حاصل کسی کامل سے یہ پوشیدہ ہنر کر
،کہتے ہیں کہ شیشہ کو بنا سکتے ہیں خارا
معانی: کامل: اللہ وہ بندہ جو درویشی میں کمال رکھتا ہے، مراد فقیر یا
ولی یا درویش ۔ پوشیدہ: ہنر: چھپا ہوا ۔ خارا: پتھر ۔
�مطلب: یہ چھپا ہوا فن یا باطنی علم کہ جس کی بدولت دارا کا تخت و تاج ایک درویش کے پاؤں کے نیچے ہوتا ہے اور بادشاہ اس کے در کے غلام بن جاتے ہیں کسی مرد کامل ، کسی ولی کو ڈھونڈ کر اس سے حاصل کر کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ اس میں شیشے کو پتھر بنانے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔ مراد ہے دنیاوی سازوسامان اور شان وشکوہ نہ رکھنے والے کو ایسی بے نیازانہ شان عطا کرتا ہے کہ دنیاوی جاہ و جلال والے بھی اس کی چوکھٹ پر سر جھکاتے ہیں۔
(ارمغان حجاز)
Raja Anees Kayani¤ Dr.ALLAMA IQBAL.fans
Apny He Dast-e-Bazu Ki Himat Sy Ly Madad
.
.iqbal
Takht-e-Shahi K Zooq Main Zil-e-Houma Na Kr Talash.
ترے مقام کو انجم شناس کیا جانے
کہ خاکِ زندہ ہے تُو، تابعِ ستارہ نہیں۔
(بالِ جبریل)@
گہے رسم و رہِ فرزانگی ذوقِ جنوں بخشد
من از درسِ خردمنداں گریباں چاک می آیم!
ترجمہ!
کبھی دانائی کے طور طریقے بھی جنون کا ذوق بخش دیتے ہیں، اہلِ دانش کی باتیں سن کر میں گریبان چاک کر کے دانشکدہ سے باہر نکل آیا۔
(زبورِعجم)
ز ہر نقشے کہ دل از دیدہ گیرد پاک می آیم
گدائے معنئ پاکم تہی ادراک می آیم
ترجمہ!
میں نے خود کو ہر اس نقش سے پاک رکھا جو نگاہ کے ذریعے دل پر وارد ہو، پاکیزہ معنی کا گدا ہوں اپنا ادراک صاف رکھتا ہوں۔
(زبورِ عجم)
ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی
خراب کر گئی شاہیں بچے کو صُحبتِ زاغ،
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ۔
(جاوید نامہ)
9,Nov,2024.
147th ,anniversary of the celebrated poet, philosopher, and thinker – .
🎂🎆💫
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تُو میرا شوق دیکھ، مرا انتظار دیکھ،
کھولی ہیں ذوقِ دید نے آنکھیں تری اگر
ہر رہ گزر میں نقشِ کفِ پائے یار دیکھ
(بانگِ درا)
بھری بزم میں اپنے عاشق کو تاڑا
تری آنکھ مستی میں ہشیار کیا تھی،
تأمل تو تھا ان کو آنے میں قاصد
مگر یہ بتا طرز انکار کیا تھی ،
کھنچے خود بخود جانب طور موسیٰ
کشش تیری اے شوق دیدار کیا تھی،
کہیں ذکر رہتا ہے اقبالؔ تیرا
فسوں تھا کوئی تیری گفتار کیا تھی۔
(بانگِ درا)
یہ دنیا دعوتِ دیدار ہے فرزندِ آدم کو,
کہ ہر مستور کو بخشا گیا ہے ذوقِ عُریانی.!
نظم: حضرتِ انسان
کتاب: ارمغانِ حجاز
,,,,,,
اِقبال کا فلسفہ بےحسی کے الزامات کے بالکل برعکس ہے.
