Citizen Police News

Citizen Police News

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Citizen Police News, Police station, .

Photos from Citizen Police News's post 25/05/2026

ایبٹ آباد میں پیدا ہونے والی لڑکی کی زندگی کا لاہور کے روہی نالے می افسوسناک انجام ۔۔۔۔ بلوری آنکھوں والی اس بدقسمت لڑکی پر کیا بیتی ؟ 2 مئی 2026 کو نالے سے ملنے والی لا۔ش کا معمہ حل ہو گیا ۔۔۔۔ مہروش کے والدین سالوں قبل لاہور آن بسے تھے ۔ مہروش جوان ہوئی تو اسکا رشتہ فہیم نامی ایک نوجوان سے ہو گیا ۔ یہ شادی پسند کے بعد والدین کی مرضی سے ہوئی ۔ فہیم اور مہروش ایک دوسرے کو پاکر بہت خوش تھے ڈیڑھ سال بعد اللہ نے انہیں اپنی رحمت یعنی ایک بیٹی سے بھی نواز دیا ۔ بچی کی پیدائش کے بعد مبینہ طور پر خرچے بڑھ گئے تو مہروش اور فہیم کے درمیان گھریلو جھگڑوں کی ابتدا ہو گئی فہیم کی آمدن اتنی نہ تھی یا پھر مہروش زیادہ خرچہ کا تقاضا کرتی ، یہ اکثر روٹھ کر اپنے والدین کے پاس چلی جاتی اور پیچھے فہیم منانے پہنچ جاتا ، یہ بیوی کو ہر حال میں خوش رکھنے کا وعدہ کرتا مگر چند ہفتے بعد ہی دوبارہ لڑائی ہو جاتی آخر کار دونوں کے درمیاں ایک جھگڑے کے بعد طلاق ہو گئی اور مہروش بچی کو لیکر اپنےوالدین کے گھر آ بیٹھی ، والد کی آمدن اتنی نہ تھی کہ وہ بیٹی کے ساتھ ایک بچی کی بھی تمام ضروریات پوری کرتا اس لیے جلد ہی مہروش نے ایک دفتر میں ملازمت کر لی جہاں خلیل نامی ایک شخص سے اسکی واقفیت ہوئی جو بعد میں اتنی بے تکلفی میں بدلی کہ مہروش اپنا ہر دکھ سکھ اس شخص کے ساتھ شیئر کرنے لگی ۔۔۔ یہ سلسلہ جلد تعلقات میں بدل گیا اور خلیل نے مہروش کو شادی کی پیشکش کی مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ شادی چھپ کر کورٹ میں کرنی پڑے گی کیونکہ میرے والدین ایک بچی کے ساتھ طلاق یافتہ عورت کو کبھی قبول نہیں کریں گے ۔۔ مہروش کو تو خلیل یعنی ایک خیال رکھنے والے شوہر کی ضرورت تھی اس نے حامی بھر لی شادی ہوئی اور خلیل نے ایک مکان کرائے پر لیا اور وہاں مہروش کو جا بسایا ۔ لیکن خلیل ہفتے میں 2 تین دن اپنے والدین کے پاس جاکر بھی رہتا تھا ۔۔ ایک رات جب خلیل اسکے پاس سویا تھا تو مہروش نے اسکا موبائل لیا اور اسکی گیلیری میں اپنی تصویریں دیکھنے لگی ۔ گیلیری میں ہی مہروش کو خلیل کسی اور خاتون اور ایک بچے کے ساتھ نظر آیا ۔ خلیل کو جگا کر پوچھا تو اس نے کہا یہ میری پہلی بیوی اور بچہ ہے اس پر مہروش سخت ناراض ہوئی چیخی چلائی اور جھگڑا بھی کیا کہ تم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ، رات گزر گئی صبح ہوئی تو مہروش نے مطالبہ کیا کہ یا تو اپنی پہلی بیوی کو چھوڑو یا پھر مجھے طلاق دو ۔۔۔۔ اگرچہ مہروش دل سے دوبارہ طلاق یافتہ ہونے کا لبیل اپنے اوپر نہیں لگانا چاہتی تھی ۔ خلیل کے چند روز شدید پریشانی میں گزرے اور پھر اس نے خطرناک منصوبہ بنا لیا ۔ ایک رات اس نے مہروش کو منہ پر تکیہ رکھ کر گلہ گھونٹ کر مار ڈالا اور پھر اسکی لا۔ش ایک بوری میں ڈال کر قریب واقع روہی نالے میں پھینک دی ۔واپس آکر یہ سوگیا اور پھر صبح ہوئی تو تھانے جاکر شکایت درج کروائی کہ میری بیوی کل رات سے لاپتہ ہے ۔ پولیس نے رپورٹ درج کر لی ، اس سے پہلے کہ پولیس کو کچھ پتہ چلتا 2 دن گزر گئے اور راہگیروں نے 15 پر اطلاع دی کہ روہی نالے میں ایک عورت کی لا۔ش پڑی ہے پولیس 1122 اور فارنزک والے پہنچےضروری کارروائی کی گئی اور لا۔ش کو پوسٹ ۔مار۔ٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا فنگر پرنٹس سے خاتون کی شناخت مہروش کے نام سے ہوگئی تو پولیس نے خلیل کو اطلاع کی کہ آپ کی بیوی ق۔ت۔ل ہو گئی ہے ۔ پو۔سٹ ۔مار۔ٹم رپورٹ میں وجہ موت سانس رکنے سے پتہ چلی اور لڑکی کو مرنے کے بعد نالے میں پھینکا گیا تھا ۔۔۔ مہروش کے والدین کو بلا کر لا۔ش انکے حوالے کی گئی اور شک کی بنیاد یا پھر تفتیش کے لیے پولیس نے سب سے پہلے خلیل سے کام شروع کیا جس نے چند ہی منٹوں میں فر فر ساری کہانی بیان کردی ۔۔۔۔ ملزم کو عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ لیا جاچکا ہے اور کیس پر مزید ضروری کارروائی جاری ہے جبکہ بے گناہ اور معصوم بچی بھی مہروش کے والدین کے حوالے کردی گئی ہے ۔۔۔۔۔

