ISPR Updates

ISPR Updates

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from ISPR Updates, Armed forces, Chaklalah air bass, Islamabad.

02/03/2026

کافر چاہے وہ انڈیا ہو امریکا اسرائیل یہ سب اسلام کے کھلے دشمن ہیں۔ہمیں اسوقت متحد ہونے اور اپنی عوام کی امریکی سفارتی عملہ کی ڈائرکٹ فائرنگ سے شہادت کو سیریس لینا چاہیے اور امریکی ریمنڈ ڈیوس بننے والوں کو فوری ملک بدر کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ پاکستان ایک آزاد ریاست اور سلطنت ہے۔کسی غیر ملکی کو پاکستانی عوام پر ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔انڈیا کی جانب سے پاکستانی چینلز پر حملہ کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں۔اور پاکستانی عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ مشتعل کرنے والوں کو فوری پہچاننے اور انکی نشاندھی فوری طور پر کرنے کی ضرورت ہے۔اس جلاؤ گھیراؤ سے نہ تو ایران کا کوئی فائیدہ ہے اور نہ کافروں کا کوئی نقصان ہے بلکہ اپنی جمع پونجی کو تباہ کرنے والی قومیں عقل مند نہیں ہوتیں۔

15/09/2025

حکیم محمد عبداللہ نقشبندی کے قلم سے
‏بی ایل اے کا اکیڈمک وِنگ جسے
Project
Aab e Kuhan کہا جاتا ہے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ذہن سازی، خودکش حملہ آوروں کی بھرتی اور را سے براہِ راست کوآرڈینیشن میں مصروف ہے۔اس نیٹ ورک کی اصطلاحات میں کتاب گھر اصل میں دھماکہ خیز مواد کا اسٹور روم، اور ریسرچ سیل آن لائن پروپیگنڈا فیکٹری کے کوڈ نام ہیں۔

بی ایل اے کے ایجنٹ پہلے مرحلے میں کیمپس ڈبیٹ کلبز اور لٹریچر سرکلز کو فنڈ کرتے ہیں۔ لسانی مظلومیت اور وسائل کے استحصال پر مبالغہ آمیز پریزنٹیشنز دکھا کر طلبہ کو “انسانی حقوق کے کورس ورک میں جبرِ ریاست کے مطالعے کی طرف مائل کیا جاتا ہے۔ دوسرا مرحلہ تب شروع ہوتا ہے جب منتخب نوجوانوں کو بیرونِ ملک فیلوشپ یا اسکالرشپ کا لالچ دیا جاتا ہے؛ یہی وہ مقام ہے جہاں را کا فرنٹ آرگنائزیشن South Asia Research Collective مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔صرف کراچی کی دو جامعات میں اسپانسرڈ ڈبیٹ ورکشاپس پر 4.6 ملین روپے خرچ کیے گئے 95٪ رقم غیر مُلکی اکاؤنٹس سے منتقل ہوئی۔

‏بی ایل اے کے تعلیمی نیٹ ورک کی بھرتی کا عملی ماڈل تین مربوط مگر خفیہ مراحل پر مشتمل ہوتا ہے، جس کی ابتدا یونیورسٹی کی فکشن رائٹنگ سوسائٹی جیسے بظاہر بے ضرر حلقوں سے کی جاتی ہے۔ ان سوسائٹیز میں طلبہ کو لسانی شناخت، استحصال اور نوآبادیاتی تاریخ جیسے موضوعات پر تحریری مقابلوں میں شریک کروایا جاتا ہے، جہاں مقامی رابطہ کار جسے اندرونی طور پر پروفیسر X کہا جاتا ہے طلبہ کی ذہنی ساخت اور رجحانات کا جائزہ لیتا ہے۔

‏دوسرا مرحلہ تب شروع ہوتا ہے جب ان طلبہ کو آف کیپس “ریٹریٹ” ورکشاپ میں مدعو کیا جاتا ہے یہ ورکشاپ بظاہر ادبی یا فکری سرگرمی ہوتی ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک الگ تھلگ مقام پر واقع تربیتی مرکز میں منعقد ہوتی ہے، جسے سفیان کرد سیل چلاتا ہے۔ یہاں را کا میڈیا سب یونٹ موجود ہوتا ہے جو ان نوجوانوں کو نظریاتی عسکری بیانیے کی تربیت دیتا ہے اور انہیں خود ساختہ انقلابی جدوجہد کے عملی پہلوؤں سے روشناس کراتا ہے۔

‏تیسرا اور فیصلہ کن مرحلہ بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں واقع بی ایل اے کے خفیہ کیمپس میں لے جایا جاتا ہے۔ یہاں سے نوجوان عملی طور پر پہاڑوں پر چڑھ کر دہشت گردی کی مہمات کا حصہ بن جاتے ہیں، جن کی فنڈنگ بی ایل اے کے فنانس ڈیسک کے ذریعے را کے کوآرڈی نیٹرز کرتے ہیں۔ یہ پورا ماڈل نہ صرف سادہ ذہنوں کو نظریاتی شدت پسندی کی طرف مائل کرتا ہے، بلکہ انھیں ایک مکمل عسکری اثاثے میں تبدیل کر دیتا ہے۔

