Vice Chief Justice Of Aqwam Muttahida Asif Azazeel

Vice Chief Justice Of Aqwam Muttahida Asif Azazeel

Share

Vice Chief Justice of United Nations,

17/11/2024

عدالت عزازیل کی سماعت برائے ٹرافک پولیس کراچی،

آج میں کہتا ہوں کے میں جان بوجھ کر اپنے بھائی کا کام نہیں کروں گا کیونکہ میرے بھائی فرحان کا کہنا تھا کے اس پولیس والے کو گولی نہیں مارنا ہے بلکہ گولی مارنے کے بدلے اس پولیس والے کو بغیر چپل کے گھر میں خود شناختی کارڈ دینا ہے، اور اس سے بھی بڑی سزا میرا بھائی کہتا ہے کے اگر اس سے بھی بڑی سزا اور مذید لگانا ہے تو تین مہینے کے لیے معطل بھی کردیا جائے،

بس مجھے ایسے سمجھاتا ہے کے جیسے مجھے خوش کردے، لیکن اسے یہ نہیں پتا کے میں اپنے ذاتی معاملے پر جان سے مار دینے پر ہی اتفاق کرتا ہوں،

بس میں نے اپنے بھائی کا کہنا مان لیا کیونکہ مسئلہ بھی میرے بھائی کا ہے، اور میں اپنے بھائی کو صرف اس لیے دیکھتا ہوں کیونکہ میرا بھائی مجھے بھی دیکھتا ہے،
ابھی کچھ عرصے پہلے میرے اسی بھائی کا اک لڑکی کیساتھ رشتہ ہوگیا، بات بھی کنفرم ہوگئی، لڑکی اور لڑکا دونوں اور دونوں کے گھر والے بھی مان گئے،
بس سب خوش تھے لیکن بس صرف میں خوش نہیں تھا،
کیونکہ اس لڑکی نے میرے بھائی کو پہلے اپنی محبت پیار میں خوب ملایا اور جب اس لڑکی کو یقین ہوگیا کے اب میرا بھائی اس لڑکی کو نہیں چھوڑے گا تو پھر اس لڑکی نے میرے بھائی کو میرے خلاف کر دیا،
بس وہ لڑکی میرے آگے بہت خوش اور پھیل رہی تھی کے اس لڑکی نے اپنے پیار محبت کے ذریعے میرے بھائی کو میرے خلاف کردیا،
اس لڑکی کو اتنا یقین تھا کے میرا بھائی اس لڑکی کے لیے میرے خلاف ہو جائے گا،
بس میں نے اس شادی پر اعتراض تو نہیں کیا کیونکہ لڑکی اور لڑکا کا ذاتی معاملہ ہے اور میں ذاتی معاملے پر دخل اندازی نہیں دیتا ہوں، اور جو میرا سوال ہے کے جو لڑکی میرے بھائی کو میرے خلاف کر رہی ہے تو اس معاملے پر میں نے فیصلہ کرلیا کے اگر میرے بھائی نے اسی لڑکی سے شادی کرلیا تو پھر میں اپنے اس بھائی فرحان کو بھی نہیں دیکھوں گا اور اس لڑکی کو اک ذرا بھی اپنی طرف سے فائدہ ہونے نہیں دونگا،
اگرچہ وہ لڑکی میرے بھائی کی بیوی بن جائے، کیونکہ جب وہ میرے بھائی کو میرے خلاف کرے گی تو پھر اس لڑکی سے ذیادہ میرے بھائی کا غلطی ہوگا کے میرا بھائی اس لڑکی کیساتھ ملا کیسے۔

