Idiot Islamabad Drivers

Idiot Islamabad Drivers

Share

Welcome to Idiot Drivers Islamabad! 🚗💥 We're here to spotlight reckless driving, traffic rule violations, and road safety issues in Islamabad.

Join us to expose bad drivers, share stories, and promote safer roads for all! 📸🚦 #DriveSafe #IslamabadTraff

10/02/2026

See how white Honda breaking Lan discipline at protected uturn. And 99% drivers makes same mistakes apni lane chor kar doori lane main jaty hain achanak or accident hota hain pher

08/02/2026

پچانوے فیصد پاکستانی مارکیٹوں میں عوامی واش روم موجود نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ لوگ مجبوری میں مساجد کا رخ کرتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟
اگر کوئی واش روم استعمال کرنے کے بعد وضو کرے اور نماز ادا کرے تو بات کسی حد تک سمجھ میں آتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگ اللہ کے گھر کو گندا کر کے واپس چلے جاتے ہیں۔ نہ وضو کی پروا، نہ نماز کی فکر۔ فرائض کی ادائیگی کی توفیق ہی نہیں ہوتی۔
دوسرا اور اس سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ یہ ہے کہ بہت سی مساجد کے واش روم اس قدر گندے ہیں کہ پاک انسان بھی وہاں جا کر ناپاک ہو کر نکلتا ہے۔ یہ کس دین کی تصویر ہے؟ وہ دین جس میں صاف الفاظ میں کہا گیا کہ صفائی نصف ایمان ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا امام مسجد؟
نہیں۔ ہرگز نہیں۔
امام مسجد تو وہی رکھا جاتا ہے جو خاموش رہے، جو سوال نہ کرے، جو کسی کو ٹوکنے کی جرات نہ کرے۔ ایسے میں ایک بے بس امام صاحب عوام کو کیسے منع کریں کہ مسجد کے واش روم کا غلط استعمال نہ کریں؟
اصل ذمہ داری عوام کی ہے۔ اصل ذمہ داری حکومت کی ہے۔
عوام اس لیے کہ مسجد اللہ کا گھر ہے، کوئی پبلک ٹوائلٹ نہیں۔
حکومت اس لیے کہ مارکیٹوں، بس اڈوں اور عوامی مقامات پر واش روم فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
جب تک حکومت سختی سے اس پر عمل نہیں کرائے گی، جب تک عوام کو احساس ذمہ داری نہیں ہوگا، تب تک مساجد کی بے حرمتی ہوتی رہے گی۔
یہ صرف صفائی کا مسئلہ نہیں۔ یہ ایمان، تہذیب اور ریاستی ناکامی کا مسئلہ ہے۔

08/02/2026

Some international airlines also offer alcohol to passengers during the flight. Now our Pakistanis are getting restless to drink free alcohol. These people ask the air hostesses for alcohol and they are obliged to give them alcohol twice and they give it to them. But the real toast comes when they serve the food, these Pakistanis tell them "Halal food please."

08/02/2026

What drives you crazy in traffic? 🫠🚗

21/01/2026

“میں میٹنگ میں ہوں”

ایک زمانے میں یہ جملہ میری خواہش اور آرمان ہوا کرتا تھا۔ جب بھی کسی سرکاری افسر کے منہ سے سنتا کہ “بعد میں بات کرتے ہیں، میں میٹنگ میں ہوں” تو دل میں عجیب سا رشک اور حسد پیدا ہو جاتا۔

جولائی 2009 میں پہلی بار اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا۔ کسی سرکاری افسر سے کام تھا۔ ہم دیہاتیوں کے کام بھی بڑے معصوم سے ہوتے ہیں۔ گردے کی تکلیف تھی، ڈاکٹر کا نمبر لینے کے لیے اُس سرکاری افسر کی سفارش درکار تھی۔ ایک ہفتے تک وہ ٹالتا رہا۔ جب بھی کال کرتا، وہ کال کاٹ دیتا اور دو گھنٹے بعد میسج آتا: “میٹنگ میں ہوں”۔ میں بھی ڈھیر ساری معذرتیں کرکے اگلے دن قسمت آزمائی میں لگ جاتا۔ خیر، ایک ہفتے کی تگ و دو کے بعد مذکورہ سرکاری افسر نے ڈاکٹر کا نام بتایا اور کہا کہ فلاں ہسپتال چلے جاؤ، نمبر وہیں سے مل جائے گا۔ بات ذرا ناگوار لگی کہ یہ بات تو ہفتے پہلے بھی بتائی جاسکتی تھی، مگر خیرسرکاری افسر تھا، اتنا بھرم تو بنتا ہے۔ وہ الگ بات کہ چند سال بعد معلوم ہوا کہ فلاں صاحب کا جو بیٹا سرکاری افسر بتایا جاتا تھا، دراصل وہ کسی پرائیویٹ ادارے میں فوٹو کاپی مشین سنبھالنے کی ذمہ داری نبھا رہا تھا۔

