Fatyana House

Fatyana House Official Page of Fatyana House
Public Service | Community Development | People First
NA-107

🎓 داخلوں کا دوسرا مرحلہ — خزاں 2026 اب شروع ہو چکا ہے!والدین اور طلبہ کی جانب سے موصول ہونے والی بھرپور درخواستوں کے پیش...
08/10/2026

🎓 داخلوں کا دوسرا مرحلہ — خزاں 2026 اب شروع ہو چکا ہے!

والدین اور طلبہ کی جانب سے موصول ہونے والی بھرپور درخواستوں کے پیشِ نظر، یونیورسٹی آف کمالیہ نے منتخب پروگرامز میں محدود اضافی نشستیں فراہم کی ہیں، تاکہ مزید طلبہ کو معیاری، جدید اور مستقبل سے ہم آہنگ تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔

📚 محدود اضافی نشستوں کے ساتھ دستیاب پروگرامز

🌙 صرف ایوننگ پروگرامز
• BS Medical Imaging Technology
• BS Medical Laboratory Technology
• BS Human Nutrition & Dietetics

☀️ مارننگ پروگرامز
• BS Biochemistry
• BBA
• BS Accounting & Finance
• BS Business Analytics
• BS E-Commerce & Digital Marketing
• BS English
• BS Applied Psychology
• BS (Textile Design, Fashion Design & Graphic Design)

✨ OBE پر مبنی جدید نظامِ تعلیم
🏫 جدید اور ایئرکنڈیشنڈ کلاس رومز
🚀 اپنا کاروبار شروع کرنے کی عملی تربیت، مینٹورشپ اور انٹرپرینیورشپ سپورٹ
🚌 طالبات کے لیے ہاسٹل اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات

درخواست جمع کروانے کی آخری تاریخ: 20 اکتوبر 2026
🌐 آن لائن اپلائی کریں: admissions.ukm.edu.pk

چک نمبر 722 گ ب، ڈیرہ ذوالفقار گجر نمبردار— اہم ملاقاتایم این اے ریاض فتیانہ کی چک نمبر 722 گ ب، ذوالفقار گجر نمبردار ، ...
07/10/2026

چک نمبر 722 گ ب، ڈیرہ ذوالفقار گجر نمبردار— اہم ملاقات

ایم این اے ریاض فتیانہ کی چک نمبر 722 گ ب، ذوالفقار گجر نمبردار ، معززین علاقہ اور دیگر دوست احباب کے ساتھ ملاقات، جس میں علاقائی امور اور عوامی مسائل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

عوام سے رابطہ، باہمی مشاورت اور علاقے کی بہتری کے لیے مل بیٹھنا ہی عوامی خدمت کا اصل جذبہ ہے۔

ریاض فتیانہ — عوام کے درمیان، عوام کے لیے!

ریاض فتیانہ کی گرفتاری سے باعزت بریت تک ایک اہم سیاسی داستان7 اکتوبر 2000 کو سابق وزیر تعلیم پنجاب ریاض فتیانہ کو جنرل پ...
07/10/2026

