PPP Shaheed bhutto District South karachi Officail

PPP Shaheed bhutto District South karachi Officail

Share

This page is the official page of PPP Shaheed Bhutto District South.

It posts organizational matters of District South so that party workers can get immediate news of every organizational matter.

21/05/2026

(پ ر):
پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے صدر عطاء عمرانی، سینئر نائب صدر نعیم بگٹی، نائب صدر عارف کھوکھر، جنرل سیکرٹری کامریڈ عبدالعزیز، انفارمیشن اینڈ پریس سیکرٹری نعیم رحمانی بلوچ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ لیاری کو مستقل طور پر ایک الگ ضلع کا درجہ دینے کا پرزور مطالبہ کیا گیا۔
​بنیادی مطالبات:
الگ انتظامی حیثیت: لیاری کو کراچی کے دیگر علاقوں سے الگ کر کے ایک خود مختار ضلع کا درجہ دیا جائے۔
​ترقیاتی حقوق: ضلع کا درجہ ملنے سے لیاری میں ترقیاتی کاموں، تعلیم، اور صحت کے شعبوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔
​عوامی حقوق کی فراہمی: حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ لیاری کے تاریخی کردار اور گنجان آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے فوری طور پر ضلع کا درجہ دیا جائے۔ لیاری کے عوام اب اپنے حقوق کے لیے مزید انتظار نہیں کریں گے اور جب تک یہ عوامی مطالبہ تسلیم نہیں ہوتا،پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو)اور کے عوام کی جدوجہد جاری رہے گی۔
جاری کردہ:
نعیم رحمانی بلوچ
انفارمیشن اینڈ پریس سیکرٹری
پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) ڈسٹرکٹ ساوتھ

15/05/2026

If the federal government cannot run an Urdu University, how will it run Karachi?

27/04/2026

پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) ضلع جنوبی کے صدر عطاء عمرانی، سینئر نائب صدر نعیم بگٹی، نائب صدر عارف کھوکھر، جنرل سیکرٹری کامریڈ عزیز جوائنٹ سیکرٹری آغا صدیق لالا،انفارمیشن اینڈ پریس سیکرٹری نعیم رحمانی بلوچ نے اپنے ایک تعزیتی پیغام میں کہا کہ 28 اپریل کو شہید علی محمد ہنگورو کے 31 ویں یوم شہادت کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) ضلع جنوبی کے تمام کابینہ کے ارکان اور عہدیدار وکارکنان شہید علی محمد ہنگور و کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں اور اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ھم شہید کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے شہید میر مرتضیٰ بھٹو کے خاندان اور بچوں کے ساتھ مکمل وفاداری کے ساتھ ثابت قدم رہیں گے لیکن شہید میر مرتضیٰ بھٹو کے بچوں کا ساتھ نہیں چھوڑےگے۔
جاری کردہ:
نعیم رحمانی بلوچ
انفارمیشن اینڈ پریس سیکرٹری
پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو)
ڈسٹرکٹ ساؤتھ
کراچی

