نکلنے والے ٹھگوں کا گروہ 20 سے 50 تک کا ہوتا تھا۔ وہ عام طور پر تین دستوں میں چلتے تھے، ایک پیچھے، ایک درمیان میں اور ایک آگے۔ ان تینوں دستوں کے درمیان تال میل کے لیے ہر ٹولی میں ایک دو لوگ تھے جو ایک کڑی کا کام کرتے تھے۔ وہ اپنی چال تیز یا دھیمی کرکے آگے ہوتے یا ساتھ آسکتے تھے۔
زیادہ تر ٹھگ، کئی زبانیں، گانا بجانا، بھجن کیرتن، نعت، قوالی اور ہندو مسلمان دونوں مذاہب کے طور طریقے اچھی طرح جانتے تھے۔ وہ ضرورت کے مطابق یاتری، باراتی، مزار کے زائرین یا نقلی جنازہ نکالنے والے بن جاتے تھے۔
ایک راستے میں وہ کئی بار اپنا روپ بدل لیتے تھے۔ ظاہر ہے، وہ بھیس بدلنے میں بھی خاصے ماہر تھے۔ وہ بہت اطمینان سے کام کرتے تھے، اپنے شکار کو ذرا بھی بھنک نہیں لگنے دیتے تھے۔ کئی بار تو لوگ ٹھگوں کے ڈر سے ہی اصلی ٹھگوں کو شریف سمجھ کر ان کی گرفت میں آجاتے تھے۔
ٹھگوں کے سردار عام طور پر پڑھے لکھے عزت دار آدمی کی طرح دکھائی دینے والے لوگ ہوتے تھے اور باقی اس کے طرح طرح کے کارندے۔
فلپ میڈوز ٹیلر کی کتاب ’کنفیشنز آف اے ٹھگ‘ میں امیر علی خان نے تفصیل سے بتایا ہے کہ کیسے وہ بڑے سیٹھوں اور مالدار لوگوں سے ضرورت کے حساب سے کبھی کسی نواب کے سپاہ سالار کی طرح ملتا تھا، کبھی مولوی کی طرح تو کبھی یاتری کا روپ دھار کر پنڈت کی طرح۔
امیر علی خان نے بتایا کہ ٹھگوں کے کام بٹے ہوئے تھے۔ ’سوٹھا‘ گروہ کے سب سے سمجھدار رکن، لوگوں کو باتوں میں پھنسانے والے لوگ تھے جو شکار کی تاک میں سرائے کے آس پاس منڈلاتے تھے۔ وہ آنے جانے والوں کی ٹوہ لیتے تھے، پھر ان کے مال اسباب اور حیثیت کا اندازہ لگا کر اسے اپنے چنگل میں پھنساتے تھے۔ امیر علی خان کے گروہ کا سوٹھا گوپال تھا جو 'بہت ہوشیاری سے اپنا کام کرتا تھا۔‘
شکار کی پہچان کرنے کے بعد کچھ لوگ اس کے پیچھے، کچھ آگے اور کچھ سب سے آگے چلتے۔ راستے بھر دھیرے دھیرے کر کے ٹھگوں کی تعداد بڑھتی جاتی لیکن وہ ایسا ظاہر کرتے جیسے ایک دوسرے کو بالکل بھی نہیں جانتے اپنے ہی لوگوں کو جتھے میں شامل ہونے روکنے کا ناٹک کرتے تھے تاکہ شک نہ ہو۔ یہ بہت صبر کا کام تھا، ہربڑاہٹ کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
امیر علی خان نے ٹیلر کو بتایا تھا کہ کئی بار تو ہفتہ دس دن تک صحیح موقعے کا انتظار کیا جاتا تھا۔ اگر کسی گربڑ کا اندیشہ ہو تو واردات ٹال دی جاتی تھی۔
#کمال کا اتفاق
سب سے آگے چلنے والے دستے میں ’بول‘ یعنی قبر تیار کرنے والے لوگ ہوتے تھے۔ انھیں درمیان والے دستے میں سے کڑی کا کام کرنے والا بتا دیتا تھا کہ کتنے لوگوں کے لیے قبر بنانی ہے۔ پیچھے والا دستہ نظر رکھتا تھا کہ کوئی خطرہ ان کی طرف تو نہیں آ رہا۔ آخر میں تینوں بہت پاس پاس آ جاتے لیکن اس کی خبر شکار کو نہیں ہوتی تھی۔
کئی دن گزر جانے کے بعد جب شکار چوکنا نہیں ہوتا تھا اور جگہ معقول ہوتی تھی تب گروہ کو کارروائی شروع کرنے کے لیے پہلے سے طے شدہ اک اشارہ دیا جاتا تھا جو ایک فرضی نام ہوتا تھا۔ امیر علی خان نے اپنے بیان میں بتایا کہ اس کے لیے 'سرمست خاں'، 'لدن خاں'، 'سربلند خاں'، 'ہری رام' یا 'جے گوپال' جیسے ناموں کا استعمال ہوتا تھا۔
یہ پہلا اشارہ تھا کہ اب کارروائی ہونے والی ہے۔ اس کے بعد ٹھگوں میں سب سے 'عزت دار' لوگوں کی باری آتی تھی جنھیں 'بھتوٹ' یا 'بھتوٹی' کہا جاتا تھا۔
ان کا کام بنا خون بہائے رومال میں سکہ باندھ کر بنائی گئی گانٹھ سے شکار کا گلا گھونٹنا ہوتا تھا۔ ہر ایک شکار کے پیچھے ایک بھتوٹ ہوتا تھا، پورا کام ایک ساتھ دو تین منٹ میں ہوتا تھا۔ اس کے لیے مستعد ٹھگ اپنے سرغنہ کی 'جھرنی' کا انتظار کرتے تھے۔
#جھرنی کیا تھی؟
جھرنی آخری اشارہ ہوتا تھا کہ اپنے آگے کھڑے یا بیٹھے شکار کے گلے میں پھندا ڈال کر کھینچا جائے۔ امیر علی خان نے ایک جھٹکے میں 12 سے 15 تندرست مردوں کا کام تمام کرنے کا عمل بے حد آسانی سے کیا ہے۔
اس نے ٹیلر کو بتایا کہ 'اشارہ یا جھرنی عام طور پر تمباکو کھا لو، حقہ پلاؤ یاگانا سناؤ جیسا چھوٹا واقعہ ہوتا تھا۔ پھر پلک جھپکتے ہی بھتوٹ شکار کے گلے میں پھندا ڈال دیتے تھے اور دو تین منٹ میں آدمی تڑپ کر ٹھنڈا ہو جاتا تھا۔'