دسمبر 2012 میں جب ACCA مکمل کر لیا تو اس کے بعد انٹرن شپ کی تگ و دو شروع ہوئی۔ جو بھی سفارش میسر تھی، آزمانے لگا۔ کبھی کسی سے درخواست کرتا، وہ اپنے کسی جاننے والے کا پتہ دے دیتا۔ وہاں جاتا تو اندر سے ایک ہی آواز آتی “میں میٹنگ میں ہوں”۔ اسلام آباد میں تین سال سے زائد عرصہ ہو چکا تھا۔ اعتماد میں بھی کچھ نہ کچھ اضافہ ہو گیا تھا۔ سرکاری و غیر سرکاری افسران کے اس رویے سے کچھ بیزاری بھی ہونے لگی تھی، مگر “میں میٹنگ میں ہوں” والے جملے کا رعب اب بھی ذہن پر سوار تھا۔

خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک دن میٹنگ کے اندرونی حالات دیکھنے کا موقع مل گیا۔ سوئی ناردرن گیس میں میری انٹرن شپ لگی۔ پہلا ہی دن تھا، اور میں اپنا پورا ACCA پہلے دن ہی استعمال کرنے کے جنون میں دفتر میں ٹہل رہا تھا۔ ایک بابے جن کی عمر پچپن سال سے اوپر لگ رہی تھی نے جان چھڑانے کے لیے مجھے پرانا گودام صاف کرنے اور فائلیں ترتیب دینے کا کام سونپ دیا۔ دو گھنٹے بعد مزید کام کی غرض سے ان کے پاس گیا۔ انکل ایک خاتون کے پاس بیٹھے تھے، جن کے خدوخال اور چہرے کے نقوش بتا رہے تھے کہ جوانی ڈھل چکی ہے۔ انکل انہیں اپنی بیوی کے بدذائقہ کھانوں کا رونا رو رہے تھے، بیچ بیچ میں رومانٹک بھی ہو جاتے اور میر تقی میر کا کوئی درد بھرا شعر سنا دیتے۔

میں نے معذرت خواہانہ لہجے میں عرض کیا کہ سر، مزید کوئی کام مل سکتا ہے؟
انکل نے غصے سے گھور کر دیکھا اور بولے “دیکھ نہیں رہے؟ میں میٹنگ میں ہوں!”

اُس دن مجھ پر ان افسران کی میٹنگ کا راز کھل گیا۔

لہٰذا آئندہ جب کبھی میں آپ کی کال اٹینڈ نہ کروں، یا کال بیک کرنے میں دیر لگ جائے، تو سمجھ لیجیے گا کہ
“میں میٹنگ میں ہوں”۔
نعمت وزیر!