ریاض فتیانہ کی گرفتاری سے باعزت بریت تک ایک اہم سیاسی داستان
7 اکتوبر 2000 کو سابق وزیر تعلیم پنجاب ریاض فتیانہ کو جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کے دوران لیفٹیننٹ جنرل خالد مقبول کے حکم پر کمالیہ میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔ انہیں 70 روز تک چنبہ ہاؤس لاہور میں جسمانی ریمانڈ پر رکھا گیا۔ بریگیڈیئر فاروق اور کرنل منشا کی زیر نگرانی متعدد تفتیشی ٹیمیں مسلسل تحقیقات کرتی رہیں۔
ریاض فتیانہ کی جائیداد، لاہور اور کمالیہ میں ان کے زیر استعمال تمام محکموں کے یوٹیلیٹی بلز، بچوں کے اسکولوں میں ادا کی جانے والی فیسوں کا حساب، بیرون ملک ممکنہ اثاثوں کی بین الاقوامی اداروں کے ذریعے چھان بین اور ان کے ساتھ کام کرنے والے تمام سرکاری اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی گئی۔ بدعنوانی، بیرون ملک اثاثوں، اندرون ملک جائیداد اور رہن سہن سمیت مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی گئیں۔
تحقیقات مکمل ہونے کے بعد پنجاب کے انچارج بریگیڈیئر فاروق نے ریاض فتیانہ کو جیل منتقل کرنے سے قبل اپنے دفتر میں بلایا اور کہا کہ آپ کے مخالفین، جن میں سیاسی مخالفین اور بعض حاسد رشتہ دار بھی شامل تھے، کی جانب سے کی گئی کوئی بھی شکایت درست ثابت نہیں ہوئی۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہم نے آپ کو غلط طور پر گرفتار کیا اور 70 روز تک جسمانی ریمانڈ پر تفتیش کی۔
تاہم، اپنے حلقے کے سیکڑوں بے روزگار افراد کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے پر اختیارات سے تجاوز کے الزام میں آپ کے خلاف چالان پیش کیا جا رہا ہے۔
ریاض فتیانہ کو پرزنر وین کے ذریعے کیمپ جیل لاہور منتقل کیا گیا، جہاں انہیں سزائے موت کی چکیوں میں رکھا گیا۔ چنبہ ہاؤس میں ملاقات پر پابندی تھی، تاہم کیمپ جیل لاہور میں ہفتے میں ایک روز اہل خانہ اور دوستوں کو ملاقات کی اجازت مل گئی۔ کمالیہ سے بڑی تعداد میں ریاض فتیانہ سے محبت کرنے والے ساتھی مرحلہ وار ان سے ملاقات کے لیے پہنچتے رہے اور ان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے رہے۔
ریاض فتیانہ کے ساتھ جیل میں اسی بیرک میں سابق وزرا اور ارکان قومی اسمبلی رانا تنویر احمد، چوہدری حمید احمد، رانا نذیر احمد اور سابق آئی جی سندھ رانا مقبول احمد، جو مشرف طیارہ اغوا کیس میں گرفتار تھے، بھی مقید تھے۔
2001 میں ریاض فتیانہ کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران وکیل صفائی جناب میاں محمد افضل وٹو کے سوال پر تفتیشی افسر اور پبلک پراسیکیوٹر نے عدالت میں آن ریکارڈ تسلیم کیا کہ ریاض فتیانہ کے خلاف مالی بدعنوانی، حیثیت سے بڑھ کر رہن سہن، بیرون ملک اثاثوں یا ملازمتیں دینے کے عوض رشوت وصول کرنے کا کوئی الزام تفتیش میں ثابت نہیں ہوا۔ اب الزام صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنے حلقے کے سیکڑوں نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کیں۔
اس کے باوجود کنٹریکٹ پر مقرر کیے گئے ریٹائرڈ جج نے ریاض فتیانہ کو تین سال قید بامشقت کی سزا سنا دی۔
ریاض فتیانہ چونکہ اب حوالاتی نہیں بلکہ باقاعدہ قیدی بن چکے تھے، لہٰذا انہیں سنٹرل جیل کوٹ لکھپت لاہور منتقل کر دیا گیا۔ انہیں قیدی کی خاکی وردی پہنائی گئی اور مشقت کے لیے کام بھی سونپ دیا گیا۔
اس دوران لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جناب میاں نذیر احمد نے، جنہیں ان کے بقول چیف جسٹس یا سپریم کورٹ میں ترقی نہیں دی گئی تھی، اپنی ریٹائرمنٹ کے آخری روز ریاض فتیانہ کی ضمانت منظور کر لی۔ اس وقت وہ قانون کے مطابق اپنی نصف سزا بھی مکمل کر چکے تھے۔
یوں پونے دو سال تک با مشقت پابند سلاسل رہنے کے بعد 4 جولائی 2002 کو ریاض فتیانہ جیل سے رہا ہوئے اور آزاد فضا میں سانس لیا۔
جو مخالفین اور حاسدین انہیں سیاست سے نکالنا چاہتے تھے، اللہ تعالیٰ اور عوام کی عدالت نے 2002 کے عام انتخابات میں ریاض فتیانہ کے حق میں تاریخی فیصلہ دیا۔ ریاض فتیانہ ممبر قومی اسمبلی جبکہ ان کی اہلیہ آشفہ ریاض ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئیں اور دونوں نے آزاد حیثیت سے بھاری اکثریت حاصل کی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ ایک منفرد مثال قرار دی گئی کہ ایک ہی حلقہ انتخاب سے میاں بیوی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر آزاد حیثیت سے بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوئے۔
بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے ریاض فتیانہ کو باعزت بری کر دیا۔ اس بریت کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی سپریم کورٹ آف پاکستان نے 7 جنوری 2015 کو مسترد کرتے ہوئے ریاض فتیانہ کی باعزت بریت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
اس مقدمے کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ تحقیقات کے دوران مالی بدعنوانی یا اثاثوں سے متعلق کوئی الزام ثابت نہ ہونے کے باوجود ریاض فتیانہ کو ایک طویل عرصہ جیل میں گزارنا پڑا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ریاض فتیانہ کی گرفتاری بھی 7 تاریخ کو ہوئی اور سپریم کورٹ سے اس مقدمے کا حتمی فیصلہ بھی 7 تاریخ کو سامنے آیا۔
اپنے حلقے کے غریب اور بے روزگار عوام کو روزگار فراہم کرنے کی پاداش میں ریاض فتیانہ نے اپنی زندگی کے قیمتی پونے دو سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار دیے۔ بعد ازاں کمالیہ میں یونیورسٹی، گیس اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے ترقی کا ایک نیا باب رقم ہوا۔
لیکن آج بھی چند ناعاقبت اندیش لوگ بریانی کی ایک پلیٹ کھا کر یہ سوال کرتے ہیں کہ ریاض فتیانہ نے ہمارے لیے کیا کیا ہے؟
ذرا سوچیے!