25/05/2026

ایڈیشنل سیشن جج سید عدنان شاہ نے تھانہ خانمائی کی حدود میں سال 2019 کے پولیس مقابلہ کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سابق ڈی پی او چارسدہ عرفان اللہ خان مروت، ڈی ایس پی فضل شیر خان، ایس ایچ او کاشف خان، ایس ایچ او علی اکبر خان، صفدر رحمن خان سمیت مقدمے میں نامزد تمام پولیس اہلکاروں کو بری کر دیا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل اور دستیاب شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد تمام ملزمان کو مقدمے سے باعزت بری کرنے کا حکم جاری کیا۔
فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالت نے تمام نامزد اہلکاروں کو مقدمے سے رہا کرنے کی ہدایت بھی جاری کردی۔ مذکورہ کیس 2019 میں تھانہ خانمائی کی حدود میں ہونے والے مبینہ پولیس مقابلے کے حوالے سے درج کیا گیا تھا، جس کی سماعت گزشتہ کئی برسوں سے جاری تھی۔

25/05/2026

جرائم کے خلاف جنگ لڑنے والے بہادر سپاہی، سب انسپیکٹر چوہدری عطاء میراں کی تھانہ فتح پور میں تعیناتی نہ صرف ایک انتظامی فیصلہ ہے بلکہ انصاف، فرض شناسی اور عوامی خدمت کے عزم کی ایک نئی شروعات ہے۔
چوہدری عطاء میراں وہ نام ہے جو ہمت، دیانت اور بے خوفی کی پہچان بن چکا ہے۔ ان کی شخصیت میں وہ خلوص شامل ہے جو مظلوم کے لیے ڈھال اور ظالم کے لیے للکار بن جاتا ہے۔ ان کی تعیناتی سے اہلِ علاقہ میں امید کی ایک نئی کرن جاگی ہے کہ اب انصاف کے تقاضے مزید مضبوطی سے پورے ہوں گے اور امن و امان کی فضا کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
وہ صرف ایک افسر نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کا نام ہیں، ایک ایسا جذبہ جو ہر حال میں سچ کا ساتھ دیتا ہے۔ ان کی قیادت میں تھانہ فتح پور یقیناً خدمت، حفاظت اور انصاف کا حقیقی مرکز بنے گا۔
اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فرائض کی ادائیگی میں کامیاب کرے اور انہیں ہمیشہ حق اور سچ کے راستے پر قائم رکھے۔ آمین۔