Copied

20/01/2026

روس کے ایک قصبے میں ریلوے اسٹیشن پر نیا محافظ تعینات ہوا. تعیناتی کے پہلے روز وہ ریلوے اسٹیشن کے قریب بچھی ہوئی پٹڑی کی دیکھ بھال کے لیے گشت کر رہا تھا، کہ اس نے ایک شخص کو دیکھا جو بڑا سا آہنی اوزار تھامے پٹڑی کو زمین میں نصب کرنے والے چوڑی دار نٹ کھول رہا تھا ، محافظ نے اسے پکڑا اور اسے تفتیش کے لیے پولیس سٹیشن لے گیا۔
تفتیشی افسر : کیا تم جانتے ہو کہ تم جو کچھ کر رہے تھے وہ کتنا خطرناک ہے؟
تم پر ہزاروں بے گناہ لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کا الزام ہے۔
ملزم: اتنا بڑا الزام؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے، میں تو صرف ایک نٹ کھول رہا تھا جو کسی کو بھی تکلیف نہیں پہنچا سکتا؟ ، میں نے اس سے پہلے کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی۔
تفتیشی افسر : تم نٹ کیوں کھول رہے تھے ؟
ملزم: میں ایک ماہی گیر ہوں اور مجھے مچھلی پکڑنے کے دوران جال کو پانی میں ٹھیک طرح سے پھینکنے کے لیے جال کے کناروں کے ساتھ کوئی بھاری چیز لٹکانے کی ضرورت ہوتی ہے، تو بطورِ وزن میں نٹ اس جال کے ساتھ باندھ دیتا ہوں۔
تفتیشی افسر : تم نے ایسی وزن دار چیز خریدی یا خود سے بنانے کی کوشش کیوں نہیں کی ؟
ملزم: جال کے لیے سوراخ والی زیادہ وزنی چیزوں کی ضرورت اکثر رہتی ہے، اور میں ایک غریب مچھیرا ہوں، چوڑی دار نٹ کو کھولنا، خریدنے یا بنانے سے زیادہ آسان ہے، اور پورا قصبہ ایسا ہی کرتا ہے۔
تفتیشی افسر: یہ تم کیا کہہ رہے ہو، یہ پاگل پن کی انتہا ہے، تم سب لوگ مل کر کیا کر رہے ہو اور سارے گاؤں نے تمہاری طرح چوڑی دار نٹ چوری کیے ہیں تو پھر ریل ضرور الٹ جائے گی۔
ملزم: نہیں، یہ ایسا کبھی نہیں ہوگا، ہم ایک طرف والے نٹ کو کھولتے ہیں اور دوسری طرف اس کے مقابل نٹ کو لگا رہنے دیتے ہیں، اس طرح باری باری ہم اسی ترتیب سے نٹ کھولتے ہیں تاکہ ریل کا بوجھ تقسیم ہو جائے، ہم نے یہ بات اسکول میں فزکس کے اسباق میں اس وقت سیکھی جب ہم چھوٹے تھے۔
تفتیشی افسر : کچھ بھی ہو تم لوگوں کے اس فعل سے ریل اور انسانی جانوں کو خطرہ ہے ، اور کیا تم لوگ ان تمام چوڑی والے نٹوں کو جال کے نیچے لگا کر مچھلی کے شکار کے لیے استعمال کرتے ہو؟
ملزم: میں اور میرے بھائی انہیں شکار کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور ہمارا پڑوسی اسے میئر کے گھر اور تھانے کے تالے اور کُنڈیاں بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
تفتیشی افسر : یہ تم کیا کہہ رہے ہو، اور تمھارا پڑوسی ایسا کیوں کرتا ہے؟
ملزم: میئر نے اسے اپنے گھر اور تھانے کے دروازوں کےلیے نئے تالے بنانے کو کہا، لیکن اس میئر نے اسے پیسے نہیں دیے، اس لیے اس نے بغیر کسی خرچ کے تالے بنانے کا طریقہ سوچا، اور اسے اس سے بہتر کوئی چیز نظر نہیں آئی۔ ٹرین کے چوڑی دار نٹ وہ بھی خالص لوہے کے.
تفتیشی افسر : بلاشبہ اس کے پاس اور حل نہیں تھا، لیکن میئر نے جب وہ چوڑی دار نٹ دیکھے، تو کیا اس نے تالا ساز سے پوچھا کہ تم نے انہیں بنانے کے لیے رقم اور سامان وغیرہ کا بندوبست کیسے کیا ؟
ملزم : نہیں، میئر کو کوئی پرواہ نہیں تھی، اسے صرف نئے تالوں سے غرض تھی اور وہ اسے مل گئے۔
