28/05/2025
28 مئی یومِ تکبیر ❤️
یوم تکبیر، پاکستان کی ایٹمی صلاحیت پر تشّکر کے طور پر منایا جاتا ہے، 27 سال پہلے 28 مئی 1998 میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے جس سے دشمن کی شعلے اُگلتی زبان بند ہوئی اور پاکستان جوہری طاقت سے مالامال ہو کر دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن کر ابھرا 💪
❤️ الحمدللہ رب العالمین ❤️
زندہ قومیں اپنے محسنوں کو کبھی نہیں بھولتی ۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بدنام کرنے والے حکمران مٹ گئے لیکن ان کا نام آج بھی روشن ہے 🌟
28 مئی صرف پاکستانیوں کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے فخر اور خوشی کا دن ہے 🎉🎊🎉
اللہ تعالی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قبر کو منور فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔
آمین 🤲
10/05/2025
اس پائلیٹ کا یہ اسٹائل بڑا کمال ہے 😍
اس لڑکی نے 80 کروڑ ڈالر والا مہنگا ترین رافیل جہاز چھوڑ دیا لیکن اپنا موبائل نہیں چھوڑا 🤨
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پکا اس نے کمیٹی ڈال کر یا سبزی میں سے پیسے بچا بچا کر لیا ہوگا 😁
19/04/2025
بہادر شاہ ظفر کے سارے شہزادوں کے سر قلم کر کے اس کے سامنے کیوں پیش کئیے گئے
قبر کیلئے زمین کی جگہ کیوں نہ ملی
آج بھی اسکی نسل کے بچے کھچے لوگ بھیک مانگتے پھرتے ہیں
کیوں ؟
پڑھیں اور اپنی نسل کو بھی بتائیں
تباہی 1 دن میں نہیں آ جاتی
صبح تاخیر سے بیدار ہو نے والے افراد درج ذیل تحریر کو غور سے پڑھیں:
زمانہ 1850ء کے لگ بھگ کا ہے مقام دلی ہے
وقت صبح کے ساڑھے تین بجے کا ہے سول لائن میں بگل بج اٹھا ہے
پچاس سالہ کپتان رابرٹ اور اٹھارہ سالہ لیفٹیننٹ ہینری دونوں ڈرل کیلئے جاگ گئے ہیں
دو گھنٹے بعد طلوع آفتاب کے وقت انگریز سویلین بھی بیدار ہو کر ورزش کر رہے ہیں
انگریز عورتیں گھوڑ سواری کو نکل گئی ہیں سات بجے انگریز مجسٹریٹ دفتروں میں اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے ہیں
ایسٹ انڈیا کمپنی کے سفیر سر تھامس مٹکاف دوپہر تک کام کا اکثر حصہ ختم کر چکا ہے
کوتوالی اور شاہی دربار کے خطوں کا جواب دیا جا چکا ہے
بہادر شاہ ظفر کے تازہ ترین حالات کا تجزیہ آگرہ اور کلکتہ بھیج دیا گیا ہے
دن کے ایک بجےسر مٹکاف بگھی پر سوار ہو کر وقفہ کرنے کیلئے گھر کی طرف چل پڑا ہے
یہ ہے وہ وقت جب لال قلعہ کے شاہی محل میں ''صبح'' کی چہل پہل شروع ہو رہی ہے۔
ظل الہی کے محل میں صبح صادق کے وقت مشاعرہ ختم ہوا تھا جس کے بعد ظلِ الٰہی اور عمائدین خواب گاہوں کو گئے تھے۔
اس حقیقت کا دستاویزی ثبوت موجود ہے کہ لال قلعہ میں ناشتے کا وقت اور دہلی کے برطانوی حصے میں دوپہر کے لنچ کا وقت ایک ہی تھا۔
دو ہزار سے زائد شہزادوں کا بٹیربازی، مرغ بازی، کبوتر بازی اور مینڈھوں کی لڑائی کا وقت بھی وہی تھا ،،
اب ایک سو سال یا ڈیڑھ سو سال پیچھے چلتے ہیں۔
برطانیہ سے نوجوان انگریز کلکتہ، ہگلی اور مدراس کی بندرگاہوں پر اترتے ہیں، برسات کا موسم ہے مچھر ہیں اور پانی ہے ملیریا سے اوسط دو انگریز روزانہ مرتے ہیں لیکن ایک شخص بھی اس ''مرگ آباد'' سے واپس نہیں جاتا۔
لارڈ کلائیو پہرول گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہتا ہے
اب 2020 میں آتے ہیں۔
پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی رات کا کھانا سات بجے تک کھا لیتے ہیں
آٹھ بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں
بڑے سے بڑا ڈاکٹر چھ بجے صبح ہسپتال میں موجود ہوتا ہے پورے یورپ امریکہ جاپان آسٹریلیا اور سنگاپور میں کوئی دفتر، کارخانہ، ادارہ، ہسپتال ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے آئیں !