اس کے بعد لاشوں سے قیمتی سامان ہٹاکر انھیں پہلے سے کھودی ہوئی قبروں میں 'ایک کے سر کی طرف دوسرے کا پیر' والی ترکیب سے ڈال دیا جاتا تھا تاکہ کم سے کم جگہ میں زیادہ لاشیں آ سکیں۔
اس کے بعد جگہ کو ہموار کر کے اس کے اوپر کانٹے دار جھاڑیاں جو پہلے سے تیار رکھی ہوتی تھیں، لگا دی جاتیں تھیں تاکہ جنگلی جانور قبر کو کھودنے کی کوشش نہ کریں۔ اس طرح پورا قافلہ ہمیشہ کے لیے غائب ہو جاتا تھا اور ٹھگ بھی۔
ٹھگ ایک الگ طرح کی مخلوق تھی
امیر علی خان نے اپنے بیان میں بتایا کہ آج کے اترپردیش کے ضلع جالون میں وہ اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ رہتا تھا۔ زیادہ تر لوگ اسے مسلمان زمیندار یا سوداگر سمجھتے تھے۔ سال کے سات آٹھ مہینے وہ گھر پر ایک عزت دار مسلمان کی طرح رہتا اور صحیح وقت پر پوجا کرنے چار مہینے کے لیے ’جتائی‘ پر نکل جاتا تھا۔
بہت کم لوگ جانتے تھے کہ کون ٹھگ ہے، لیکن ایک پورا نیٹ ورک تھا۔ امیر علی خان کے مطابق کئی چھوٹے بڑے زمیندار اور نواب ٹھگوں سے نذرانہ وصول کرتے تھے اور مصیبت کے وقت انھیں پناہ بھی دیتے تھے لیکن انگریزوں کو اس کی بھنک نہیں لگنے دیتے تھے۔
اسی طرح، کئی زمینداروں نے ٹھگوں کو اپنی غیر زرعی زمین استعمال کرنے کی چھوٹ دے رکھی تھی جن میں وہ اجتماعی قبریں کھودتے تھے۔ اس کے بدلے میں انھیں ٹھگوں سے حصہ ملتا تھا۔
اسی طرح ہر جگہ ٹھگوں کے مخبر اور ان کے مددگار موجود تھے۔ مدد کرنے والے ان لوگوں کو تو کئی بار پتا بھی نہیں ہوتا تھا کہ کس کا ساتھ دے رہے ہیں۔
کون ٹھگ تھا اور کون نہیں، انگریز اس پہیلی سے لگاتار نبرد آزما رہے تھے۔ فلپ میڈوز ٹیلر نے اپنی کتاب کے آغاز میں 1825-26 کا ایک دلچسپ قصہ لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ 'میری تعیناتی ہنگولی میں تھی وہاں ہری سنگھ نام کا ایک بیوپاری تھا۔ ہم اس سے لین دین کرتے تھے۔ ایک دن اس نے ممبئی سے کچھ کپڑا لانے کا پرمٹ مانگا، جو اسے دے دیا گیا۔ وہ کپڑا لے آیا اور اس نے ملٹری کینٹونمنٹ میں کپڑا بیچا۔ دراصل، وہ کپڑا کسی اور بیوپاری کا تھا۔ ہری سنگھ نے اسے اور اس کے کارندوں کو مار کر کپڑا لوٹ لیا تھا۔ ہری سنگھ دراصل ٹھگ تھا۔'
انگریزوں کو ہری سنگھ کے ٹھگ ہونے کا پتا کئی سال بعد چلا جب اس نے پکڑے جانے کے بعد انگریزوں کا مذاق اڑایا اور بتایا کہ 'کیسے کپڑے کا پرمٹ لے کر اس نے 'گورے صاحب کو اُلّو بنایا تھا۔'
سنہ 1835 کے بعد کے سالوں میں جب ٹھگ پکڑے جانے لگے اور ان کے پول کھلنے لگے تو پتا چلا کہ ٹھگی کتنے بڑے پیمانے پر جاری تھی۔ فلپ میڈوز ٹیلز نے لکھا ہے کہ 'میں مندسور میں سپریٹنڈنٹ تھا۔ جب ہم نے وعدہ معاف سرکاری گواہ بنے ایک ٹھگ کی نشاندہی پر زمین کھودنا شروع کی تو اتنی اجتماعی قبریں ملیں کہ ہم نے پریشان ہو کر کھدائی کرنا ہی بند کر دی۔'
ٹھگوں پر بھاری افریقی غلام
شمس الرحمان فاروقی کے ناول ’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘ میں 1843-44 میں رامپور کے نواب کے خاص درباری مرزا تراب علی کے ٹھگوں کے ہاتھوں مارے جانے کا قصہ ملتا ہے۔
اس میں بتایا گیا ہے کہ ریاست بہار کے شہر سونپور میں میلے سے ہاتھی گھوڑے خریدنے کے لیے جانے والے نواب کے سپہ سالار اور ان کے چھ ساتھیوں کو ٹھگوں نے مار ڈالا۔
مرزا تراب علی اور ان کے ساتھیوں کے قتل کے بارے میں جو تفصیل ملی، اس کے مطابق ٹھگوں نے ایک مسلمان راہگیر کی نماز جنازہ پڑھانے کے بہانے اسلحے سے لیس تراب علی اور ان کے ساتھیوں کو گھوڑوں سے نیچے اتارا تھا۔ جب وہ نماز پڑھ رہے تھے، تبھی 'تمباکو کھلاؤ' کی آواز آئی اور سات لوگ رومال سے گلا گھونٹ کر مار ڈالے گئے۔
جب تراب علی رامپور لوٹ کر نہیں آئے تو نواب کو شک ہوا کہ کہیں ٹھگوں کے شکار تو نہیں بن گئے۔ انھوں نے افریقہ سے غلام بنا کر گجرات کےساحل پر لائے گئے افریقیوں کی کہانیاں سن رکھی تھیں، جنھیں 'شیدی' کہا جاتا ہے۔ انھوں نے اس کام کے لیے شیدی اکرام اور شیدی منیم کی مدد لی۔