14/04/2026

تحریر:
نعیم رحمانی بلوچ

سیاسی جماعت میں قیادت کا فقدان بہت سے سنگین منفی نتائج کا باعث بن سکتا ہے، بالآخر پارٹی کی ہم آہنگی، تاثیر اور انتخابی کامیابی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
قیادت کے فقدان کا کلیدی نتائج
مضبوط، موثر قیادت کی عدم موجودگی سیاسی جماعت کے لیے اہم اندرونی اور بیرونی مسائل کا سبب بن سکتی ہے:
اندرونی تقسیم اور اختلاف:
سمت متعین کرنے، تنازعات کو منظم کرنے، اور نظم و ضبط کو نافذ کرنے کے لیے واضح رہنما کے بغیر، اندرونی دھڑے اکثر ابھرتے ہیں، جس سے پارٹی کے درمیان اختلافات اور ممکنہ تقسیم ہو جاتی ہے۔ ہم آہنگی کا یہ فقدان پارٹی کے عوامی امیج کو نقصان پہنچاتا ہے۔
واضح وژن اور پالیسی میں ہم آہنگی کا فقدان:
موثر رہنما ایک زبردست وژن بیان کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ پارٹی کی پالیسیاں ہم آہنگ اور حکمت عملی سے ہم آہنگ ہوں۔ قیادت کے خلا کا نتیجہ ایک مبہم یا متضاد پلیٹ فارم کی صورت میں نکلتا ہے، جس سے پارٹی کے لیے ووٹروں کو ایک متحد پیغام پیش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
عوامی اعتماد اور شناخت کا کٹاؤ:
لیڈر اکثر پارٹی کا عوامی چہرہ ہوتا ہے۔ ایک مضبوط، قابل شناخت لیڈر کی کمی ووٹروں کے لیے پارٹی سے جڑنا، سمجھنا کہ اس کا مطلب کیا ہے، اور حکومت کرنے کی اپنی اہلیت پر اعتماد محسوس کرنا مشکل بناتا ہے۔ یہ انتخابی ناکامی میں ترجمہ کر سکتا ہے.
چیلنجز کا جواب دینے میں ناکامی:
واضح رہنمائی کے بغیر، پارٹی حتمی اقدام کرنے یا سیاسی، اقتصادی یا سماجی بحرانوں کا مؤثر جواب دینے سے ہچکچا سکتی ہے۔ یہ عدم فیصلہ پارٹی کو کمزور یا نااہل ظاہر کرتا ہے۔
کمزور تنظیمی صلاحیت:
فنڈنگ ​​کو محفوظ بنانے، مہمات کو منظم کرنے اور عہدیداروں اور کارکنوں کی کوششوں کو مربوط کرنے کے لیے مضبوط قیادت ضروری ہے۔ ایک کمزور لیڈر تنظیمی وسائل اور تاثیر میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔
بیرونی اثر و رسوخ کا بڑھتا ہوا خطرہ:
نااہل یا غیر فیصلہ کن رہنما طاقتور داخلی شخصیات، بیرونی لابیسٹ، یا دیگر سیاسی اداکاروں سے زیادہ آسانی سے متاثر ہوتے ہیں یا ان کا انتخاب کرتے ہیں، جو انہیں ممکنہ طور پر "سیاسی کٹھ پتلی" میں تبدیل کر دیتے ہیں اور پارٹی کے آزاد پالیسی اہداف سے سمجھوتہ کرتے ہیں۔
کمزور قیادت کی نشانیاں
کئی اشارے سیاسی جماعت کی قیادت میں کمی کی نشاندہی کر سکتے ہیں:
متضاد رویہ اور دیانتداری کا فقدان:
ایک رہنما جو مسلسل سمت بدلتا ہے یا اخلاقی معیارات پر عمل کرنے میں ناکام رہتا ہے وہ الجھن اور عدم اعتماد پیدا کرتا ہے۔
ناقص مواصلات:
غیر موثر رہنما اکثر اپنے اہداف کو بیان کرنے میں ناکام رہتے ہیں، جس کی وجہ سے قیادت اور پارٹی کے اراکین یا عوام کے درمیان رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔
ذمہ داری سے اجتناب:
وہ رہنما جو ملکیت لینے کے بجائے مسلسل غلطیوں یا ناکامیوں کے لیے دوسروں پر الزام لگاتے ہیں، وہ جوابدہی کی کمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
طویل المدتی حکمت عملی کا فقدان:
سوچ سمجھ کر طویل مدتی منصوبہ بندی کے بجائے مکمل طور پر "سیاسی بقا" یا فوری سیاسی فائدے پر توجہ مرکوز کرنا دور اندیشی کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔
پارٹی کو متحد کرنے میں ناکامی:
ایک حقیقی لیڈر کو پارٹی کے اندر مختلف نقطہ نظر کو اکٹھا کرنا چاہیے۔ ایسا کرنے میں ناکامی کمزوری کی ایک اہم علامت ہے اور اس کے بعد اکثر اندرونی کشمکش اور اشرافیہ کی انحراف ہوتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ قیادت کا خلا نہ صرف سیاسی پارٹی کے کام کرنے اور الیکشن جیتنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتا ہے بلکہ اس کے پرعزم سیاسی کارکنوں کی بنیادوں اور امکانات کو بھی ختم کر دیتا ہے، انہیں یا تو دائمی مایوسی برداشت کرنے پر مجبور کرتا ہے یا اپنے سیاسی عزائم کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