جو اسلام کے بعد کے دور کے صوفیاء سے منسلک تھے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اقبال نے روحانی عروج کے نمونے کو ادراک کے مختلف مراحل میں استعمال کیا جو کہ تمام صوفیانہ صوفیانہ احکامات میں مضمر ہے، لیکن انہوں نے روحانی محرک کو باطنی سے ظاہری سفر تک پہنچایا۔
اقبال کی روحانی شخصیت انتہائی متحرک ہے، لیکن وہ ہمیشہ مذہب اسلام کے اخلاقی اصولوں پر قائم ہے۔ یہ صحیح رہنمائی والے عمل کے ذریعے روحانی احساس کا عوامی انکشاف ہے۔ اقبال نے اپنی اسلامی زندگی کی تعمیر نو کی توجہ بالکل پیچھے ہٹا دی۔اقبال نے محسوس کیا کہ زندگی کے تئیں یہ منفی رویہ، مسلمانوں کی عمومی بے حسی اور فکری جمود بنیادی طور پر بعض مذاہب اور فلسفیانہ مکاتب فکر کے پیش کردہ خود نفی اور خود پسندی کے نظریے کے اثر کی وجہ سے ہے، جو انفرادیت کو دیکھتے ہیں۔ خود کو داخلی دماغ کی محض ایک شکل کے طور پر اور اس میں دوبارہ جذب کرنے کی مسلسل کوشش کرنا۔ اس لیے اس نے مسلمانوں کو ان کی زندگی کے بہترین مشن کے لیے بیدار کیا۔ اس نے ان میں زندگی کے لیے ایک نئی امید جگائی، ان کے جسمانی سماجی میں ایک نیا جوش ڈالا، انھیں اپنی نیندیں جھاڑ کر اسلام اور اس کی اقدار کی بالادستی کی جنگ میں سر دھڑ کی بازی لگانے کی ترغیب دی۔ مسلمانوں کے لیے ان کا پیغام زندگی، عمل اور جدوجہد کا پیغام تھا۔ ان کے درج ذیل زندگی بخش الفاظ آج بھی ہوا میں بجتے ہیں اور ہمیں آگے بڑھنے کا اشارہ دیتے ہیں۔
کائنات اور اس کی ہر شے کے دو رخ ہیں ۔ ایک ظاہری اور ایک باطنی ظاہری رخ کو تو ظاہری آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے ۔ لیکن باطنی رخ دیکھنا ان کے بس کی بات نہیں ۔ اس کے لیے انسان کو باطنی آنکھیں یا دل کی آنکھیں پیدا کرنی چاہیں ۔ یہ آنکھیں علم ظاہری سے نہیں باطنی علم سے پیدا ہوتی ہیں جسے رومانیت کا علم بھی کہتے ہیں ۔ کائنات میں جو کچھ پوشیدہ ہے جو کچھ اس کے پس پردہ ہے وہ ظاہر ہونے کے لیے ہے تاتی ہے وہ اپنے نظارے کیا ہوا دیتا ہے تاب رہتا ہے وہ خود اپنے نظارے کی دعوت دیتا ہے لیکن اس کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر باطنی آنکھ پیدا کرےاقبال نے محسوس کیا کہ زندگی کے تئیں یہ منفی رویہ، مسلمانوں کی عمومی بے حسی اور فکری جمود بنیادی طور پر بعض مذاہب اور فلسفیانہ مکاتب فکر کے پیش کردہ خود نفی اور خود پسندی کے نظریے کے اثر کی وجہ سے ہے، جو انفرادیت کو دیکھتے ہیں۔ خود کو داخلی دماغ کی محض ایک شکل کے طور پر اور اس میں دوبارہ جذب کرنے کی مسلسل کوشش کرنا۔ اس لیے اس نے مسلمانوں کو ان کی زندگی کے بہترین مشن کے لیے بیدار کیا۔ اس نے ان میں زندگی کے لیے ایک نئی امید جگائی، ان کے جسمانی سماجی میں ایک نیا جوش ڈالا، انھیں اپنی نیندیں جھاڑ کر اسلام اور اس کی اقدار کی بالادستی کی جنگ میں سر دھڑ کی بازی لگانے کی ترغیب دی۔ مسلمانوں کے لیے ان کا پیغام زندگی، عمل اور جدوجہد کا پیغام تھا۔ ان کے درج ذیل زندگی بخش الفاظ آج بھی ہوا میں بجتے ہیں اور ہمیں آگے بڑھنے کا اشارہ دیتے ہیں۔
کہاں وفا ملتی ہے مٹی کے ان حسین انسانوں سے ” اقبال “
یہ لوگ بغیر مطلب کے خدا کو بھی یاد نہیں کرتے
جولائی 1917 کے جریدے “نیا دور” میں اقبال نے “اسلام اور تصوف” پر ایک مضمون لکھا۔ اقبال نے کہا:
“موجودہ دور کا مسلمان ہیلینک فارسی تصوف کی دھندلی وادیوں میں بے مقصد گھومنے کو ترجیح دیتا ہے جو ہمیں اپنے اردگرد کی سخت حقیقت کی طرف آنکھیں بند رکھنا سکھاتا ہے، اور اپنی نگاہیں اس پر مرکوز کرنا کہ جسے ‘روشنی’ کہا جاتا ہے، نیلے، سرخ اور زرد، حقیقت ایک ضرورت سے زیادہ کام کرنے والے دماغ کے خلیوں سے پھوٹتی ہے۔ میرے نزدیک یہ خود پرستی، یہ عصبیت، یعنی حقیقت کو ان حلقوں میں تلاش کرنا جہاں اس کا کوئی وجود نہیں، ایک جسمانی علامت ہے جو ہمیں مسلم دنیا کے زوال کا اشارہ دیتی ہے۔ بقول اقبال __
تیری نگاہ میں ہے مجزات کی دنیا
مری نگاہ میں ہے حادثات کی دنیا
:.. توحید
میں نے اے میرِ سپہ تیری سپہ دیکھی ہے
قل ھو اللہ کی شمشیر سے خالی ہے نیام،
قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے
اس کو کیا سمجھیں یہ بے چارے دو رکعت کے امام۔!