بس میں نے اپنے بھائی کو اس لڑکی سے شادی کرنے پر منع نہیں کیا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کے جب وہ لڑکی میرے خلاف میرے بھائی کو کچھ بھی کہے سکتی ہے اور میرے بھائی کو میرے خلاف کرسکتی ہے تو پھر مجھے کچھ ضرورت نہیں کے میں اپنے بھائی کو سمجھاؤں،
بس وہ لڑکی اور اس کی امی بہت خوش ہو رہے تھے کے انہوں نے میرے بھائی کو میرے خلاف کردیا اور میں انکا تماشہ اور اپنے بھائی کا ری ایکشن دیکھ رہا تھا،
بس وہ لوگ میرے آگے چوڑے ہوکر پھیل گئے اور خوش ہوگئے،
میں نے اپنے بھائی کو اس لڑکی کیساتھ شادی کرنے سے منع بھی نہیں کیا اور بس میں نے اپنے آپ کہا کے میرے بھائی کی مرضی ہے کے مجھے چنے یا اس لڑکی کو،
اور بس میں نے اپنے بھائی سے یہ بھی نہیں کہا کے وہ لڑکی اور اسکی امی میرے آگے پھیل جاتے ہیں،
بس میں نے اپنے بھائی کو اپنی مرضی پر چھوڑ دیا،
اور میرے بھائی نے جس لڑکی سے اتنی محبت بڑھ رہی تھی اور پیار میں اضافہ ہو رہا تھا تو بس میرے بھائی نے اس لڑکی کو اچانک سے شادی کرنے سے منع کردیا تو بس اس لڑکی کا اور اسکی امی کا ہوش فاختہ ہوگیا کے لڑکا کو اتنا پیار محبت میں رکھنے کے بعد بھی لڑکا نے شادی سے منع کردیا،
بس میرے بھائی نے اس لڑکی سے شادی کرنے سے منع کردیا تو پھر میں خوش ہوگیا،
بمعنی جو مجھسے مقابلہ لگا رہے تھے اور وہ میرے بھائی کو ہی اپنی محبت میں گرفتار کر رہے تھے اور میرے بھائی نے شادی کی بات پکی ہونے کے بعد بھی منع کردیا،

تو بس میں بہت خوش ہوا کے میرے بھائی نے میرے لیے کیا اور پھر میں نے جھٹک کر اس لڑکی کو رد کردیا،
بمعنی اب جا اور جو کرسکتی ہے تو وہ کرلے۔

بس میرے بھائی نے میرے لیے اس لڑکی کو قربان کردیا کے جو لڑکی میرے اور میرے بھائی میں اختلاف کر رہی تھی،
اور میرے بھائی نے یہ فیصلہ خود اپنی مرضی سے لیا اور تبھی اسی وجہ سے میں اپنے بھائی سے خوش ہوگیا کے ہاں یہ بھائی مجھے بھائی سمجھتا ہے۔
بس میں اسی وجہ سے اپنے اس بھائی کو کچھ الگ اہمیت دیتا ہوں،
اور اہمیت دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کے میں ہر معاملے پر اہمیت دیتا ہوں بلکہ میں اپنے بھائی کو اپنے ذاتی معاملے پر اہمیت دیتا ہوں،
بس جیسے یہ ٹرافک کا معاملہ مسئلہ ہے تو یہ میرے بھائی کا شناختی کارڈ گیا ہے، اور میرے بھائی کا کہنا ہے کے پولیس کو گولی نہیں مارنا ہے بس جیسے میرے بھائی کو اس پولیس کے جان کا فکر ہو، مگر میں نے اپنے بھائی سے کہے دیا کے توں اس پولیس والے کے مرنے کو برا سمجھتا ہے مگر یہ بتا کے جیسے تجھے اس پولیس والے کا خیال ہے تو کیا اس پولیس والے کو ہمارا خیال آیا تھا کے ہم مریض ہیں اور دوا لینے جا رہے ہیں،
بس میرا کہنے کا مطلب ہے کے میں نے اپنے بھائی کو سمجھایا کے دوسروں کے جانوں کا فکر نہ کرو کے جو تمہارے ہی جانوں کے نقصاندہ بن جائیں۔