شیدیوں کے بارے میں فاروقی لکھتے ہیں کہ انہیں: ’نسل کے لحاظ سے شیدی اور کام لحاظ سے کھوجیا کہا جاتا تھا۔ ان کے ہنر کی بات دور دور تک پھل چکی تھی۔ انھیں گجرات سے اودھ تک بلایا جانے لگا تھا۔ قدموں کے نشان، لاپتہ لوگوں کا پتا لگانا اور مفرور لوگوں کے سراغ ڈھونڈنے میں وہ ماہر تھے۔ آپس میں وہ سواہلی میں جبکہ دوسرے لوگوں سے ہندی میں بات کرتے تھے۔‘
رامپور کے نواب نے اپنے وفادار مرزا تراب علی اور ان کے ساتھیوں کا پتا لگانے کے لیے شیدیوں کو بھیجا۔ شیدی سارے راستے ہر چیز کی باریک پڑتال کرتے چلتے رہے۔ شمس الرحمان فاروقی لکھتے ہیں کہ ’وہ ایک بڑے چکور میدان میں پہنچے جہاں انھوں نے لکڑی سے لکیریں کھینچ کر بڑے بڑے چوکور خانے بنائے۔ اس کے بعد انھوں نے ایک ایک کر کے ان خانوں کو سونگھنا اور ان کی مٹی کو کریدنا شروع کیا۔ وہ کسی کھوجی کتے سے بھی زیادہ توجہ سے اپنا کام کر رہے تھے۔‘
انھوں نے ایک جگہ پہنچ کر اواز لگائی ’جمعدار جی، وہ مارا، یہاں کھدائی کرواؤ۔‘ جب وہاں کھدائی کی گئی تو مرزا تراب علی سمیت نواب کے سبھی کارندوں کی لاشیں مل گئی۔
شیدی آج بھی گجرات ریاست کے کچھ علاقوں میں بسے ہوئے ہیں لیکن ٹھگوں کا صفایا ہو چکا ہے۔
ٹھگ امیر علی خان کے بارے میں ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسے اس ٹھگ نے بہت پیار سے اپنے بیٹے کی طرح پالا تھا، جس نے اس کے باپ کو ایک واردات کے دوران مار ڈالا تھا۔ عامر کو گود لینے والے ٹھگ باپ سے ٹھگی کا سبق ملا تھا، اسی وجہ سے ٹھگی کو وہ ایک نیک کام سمجھتا تھا۔
07/07/2020
گوجرانوالہ کا قصبہ ایمن آباد، مسلم، سکھ اور ہندو تہذیب اور فن تعمیر کا وارث ہے، یہاں تینوں مذاہب کے مقدس مقامات کے قدیم آثار موجود ہیں۔ جن میں تین قدیم ترین شیومندر، گورودوارہ روڑی صاحب اورعثمانیہ مسجد شامل ہے۔ اس وقت گورودوارہ روڑی صاحب تو آباد ہے تاہم مسجد اور مندروں کی حالت انتہائی خستہ حال ہے۔
ایمن آباد کے رہائشی عدیل احمد نے بتایا کہ یہ قدیم مسجد 550 سال پہلے لودھی خاندان نے تعمیرکروائی تھی، یہ مسجد فن تعمیرکا شاہکار ہے کیونکہ اس کی تعمیر میں کوئی پلر اور لینٹر استعمال نہیں ہوا ہے، آج اس مسجد کا صرف مرکزی حصہ موجود ہے جس پر بنا گنبد میلوں دور سے دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قیام پاکستان سے پہلے ہی مسجد کے کھنڈرات اسی طرح تھے، اس مسجد کا شمار پاکستان میں موجود چند قدیم ترین مساجد میں ہوتا ہے، اس مسجد کے قریب ہی ایک بڑا تالاب ہے جبکہ اس سے تالاب سے چندفرلانگ کے فاصلے پرشاہی مہمان خانے کے کھنڈرات ہیں۔ تالاب کے چاروں طرف پختہ اینٹوں سے دیوار بنائی گئی ہے جبکہ ایک طرف سیڑھیاں اس تالاب کی اندر جاتی ہیں، مسجد کا درمیانی درواذہ بڑا جبکہ دائیں بائیں قدرے چھوٹے دو دروازے ہیں، دائیں طرف سیڑھیاں مسجد کے چھت تک جاتی ہیں۔
اس مسجد کے حوالے سے کئی روایات بھی مشہور ہیں، یہ ”ایمن” نام کی ایک لڑکی کا مقبرہ ہے جو کہ کسی لڑائی میں فوجیوں کو پانی پلاتے ہوئے شہید ہوگئی- وہ لڑائی کون سی تھی؟ اور کن کے درمیان لڑی گئی؟ اس حوالے سے کوئی بات معلوم نہیں ہے- مقامی روایات کے مطابق اسی ایمن کے نام پر اس قصبہ کا نام ”ایمن آباد” رکھا گیا تاہم آثار قدیمہ کے ماہرین ان روایات کو درست نہیں مانتے ہیں۔
چھٹی کے روز مقامی سیاح ان کھنڈرات کو دیکھنے آتے ہیں یا پھر جب بھارت سمیت مختلف ممالک سے سکھ یاتری گورو دواری روڑی صاحب کے درشن کے لئے آتے ہیں تو وہ ان کھنڈرات کو بھی دیکھتے ہیں، سیاحت کے شوقین کئی نوجوان بھی یہاں آتے رہتے ہیں اور یہاں اپنی سیلفیاں بناتے ہیں، تاریخی مقامات سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لئے ایک مسجد ایک اہم سیاحتی مقام کا درجہ رکھتی ہے۔
