Voice Of Muslimabad

Voice Of Muslimabad

Share

Voice of muslimabad colony
مسلم آباد کی آواز
عوامی حقوق، ترقی، تعلیم و صحت کا علمبردار

26/04/2026

یوسی 6 مسلم آباد کالونی ولی امان والی گلی میں ہفتے پہلے نئے گٹر لائن کی مرمت کی وجہ پائپ میں ملبہ پھس گیا ہے۔ جس کی وجہ سے پیچھے گلی میں گٹر ابل رہے ہیں کیوں کہ آگے پانی کی نکاسی بند ہے۔ سیکریٹری سے رابطہ کیا مگر ابھی تک کام نہیں ہوپایا۔ عوام پریشان ہیں۔
ہمارا چیئرمین طارق شمسی و کونسلر ثناء اللہ سے گزارش ہے اس پر فوری توجہ کرے۔

23/04/2026

ٹاؤن چیئرمین ابراھیم حیدری نظیر بھٹو صاحب
وائس چیئرمین یو سی 06 مسلم آباد ڈاکٹر فاضل
ھمارے یو سی 06 مسلم آباد کا سالانہ بجٹ 2024/25 اور 2025/26 کہاں چلا گیا ٹاؤن کے انجنئیرز وزٹ بھی کر گئے فائلیں بھی بن گئی اب عوام سوال ھم سے کر رہی ہیں کہ وہ کام کہاں گیا۔۔ کہاں پر ہوا

02/04/2026

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پر اربوں روپے کے فنڈز خرچ کیے جا رہے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ شہرِ کراچی، جو ملک کا سب سے بڑا معاشی مرکز ہے، آج جگہ جگہ کچرے کے ڈھیروں میں ڈوبا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ گلیاں، سڑکیں اور محلّے صفائی سے محروم ہیں، جس سے نہ صرف شہریوں کی زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔
عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جب اتنی بڑی رقم مختص کی جا رہی ہے تو اس کے نتائج کہاں ہیں؟ صفائی کے نظام میں بہتری کے بجائے دن بدن بگاڑ آ رہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کہیں نہ کہیں سنگین بدانتظامی یا کرپشن موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ادارے کی کارکردگی کا شفاف احتساب کیا جائے اور شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

16/02/2026

پیپلز پارٹی کی فسطائیت اور ظلم و جبر کے خلاف عوام سراپا احتجاج

16/02/2026

صرف 2025ء میں 2091 ارب روپے " کیپیسٹی چارجز "
یعنی پاکستانیوں کا خون نچوڑا گیا باقی آپ کی مرضی
اور اس میں پی ٹی آئی، ن لیگ اور پیپلزپارٹی سب برابر کی حصہ دار اور شریک ہیں۔

11/02/2026

⚠️ مہران ہائی وے پر ناجائز پارکنگ: گاڑیاں کھڑی کرنے والے افراد اور ٹریفک پولیس دونوں براہِ راست ذمہ دار ⚠️
مہران ہائی وے چاول گودام سے لے کر ہسپتال چورنگی تک مہران ہائی وے کے دونوں اطراف مقامی افراد نے کھلے عام ناجائز اور غیرقانونی پارکنگ قائم کر رکھی ہے۔ یہاں جن افراد کی گاڑیاں سڑک پر کھڑی ہیں وہ بھی باقاعدہ ذمہ دار ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ ٹریفک پولیس بھی اس صورتحال کی مکمل طور پر ذمہ دار ہے، جو سب کچھ جانتے اور دیکھتے ہوئے بھی مؤثر کارروائی سے گریزاں ہے۔
یہاں کوئی باہر سے آنے والی گاڑی کھڑی نہیں ہوتی بلکہ تمام گاڑیاں اسی علاقے کے رہائشیوں کی ہیں، جنہوں نے ایک مرکزی شاہراہ کو ذاتی پارکنگ میں تبدیل کر دیا ہے۔
اس غیرقانونی عمل کے باعث مہران ہائی وے پر روزانہ ٹریفک حادثات رونما ہو رہے ہیں، جن میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ ان حادثات کی ذمہ داری عوام اور ٹریفک پولیس دونوں پر عائد ہوتی ہے۔
اگر یہ پارکنگ غیرقانونی ہے تو روزانہ چالان کیوں نہیں ہو رہے؟ گاڑیاں ضبط کیوں نہیں کی جا رہیں؟ سڑک کو مکمل طور پر کلیئر کیوں نہیں کرایا جا رہا؟
ٹریفک پولیس کی خاموشی اور عدم کارروائی براہِ راست انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
آج اگر کسی اور کا بچہ سڑک حادثے کا شکار ہو رہا ہے تو کل یہی حادثہ ہمارا یا آپ کا بچہ بھی ہو سکتا ہے۔ اب مزید خاموشی جرم ہے۔
ناجائز پارکنگ فوری ختم کی جائے، ذمہ دار ادارے فوری کارروائی کریں، اور مہران ہائی وے کو مزید حادثات اور قیمتی جانوں کے ضیاع سے بچایا جائے۔
یہ درخواست نہیں بلکہ سخت عوامی انتباہ ہے۔
Hashtags:

19/01/2026
19/01/2026

یہ محض حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم قتل ہے۔ یہ آگ نہیں لگی، لگائی گئی ہے اس نظام نے جو سترہ برس سے سندھ پر مسلط ہے۔ ایک چار منزلہ عمارت جلتی رہی، لوگ چیختے رہے، لاشیں بنتے رہے اور ریاست تماشائی بنی رہی۔ 33 گھنٹے تک آگ پر قابو نہ پایا جانا نااہلی نہیں بلکہ مکمل مجرمانہ غفلت ہے۔ یہ وہی شہر ہے جسے ساڑھے تین کروڑ انسانوں کا مسکن کہا جاتا ہے اور حقیقت میں اسے یتیم بنا دیا گیا ہے۔

14 لاشیں مل چکی ہیں اور نہ جانے کتنے لوگ اب بھی ملبے میں دفن ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ فائر بریگیڈ دیر سے کیوں پہنچی، سوال یہ ہے کہ ایسا نظام کیوں قائم ہے جس میں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں۔ یہ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کی اصل تصویر ہے۔ دعوے ترقی کے، نتائج صرف لاشیں۔ یہی ہے وہ کارکردگی جسے بلاول بھٹو مستقبل کی سیاست کا ماڈل بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں۔

یہ مافیا سسٹم، یہ جعلی بلدیاتی نظام، یہ زبردستی مسلط کیے گئے میئر اور یہ سیاسی قبضہ گیری، سب اس شہر کے قاتل ہیں۔ کراچی کی بربادی کوئی حادثہ نہیں، یہ ایک مسلسل جرم ہے۔ اور اس جرم کے ذمہ داروں کو تاریخ بھی معاف نہیں کرے گی اور عوام بھی نہیں۔ جواب دینا ہوگا، صرف بیانوں سے نہیں بلکہ حساب سے۔

15/12/2025

مرتضٰی وہاب KMC کے سالانہ بجٹ 55 ارب اور واٹر بورڈ کے 40 ارب کا حساب دیں، نیو کراچی ٹاؤن کو اپنے وسائل سے 20 ہزار گھروں میں پانی پہنچانا پڑا

محمد یوسف، چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Karachi