میرے بھائی نے مجھے خوش کرنے کے لیے کچھ الگ طریقہ مختص کرلیا اور مجھے کہا کے گولی مارنے سے بہتر ہے کے وہ ننگے پاؤں ہمارے گھر میں آکر شناختی کارڈ دے اور معافی مانگے اور اس سے بھی ذیادہ سزا بڑھانا ہو تو تین مہینوں کے لیے معطل کردو ،

بس مجھے سمجھ تو آ رہا تھا کے میرا بھائی مجھے بھی خوش کرنا چاہ رہا ہے اور اس پولیس والے کے لیے بھی مرنا قبول نہیں کر رہا ہے۔
بہرحال میں نے اپنے بھائی کو اس معاملے تجویز کا قصوروار نہیں ٹھہرایا کیونکہ شناختی کارڈ بھی میرے بھائی کا گیا ہے،

میں نے اپنے بھائی کو بتایا کے یہ نہ سمجھ کے یہ میرا کہنا مان لیں گے۔
کیونکہ انکو منانے کا طریقہ ہی مار دینا ہے،

میں نے اپنے بھائی کو بتایا کے ترکیے کا رجب طیب اردوغان بھی میرا کہنا جھٹک کر نہیں مانتا ہے تو میں بھی اس کا کہنا نہیں مانتا ہوں اور سپیشل نہیں مانتا ہوں،
میرے بھائی نے غزہ فلسطین کا معاملہ مجھسے شیئر کیا تو میں نے اپنے بھائی سے کہے دیا کے میں نے جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی اسرائیل کو جنگ کرنے سے منع کیا تو وہ مان گیا، اور میں نے فلسطین کے صدر محمود خان کو جنگ کرنے منع کیا کے جنگ نہیں کرنا ہے،
بس میں نے دونوں کو ہمدردی سے سمجھایا مگر اسرائیل میرا کہنا مان گیا اور فلسطین کا صدر میرے آگے غصے سے اکڑ گیا کے فلسطین کے صدر کو میری ضرورت نہیں ہے اور فلسطین کا صدر میرا کہنا بھی نہیں مانے گا کیونکہ فلسطین کے صدر نے چائنا سے دوستی کرلیا ہے۔

بس میں فلسطین کے صدر کا غصہ دیکھ کر چونک گیا کے یہ میرے آگے غصہ اور اکڑ دکھاتا ہے اور بھرم بھی اس چائنا کا مارتا ہے کے جو چائنا میرے مالک کا خوب احترام کرتا ہے۔
بس میں نے بھی فلسطین کے صدر کو کہے دیا کے تم جس کا بھی نام لیتے ہو اور تم مجھسے الجھتے ہو تو سمجھ لینا کے تمہارے کام کوئی نہیں آئے گا، تو بس فلسطین کا صدر کو چائنا پر اتنا یقین اعتماد تھا کے بس چائنا آئے گا،
تو بس جب فلسطین کے صدر کو چائنا پر اتنا یقین اور اعتماد تھا تو پھر میں نے کہے دیا کے تم شرارت کروگے تو پھر میں اسرائیل کیساتھ ہونگا کیونکہ اسرائیل نے میرا کہنا مانا ہے اور اسرائیل میرے آگے قابل عزت ہے۔

