05/02/2026
بیوم یکجہتی کشمیر،بطورچیئرمین کشمیر کمیٹی قائدجمعیت کی خدمات اوراعتراضات کاجائزہ
تحریر: مولانا آصف کریم
آج پانچ فروری کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا دن ہے۔ جمعیت علماء اسلام نےملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیرکے عنوان سے تقاریب کااہتمام کیاہے، اس مناسبت سے ماضی میں بطور چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی قائدجمعیت مولانافضل الرحمن کی خدمات کےمتعلق حقائق سامنے لانا ضروری محسوس ہوتا ہے، تاکہ پارلیمانی سطح پرمسئلۂ کشمیر کے حوالے سے قائدِ جمعیت کی سنجیدہ کوششوں کی حقیقی تصویر نمایاں ہو سکے۔
مسئلۂ کشمیر برصغیر کی تاریخ کا وہ باب ہے جو آج بھی ادھورا ہے۔ یہ محض سرحدوں کا تنازع نہیں بلکہ حقِ خودارادیت، انسانی وقار اور بین الاقوامی انصاف کا سوال ہے۔ پاکستان کی پارلیمانی روایت میں کشمیر کمیٹی اسی مقصد کے لیے قائم کی گئی کہ یہ فورم قومی موقف کو منظم کرے، پارلیمان کی اجتماعی آواز کو دنیا تک پہنچائے اور کشمیریوں کی جدوجہد کو سفارتی و سیاسی سطح پر اجاگر رکھے۔
قائدجمعیت مولانا فضل الرحمن جب اس کمیٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے تو انہوں نے اس ذمہ داری کو رسمی عہدہ نہیں سمجھا بلکہ ایک قومی امانت کے طور پر لیا۔ان کے نزدیک کشمیر کا مسئلہ نہ وقتی سیاسی فائدے کا ذریعہ ہے اور نہ ہی محض جذباتی نعروں کا موضوع، بلکہ یہ ایک مسلسل، سنجیدہ اور اصولی مقدمہ ہے جسے دلیل، تسلسل اور حکمت کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھا جانا چاہیے۔
چیئرمین کشمیر کمیٹی کی حیثیت سےحضرت قائد جمعیت کی نمایاں کاوش یہ رہی کہ انہوں نےاس فورم کو متحرک رکھا۔ کمیٹی کے اجلاس، بریفنگز، متعلقہ اداروں سے روابط اور سفارشات کے ذریعے مسئلۂ کشمیر کو پارلیمانی بحث کا زندہ موضوع بنایا۔ یومِ یکجہتی کشمیر جیسے مواقع پر انہوں نے عوامی سطح پر وابستگی کو مضبوط کرکےیہ باور کرایا کہ یہ یکجہتی محض ایک دن کا اظہار نہیں بلکہ قومی عہد ہے۔
قائدجمعیت مدظلم کا بنیادی موقف ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کےگرد رہا۔ اوربھارتی مظالم، کرفیو ،وہاں کی آبادی کےتناسب میں تبدیلی کی کوششیں اور آرٹیکل 370 کے خاتمے جیسے اقدامات پر انہوں نے کھل کر ردِعمل دیا اور حکومتوں کومتوجہ کیاکہ عالمی فورمز پر اس مسئلے کو مؤثر انداز میں اٹھایا جائے۔
اسی دوران ایک اور پہلو بھی قابلِ ذکر ہے کہ مختلف اوقات میں کشمیری قیادت کے ساتھ قائدجمعیت مولانا فضل الرحمن کے اختلافات کی کہانیاں گھڑی گئیں ، بعض کشمیری رہنماؤں کی طرف ایسے بیانات منسوب کیے گئے جن میں مولانا کے حوالے سے منفی تاثر دینے کی کوشش کی گئی۔لیکن بعد ازاں انہی شخصیات کی طرف سے ان بیانات کی تردید بھی سامنے آئی۔یہ طرزِ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پرقائدجمعیت کی سنجیدہ سرگرمیوں کو متنازع بنانے کی کوششیں بھی کی جاتی رہیں، تاکہ اصل کام سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے جسے دانستہ طور پر نظر انداز کیا جاتا رہاکہ کشمیر کمیٹی کا مینڈیٹ کشمیر کو آزاد کرانا نہیں ہے۔ کیونکہ یہ کمیٹی نہ کوئی ایگزیکٹو اتھارٹی ہے اور نہ ہی خارجہ پالیسی بنانے کا ادارہ۔ اس کا دائرۂ کار ایک مشاورتی اور نمائندہ فورم کا ہے جس کا کام پاکستان کے موقف اور کشمیریوں کی آواز کو پارلیمان کے ذریعے بین الاقوامی دنیا تک پہنچانا ہے۔جبکہ پالیسی سازی اور عملدرآمد حکومت اور متعلقہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے، کشمیر کمیٹی کی نہیں۔