آجکل چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکی ہے پوری قوم صبح چھ سے سات بجے ناشتہ اور دوپہر ساڑھے گیارہ بجے لنچ اور شام سات بجے تک ڈنر کر چکی ہوتی ہے
اللہ کی سنت کسی کیلئے نہیں بدلتی اسکا کوئی رشتہ دار نہیں نہ اس نے کسی کو جنا، نہ کسی نے اس کو جنا جو محنت کریگا تو وہ کامیاب ہوگا عیسائی ورکر تھامسن میٹکاف سات بجے دفتر پہنچ جائیگا تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں سے چہرہ صاف کروانے والا، بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہی کیوں نہ ہو' ناکام رہے گا۔
بدر میں فرشتے نصرت کیلئے اتارے گئے تھے لیکن اس سے پہلے مسلمان پانی کے چشموں پر قبضہ کر چکے تھے جو آسان کام نہیں تھا اور خدا کے محبوبؐ رات بھر یا تو پالیسی بناتے رہے یا سجدے میں پڑے رہے تھے !
حیرت ہے ان حاطب اللیل دانش وروں پر جو یہ کہہ کر قوم کو مزید افیون کھلا رہے ہیں کہ پاکستان ستائیسویں رمضان کو بنا تھا کوئی اسکا بال بیکا نہیں کرسکتا کیا سلطنتِ خدا داد پاکستان اللہ کی تھی اور کیا سلطنت خداداد میسور اللہ کی نہیں تھی۔۔(ٹیپو سلطان کی سلطنت )
جس ملک کے ووٹر ذہنی غلام ہوں، پیر غنڈے ہوں مولوی منافق ہوں، ڈاکٹر بے ایمان ہوں، سیاستدان ، اور پولیس ڈاکو ہوں، کچہری بیٹھک ہو ججز بے اعتبار ہوں، لکھاری خوشامدی ہوں، اداکار بھانڈ ہوں، ٹی وی چینل پر مسخرے ہوں، تاجر بے ایمان اور سود خور ہوں، دکاندار چور ہوں، عوام ہے کرام ہوں اور جہاں تین سال کی بچی سے پچاس سال تک کی عورتوں کا ریپ ہو اور مجرموں کو سیاسی دباؤ میں آ کر چھوڑ دیا جائے
اسلام آباد مرکزی حکومت کے دفاتر ہیں یا صوبوں کے دفاتر یا نیم سرکاری ادارے،، ہر جگہ لال قلعہ کی طرز زندگی کا دور دورہ ہے،، کتنے وزیر کتنے سیکرٹری کتنے انجینئر کتنے ڈاکٹر کتنے پولیس افسر کتنے ڈی سی کتنے کلرک آٹھ بجے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں؟
کیا اس قوم کو تباہ وبرباد ہونے سے دنیا کی کوئی قوم بچا سکتی ہے جس میں کسی کو تو اس لئے مسند پر نہیں بٹھایا جاسکتا کہ وہ دوپہر سے پہلے اٹھتا ہی نہیں، اور کوئی اس پر فخر کرتا ہے کہ وہ دوپہر کو اٹھتا ہے لیکن سہ پہر تک ریموٹ کنٹرول کھلونوں سے دل بہلاتا ہے، جبکہ کچھ کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ دوپہر کے تین بجے اٹھتے ہیں،،
کیا اس معاشرے کی اخلاقی پستی کی کوئی حد باقی ہے.
*جو بھی کام آپ دوپہر کو زوال کے وقت شروع کریں گے وہ زوال ہی کی طرف جائے گا. کبھی بھی اس میں برکت اور ترقی نہیں ہو گی*.
اور یہ مت سوچا کریں کے میں صبح صبح اٹھ کر کام پر جاؤں گا تو اس وقت لوگ سو رہے ہونگے میرے پاس گاہک کدھر سے آئے گا. گاہک اور رزق اللہ رب العزت بھیجتے ہے.