بس پھر میں نے اپنے مالک سے کہا کے دیکھ یہ اسرائیل سے شرارت کرنے کا بھی کرتے ہیں اور چائنا کو اپنا مسیحا اور دوست بھی سمجھتے ہیں اور چائنا کے نام پر مجھسے بھی الجھتے ہیں کے بس چائنا ہی کافی ہے۔
بمعنی جیسے انہوں نے چائنا سے دوستی کر کے بہت بڑا تیر مار دیا ہو،
اور میں نے اپنے بھائی سے کہا کے جب آج سے ایک سال پہلے حماس نے اسرائیل سے چھیڑ کیا اور اسرائیل کا سنگسار کیا تو جب اسرائیل نے حماس سے بدلہ لینا چاہا تو فوراً نہیں لیا بلکہ دو دن گزارنے کے بعد غزہ پر پرچیاں پھینکیں کے جگہ کو خالی کر دو اور اسرائیل نے آپریشن کرنا ہے۔
اسرائیل نے تقریباً ایک ہفتے کا موقع دیا کے سب لوگ باہر نکل جائیں اور غزہ کو چھوڑ دیں،
اور پھر میں نے اسرائیل سے کہا کے ایک ہفتے میں ہوسکتا ہے کے کوئی کمزور اور معذور انسان فوراً غزہ سے نہیں نکل سکتے ہو اور کیا لوگ اس طریقے سے غزہ سے نکلیں گے کے آپس میں ٹکر لگے اور گر جائیں،
بمعنی ہجوم کا دوڑ میں دیکھنا نہیں چاہتا ہوں۔
بس ایک ہفتے سے پندرہ دن کا موقع دو تاکے لوگ آرام سے نکل سکیں، بمعنی پھر بھی لوگ تیزی سے نکلیں گے مگر انہیں اپنا سامان سمیٹنے اور آرام سے نکل جانے کا موقع ملے گا اور ہجوم سے کوئی گرے گا بھی نہیں،
اور اسرائیل میرا کہنا پھر بھی مان گیا، جبکہ اسرائیل چاہتا تو میرے کہنے کو رد کر دیتا کیونکہ اسرائیل کے پاس موقع اور بہانہ ہے کے ہم ابھی حملہ کریں گے اور اسرائیل حملہ کرسکتا تھا مگر پھر بھی اسرائیل نے میرے کہنے کو رد نہیں کیا،
تو بس پھر اس جنگ میں میں اسرائیل کیساتھ ہوں،
اور جو لوگ غزہ میں مرتے ہیں تو وہ اپنی مرضی سے مرتے ہیں اور انہوں نے سنایا کے ہم نہیں نکلیں گے اور دنیا کو دکھائیں گے کے اسرائیل حملہ کرتا ہے۔
بس یہ انکا نظریہ ہے دنیا کو دکھانے کا مگر میں نے انہیں نکل جانے کا ذیادہ موقع دیا،
بمعنی جتنا اسرائیل نے موقع دیا تو میں نے ان لوگوں کے استطاعت کے مطابق انہیں موقع دیا اور پھر بھی وہ لوگ الجھیں تو پھر میرا کچھ قصور نہیں اور میں اسرائیل کو آپریشن کرنے سے منع نہیں کرسکتا ہوں کیونکہ یہ اسرائیل کا ذاتی معاملہ ہے۔
تو بس میرے بھائی نے مجھے ہی صحیح ٹہرایا اور میرے بھائی نے فلسطین کے صدر کو قصوروار ٹھہرایا کے اک تو اسے لڑنے جھگڑنے سے منع کرتے ہیں تو وہ چائنا کے نام سے مجھسے ہی الجھ جاتا ہے۔
میرے مقابل رجب طیب اردوغان کو بھی قصوروار ٹھہرایا ،

مگر میرے مقابل اس پولیس والے کے لیے کہتا ہے کے اسے گولی نہیں مارنا چاہیے، اور اس پولیس والے کے لیے دوسری سزا مختص کرتا ہے کے جیسے میرا بھائی بہت اچھا فیصلہ کر رہا ہو،
تو بس میں نے اپنے بھائی کا کہنا مان لیا تاکے میرا بھائی مجھسے خوش ہو جائے کے میں نے اپنے بھائی کا کہنا مان لیا، مگر میں اپنے بھائی کا کام نہیں کروں گا۔
اور جب میرا بھائی مجھے پھر دوبارہ کہے گا کے شناختی کارڈ کا کیا ہوا اور ابھی تک مسئلہ حل نہیں ہوا،
تب میں اپنے بھائی سے کہوں گا کے دیکھ جیسے فلسطین کا صدر ہے، ترکیے کا صدر رجب طیب اردوغان ہے ویسے ہی پاکستان کی پولیس اور آرمی ہے۔
بس میں نے تیرے کہنے پر پولیس اداروں اور سندھ گورنمنٹ سے کہے دیا کے شناختی کارڈ وہی پولیس والا ہمارے گھر لیکر آئے اور ننگے پاؤں کھڑے ہوکر معافی مانگے مگر میرا کہنا ایسے پولیس اور پاکستان کی گورنمنٹ نہیں مانتی ہے کیونکہ توں نے منع کیا ہے کے گولی نہیں مارنا ہے۔
اور میں اپنے بھائی کے لیے ہی گولی مارنے کا نہیں کہتا ہوں کیونکہ بھکتے گا تو میرا بھائی ہی بھکتے گا اور پھر میرا بھائی مجھے قصوروار نہیں سمجھے گا کے میں گولی مارنے کا کہتا ہوں،