گوجرانوالہ سے آنے والے ایک نوجوان فرقان احمد نے بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ یہاں تفریح کے لئے آئے ہیں، یہ قدیم آثار اس خطے کی ثقافت اور تاریخ کا حصہ ہیں، انہیں محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے، اس شاندار مسجد کا جو حصہ باقی ہے اس کے ساتھ مزید حصے کو بحال کردیا جاتا تو آج یہ مسجد بھی آباد ہوتی اور یہاں نماز ادا کی جاسکتی تھی، یہاں آنے والے سیاحوں کا کہنا ہے کہ جس طرح وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں سیاحت کو فروغ دیا جائے گا تو ایمن آباد میں جس طرح تین مختلف مذاہب کے مقدس مقامات کے آثار موجود ہے اس علاقے کو مذہبی سیاحتی مقام کے حوالے سے ڈویلپ کیا جاسکتا ہے۔
اس مسجد کی کچھ حصوں کی بحالی کا کام بھی محکمہ آثار قدیمہ نے انجام دیا ہے جب کہ اس کی ایک دیوار پر محکمہ کی طرف سے ایک بورڈ بھی لگایا گیا ہے- جس میں اس مسجد کو تاریخی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ پنجاب کے ڈائریکٹر ملک مقصود نے بتایا کہ پنجاب کی سرزمین پر سیکڑوں عمارتوں کے آثارموجود ہیں، ان میں سے جو زیادہ اہمیت کے حامل تھے ان کو محفوظ کیا گیا جبکہ ان کی آرائش وتزئین بھی کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ قدیم لودھی مسجد ایک نجی اراضی پر ہے لیکن اس کے باوجود ہم نےاس کے باقی ماندہ حصے کو محفوظ کرکے اسے آثار قدیمہ کا درجہ دیا ہے ۔ ہم نے رواں مالی سال کے دوران اس مسجد کے حوالے سے فنڈز مختص کئے تھے، ہمارا پروگرام ہے کہ مسجد کے گرد ایک چاردیواری کرکے گیٹ لگادیا جائے تاکہ موجودہ آثار کو محفوظ رکھاجاسکے، جیسے ہی فنڈز جاری ہوں گے یہ کام شروع ہوجائے گا۔
19/05/2020
خدایا بحقِ بنی فاطمہ
کہ برِ قولِ ایماں کنی خاتمہ
اے خدا حضرت فاطمہؓ کی اولاد کے صدقے
میرا خاتمہ ایمان پر کرنا۔
اگر دعوتم رد کنی، ور قبول
من و دست و دامانِ آلِ رسول
چاہے تو میری دعا کو رد کر دے یا قبول کر،
کہ میں آلِ رسولﷺ کے دامن سے لپٹا ہوا ہوں۔
چہ وَصفَت کُنَد سعدیِ ناتمام
علیکَ الصلوٰۃ اے نبیّ السلام
سعدی ناتمام و حقیر آپﷺکا کیا وصف بیان کرے،
اے نبی ﷺ آپ پر صلوۃ و سلام ہو !
کلام :۔ ابو محمد مصلح الدین بن عبداللّٰہ شیخ سعدی شیرازیؒ
صرف پڑھائی شڑھائی کسی کام کی نہیں ہوتی
میرے سامنے ایک نہیں بے شمار مثالیں ہیں ۔
ساری زندگی اولاد کو بتایا گیا کہ بیٹا پڑھو گے تو اچھی زندگی گزارو گے ، اچھی نوکری ملے گی ، اچھا مستقبل ہوگا ، بڑی گاڑی ہوگی ، عیاشی ہو گی ، مٹی تے سواہ !
بچے نے بی اے کیا ، ایم اے کیا ، ایم فل کر لیا اور بعض اوقات تو پی ایچ ڈی کر کے بھی جو نوکری حاصل کی اس میں اتنی تنخواہ نہیں بنی کہ صرف گھر کے بل ہی ادا ہو جائیں ۔
لمبی چوڑی گپوں کی بجائے سیدھی بات یہ کہ پڑھائی کے اس وقت دو لیول ہیں ۔ ایک وہ جو غریب کا بچہ حاصل کرتا ہے ۔
دوسرا وہ جو امیر ترین ماں باپ افورڈ کر سکتے ہیں۔
بہت ہی کوئی کرم ہو تو غریبوں کی پڑھائی انہیں وہ سب کچھ دلا سکتی ہے ، جس کا خواب ان کے ماں باپ دیکھتے اور دکھاتے ہیں ورنہ ککھ نہیں ملتا سوائے ڈپریشن کے ۔
آپ کسی بھی سرکاری یونیورسٹی سے ایم اے کرکے کیا لگ سکتے ہیں ؟ جو بھی لگے اور جہاں بھی لگے ، کتنی تنخواہ ہوگی ؟ کیا اس میں گھر چلا سکیں گے ؟ ہاں ویسے ہی روتے دھوتے ( چلائیں گے ) ، جیسے پچانوے فیصد پاکستانی چلاتے ہیں ۔
امیر کا بچہ ادھر فُل انگریزی تعلیم تو لے گا ہی اور اس پر آخری مہر لگوانے ، امریکہ یا برطانیہ میں کسی ورلڈ کلاس یونیورسٹی کا منہ کرے گا ۔ زیادہ تر تو وہیں نوکری کر لیں گے ، جو ادھر لینڈ کریں گے ان کے ماں باپ ، چاچا ، ماما انہیں پہلے سے ہی سیٹ کرانے کا بندوبست کر چکے ہوں گے ۔ وہ سیدھا جا کے ہیڈ آف فنانس ، ایچ آر ہیڈ ، ہیڈ آف کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ یا کوئی بھی ایسی سیٹ سنبھال لیں گے ، جہاں بیٹھ کر اپنے سے جونیئر پچاس ، پچاس سال کے بابوں کی پریزنٹیشنز سنیں اور جو اچھی لگے اسے اپنا فیصلہ بنا کے آگے بڑھا دیں ۔
ایسا صرف آپ کے یہاں نہیں ہو رہا ، دنیا کا یہی دستور ہے ۔ پڑھائی اگر اعلیٰ ترین لیول کی ہے تو ساتھ سفارش بھی تگڑی ہونی چاہیے ، ورنہ کوئی حسین اتفاق ہی آپ کو خوابوں کی نوکری دلوا سکتا ہے ، یا پھر بیس ، پچیس سال رگڑا کھانے کے بعد جب خواہش نہیں رہتی تو چیزیں خریدنے کے پیسے آنے شروع ہو جاتے ہیں ۔