اسی تناظر میں وہ اعتراض بھی سامنے آتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے اس عہدےپررہ کر محض “پروٹوکول انجوائے” کیا۔ یہ اعتراض اس وقت کمزور پڑ جاتا ہے جب یہ حقیقت سامنے رکھی جائے کہ کشمیر کمیٹی آج بھی موجود ہے، اس کا چیئرمین بھی ہے، مگر نوّے فیصد لوگوں کو اس کا نام تک معلوم نہیں۔بلکہ اس سے پہلے بھی کئی چیئرمین گزرے، مگر سوائے نوابزادہ نصراللہ خان کے شاید ہی کسی کا نام عوامی سطح پر یاد ہو۔ کارکردگی تو بعد کی بات ہے۔سوال یہ ہے کہ جب یہ عہدہ کسی اور کے پاس ہو تو وہ غیر اہم کیوں ہو جاتا ہے، اور جب یہی ذمہ داری مولانا فضل الرحمن کے پاس آتی ہے تو اچانک اس پر تنقید، نگرانی اور پروپیگنڈے کا طوفان کیوں اٹھ کھڑا ہوتا ہے؟
حقیقت یہ ہےکہ قائدجمعیت مولانا فضل الرحمن نے اس فورم کو اتنا فعال بنا دیا کہ ان طبقات کی غفلت اور بددیانتی نمایاں ہونے لگی جو اس مسئلے سے وابستہ اور بااختیار تھے۔ آپ محض رسمی بیانات تک محدود نہیں رہے بلکہ متعلقہ اداروں کی کمزوریوں کی نشاندہی بھی کرتے رہے۔ یہی وجہ تھی کہ ان پر تنقید کا رخ عہدے کی طرف کم اور شخصیت کی طرف زیادہ رہا۔
یہی صورت حال اس وقت بھی دیکھنے میں آئی جب وہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین تھے۔تب بھی ان پر مراعات لینے،مال بنانے اور حکومتی اتحادی ہونے کے الزامات لگتے رہے، مگر آج نہ اس کمیٹی کے بعد کے چیئرمینوں کا نام کسی کو یاد ہے ،نہ ہی ان کے پیش رّؤں کا،اور نہ ان کی کارکردگی کبھی زیرِ بحث آتی ہے۔
قائد جمعیت مدظلہ خود ہی اس امر کی طرف اشارہ کرتے رہے کہ جب وہ کشمیر کمیٹی سے الگ ہوئے تو کشمیر کے حوالے سے ایسے معاملات طے کیے گئے جنہیں “کشمیر کے سودے” سے تعبیر کرتے رہے، مگر ان کی آواز پر کسی نے کان نہیں دھرا۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اصل دلچسپی کشمیر کے مسئلے سے تھی یا اس بات سے کہ ایک دینی پس منظر رکھنے والا شخص اس منصب پر کیوں فائز ہے؟
جمعیت علمائے اسلام کی پالیسی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ ہونا چاہیے، کشمیریوں کے حقِ خودارادیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، اور عالمی برادری کو بھارتی مظالم پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔قائدجمعیت مدظلہ نے چیئرمین کشمیرکمیٹی اور چیئرمین امور خارجہ کمیٹی کی حیثیت سے اسی پالیسی کو پارلیمانی سطح پر نمایاں کیا۔ان کی خدمات کا خلاصہ یہ ہے کہ انہوں نےایک مشاورتی فورم کو اتنا باوزن بنا دیا کہ وہ قومی بیانیے کا حصہ بن گیا۔اور کشمیر کےمسئلے کو فائلوں سے نکال کر پارلیمان، عوام اور میڈیا کی گفتگو کا موضوع بنایا۔
حقیقت یہ ہے کہ قائد جمعیت کی مسئلہ کشمیر سے سنجیدہ وابستگی، مسلسل آواز اور بے لاگ نشاندہی نے اس منصب کو نمایاں کیااور اسی نمایاں ہونے نے اعتراضات کو جنم دیا۔چیئرمین کشمیر کمیٹی کی حیثیت سے قائد جمعیت کی اصل خدمت یہ تھی کہ انہوں نے اس فورم کو زندہ رکھا، کشمیریوں کی آواز کو قومی آواز کے ساتھ جوڑے رکھا،اور یہ باور کرایا کہ کشمیر کا مقدمہ وقتی سیاست نہیں بلکہ ایک مسلسل قومی واخلاقی ذمہ داری ہے۔

18/01/2026
04/01/2026
01/01/2026
30/12/2025