25/05/2026

ڈی ایس پی مورو ڈاکٹر فائزہ سوڈھر کو مورو میں منشیات اور دیگر جرائم کے خلاف بہترین کارروائیوں اور شاندار سربراہی پر ایس ایس پی نوشہرو فیروز میر روحل کھوسو کی جانب سے تعریفی سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔

ان کی محنت، بہادری اور عوامی تحفظ کیلئے خدمات قابلِ تحسین ہیں۔

25/05/2026

پاکستان کیا پورے عالم اسلام کا وزیر اعظم بننے پر بھی ہمیں دلکی گہرائیوں سے قبول ہے
اور اب بھی وزیراعظم ہے تمام امت مسلمہ کا اگرچہ وقت کے فرعونوں کو قبول نہیں ہیں

25/05/2026

ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ٹریفک پولیس فتح پور میں تعینات ایک کانسٹیبل، جن کا نام یاسر مقبول بتایا جاتا ہے، عوام کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ ایک محافظ کا کام لوگوں کی رہنمائی اور خدمت کرنا ہوتا ہے، مگر جب وہی محافظ عوام کو "تو تو" کہہ کر پکارے، انہیں ذلیل کرے اور بدتمیزی سے پیش آئے، تو دل دکھتا ہے اور اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
یہ بات سب جانتے ہیں کہ اعلیٰ حکام کی واضح ہدایات موجود ہیں کہ شہریوں کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آیا جائے، انہیں "آپ" یا "سر" کہہ کر مخاطب کیا جائے۔ مگر جب ان ہدایات کو نظر انداز کیا جائے تو یہ صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
ہم یہ نہیں چاہتے کہ کسی کی تذلیل ہو، بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ رویہ بدلے۔ کیونکہ وردی صرف اختیار نہیں، بلکہ ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ عوام کے دل جیتنے سے ہی عزت ملتی ہے، ڈرا کر یا بے عزتی کر کے نہیں۔
مزید برآں، ڈی ایس پی ٹریفک پولیس لیہ اور ڈی پی او لیہ سے فتح پور کے شہریوں کا پُرزور مطالبہ ہے کہ مذکورہ اہلکار کو فوری طور پر فتح پور سے تبدیل کیا جائے تاکہ شہری سکون اور عزت کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔
ہم امید کرتے ہیں کہ متعلقہ حکام فوری نوٹس لیں گے اور انصاف فراہم کریں گے۔

Layyah Police Department

25/05/2026

DIGP CTD Ghulam Azfar Mahesar

25/05/2026

Dr. Ammara Sheerazi,PSP, DPO Khushab 👮🏻‍♀️
Leading with courage, professionalism, and a strong commitment to justice and public safety.

🇵🇰✨

25/05/2026

حج کے دوران شدید گرمی 577 حجاج اکرام شہید سب سے زیادہ مصر کے 320 حجاج جاں بحق ہوئے۔
11 پاکستانی ہے

25/05/2026

*إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ*
Deeply saddened to hear My Best Friend and Our *Group PPIK HSE Community* Admin *Zahir Khan Hse Manager Ex- HSEM of Albawani is *No more* with us 😭, a very calm and ground to the earth personality is no more with us .
Kind request to everyone to remember in your prayers.
Khyber Pakhtunkhwa Food Safety & Halaal Food Authority SafetySuit

Photos from Citizen Police News's post 25/05/2026

کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے یو این وومن کے تعاون سے تھانہ داودزئی میں جدید وومن فیسلیٹیشن سینٹر قائم کر دیا، جس کا افتتاح سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے کیا۔

وومن فیسلیٹیشن سینٹر کے قیام کا مقصد متاثرہ خواتین کو محفوظ اور دوستانہ ماحول میں قانونی معاونت فراہم کرنا اور گھریلو تنازعات کے حل میں مدد دینا ہے۔

افتتاحی تقریب میں اے آئی جی جینڈر ایکویلیٹی انیلا ناز، یو این وومن کے نمائندگان، پولیس افسران، پبلک پراسیکیوٹرز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید احمد نے یو این وومن کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ وومن فیسلیٹیشن سینٹر کے قیام سے خواتین کو مسائل کے حل میں سہولت اور پولیس پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

سی سی پی او پشاور کی جانب سے یو این وومن کے عہدیداروں کو اعزازی شیلڈز پیش کی گئیں، جبکہ یو این وومن کی جانب سے بھی سی سی پی او پشاور کو خصوصی شیلڈ پیش کی گئی۔

Want your business to be the top-listed Government Service?

Telephone

Website