اور میں شناختی کارڈ کے معاملے پر کہتا ہوں کے شناختی کارڈ میرے بھائی کا ہے اور اس نے گولی مارنے سے منع کیا ہے تو مجھے شناختی کارڈ کی فکر نہیں ہے۔ کیونکہ شناختی کارڈ بھی میرے بھائی کا ہے۔
اور یہاں تک کے میرا بھائی ہمیشہ کے لیے میری حمایت کرے گا اگرچہ میں کچھ بھی کروں،
بس میں اپنے بھائی کا شناختی کارڈ کا فکر نہیں کرتا ہوں کیونکہ یہ میرے بھائی کا کہنا ہے کے پولیس والے ننگے پاؤں معافی مانگیں گے،
اور میں نے اپنے بھائی سے کہے دیا کے ایسی سزائیں پاکستان اور بنگلہ دیش اور ترکیے ، انڈونیشیا ، نائیجریا وغیرہ پر نہیں لگا سکتے ہیں کیونکہ انکی سزا ہی موت ہے۔ اور اگر تجھے لگتا ہے کے یہ ایسی سزاؤں سے سدھر جائیں گے تو پھر میں تیرے لیے کہے دیتا ہوں،
اور یہ سدھریں یا نہیں سدھریں تو یہ انکا اپنا معاملہ ہے،
اور میرے نظریے یہ موت کے علاوہ کسی سزا سے بھی نہیں سدھریں گے،
اور ایسی سزائیں بھارت، افغانستان ، سعودی عرب، اور یو این وغیرہ کو دیا جاسکتا ہے کیونکہ انکے لیے یہی سزائیں بہت بڑی ہیں۔
اور پاکستان کے لیے ننگے پاؤں معافی مانگنا کوئی سزا نہیں ہے بلکہ یہ اپنا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
کیونکہ توں نے سنا تھا کے پولیس والے نے مجھے کہا تھا کے اپنے تعلقات لگاؤ،
تو بتا کے انکے لیے ننگے پاؤں معافی مانگنا کیا کافی ہے ؟

تو بس میرے بھائی نے مذید تین مہینوں کا معطل سسٹم بھی رکھ دیا تو بس میں مان گیا کیونکہ میں سمجھ گیا کے میرے بھائی کو ایسے سمجھ میں نہیں آئے گا۔
بس میرا بھائی اپنے شناختی کارڈ پر خود انتظار کرتا رہے،
بس میں اپنے بھائی کے لیے شناختی کارڈ کی فکر نہیں کرتا ہوں کیونکہ جیسا میرے بھائی نے مجھے کہا تھا تو میں نے ویسے ہی کہے دیا، کے گولی نہیں مارنا ہے اور گولی کے بدلے ننگے پاؤں معافی مانگے،
تو بس میں نے کہا کے یہ توں کیا کہے رہا ہے کے اگر میں نے ایسی سزا دینے کو اہمیت دیا تو پھر سارے پولیس والے بدمعاش مجھسے لڑیں گے اور بعد میں چپل اتار کر معافی مانگ لیں،
تو بس میرے بھائی نے پھر تین مہینوں کا معطل سسٹم بھی رکھ دیا تو میں سمجھ گیا کے میرا بھائی مجھے خوش کر رہا ہے مگر انہیں بھی بچا رہا ہے تو بس پھر میں چپ ہوگیا۔