Photos from PPP Shaheed bhutto District South karachi Officail's post 04/04/2026

پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) ضلع جنوبی کے صدر عطا عمرانی سینئر نائب صدر نعیم بگٹی نائب صدر عارف کھوکھر جنرل سیکرٹری عزیز کامریڈ جوائنٹ سیکرٹری آ غا صدیق لالا اطلاعات سیکرٹری نعیم رحمانی بلوچ پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) کی سینٹرل کمیٹی کے رکن مولا بخش مولی ،سابق رکن سینٹرل کمیٹی فیض مغل ،اور دیگر رہنماؤں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ فخر ایشیا اسلامی دنیا کے چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 47 ویں برسی کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) ضلع جنوبی کے زیر اہتمام ایک اجتماع منعقد ہوا جس میں ضلع جنوبی کے تمام عہدیداروں اور کارکنوں نے شرکت کی جس سے مختلف رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آ ج اگر پاکستان کا دفاعی نظام محفوظ ہے تو یہ شہید بھٹو کے دور اندیشی اور مستقبل بینی کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا فیصلہ بھی آ قاءے نامدار صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے سچی محبت کاوہ اظہار جو تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا ا س کے علاوہ سیاست کو محلوں سے نکال کر عوام میں لاکر عوامی سیاست کی بنیاد ڈالی جو ایک ایسا کارنامہ جس سے ملک میں جمہوری نظام میں عوام کی شمولیت کی بنیاد رکھی گئی آ خر میں دعا ءے مغفرت کی گئی اور ملک میں جمہوری نظام کے لیے بھٹو ازم کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) کے پلیٹ فارم سے جہدوجہد جاری رکھنے کے لیے آپنے عزم اعادہ کیا گیا۔
جاری کردہ:
نعیم رحمانی بلوچ
انفارمیشن اینڈ پریس سیکرٹری
پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو)
ڈسٹرکٹ ساؤتھ
کراچی

07/03/2026

پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے انفارمیشن اینڈ پریس سیکرٹری نعیم رحمانی بلوچ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی حکمرانوں کو پاکستانی عوام کو لوٹنے کے لئے بس موقع کی تلاش ہوتی ہے۔اسرائیل اور ایران پاکستان سے کوسوں دور ہے۔نہ ہی پاکستان اس جنگ کا حصہ ہے پھر بھی پیٹرول پاکستان میں مہنگا کردیا گیا ہے۔اگر پاکستانی حکمران امریکہ اور IMF کی اس طرح فرمانبردار بنے رہے تو پاکستانی عوام کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔موجودہ حکومت اور امریکہ کو میرا مشورہ ہے کہ وہ پاکستان کو امریکی ریاست تسلیم کریں۔اس میں کم از کم عوام کیلئے Good governance تو ملک میں ہوگا۔
جاری کردہ:
نعیم رحمانی بلوچ
انفارمیشن اینڈ پریس سیکرٹری
پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو)
ڈسٹرکٹ ساؤتھ
کراچی .