تفتیشی افسر : ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم نے کوئی بڑی آفت آنے سے پہلے ہی سارا معاملہ دریافت کر لیا، میں اس قصبے میں بچھی ریل کی پٹری پر پہرہ دینے کا حکم جاری کروں گا تاکہ آئندہ کوئی چوڑی دار نٹ کو کھول نہ سکے ۔
ملزم: مجھے لگتا ہے کہ یہ ہمارے لیے کوئی خاص مسئلہ نہیں ہوگا، کیونکہ ہمیں اپنے ساتھ والے گاؤں سے چوڑی دار نٹ مل جائیں گے، ہم ان سے سستے داموں خرید لیں گے۔
تفتیشی افسر : گھبراہٹ اور غصے سے کانپتے ہوئے، ملزم سے پوچھنے لگا کہ تم کیا کہہ رہے ہو، کیا وہ بھی تمہاری طرح نٹ چوری کرتے ہیں؟
ملزم: جی جناب، ریل کی پٹری کے آس پاس کے تمام دیہات ایسا ہی کرتے ہیں، وہاں ان کو شکار کے لیے استعمال کرنے والے، انہیں بیچنے والے اور ان کے ساتھ ساتھ تالے بنانے والے بھی ہیں، ہم سب ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔ جیسا کہ ہمارے پاس کوئی متبادل وسائل نہیں ہیں ، حتیٰ کہ ہمارے پاس سستی ترین چیزیں خریدنے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں، اس لیے ہمیں اپنی بقا کے لیے ریل کے چوڑی دار نٹ کو ہی کھولنا ہوگا۔
تفتیشی افسر : اگر سرکار آپ کی معقول تنخواہیں مقرر دے تو کیا تم لوگ چوڑی دار نٹ چوری کرنا چھوڑ دو گے؟
ملزم: مجھے خوف ہے جناب کہ نٹ کھولنا یہ سب کی پختہ عادت بن چکی ہے، اگر آپ کو چوڑی دار نٹ کی چوری سنجیدگی سے روکنی ہے تو آپ کو پھر بچپن سے ہی تعلیم دینی چاہیے کہ بڑے ہوکر انہیں کیا کرنا چاہیے، اس کے بعد نوجوانوں کی محرومی جب ختم ہوجائے گی اور انہیں گھر کی دہلیز پر انصاف، کام اور مناسب تنخواہ مل جائے گی تو وہ کبھی بھی چوڑی دار نٹ چوری کرنے کا نہیں سوچیں گے ۔
تفتیشی افسر : میں یہ سب تجاویز اپنی رپورٹ میں لکھوں گا، اور پھر دیکھتے ہیں کہ گورنر کیا کرتا ہے۔
اس کے بعد تفتیشی افسر نے فائل بند کر دی، اور اگلی ریل پر سوار ہوگیا جو دارالحکومت کی طرف واپس جارہی تھی.
کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے، تفتیشی افسر اپنے آپ سے کہنے لگا، کاش ہم جلد از جلد فیصلہ کرلیں، کیونکہ معاملہ انتہائی خطرناک ہے، معاشی محرومی اور دکھی لوگ، یہ کسی بڑی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔
انہی سوچوں میں غلطاں تفتیشی افسر نے ریل کی پٹڑی کے کنارے کھڑے ایک چھوٹے بچے کو دیکھا، اس کے چہرے سے خوشی مترشح تھی، وہ ہنس رہا تھا اور اس کے ہاتھ میں چوڑی دار دو نٹ تھے، یہ دیکھ کر تفتیشی افسر گھبراہٹ میں کانپ اٹھا، اور زور سے چلایا، ریل کو روکو، ریل کو روکو۔
لیکن بہت دیر ہو چکی تھی،
تصادم کی بھیانک آواز پر چیخ و پکار کا شور مچ گیا
اور ریل الٹ گئی۔
چھوٹے لڑکے نے انجانے میں آمنے سامنے کے دونوں نٹوں کو کھول دیا تھا۔
اس نے وہی کیا جو قصبے کا ہر فرد کرتا آرہا تھا، لیکن اسے اس کام کی گہرائی اور انجام کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ وہ بچہ غریب پیدا ہوا اور نہ سکول گیا اور نہ ہی اس نے فزکس کے اسباق میں شرکت کی۔
حادثے کی تحقیقات میں لکھا گیا کہ ریل گاڑی کے حادثے کا ذمہ دار غریبی اور جہالت کا شکار ایک چھوٹا بچہ ہے ، جس کی پرورش ایک ایسے گاؤں میں ہوئی تھی جو چوڑی دار نٹ چوری کرتا ہے، لہٰذا نٹ کھولنا ہی ریل گاڑی الٹنے کا سبب بنا۔
انٹونیو چیخوف کی مختصر کہانیاں یا مختصر افسانوں میں سے ایک افسانے "نٹ بے حد اہم ہے" کا ترجمہ و تلخیص عربی زبان سے ماخوذ .