02/10/2026
کمالیہ _ ریاض فتیانہ ممبر قومی اسمبلی ہمراہ رائے عمر حیات خاں منج,میاں ریاض احمد ڈھڈی کی رضا آ باد میں میاں طاہر اکرم جن...
01/10/2026

کمالیہ _ ریاض فتیانہ ممبر قومی اسمبلی ہمراہ رائے عمر حیات خاں منج,میاں ریاض احمد ڈھڈی کی رضا آ باد میں میاں طاہر اکرم جنرل سیکریٹری کمالیہ تاجر اتحاد کے ڈیرہ پر آمد ریاض فتیانہ نےعوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ھے کہ عوامی خدمات کا مقدس مشن جاری رھے گا ھم نے جدید تعلیمی ادارے سکول کالجز ٹیوٹا کے اعلیٰ ٹیکنیکل ایجوکیشنل ادارے اور اتنے ترقیاتی کام کروائے ہیں کہ پچھلے 77سال ایک طرف اور ھمارے ادوار ایک طرف ھماری فہرست بہت طویل ھے چیرمین کمالیہ تاجر اتحاد ایم شفیق شاہد ملک جنرل سیکرٹری کمالیہ تاجر اتحاد میاں طاہر اکرم ۔نے بھی خیالات کا اظہار کیا اور انکی عظیم الشان کارکردگی اور عوامی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اس موقع پر ایم این اے کمالیہ کا پرتپاک والہانہ استقبال کیا گیا

مہر ریاض فتیانہ ایم این اے کی بابا ابرار حیسن بٹ صاحب سابقہ کونسلر بلدیہ کمالیہ سے ملاقات اور ریاض فتیانہ ایم این اے  نے...
01/10/2026

مہر ریاض فتیانہ ایم این اے کی بابا ابرار حیسن بٹ صاحب سابقہ کونسلر بلدیہ کمالیہ سے ملاقات اور ریاض فتیانہ ایم این اے نے بابا ابرار حیسن بٹ صاحب کو عمرہ کی سعادت حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کی رائے عمر حیات منج میاں ریاض ڈھڈی مرتضی بلوچ رانا عامر منج ایڈووکیٹ رانا محمود الحسن منج رانا زید

29/09/2026

انتقال پر ملال۔۔۔ایم این اے ریاض فتیانہ، صدر کمالیہ تاجر اتحاد چوہدری طارق حسن رحمانی، رائے عمر حیات منج، میاں ریاض احمد...
29/09/2026

انتقال پر ملال۔۔۔
ایم این اے ریاض فتیانہ، صدر کمالیہ تاجر اتحاد چوہدری طارق حسن رحمانی، رائے عمر حیات منج، میاں ریاض احمد ڈھڈی، سیکرٹری انفارمیشن عاصم رحمت اور فنانس سیکرٹری طیب خان کی صدر اوورسیز ونگ کمالیہ تاجر اتحاد شبیر منہاس راجپوت کی رہائش گاہ آمد۔۔۔شبیر منہاس راجپوت سے انکے والد شریف منہاس راجپوت کی وفات پر فاتحہ خوانی کی اور انکے بلند درجات کیلئے دعا کی۔۔۔۔اس موقع پر ابرار منہاس راجپوت، سابقہ کونسلر اظہر گوگی اور ابوبکر بابر منہاس راجپوت بھی موجود تھے۔۔۔۔

29/09/2026

پاکستان میں مہنگائی، ںے روزگاری اور معاشی بہران پر میں حکومت سے گزارش کروں گا کہ اپنے اخراجات میں کمی کریں ۔ ریاض فتیانہ
دعوتوں اور کھانوں کا بائیکاٹ کردیا ریاض فتیانہ
کمالیہ مہنگائی کی وجہ سے اپنے حلقے میں تقاریب کے دوران دعوتوں اور کھانوں کا بائیکاٹ کردیا ہے دیگر سیاست دان بھی ایسا اقدام کریں میزبان پر بوجھ نہ بنیں ریاض فتیانہ کی جیو نیوز سے گفتگو

Address

Fatyana House Kamalia
Kamalia

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fatyana House posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share