07/02/2026

پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے صدر عطا عمرانی، سینئر نائب صدر نعیم بگٹی نائب صدر عارف کھو کھر جنرل سکریٹری کامریڈ عزیز جوائنٹ سیکریٹری آغا صدیق لالا انفارمیشن اینڈ پریس سیکرٹری نعیم رحمانی بلوچ دیگر رہنماؤں لالہ قیصر اختر حسین میر واری بلوچ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جمعہ مبارک کے مقدس دن کےموقع پر نمازِ جمعہ کے وقت دارالحکومت میں امام بارگاہ خدیجہ کبریٰ میں بم کا هول ناک دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں اب تک کی اطلاع کے مطابق 70 افراد شہید ہوئے ہیں سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں افسوس کا مقام ہے کہ ہم ایک اسلامی ملک ہیں اور اللہ پاک کا گھر بھی محفوظ نہیں
جب کے اسلام آباد پاکستان دارالحکومت موجودہ حکمرانوں یہ۔ بہت بڑی ناکامی نا اہلی اس وقت ملک سخت ترین دہشت گردی کا شکار ہے چند روز قبل بلوچستان کےمختلف شہروں میں جہاں دہشت گردوں نے کئی گھنٹوں تک قبضہ کرلیا گیا تھا بینکوں اور جیل سے قیدیوں کو فرار کروادیا حالانکہ اسلام آباد تو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے یہاں کافی حساس ادارے ایوان صدر سیریم کورٹ قومی اسمبلی وزیرِ اعظم ہاؤس غیر ملکی سفارت خانے بھی ہیں ایسی نااہلی اور غفلت برتنے پر وزیرِ داخلہ محسن نقوی کو استعفیٰ دے دینا چاہئے معصوم لوگوں کی شہادت پر بہت افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں حکومت شہید ہونے والوں اور زخمی ہونے والوں کی علاج و معالجہ اعلیٰ بندوبست کریں مرحومین زخمی ہونے والوں کو جلا از جلد امداد کا اعلان کرتے ہوئے اپنی ناکامی اعتراف کرتے ہوئے فوری استعفیٰ کا اعلان کرے۔
جاری کردہ:
نعیم رحمانی بلوچ
انفارمیشن اینڈ پریس سیکرٹری
پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو )
ڈسٹرکٹ ساؤتھ کراچی

06/02/2026

پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو )ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے صدر عطاء عمرانی، سینئر نائب صدر نعیم بگٹی، نائب صدر عارف کھوکھر، جنرل سیکرٹری کامریڈ عبدالعزیز، جوائنٹ سیکرٹری آغا صدیق لالا، انفارمیشن اینڈ پریس سیکرٹری نعیم رحمانی بلوچ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کا آرٹس کونسل کراچی میں شرکت کے لئے روکنے پر قبضہ و نااہل میئر کراچی مرتضٰی وہاب کا اس عمل کی بھر پور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی تاریخ کا ناکام ترین میئر مرتضیٰ وہاب جس کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے بلکہ اپنے والدین کی بدولت آج جس مقام و حیثیت میں ہے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے مرتضٰی وہاب مرحومہ فوزیہ وہاب صاحبہ کی بدولت وہ سیاسی طور پر فعال کردار ادا کرتے ہوئے آج کل وہ دھونس دنہندلی اور ہارس ٹریڈنگ کے نظام کے تحت مئیر کراچی بنے ہیں ورنہ اس کی اوقات یہ تھی کہ وہ 24 گھنٹے جناب عقیل کریم ڈھڑی کے آفس میں پڑے رہتے تھے اور انکی چمچہ گیری کرتے ہوئے نظر آتے تھے ورنہ وہ ایک ناکام سیاسی طور ہمیشہ ہر بار۔ گزری کے حلقے سے الیکشن بوری طرح ہار جاتے تھے اسکی کیا اوقات کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو جونئیر بابا کے بارے میں کوئی غلط بات کریں جسکی اپنی کوئی پہچان نہ ہو وہ لاکھوں دلوں کی دھڑکن ذوالفقار علی بھٹو جونئیر بابا جو کہ مستقبل کا عوامی رہنماء ہے کےبارےمیں کوئی بات کریں۔
جاری کردہ:
نعیم رحمانی بلوچ
انفارمیشن اینڈ پریس سیکرٹری
پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو)
ڈسٹرکٹ ساؤتھ
کراچی