وہ بیس سال کہاں سے آئیں گے جو عمر کے بہترین سال تھے اور جو دیسی ڈگریاں لینے والے نے خواریاں کاٹ کے گزار دیے ؟ اب آپ نے مثالیں دینی ہیں ، سی ایس ایس کرنے والوں کی ، کسی ماہر معیشت دان کی ، کسی نوٹ چھاپ استاد کی ، ایک آدھے کماؤ مصنف کی ، پندرہ بیس کامیاب ٹی وی اینکروں کی ، دو تین سو ٹاپ بینکروں کی ، ٹھیک ہے ۔ ایسے لوگ کتنے ہوں گے ؟ بائیس کروڑ میں سے دس ہزار ؟ بیس ہزار ؟ اور پھر ان میں سے کتنے ہوں گے جو اردو میڈیم اور سرکاری اداروں میں ساری زندگی پڑھا اور پھر کسی اچھی کمائی والی سیٹ تک پہنچ گئے ؟ ایسے نہیں ہوتا یار ۔
نوکریاں دینے والے تھال میں لے کے نوکریاں نہیں بانٹتے اور اسی طرح نوکریاں چاہنے والے عام بچے اتنے قابل نہیں ہوتے کہ وہ سیدھے کسی اچھی جگہ جا کر معزز قسم کی تگڑی تنخواہ والی نوکری حاصل کر سکیں ۔
اس کا حل کیا ہے ؟
سب سے پہلا حل تو یہ کہ بچے کے دماغ میں ڈالیں کہ بیٹا پڑھائی کے ساتھ اپنا کوئی بھی کام شروع کرو ۔ کچھ بھی کرو ۔ کسی کپڑا بیچنے والے کی دکان پر جا کے بیٹھو ، موٹر سائیکل والے کی ورکشاپ میں پارٹ ٹائم مفت نوکری کرو ، پیسے مت لو بس کام سیکھو ، کچھ نہیں ہے تو کریانے کی دکان چلانے کا تجربہ لو ، کسی ریڑھی والے کے ساتھ ڈیوٹی دو کہ تمہیں پھل فروٹ یا سبزیاں بیچنے کی ڈائنامکس سمجھ آ جائیں ، دودھ دہی کے کام کی سائنس سمجھو ، کمپیوٹر یا موبائل ٹھیک کرنا سیکھو ، گاڑیوں کا کام سیکھو ، کچھ بھی کرو اتنا سیکھ لو کہ کل کو اپنا کام شروع کر سکو ۔
بچیاں ہیں تو مہنگی فیشن ڈیزائنگ کی بجائے ، خواتین درزنوں کے پاس کام سیکھیں ، گھر میں کھانے بنانے سکھائیں ، کپڑوں کی ڈیزائنگ کرکے انہیں آگے بیچیں ۔
یہ سب کیوں کریں ؟
قسم خدا کی ، عام بی اے ، ایم اے کیا ہوا بچہ ہرگز اس قابل نہیں ہوتا کہ مقابلے بازی کے اِس دور میں کسی اچھی جگہ فٹ ہو جائے ۔
قصور اس کا نہیں ہوتا ، مسئلہ تعلیم کے اعلیٰ ترین معیار سیٹ ہونے کا ہے ۔
کورس کی کتابیں کم از کم مجھے آج تک کچھ نہیں سکھا پائیں ۔ " چاند میری زمیں ، پھول میرا وطن " یاد ہے ۔ ون کلاس والا " شی از سارا خان "، " ھی از ھادی " ، " شی از ٹال " ، " ھادی از شارٹ " یاد ہے ۔ دس تک پہاڑے یاد ہیں ، غالب اور مینائی کی مشکل شاعری یاد ہے ، مسٹر چپس کا ناول یاد ہے ، " قانون تقلیل افادہ مختتم " ، " ذو اضعاف اقل " اور " عاد اعظم " یاد ہے لیکن کیا یہ سب علم کوئی ایسی نوکری دلا سکتا ہے جو قابل ِ ذکر ہو ؟
جس میں گھر چلتا ہو ؟ اگلے آکسفورڈ اور کیمبرج کے جدید ترین کورس پڑھ کے آئے ہوتے ہیں ، اردو میڈیم سرکاری ادارے کے بچے کو آخر کوئی کیوں پوچھے گا بھائی ؟
اس کی عزت نفس مرنے سے پہلے اسے ایک ہنر کا تحفہ ضرور دیں ۔ کسی بجلیے ( بجلی کی فٹنگ کرنے والے ) سے پوچھ لیں , ماشاللہ ایک سیزن میں کتنے پیسے کماتا ہے اور اس کے بعد دماغ جگہ پر لائیں ۔
ایک جواب یہ ہوتا ہے کہ بچہ پڑھ لکھ کے اچھا آدمی بنے گا ۔کیا ہوتا ہے اچھا آدمی ؟ مہذب ؟ تہذیب یافتہ ؟ سوری ! کورس کی کتابیں ہرگز وہ نہیں بناتیں ۔ وہ کام یا تو گھر کی تربیت سے ہوتا ہے یا صرف لٹریچر پڑھنے کے نتیجے میں بندہ تھوڑا تمیزدار ہو جاتا ہے ۔_
تمیزدار بھی کیا ، اصل میں ادب یا لٹریچر انسان کو ڈرپوک بنا دیتا ہے ۔ وہ کچھ کرنے کی بجائے اس کے فلسفوں میں الجھا رہتا ہے ، پریکٹیکل نہیں رہتا ۔ ان پڑھ کیا اچھے آدمی نہیں ہوتے ؟ اور کیا اچھے آدمی سے مراد آپ صرف بیبا بندہ لیتے ہیں یا وہ انسان جو چوکھے نوٹ کمانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو ؟ اچھا آدمی آخر معاشی طور پر مطمئن بھی تو ہونا چاہیے نا ؟
تو میری جان ، بی اے ، ایم اے ضرور کرائیں بچوں کو لیکن ان کے دماغ میں ڈالیں کہ اپنا کام کرو ۔ کچھ بھی کرو ۔ سوئی دھاگے اور بٹن بیچو یا قصائی بن کے گوشت بیچو ۔
کام کوئی بھی برا نہیں ہوتا اور پڑھا لکھا بچہ کام کرتا بھی اچھے صاف ستھرے طریقے سے ہے .