‏فورنزک ماہرین نے بی ایل اے کی میڈیا ڈائرکٹری اور را کے InfoSphere 9 سرور کے مابین اوسطاً ماہانہ 19 GB ڈیٹا ٹریفک نوٹ کی۔ ٹریفک کا بیشتر حصہ لیکچر سلائیڈز، انکرپٹڈ آڈیو پوڈکاسٹ اور کرپٹو کرنسی والٹ اپڈیٹ پر مشتمل ہے۔65٪ کرپٹو فنڈنگ Monero Privacy Pools کے ذریعے موصول ہوئی جس کا سورس مشتبہ Bharat Global Trust نکلا۔

‏کلاس روم، لیبارٹری اور لائبریری اُس وقت خطرناک محاذ میں بدل جاتے ہیں جب اقوام دشمن کی بیانیاتی جنگ میں دانش رَس کمین گاہیں بنا لیتی ہیں۔ بی ایل اے کا اکیڈمک نیٹ ورک صرف نصابی مباحث کو مسخ نہیں کر رہا، بلکہ ذہنوں کو بارود میں تبدیل کر رہا ہے۔ ڈاکٹر عثمان قاضی کی گرفتاری اور صفیان کرد کی ہلاکت نے ثابت کیا کہ یہ نیٹ ورک اب ہائبرڈ وار کے سافٹ فیز سے نکل کر براہِ راست عسکری فیز میں داخل ہو چکا ہے۔لہٰذا ریاست کو محض منیجمنٹ کمیٹی یا سینیٹ اجلاس کی قراردادوں پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ ایک جامع آپریشن جس میں سائبر فورنزک، فنانشل مانیٹرنگ اور کیمپس سیکیورٹی ریفارمز یکجا ہوں ناگزیر ہو چکا ہے، ورنہ کل کی کلاس ٹوپر آج کا خودکش بمبار بننے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔

11/09/2025

9 اور 10 ستمبر کو صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں تین الگ الگ کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے بھارت نواز دہشت گرد تنظیم فتنہ الخوارج کے 19 خوارج کو جہنم واصل کر دیا۔

موصولہ اطلاعات پر مہمند کے علاقے گلونو میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران خوارج کی پناہ گاہ کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارت نواز 14 خوارج ہلاک کر دیے گئے۔

اسی طرح شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں بھی انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا، جہاں فائرنگ کے تبادلے کے دوران مزید 4 خوارج مارے گئے۔

ایک اور مقابلہ بنوں کے علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک خوارج کو سیکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا۔

بھارت نواز ان خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔

علاقے کو کلیئر کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی باقی ماندہ خوارج کا خاتمہ کیا جا سکے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں۔

Photos from ISPR Updates's post 09/09/2025

🚨 ایس ایس جی کے شیر دل کمانڈو میجر عدنان 🇵🇰 بنوں میں خوارجیوں کے خلاف لڑتے ہوئے اپنے ساتھی کی جان بچاتے ہوئے مادرِ وطن پر قربان ہو گئے 🕊️⚔️

08/09/2025

انا للّٰہ ہی وانا الیہ رجعون🤲
فوجی ملک منیر احمد کھوکھر چاہ اوکانوالہ شریف آباد لائینس نائیک ضلع جھنگ سے بلوچستان میں شہید ۔ مادر وطن پہ قربان ہوگیا 🪖🇵🇰
ہم اہل خانہ کے غم میں برابر شریک ہیں۔
اللہ تعالیٰ صبر جمیل عطا فرمائے۔
حکیم محمد عبداللہ نقشبندی

05/08/2025

‏بلوچستان کے ضلع پنجگور کے علاقے گوران میں فرنٹیئر کور اور سپیشل سروسز گروپ کے مشترکہ انسدادِ دہشت گردی آپریشن نے بی ایل اے کو اُس کے اب تک کے سب سے بڑے نقصان سے دوچار کر دیا۔ باوثوق سکیورٹی ذرائع کے مطابق دو گھنٹے تک جاری رہنے والی سخت جھڑپ میں تنظیم کے اعلانیہ اور نقاب پوش جنگجوؤں سمیت بائیس دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں بدنامِ زمانہ کمانڈر امیر عرف “بابا” بھی شامل تھا۔ یہ وہی ملزم ہے جسے کئی برس سے چینی مفادات، گوادر بندرگاہ اور مسافر کوچوں پر حملوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا تھا، جبکہ بین الاقوامی سطح پر بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے ۔