20/01/2026

معزز حاضرین۔
اسلام نظم و ضبط کا دین ہے۔ سڑک بھی امانت ہے۔ راستہ بھی حق ہے۔ اس حق کو پامال کرنا گناہ ہے۔
پاکستان میں لین ڈسپلن کا تصور کمزور ہے۔ سڑکیں کشادہ ہیں۔ مسئلہ جگہ کا نہیں۔ مسئلہ رویے کا ہے۔ قانون کے مطابق ڈرائیونگ نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر جگہ ٹریفک جام ہے۔
موٹر سائیکل سواروں کی بڑی تعداد غلط لین میں چلتی ہے۔ گرین ہیلمٹ پہننا قانون کی علامت ہے۔ مگر عمل اس کے خلاف ہے۔ تیز لین میں آہستہ چلنا بد نظمی پیدا کرتا ہے۔ ہائبرڈ گاڑیاں اسپیڈ لین میں کم رفتار رکھتی ہیں۔ پیچھے قطار بنتی ہے۔ غصہ بڑھتا ہے۔ حادثات کا خطرہ بڑھتا ہے۔
یہ بڑی شاہراہوں کی بات ہے۔ شہروں کے اندر صورت حال اور سخت ہے۔ صبح سات بجے سے رات دس بجے تک چلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دو بڑی وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ ریڑھی اور ٹھیلے ہیں۔ سبزی اور پھل سڑک پر رکھے جاتے ہیں۔ فٹ پاتھ ختم ہو جاتے ہیں۔ سڑکیں تنگ ہو جاتی ہیں۔ پیدل چلنے والا سڑک پر آتا ہے۔ ٹریفک رکتی ہے۔ یہ رزق کا مسئلہ نہیں۔ یہ طریقے کا مسئلہ ہے۔ اسلام رزق حلال سکھاتا ہے۔ دوسروں کو تکلیف دے کر کمانا جائز نہیں۔
دوسری وجہ غلط پارکنگ ہے۔ گاڑیاں سڑک پر کھڑی ہوتی ہیں۔ موڑ بند ہو جاتے ہیں۔ ایمبولینس پھنس جاتی ہے۔ مریض کی جان خطرے میں پڑتی ہے۔ یہ صرف قانون شکنی نہیں۔ یہ ظلم ہے۔
قرآن کہتا ہے۔ اور فساد نہ پھیلاؤ زمین میں۔ سورۃ البقرہ 60۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ ہے۔ صحیح مسلم۔ پھر راستہ بند کرنا کیا ہے۔ یہ تکلیف ہے۔ یہ گناہ ہے۔
حکام اور اداروں کی خاموشی مسئلہ بڑھا رہی ہے۔ قانون موجود ہے۔ عمل نہیں۔ نگرانی کمزور ہے۔ نفاذ نظر نہیں آتا۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ راستے محفوظ کرے۔ عوام کی ذمہ داری ہے کہ قانون مانے۔
حل واضح ہیں۔ لین ڈسپلن کی سخت پابندی۔ سپیڈ لین میں مناسب رفتار۔ ریڑھی کے لیے مخصوص جگہیں۔ فٹ پاتھ خالی۔ غلط پارکنگ پر فوری کارروائی۔ مساجد سے آگاہی۔ اسکولوں میں تربیت۔
یہ مسئلہ صرف ٹریفک کا نہیں۔ یہ اخلاق کا مسئلہ ہے۔ یہ حق العباد کا مسئلہ ہے۔ جب ہم راستہ درست کریں گے تو دل بھی درست ہوں گے۔
آئیے عہد کریں۔ ہم قانون مانیں گے۔ ہم دوسروں کو تکلیف نہیں دیں گے۔ ہم اپنے شہر کو قابل رہائش بنائیں گے۔ یہی دین کا تقاضا ہے۔ یہی قوم کی ضرورت ہے۔

14/01/2026

There is no bad weather, only bad clothing

09/01/2026

یہ 24 جنوری 2011ء کی بات ہے۔ سکھر پولیس ایک خفیہ اطلاع پر ہائی وے پر ناکہ لگا کر گاڑیوں کی چیکنگ کر رہی ہے کہ اچانک ایک ٹرک آتا ہوا نظر آتا ہے، رکنے کا اشارہ کیا، ٹرک نہیں رکا بلکہ اور زیادہ رفتار سے بھاگ نکلتا ہے، پولیس مشکوک جان کر پیچھا کرتی ہے اور اسے پکڑ لیتی ہے۔ ٹرک کی فرنٹ سیٹ پر دو افراد سوار ہیں، ڈرائیور اپنا نام غازی خان دوسرا مَرزک خان بتاتا ہے۔ بتاتے ہیں کہ ہم دونوں ٹرک کے ڈرائیور ہیں اور کِنو(اورنج) لیکر کراچی جا رہے ہیں۔

ٹرک کی تلاشی کے دوران پولیس کو ڈرائیور کیبن میں کئی خفیہ خانے ملتے ہیں جن میں چرس کے تیس پیکٹوں میں کل تیس کلو چرس نکلتی ہے۔ اس کے علاوہ بھاری اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد ہوتا ہے۔ پولیس دونوں کو گرفتار کرکے ان پر دو مقدمے درج کرتی ہے، ایک کِنو کی آڑ میں منشیات کی ترسیل کا دوسرا بھاری اسلحہ اور بارودی مواد اسمگل کرنے کا جس میں دہشتگردی کی دفعات بھی لگتی ہیں۔