اپنے کام میں ترقی کے سو راستے ہیں اور نوکری سے بڑا نشہ کوئی نہیں ۔
چلو چار پیسے ملتے ہوں ، ضرورتیں پوری ہوتی ہوں ، وہ سب کچھ بھی نہ ہو اور لاکھوں خرچ کروا کے ڈگریاں لینا والا بچہ بیس ، پچیس ہزار کے کھونٹے سے بندھا رہے ، یہ کہاں کا انصاف ہے ؟
👈 سب سے بڑا ظلم پتہ ہے کہاں ہوتا ہے ؟
باپ کی ورکشاپ ہے ، بیٹا کہتا ہے میں پڑھ کے ( کیا ) یہ کام کروں ؟ کپڑے گندے کروں ؟ باپ تمباکو کا کام کرتا ہے ، بیٹے کو کپڑوں میں بو آتی ہے ۔ باپ مچھلی منڈی کا بیوپاری ہے ، ماں کہتی ہے بیٹے سے بھی یہی بساند آئے گی ۔ باپ قصائی ہے ، شہر کے مرکز میں دکان ہے ، بیٹا نہیں سنبھالتا کہ گھن آتی ہے ۔
باپ کباڑیا ہے ، لوہے کے سکریپ کا بزنس کرتا ہے ، بیٹا پڑھ لکھ کے سفید قمیص پہننے کے نشے میں رہتا ہے ۔
باپ کی نرسری ہے ، بیٹے کو باپ مالی لگتا ہے ، مٹی سے کام لینے والا میلا آدمی لگتا ہے ۔ ابے ناشکرو ، اس سے تمہارا گھر چلتا تھا ، تمہاری شادیاں ہوئیں ، تمہارے گھر کے اے سی چلتے ہیں ، یہ زمین جس پر بیٹھے ہو یہ اسی کاروبار سے آئی ، تم لوگ اس سے بھاگتے ہو ؟
ساری زندگی بھی نوکریاں کرتے رہو تو لاکھ میں سے ایک ہوگا جو اتنا کمائے گا جتنا باپ اب کماتا ہے ۔
بندے بنو یار قسمے !
دیکھیں خواب دیکھنے کا حق سب کو ہے ۔
بچوں کو پڑھائیں ، لکھائیں لیکن ان کے ہاتھ مت توڑیں ۔ بچے کا اور اپنا دماغ ریٹائر مت کریں ۔ اسے بچپن سے بتاتے رہیں کہ پُتر کام سیکھے گا تو ہی سکون میں رہے گا ورنہ دھکے ہیں ۔
دنیاوی پڑھائی شڑھائی میں کچھ نہیں رکھا ، بس اردو انگلش پڑھنے جوگی سیکھ لے ، تھوڑی بہت بولنی آتی ہو ، انٹرنیٹ سے کام لینا آتا ہو ، بہت کافی ہے ۔ ضرورت پڑے گی تو بزنس کے لیے چائنیز بھی سیکھ لے گا ۔ اب جو مرضی آئے کریں ۔ اپنے تو سفید بالوں کا نچوڑ یہی تھا ۔ " بھائی جان ، مہربان ، قدر دان . . . یہ ایک شیشی . . . دو دو روپے ، دو دو روپے ، دو دو روپے ! "
دہلی کے مضافات میں 416 گاؤں ہیں‘ اسولا نام کا چھوٹا سا گاؤں بھی ان میں شامل ہے‘ یہ گجر برادری کا گاؤں ہے‘گاؤں کے ایک نوجوان وجے تنوار نے پندرہ سال پہلے اپنے گھر میں اکھاڑا بنایا اور یہ نوجوانوں کو پہلوانی کی ٹریننگ دینے لگا‘ دہلی میں نئی نئی دولت آئی تھی‘ بے شمار مالز‘ سینما‘ ڈسکوز اور پب بن رہے تھے‘ شہر میں پرائیویٹ پارٹیوں کا ٹرینڈ بھی شروع ہو چکا تھالہٰذا دہلی میں گارڈز اور باؤنسرز کی ضرورت تھی‘ کسی کمپنی نے وجے تنوار سے ایک دن کے لیے چھ پہلوان کرائے پر لے لیے۔
یہ پہلوان پرائیویٹ پارٹی کے لیے باؤنسرز بنا دیے گئے‘ وجے کو ایک رات میں ساٹھ ہزار روپے مل گئے‘ یہ 60 ہزار روپے وجے تنوار کو بزنس
کا نیا آئیڈیا دے گئے‘ اس نے اکھاڑے کو جم میں تبدیل کیا‘ گاؤں کے لمبے تڑنگے مضبوط کاٹھی کے 50 نوجوان لیے‘ انہیں ٹریننگ دی اور شاپنگ مالز میں باؤنسرز اور سیکورٹی گارڈ بھرتی کرا دیا‘ مزید نوجوان بھرتی کیے‘ ٹریننگ دی اور انہیں بھی بھرتی کرا دیا‘ کاروبار چل پڑا یوں پورے گاؤں میں جم بن گئے اور نوجوان ٹریننگ لے کر باؤنسرز اور سیکورٹی گارڈز بنتے چلے گئے یہاں تک کہ پورے دہلی میں اسولاگاؤں اور وجے تنوار کی مناپلی ہو گئی‘ اسولا گاؤں کے تمام گارڈز اور باؤنسرز وجے تنوار کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ تنوار لکھتے ہیں‘ آپ دہلی کے کسی مال‘ سینما ہال یا ڈسکو میں چلے جائیں‘ آپ کسی پرائیویٹ آفس کا چکر لگا لیں‘ آپ اس کے سامنے کھڑے ہو کر تنوار کا نعرہ لگائیں‘ وہاں موجود تمام گارڈز فوراً مڑ کر آپ کی طرف دیکھیں گے‘ گارڈز کا مڑناثابت کرتا ہے سیکورٹی میں اسولا گاؤں اور وجے تنوار دونوں برینڈ بن چکے ہیں‘وجے کے گاؤں میں اب کوئی ایک بھی ایسا گھر نہیں جس کے نوجوان سیکورٹی گارڈ یا باؤنسر نہ ہوں‘ یہ لوگ عادتوں کے لحاظ سے بھی بڑے شان دار ہیں‘ یہ سگریٹ اور شراب نہیں پیتے‘ لڑائی جھگڑا نہیں کرتے‘ خاندان کی مرضی کے بغیر شادی نہیں کرتے اور یہ اپنی ساری آمدنی بھی گاؤں میں خرچ کرتے ہیں یوں ایک شخص نے پورے گاؤں کا مقدر بدل دیا۔