02/02/2026

پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو )ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے انفارمیشن اینڈ پریس سیکرٹری نعیم رحمانی بلوچ نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مصروف ٹراما سول اسپتال میں سیکیورٹی پر مامور گارڈز کی جانب سے شہریوں، تیمارداروں اور ایمرجنسی میں لائے گئے مریضوں کے ساتھ بدتمیزی اور ہاتھا پائی کے واقعات روز کا معمول بن گیا ہے ۔ منظرِ عام پر آنے والی ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ سیکیورٹی گارڈز نہ صرف تیمارداروں سے الجھ رہے ہیں بلکہ عوامی ہجوم کے سامنے غیر پیشہ ورانہ اور جارحانہ رویہ بھی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
مذکورہ اسپتال میں اکثر شدید ٹریفک اور رش کی صورتحال رہتی ہے، جبکہ ایمرجنسی اور نازک حالت میں مریضوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے۔ ایسے حساس حالات میں سیکیورٹی اہلکاروں کا ذمہ دارانہ اور انسانی رویہ نہایت ضروری ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے یہاں تعینات سیکیورٹی عملہ عوام کے ساتھ دست و گریبان ہوتا دکھائی دیتا ہے، جس سے معاملات و حالات مزید خراب ہو جاتے ہیں۔
شہریوں اور تیمارداروں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی گارڈز کی جانب سے آئے روز بدتمیزی معمول بنتی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے بلکہ اسپتال کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا جارہا ہے ۔ہم ٹراما سول اسپتال کے ایم ایس صابر میمن سے گزارش کرتے ہیں کہ ایسے بدتمیز اور غیر پیشہ ورانہ سیکیورٹی گارڈز کو فوری طور پر ہٹایا جائے اور ان کی جگہ تجربہ کار اور پیشہ ور سیکیورٹی گارڈز تعینات کیا جائے۔
جاری کردہ:
نعیم رحمانی بلوچ
انفارمیشن اینڈ پریس سیکرٹری
پاکستان پیپلز پارٹی( شہید بھٹو)
ڈسٹرکٹ ساؤتھ
کراچی

30/01/2026

پاکستان پیپلز پارٹی( شہید بھٹو )ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے صدر عطا عمرانی سینئر نائب صدر نعیم بگٹی نائب صدر عارف کھوکھر جنرل سکریٹری کامریڈ عبدالعزیز جوائنٹ سیکریٹری آغا لالا اطلاعات سیکریٹری نعیم رحمانی بلوچ اور دیگر رہنماؤں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں mqm کے بعض رہنماؤں کی جانب سے تواتر کے ساتھ صو بے سندھ کو وفاقی حکومت کے ما تحت کرنے کے بیانات میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں جو کہ قابل مذمت عمل ہے یاد رہے کہ گزشتہ دنوںmqm کے بعض رہنماؤں کی جانب سے با نی mqm الطاف حسین کے خلاف قابل اعتراض بیانات کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا اس پر کراچی کے عوام کی جانب سے شدید ردِ عمل سامنے آیا اور اس پر محتدہ قومی موومینٹ کو محسوس ہوا کے کراچی کے عوام الناس میں ان کی ساکھ گرچکی ہے تو اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کے لئے دوبارہ لسانی بنیادوں پر سیاست کا آغاز کیا جارہا ہے اس لیے تواتر کے ساتھ کراچی کو وفاق کے ماتحت کرنے بارے میں بیانات دیئے جارہے ہیں جو کہ قابل مذمت عمل اور نہ قابلِ قبول عمل ہے واضح رہے کہ کراچی تاریخی اعتبار سے صوبہ سندھ کا داراخلافہ ہے کیونکہ اسی کراچی میں موجود سندھ اسمبلی میں اکثریت 1946میں ایک قرار داد منظور ہوئی کہ سندھ پاکستان کی آزادی کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بن جاۓ گا اور 1947ا میں آزادی کے بعد کراچی وفاقی دارالحکومت بن گیا اور سندھ اسمبلی کو قومی اسمبلی کا درجہ دے دیا گیا بعد ازاں جنرل ایوب خان 1958میں ایک آڈر کے ذریعے اسلام آباد میں منتقل کر دیا گیا تھا پہلے سے ہی کراچی کو وفاق نے سندھ کو دوبارہ منتقل کر دیا تھا تو اس وقت دوبارہ اس پر عمل کرنے کا اعلان ناممکن ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو )کے کارکن۔ ہر محاذ پر اس مطالبے کے کیخلاف چٹان بن کر کھڑے ہونگے پاکستان پیپلز پارٹی( شہید بھٹو) کراچی کو تاریخی اعتبار سے صوبہ سندھ کا حصہ تسلیم کرتے ہوئے سیاسی طور پر اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے موقف پر قائم رہے گی۔
جاری کردہ:
نعیم رحمانی بلوچ
انفارمیشن اینڈ پریس سیکرٹری
پاکستان پیپلز پارٹی(شہید بھٹو )
ڈسٹرکٹ ساؤتھ
کراچی

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi Lines?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Karachi Lines