مقامی عدالت میں مقدمہ چلتا ہے، ملزمان جرم کا انکار کرتے ہیں کہ ہم تو محض ڈرائیور ہیں ہمیں ان اشیاء کا علم نہیں تھا، اکتوبر 2012ء میں عدالت ملزمان کو دفعہ نائن سی کے تحت مجرم قرار دیتی ہے اور دونوں کو عمر قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سناتی ہے۔ ملزمان سندھ ہائیکورٹ میں اپیل کرتے ہیں، دسمبر 2018ء میں ہائیکورٹ دونوں کی سزا کو برقرار رکھتے ہوئی اپیل خارج کردیتی ہے۔ ملزمان سپریم کورٹ میں اپیل کرتے ہیں، جسکی سماعت گذشتہ اپریل میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ کرتا ہے۔

سپریم کورٹ میں ملزمان نے اپنی بیگناہی کے دعویٰ کے علاوہ اعتراض اٹھایا کہ مقدمہ کے تمام گواہ پولیس ملازمین میں ہیں، منشیات برآمدگی کا کوئی راہ گیر وغیرہ پرائیویٹ گواہ نہیں ہے، لہذا یہ مقدمہ من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہے۔

جسٹس محمد اشتیاق ابراہیم فیصلہ تحریر کیا۔ عدالت نے گواہوں کے اعتراض کا جواب یہ دیا کہ سپریم کورٹ "نذیراحمد کیس" میں یہ اصول طے چکی ہے کہ پولیس کی گواہی کو اس وقت تک رَد نہیں کی جاسکتا جب تک انکی بدنیتی یا ملزمان سے ذاتی دشمنی ثابت نہ ہو جائے۔ اس کیس میں ملزمان کے پی سے اور گواہ سندھ سے ہیں، لہذا انکے درمیان کوئی پرانی دشمنی نہیں، انکی گواہی معتبر ہے۔

اسکے بعد عدالت دونوں ملزمان کے رَول کو الگ کرتی ہے۔ عدالت غازی خان کو ٹرک کا ڈرائیور ہونے کی وجہ سے 'کَنسٹرکٹو پُوزَیشن' (قبضہ حکمی) کی بنیاد پر منشیات کا ذمہ دار قرار دیتی ہے، اس اصول کی بنیاد پر یہ فرض کیا جاتا ہے کہ ڈرائیور کو گاڑی کی تمام اشیاء کے بارے میں علم اور کنٹرول ہوتا ہے، چاہے ان چیزوں پر اسکا قبضہ حقیقی نہ ہو۔ عدالت نے " کاشف امیر بنام سرکار کیس" اور ایک امریکی کیس "ریاست بنام ویلس" کا بھی حوالہ دیا کہ ڈرائیور گاڑی کا انچارج ہے، اس میں موجود تمام اشیاء اسکے قبضہ میں شمار کی جائیں گی۔ موجودہ کیس میں غازی خان ٹرک کا ڈرائیور تھا، گاڑی اسی کے کنٹرول میں تھی اور اشارے پر رکنے کے بجائے اسکا بھاگنا، یہ ثابت کرتا ہے کہ اسے ٹرک میں منشیات اور اسلحے و دیگر مواد کا علم تھا۔ عدالت نے غازی کی اپیل خارج کردی اورعمر قید کی سزا برقرار رکھی۔

مَرزک خان بارے عدالت کہتی ہے کہ چونکہ وہ مسافر سیٹ پر بیٹھا تھا، اس حوالے سے سپریم کورٹ "شہزاد بنام سرکار" کیس میں یہ اصول واضح کرچکی ہے کہ مسافروں کو منشیات کی ذمہ داری تب تک نہیں لگائی جا سکتی جب تک ان کا علم یا جرم میں شمولیت ثابت نہ ہو۔ اگر منشیات خفیہ جگہ پر ہو اور مسافر کی نظر میں نہ ہو، تو وہ ذمہ دار نہیں۔ پولیس مرزک خان کا مواد سے کوئی براہ راست لنک ثابت نہیں کرسکی۔ سپریم کورٹ نے مرزک کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا، یوں مرزک گذشتہ سال، 15 سال جیل میں گزار کر باہر آنے کے قابل ہوا۔