آپ کیرالہ کے گاؤں ماروتی چل کی مثال بھی لیجیے‘ اس گاؤں میں شراب اور جواء عام تھا‘ خواتین اور بچے تک شراب پیتے اور جواء کھیلتے تھے‘ گاؤں کا ایک شخص اونی کرشنن شہر گیا‘ وہاں سے شطرنج سیکھ کر آیا‘ گاؤں میں چھوٹا سا چائے خانہ کھولا‘ چائے خانے کے سامنے شطرنج رکھی اور لوگوں کو یہ کھیل سکھانا شروع کر دیا‘اونی کرشنن کی وجہ سے پورا گاؤں شطرنج کا کھلاڑی بن گیا‘ لوگوں نے شراب اور جواء بھی چھوڑ دیا‘ یہ دنیا کا واحد گاؤں ہے جس کا ہر شخص شطرنج کا ماہر ہے۔
یہ لوگ سارا دن شطرنج کھیلتے ہیں‘ دنیا بھر سے لوگ ان کو دیکھنے آتے ہیں‘ حکومت نے شطرنج کو بچوں کے سلیبس کا حصہ بھی بنا دیا‘بچوں کو سکول میں شطرنج پڑھائی اور سکھائی جاتی ہے یوں صرف ایک شخص اور ایک کھیل نے پورے گاؤں کا مقدر بدل دیا۔ سیاٹل امریکا کا مشہور شہر ہے‘ یہ شہر بوئنگ کارپوریشن‘ مائیکرو سافٹ اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی وجہ سے مشہور تھا‘ سیاٹل کے ایک پادری نے اپنے چرچ میں ٹائنی ہاؤس ویلج کے نام سے بے گھر لوگوں کے لیے چھوٹا سا گاؤں بنادیا۔
گاؤں میں چھوٹے چھوٹے کمرے اور مکان ہیں‘ بے گھر لوگ تھوڑا سا کرایہ دے کر گھروں میں رہ سکتے ہیں‘ یہ گاؤں بھی اپنے آئیڈیا کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہو گیا۔ تھائی لینڈ میں ایک گاؤں ہے‘ رین بو ویلج‘ یہ ایک تباہ حال گاؤں تھا‘ حکومت نے اسے گرانے کا حکم دے دیالیکن گاؤں کے ایک86 سالہ بوڑھے ہوانگ یونگ فواسی نے دیواروں کو پینٹ کرنا شروع کر دیا‘ یہ مسلسل گیارہ سال پینٹ کرتا رہا یہاں تک کہ گاؤں رین بو میں تبدیل ہو گیا۔
سیاحوں کو پتا چلا تو یہ گاؤں میں آنا شروع ہو گئے یوں دیکھتے ہی دیکھتے یہ پوری دنیا میں مشہور ہو گیا‘ گاؤں میں ہر سال 20 لاکھ لوگ آتے ہیں اوران لوگوں کی وجہ سے گاؤں کا مقدر بدل گیا۔اس طرح روس میں بھی سوکارہ نام کا ایک گاؤں ہے‘اس گاؤں کے لوگ ٹائیٹ روپ واکر یعنی رسے پر چلنے کے ایکسپرٹ ہیں‘ گاؤں کے تمام لوگ حتیٰ کہ بچوں‘ خواتین اور بوڑھوں کو بھی رسے پر چلنے کی ٹریننگ دی جاتی ہے‘ یہ لوگ بعد ازاں سرکس میں کام کرتے ہیں‘ روس میں سرکس میں رسے پر چلنے والے تمام لوگوں کا تعلق سوکارہ گاؤں سے ہوتا ہے‘ گاؤں کے چار سو لوگ مختلف علاقوں اور شہروں میں رسے پر چل کر روز گار کما رہے ہیں۔
ہالینڈ کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہوگ وے ڈیمنشیا کے مریضوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے‘ ڈیمنشیا کے مریض بیمار ہوتے ہیں لیکن یہ خود کو صحت مند سمجھتے ہیں چناں چہ ایک ڈاکٹر نے ڈیمنشیا کے مریضوں کے لیے پورا گاؤں تعمیر کرادیا‘ یہ گاؤں ایک بڑا نرسنگ ہوم ہے‘اس نرسنگ ہوم کے تمام ڈاکٹرز‘ نرسز اور سپورٹنگ سٹاف مالی‘ ڈرائیور‘ ویٹر‘ شاپ کیپر‘ کک اور ڈومیسٹک ورکرز کے کپڑے پہن کر گاؤں میں پھرتے رہتے ہیں‘ مریض عام نارمل زندگی گزارتے ہیں اور عملہ انہیں چلتے پھرتے دوائیں کھلا دیتا ہے۔
اس گاؤں میں کافی شاپس‘ باربر شاپس‘ شاپنگ سٹورز‘ ریستوران اور گروسری سٹورز بھی موجود ہیں‘ مریض عام نارمل زندگی گزارتے گزارتے علاج کراتے رہتے ہیں۔ انڈین ریاست مہاراشٹر میں ایک گاؤں ہے حیوڑے بازار‘ یہ گاؤں خشک سالی اور قحط کا شکار تھا‘گاؤں کے ہر گھر میں دیسی شراب کی بھٹی تھی‘ شراب نوشی‘ بیماریوں اور دشمنیوں کی وجہ سے گاؤں کی اوسط عمر 45 سال تھی‘ گاؤں پانی کی شدید کمی کا شکار بھی تھا‘ بارش نہیں ہوتی تھی‘ گاؤں میں سکول اور ہسپتال بھی نہیں تھا۔