۱:،، معانی: میرِ سپہ: سپہ سالار ۔ سپہ: فوج ۔ قل ھو اللہ کی شمشیر: قرآن کی تلوار ۔ نیام: تلوار کا غلاف ۔
: اقبال اس شعر میں مسلمانوں کے رہنماؤں خصوصاً مذہبی رہنماؤں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس لشکر کے تم امیر اور سپہ سالار ہو میں نے اس سپاہ کو دیکھا ہے ۔ اس میں ایک ایک سپاہی کی میان توحید کی تلوار سے خالی ہے ۔ اقبال کا مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں اگر توحید کی دولت نایاب ہے تو اس کے ذمہ دار اصل میں وہ خلوتی صوفیاء اور جلوتی علماء ہیں جو نہ خود توحید پر عامل ہیں اور نہ اپنی قوم کو انھوں نے اس کی روح سے آشنا کرا یا ہے ۔
۲ :،، معانی: امامت: رہبری ۔ دو رکعت: یعنی عبادت، نماز ۔ امام: نماز پڑھانے والے ۔
مطلب : ایسے پیشہ ور اور خود غرض علماءء فقیہ اور امام جن کی باتیں علامہ نے مذکورہ بالا شعروں میں کی ہیں جب مسجد میں نماز کی چند رکعتیں صحیح طور پر نہیں پڑھا سکتے وہ پوری قوم کی رہنمائی کیسے کر سکتے ہیں ۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ آج کے مسجدی امام اکثر نا اہل ، پیشہ ور اور فسادی ہوتے ہیں اور ان میں اپنے مقتدیوں میں اتحاد عمل و افکار پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی ایسے امام پوری قوم کی امامت کیسے کر سکتے ہیں اور اس کی واحد وجہ ان کی توحید نا آشنائی ہے ۔
(ضربِ کلیم)
؛صُبح؛
یہ سحَر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز
نہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا،
وہ سحَر جس سے لَرزتا ہے شبستانِ وجود
ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا۔
__,,,,
یہ مجھے معلوم نہیں ( تجاہل عارفانہ ) کہ یہ صبح جس سے ہم کل اور آج کا دن شد کرتے ہیں کیسے اور کہیں سے پیدا ہوتی ہے ۔ اس کا طلوع ہونا باعث حیرانی ہے۔ لیکن یہ ضرور جانتا ہوں کہ وہ صبح جس سے کائنات لرز اٹھتی ہے۔ بندہ مومن کی نون سے پیدا ہوتی ہے۔ عام صبح اندھیرے کو زائل کر کے ہر جگہ روشنی پھیلاتی ہے لیکن دوسری وہ صبح جس سے انسانی زندگی کے اندھیرے میں اجلا ہوتا ہے وہ بندہ مومن کی اذان ہے۔
(ضربِ کلیࣿم)
تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کو
کر اس کی حفاظت کہ یہ گوہر ہے یگانہ،
اُس قوم کو تجدید کا پیغام مبارک!
ہے جس کے تصّور میں فقط بزمِ شبانہ۔
(ضربِ کلیمࣿ)
افسوس، صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تُو
دیکھے نہ تری آنکھ نے فطرت کے اشارات،
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جُرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات!
(ابوالعلامعرّیؔ*)
بالِ جبریل:
Click here to claim your Sponsored Listing.