قانونی آگہی تو ہوگئی، سوشل آگہی اس کیس سے یہ ملتی ہے کہ 'لِفٹ' کا جہاں دینا نقصان دہ ہوسکتا ہے وہیں اِسے ہر گاڑی والے سے لینا آپکو پندرہ سال جیل میں رکھ سکتا ہے۔
محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ ، لاہور۔
نوٹ: گاڑی میں لفٹ لیتے اور دیتے وقت احتیاط کریں۔

05/01/2026

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی زہریلی لہر: ایک معاشرتی اور روحانی تباہی
آج کا دور ڈیجیٹل انقلاب کا دور ہے، جہاں ہر گھر میں موبائل فونز، فیسبک، انسٹاگرام اور ٹک ٹوک جیسے پلیٹ فارمز نے جگہ بنا لی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی جو اصل میں علم، رابطے اور تفریح کے لیے تھی، اب ایک زہریلی لہر کی صورت میں ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ تصور کریں کہ عام فیملی گروپس میں، جہاں خاندان کے بزرگ، بچے اور جوان سب شامل ہوتے ہیں، وہاں سرعام گندی ویڈیوز شیئر کی جاتی ہیں۔ ان ویڈیوز پر تبصرے ہوتے ہیں جو طوائفوں اور دلالوں کی زبان سے ملتے جلتے ہیں، ایسی باتیں جو کبھی بازاروں کی تاریک گلیوں تک محدود تھیں، اب ہر زبان پر چڑھ گئی ہیں۔ یہ کیسا معاشرہ بن رہا ہے جہاں بچے، جو ابھی دنیا کی معصومیت سے آشنا بھی نہیں ہوئے، ان موبائلز کے ذریعے ایسی گندگی دیکھ رہے ہیں؟ یہ کیسی تربیت ہے جو ہم اپنی آنے والی نسل کو دے رہے ہیں؟ اگر یہ بات کسی کو بری لگتی ہے تو لگے، حقیقت تو یہی ہے کہ جو لڑکے اور لڑکیاں لیکڈ ویڈیوز کی تلاش میں لگے رہتے ہیں، وہ ایک طرح سے اسی دلالی اور بدکاری کے دائرے میں گھوم رہے ہیں۔ یہ مضمون اس موضوع پر روشنی ڈالے گا، جہاں ہم گناہ اور ثواب کے روحانی پہلوؤں، معاشرتی اثرات، بڑی تباہیوں اور آنے والی نسل کی بربادی پر بات کریں گے، تاکہ دل دہل جائیں اور خوف خدا کا دل میں بیٹھ جائے، جو ہمیں اس گناہ سے دور کر دے۔
سب سے پہلے روحانی اور دینی پہلو پر غور کریں۔ اسلام میں آنکھوں کی حفاظت، زبان کی پاکیزگی اور دل کی طہارت پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ مومنین اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ ایسی ویڈیوز دیکھنا، شیئر کرنا اور ان پر تبصرے کرنا براہ راست زنا کی طرف لے جانے والا راستہ ہے، جو آنکھوں کا زنا ہے۔ حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نگاہ تیر ہے جو دل کو زخمی کرتی ہے۔ یہ گناہ نہ صرف فرد کو روحانی طور پر تباہ کرتا ہے بلکہ قیامت کے دن اس کا حساب شدید ہوگا۔ تصور کریں کہ اللہ تعالیٰ، جو ہر چیز کا دیکھنے والا ہے، آپ کی ان حرکتوں کو دیکھ رہا ہے۔ ثواب کی بات کریں تو اگر کوئی اس گناہ سے توبہ کرے، اپنے فون سے ایسی ایپس کو حذف کرے اور خاندان کو پاکیزگی کی طرف بلائے، تو اللہ کی رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ توبہ کرنے والے کو جنت کی خوشخبری ملتی ہے، جہاں ہر چیز پاک اور خوبصورت ہوگی۔ لیکن اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو گناہ کی زنجیر لمبی ہوتی جائے گی، جو نہ صرف دنیا میں ذلت لائے گی بلکہ آخرت میں جہنم کی آگ کا ایندھن بنے گی۔ یہ سوچ کر دل کانپ اٹھتا ہے کہ ایک کلک کی وجہ سے کتنی بڑی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