گاؤں کے سردار کے بیٹے پوپٹ راؤ نے کامرس میں ماسٹر کیا اور وہ گاؤں واپس آگیا‘ پوپٹ نے گاؤں میں تین کام کیے‘ شراب پر پابندی لگا دی‘ دو‘ مٹی اور پتھر کے ڈیم بنانا شروع کر دیے‘ اس نے مٹی کے 52 اور پتھروں کے 32 ڈیم بھی بنائے اور دو بڑے واٹر ٹینک بھی تعمیر کیے اور تین‘ پوپٹ راؤ نے گاؤں میں تین تین خاندانوں کے گروپ بنائے‘ زمینوں کو مختلف یونٹوں میں تقسیم کیا اور ہر یونٹ ایک ایک گروپ کے حوالے کر دیا‘ پورے گاؤں کا مقدر بدل گیا‘ گاؤں میں اس وقت 236 خاندان ہیں۔
یہ تمام لوگ خوش حال بھی ہیں اور صحت مند بھی۔ 60 خاندان لکھ پتی ہیں‘ ان کے پاس اپنے ٹریکٹر‘ اپنی گاڑیاں اور ذاتی پکے مکان ہیں‘ گاؤں کے تمام خاندان ذاتی گھروں‘ ذاتی جانوروں اور سال بھر کے ذاتی اناج کے مالک ہیں‘ گاؤں میں سکول بھی ہیں‘ ہسپتال بھی‘پکی سڑکیں بھی‘ سیوریج سسٹم بھی‘ پارک بھی اور مارکیٹ بھی‘ فی کس آمدنی 450 امریکی ڈالر ہے‘ پوپٹ راؤ کے گاؤں کو انڈیا کے امیر ترین گاؤں کا ٹائٹل مل چکا ہے‘یہ گاؤں اس اعزاز کے بعد پوری دنیا میں مشہور ہوگیا۔
اوراسی طرح بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے گاؤں بدھیلا کے ایک باسی وی پی شرما نے کسی میگزین میں پڑھا بھارت کے سابق صدر ڈاکٹر راجندر پرساددونوں ہاتھوں سے لکھنے کا فن جانتے تھے‘ وی پی شرما گھر گیا اور اس نے بائیں ہاتھ سے لکھنے کی پریکٹس شروع کر دی‘ وہ پریکٹس کرتا رہا یہاں تک کہ وہ دونوں ہاتھوں سے لکھنے کا ایکسپرٹ ہو گیا‘ وہ اپنی کام یابی پر خوش تھا‘ اس نے اس کام یابی کو سیلی بریٹ کرنے کے لیے اپنے گاؤں میں ایسا سکول بنانے کا فیصلہ کیا جس کا ہر بچہ دونوں ہاتھوں سے لکھنے کا ماہر ہو۔
وی پی شرما نے تھوڑی تھوڑی رقم جمع کی اور گاؤں میں دنیا کے انوکھے سکول کی بنیاد رکھ دی‘یہ سکول مدھیہ پردیش کے ضلع سنگرالی کے گاؤں بدھیلا میں قائم ہے‘ سکول میں تین سو طالب علم ہیں‘ یہ تمام طالب علم نہ صرف دونوں ہاتھوں سے لکھ سکتے ہیں بلکہ یہ دو ہاتھوں سے دو مختلف زبانیں بھی تحریر کر سکتے ہیں‘ سکول کے تمام طالب علم چار چار زبانیں بھی جانتے ہیں‘ یہ بچے یہ زبانیں بول بھی سکتے ہیں اور لکھ بھی سکتے ہیں‘ پوری دنیا کے ایکسپرٹ حیران ہیں ایک عام درمیانے پڑھے لکھے شخص نے کس طرح گاؤں میں سکول بنایا‘ تین سو قبائلی بچے اکٹھے کیے اور کس طرح ان بچوں کو دونوں ہاتھوں سے دو مختلف زبانیں لکھنے کا ماہر بنادیا۔
مجھ سے اکثر نوجوان پوچھتے ہیں ہم اکیلے کیا کر سکتے ہیں؟ میں انہیں یہ مثالیں دیتا ہوں اور ان سے کہتا ہوں اگر یہ لوگ اکیلے اپنے اپنے علاقوں کا مقدر بدل سکتے ہیں تو آپ کیا کیا نہیں کر سکتے!آپ بھی اپنے دائیں بائیں دیکھیں‘ آپ کے گاؤں کے لوگ اگر لمبے تڑنگے ہیں تو آپ اپنے گاؤں کو سیکورٹی گارڈز کی فیکٹری بنا دیں‘ اگر خواتین زیادہ ہیں تو آپ انہیں سلائی کڑھائی سکھائیں اور پورے گاؤں کو بوتیک بنا دیں‘ گاؤں میں اگر برتن بنانے والے زیادہ لوگ ہیں تو آپ گاؤں کو سرامک فیکٹری بنا دیں۔
گاؤں میں اگر موچی زیادہ ہیں تو آپ گاؤں کو شو فیکٹری بنا دیں اور اگرآپ کے گاؤں میں کوئی بھی خوبی موجود نہیں تو آپ پورے گاؤں کو کسی ایک کھیل کا ماہر بنا دیں‘ آپ نوجوانوں کو فٹ بال‘ والی بال‘ کشتیوں اور کچھ نہیں تو بندر نچانے کا فن تو سکھا سکتے ہیں‘ آپ پورے گاؤں کو ویٹروں‘ نرسوں‘ مالشیوں‘ ڈرائیوروں‘ سیکورٹی گارڈز‘ ککس‘ کلرکس‘ ایڈمنسٹریٹرز اور اکاؤنٹنٹس کا گاؤں تو بنا سکتے ہیں‘ آپ صرف سوئمنگ لے لیں اور پورے گاؤں کو سوئمر بنا دیں۔
آپ انہیں تاش‘ شطرنج یا لڈو کا ایکسپرٹ بنا سکتے ہیں اور اگر یہ بھی ممکن نہیں تو آپ کم از کم اپنے گاؤں کو کسی ایک رنگ میں ہی رنگ کر اسے یونان کا سینٹو رینی‘ اٹلی کااوسٹونی‘ مراکش کا شیف شاون اور تھائی لینڈ کا رین بو فیملی ویلج تو بنا سکتے ہیں‘ آپ پورے ملک‘ پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ تو کر سکتے ہیں‘ وجے تنوار سے لے کر وی پی شرما تک یہ لوگ بھی آپ جیسے لوگ ہیں‘ اگر یہ کر سکتے ہیں تو پھر آپ کیوں نہیں کر سکتے؟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Islamabad