وطن عزیز کی بقاء اور اپنی ترقی کی خاطر اس پبلک ویلفئر میسج کو اپنے حلقہ احباب کے گروپس میں ضرور پھیلائیں اور اس میسج سے سبق ضرور اُٹھانا چاہیے ۔
ذرا نہیں پورا سوچیئے 🙏
#شعور
14/10/2024
مرشد ہمارے ساتھ بہت ظلم ہوا۔۔۔
ہم رہ گئے ہمارا زمانہ چلا گیا۔۔۔۔۔💔
05/10/2024
Public Talks By Dr Zakir Naik 🎙️
25/09/2024
جس کو ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب کے پاکستان آ نے سے تکلیف ہو رہی ہو اس کو چاہیے کہ درد کی جگہ پر ہاتھ رکھ کر یہ پڑھ لے 👇👇
"داتا صاحب کی گھوڑی وہی اندھیری رات"
21/09/2024
تقابل مذاھب کے مشہور و معروف اسکالر مبلغ اسلام جناب ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب پاکستان تشریف لا رہے ہیں ❤️
News Link 👇👇
http://youtube.com/post/Ugkx592s9ak4wGGbkqTK9-ob4AABDGxn3JmU?si=adByZ87wr1yZpUvY
11/09/2024
ایک عربی کہاوت ہے کہ :
ایک نسل کی جہالت دوسری نسل کی روایت اور پھر تیسری نسل کا عقیدہ بن جاتی ہے 🙏
06/09/2024
کچھ دنوں پہلے ریلیز ہونے والی فلم دی گوٹ لائف میری نظر میں یہ ایک فلم نہیں اور نا ہی عرب لوگوں کے اس میں مظالم دیکھائے گئے ہیں بلکہ یہ ایک سیدھا اور زناٹے دار "تھپڑ" ہے ان ریاستوں کے چہروں پر جو اپنے لوگوں کو بنیادی حقوق نہیں دیتی اور دوسری ریاستوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔
لوگوں پر کفیل کے مظالم عیاں نہیں ہو رہے بلکہ ریاستوں کی لاپرواہی عیاں ہو رہی ہیں۔
دنیا پھر کے لوگ دوسری ریاستوں میں روزگار کماتے ہیں لیکن ان کی اپنی ریاستیں کبھی بھی اپنے شہریوں سے لاتعلق نہیں ہوتیں۔
کبھی کسی امریکی یا برطانوی شہری کو آپ نے دبئی یا عرب ممالک میں مفلس پایا ؟؟
ریاستوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ انکے افراد انکے لیے اہم ہیں 😓
03/09/2024
ذہین لوگوں کو جمع کرنا بہت پیچیدہ معاملہ ہے ۔
جہاں تک ریوڑ کو جمع کرنے کا تعلق ہے ، اس کے لئے بس ایک چرواہے اور کتے کی ضرورت ہوتی ہے ۔
ویلیم شیکسپئیر 🍂
14/08/2024
یہ سن 1956ء کی تصویر ہے جب وینس جسے نہروں کا شہر The City of Canals یا پانیوں کا شہر یا Queen of the Adriatic Sea کہا جاتا ہے اس کی نہروں میں زمانے گزرنے کے ساتھ ساتھ گندگی اتنی بھر گئی تھی کہ اگر ان کو صاف نہ کیا جاتا تو وینس جیسا تاریخی شہر بے وقعت ہوجاتا اور اس کا اصل حسن تاریخ کی کتابوں میں کہیں کھو جاتا لیکن وینس والوں نے کمر کس لی کہ وہ نہروں کی اچھی طرح صفائی کریں گے یہ آسان کام نہیں تھا یہ عام نہریں نہیں تھیں جیسا کہ آپ پاکستان میں دیکھتے ہیں بالکل ان نہروں کے اردگرد عمارات گھر تعمیر ہیں جن کی وجہ سے یہ گندگی سے بھر چکی تھیں لہٰذا وینس والوں نے دن رات ایک کر کے ان نہروں کی صفائی کی اور شہر کو نیا روپ دے دیا آج بھی سیاحوں کی بڑی تعداد اٹلی کے اس ماسٹر پیس شہر کو دیکھنے آتے ہیں اس میں پاکستانیوں کیلئے بھی ایک سبق ہے کہ اپنے شہروں گلیوں بازاروں نہروں دریاؤں کو صاف رکھیں ۔