معاشرتی پہلو سے دیکھیں تو یہ ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔ ہمارے گھروں میں، جہاں پہلے بزرگوں کی باتیں، بچوں کی ہنسی اور خاندانی رابطے ہوتے تھے، اب یہ گروپس ایک بازارِ بدکاری بن گئے ہیں۔ لڑکیاں اور لڑکے جو لیکڈ ویڈیوز کی تلاش میں رہتے ہیں، وہ نہ صرف اپنی عزت کھوتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقیات کو گراتے ہیں۔ یہ تبصرے جو دلالی کی زبان سے ملتے ہیں، وہ عورت کی عزت کو پامال کرتے ہیں اور مردوں کو حیوانیت کی طرف دھکیلتے ہیں۔ نتیجہ کیا ہے؟ طلاقوں میں اضافہ، خاندانی جھگڑے، اور معاشرے میں بداعتمادی۔ ایک باپ جو دفتر سے تھکا ہارا آتا ہے، اگر دیکھے کہ اس کا بچہ ایسی ویڈیو دیکھ رہا ہے، تو اس کا دل کیسے ٹوٹے گا؟ یہ سوشل میڈیا کی آزادی نہیں، غلامی ہے جو ہمیں اپنے ہی گھروں میں قیدی بنا رہی ہے۔ بڑے اثرات دیکھیں تو یہ معاشرے کی بنیاد ہلا رہے ہیں۔ جرائم میں اضافہ، جیسے جنسی استحصال، بلیک میلنگ اور حتیٰ کہ خودکشی کے کیسز۔ کتنے نوجوان اس لت میں پھنس کر اپنی تعلیم، نوکری اور مستقبل تباہ کر رہے ہیں۔ یہ ایک زنجیری ردعمل ہے جو ایک ویڈیو سے شروع ہو کر پورے خاندان کو برباد کر دیتا ہے۔ معاشرہ جو پہلے اخلاقی اقدار پر کھڑا تھا، اب ایک دلدل میں تبدیل ہو رہا ہے جہاں سے نکلنا مشکل ہے۔
اب آنے والی نسل کے بارے میں سوچیں، جو دل دہلا دینے والا پہلو ہے۔ ہمارے بچے، جو ابھی کھلونوں سے کھیلنے کی عمر میں ہیں، موبائل ہاتھ میں لے کر ایسی گندگی دیکھ رہے ہیں۔ یہ کیسی تعلیم ہے جو ہم دے رہے ہیں؟ وہ بچے جو مستقبل کے معمار ہیں، ان کے ذہنوں میں یہ زہر بھر کر ہم انہیں کیا بنا رہے ہیں؟ ایک بچہ جو ایسی ویڈیوز دیکھتا ہے، اس کا ذہن خراب ہو جاتا ہے، وہ تعلیم پر توجہ نہیں دے سکتا، اس کی شخصیت میں بگاڑ آتا ہے۔ لڑکیاں خود کو چیز سمجھنے لگتی ہیں اور لڑکے عورتوں کو احترام کی بجائے شے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ آنے والی نسل اگر اسی طرح بڑھے گی تو معاشرہ کیا بنے گا؟ ایک ایسا معاشرہ جہاں محبت کی جگہ ہوس ہوگی، خاندان کی جگہ تنہائی اور امن کی جگہ جرائم۔ تصور کریں کہ آپ کا پوتا یا نواسہ، جو ابھی بولنا سیکھ رہا ہے، بڑا ہو کر ایسی حرکتوں میں ملوث ہو جائے۔ یہ سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ اثرات لمبے عرصے تک رہیں گے، جیسے ایک نسل سے دوسری نسل تک زہر منتقل ہوتا ہے۔ بچوں کے دماغ ابھی نرم ہوتے ہیں، جو دیکھتے ہیں وہی سیکھتے ہیں۔ اگر ہم نہ رکے تو یہ نسل تباہ ہو جائے گی، اور ہمارا معاشرہ ایک برباد کھنڈر بن جائے گا۔
آخر میں، یہ وقت ہے جاگنے کا۔ یہ گناہ چھوڑ دیں، اپنے فونز کو پاک کریں، خاندانی گروپس کو اخلاقیات کی جگہ بنائیں۔ اللہ سے توبہ کریں، تاکہ ثواب ملے اور آخرت سنورے۔ اگر خوف خدا کا دل میں بیٹھ جائے تو یہ سب ممکن ہے۔ یاد رکھیں، ایک چھوٹی سی حرکت بڑی تباہی لا سکتی ہے، لیکن ایک چھوٹی توبہ بڑی نجات دے سکتی ہے۔ اب فیصلہ آپ کا ہے، کیا آپ اس زہریلی لہر کا شکار بنیں گے یا اسے روکیں گے؟






























24/12/2025
Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Islamabad
46000