فورسز کو خفیہ اطلاعات ملیں کہ بی ایل اے دہشتگرد سی پیک روٹ کے قریب واقع ایف سی کیمپ پر بڑی کارروائی کی تیاری میں ہیں۔ جس پر مکمل تیاری کرلی گئی اور جیسے ہی دہشت گردوں نے حملہ کیا ۔سکیورٹی دستوں نے ملحقہ پوسٹوں پر سے فائر سپورٹ لیتے ہوئے تین جانب سے پیش قدمی کی۔ چشمِ زدن میں کیمپ کے گرد گھیرا تنگ ہوا اور دہشت گردوں کی بھاری تعداد محصور ہو گئی۔ زمینی محاذ پر دست بدست لڑائی کے ساتھ ساتھ کوبرا ہیلی کاپٹروں نے فضائی کور فراہم کیا۔ ابتدائی جھڑپ میں گیارہ لاشیں موقع پر گر گئیں، جب کہ بعد ازاں کلیئرنس کے دوران مزید لاشیں ملنے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 22 تک پہنچی ۔

امیر عرف بابا کون تھا؟👇

ہوشاب کا رہائشی امیر ۲۰۱۴ میں بی ایل اے سے وابستہ ہوا، اور جلد ہی مجید بریگیڈ کے فیلڈ کمانڈر کے طور پر اُبھرا۔ اس پر ۲۰۱۸ کے چینی قونصل خانے حملے، ۲۰۲۴ کے گوادر خودکش دھماکے اور درجنوں ٹارگٹ کلنگز کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔ عسکری ماہرین کے بقول امیر کی ہلاکت سے تنظیم نہ صرف فیلڈ کمانڈ اور ریکروٹمنٹ سے محروم ہوئی بلکہ اس کی پروپیگنڈا صلاحیت پر بھی کاری ضرب لگی ۔

دہشت گردوں کے قبضے سے درجنوں کلاشنکوفیں، جی–۳ رائفلیں، ہینڈ ہیلڈ تھرمل اسکینر، نائٹ وژن ڈیوائسز اور بڑی مقدار میں آر پی جی گولے برآمد ہوئے۔

ایک زیرِ زمین مواصلاتی بنکر سے بھارتی ساختہ ہائی فریکوئنسی سیٹ اور کرپٹڈ سیٹلائٹ فون بھی دستیاب ہوئے۔

ایف سی کے دو جوان شہید جبکہ متعدد معمولی زخمی ہوئے انہیں سی ایم ایچ خضدار منتقل کر دیا گیا جہاں حالت خطرے سے باہر ہے۔

دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ یکم اگست کی کارروائی نے نہ صرف پنجگور ایران سرحدی راہداری کو محفوظ بنایا بلکہ بی ایل اے کی

01/08/2025

27 year old Ali Abu Madi, died from hunger.

01/08/2025

پاکستانیوں آؤ سوشل میڈیا کا محاذ سنبھالوں عالمی پراکسی کے خلاف
پاکستان کا ساتھ دو اور دشمن کا بیانیہ زمین بوس کر دو
تقسیم انتشار مایوسی کا حصہ مت بنو ۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد

Photos from ISPR Updates's post 30/07/2025

کمبخت کہتے ہیں فوج کیا کرتی ہے فوج تمہارے بچوں کی خوشیوں کہ لیےاپنے بچوں کی خوشیاں قُربان کرتی ہے الله پاک شہید کہ درجات بُلند فرماے اور لواحقین کو صبرٍجمیل عطاء فرماۓ

28/07/2025

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
فخر خوشاب میجر زیاد سلیم رات مچھ بلوچستان میں دہشتگردوں کا جواں مردی سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگیا ۔
اللہ کی جنت کا مہمان ہوگیا ۔
تو سلامت وطن 🇵🇰
تا قیامت وطن 🇵🇰

27/07/2025

پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے کیپٹن محمد سرور شہید، نشانِ حیدر کی 77ویں برسی نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔

کیپٹن محمد سرور شہید 27 جولائی 1948 کو کشمیر کی پہلی جنگ کے دوران ضلع پونچھ کے علاقے تلپترہ (آزاد کشمیر) میں مادرِ وطن کے دفاع میں دشمن کی گولیوں کا سینہ چاک کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ وہ نشانِ حیدر پانے والے پاک فوج کے پہلے سپوت ہیں جنہوں نے غیر معمولی جرأت، عسکری فہم و فراست اور فرض شناسی کی لازوال مثال قائم کی۔

ان کی بے مثال قربانی ہمیشہ کے لیے قومی فخر، فوجی جذبے اور شجاعت کی علامت بن چکی ہے۔ مسلح افواج ان کے اعلیٰ کردار، بے لوث قربانی اور عظیم حوصلے کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہیں۔

قوم اس موقع پر اپنے بہادر سپوت کو سلام پیش کرتی ہے جس کی شہادت نے پاک فوج کے نظریۂ قربانی کی بنیاد رکھی۔

مسلح افواج شہداء کی وراثت سے قوت حاصل کرتے ہوئے وطنِ عزیز کے دفاع اور خودمختاری کی حفاظت کے عزم کی تجدید کرتی ہیں۔

27/07/2025
Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Chaklalah Air Bass
Islamabad