میں کہتا ہوں کے مجھے اپنے بھائی کا شناختی کارڈ کا فکر نہیں ہے کیونکہ اس نے ایسی سزا چنا ہے تو بھکتے گا بھی وہ خود ہی،
اور یہاں تک کے میرا بھائی میری حمایت کرے گا تو بس پھر میں اپنے بھائی سے خوش ہو جاؤں گا،

اور پھر میرا بھائی کبھی بھی مجھے غلط نہیں سمجھے گا کے میں گولی مارنے کو کہتا ہوں،

بس میں چائنا سے کہتا ہوں کے میں اک طریقے سے اپنے بھائی کو سدھار رہا ہوں تاکے میرا بھائی کبھی بھی مجھے غلط نہیں سمجھے کے میں گولی مارنے کو اہمیت دیتا ہوں کیونکہ میرا بھائی خود بھی اپنے معاملے پر تجربہ کرچکا ہوگا،

اور میں اپنے بھائی کو صرف اس لیے سدھار رہا ہوں کیونکہ میرا بھائی میرا بھی خیال کرتا ہے۔

لیکن میں کہتا ہوں کے جس پولیس والے نے مجھے روکا، اور میرا نام اور میرا تعارف سن کر مجھے کہنے لگا کے تم اپنے تعلقات لگاؤ تو بس مجھے اس وقت اتنا برا لگا کے میں بتا نہیں سکتا ہوں،
اور میں نے اس پولیس والے سے کہے دیا کے ابھی تم میرے ساتھ ایسا کر رہے ہو تو سمجھ لینا کے بعد میں میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا اور تم نے معافی بھی مانگا تب بھی نہیں چھوڑوں گا،
بمعنی میں نے بالکل کلیئر سی بات کردیا کے تم نے میرے عزت پر ہاتھ ڈالا ہے اور پھر مجھے کہتے ہو کے اپنا تعلقات لگاؤ،
تو بس پھر اس پولیس والے نے اپنے ہوش و حواس میں مجھے کہے دیا کے ٹھیک ہے بعد میں نہیں چھوڑنا اور تم اپنے تعلقات لگاؤ،
تو بس پھر میں نے اس پولیس والے سے کہے دیا کے تیرے لیے میں کوئی تعلقات نہیں لگاؤں گا اور تیرے لیے میں اکیلا ہی کافی ہوں، اور میں خود کرسکتا ہوں،
اور میں تیرے لیے بمعنی تیری حیثیت پر اپنے تعلقات لگاؤں تو میرے ذات کی بیستی ہے۔

بس پھر میں نے سوچ لیا کے اگر یہ میری حیثیت کو دیکھنا چاہتا ہے اور میرے ساتھ الجھتا ہے تو پھر اس کو گولی مار کر پھینک دینا چاہیے۔
بمعنی اس کی کیسے غلطی ہوئی کے مجھے پکڑے اور مجھے کہے کے اپنے تعلقات لگاؤ تو پھر میں نے ڈن کنفرم کردیا کے بس اب اس پولیس والے کو مار دینا چاہیے۔

میں چائنا سے کہتا ہوں کے کراچی ناظم آباد پولیس سٹیشن میں پایا جانے والا اک ٹرافک پولیس مجھے ایسا کہتا ہے تو اس پولیس والے کے منہ میں گولی مارو۔
بمعنی منہ کھول کر منہ کے اندر گولی مارنا ہے کے اس نے مجھے کس منہ سے کہا کے اپنے تعلقات لگاؤ،
اور میرے آگے اکڑ گیا،

بس یہ میں شناختی کارڈ لینے کا بدلہ نہیں لے رہا ہوں کیونکہ شناختی کارڈ کے معاملے پر میرے بھائی نے دوسری سزا مختص کردیا ہے۔
بلکہ یہ میں اپنے ذات کے لیے کہے رہا ہوں کے مجھے کیسے کہا کے اپنے تعلقات لگاؤ، بس میرے ذات کا بہت بیستی ہوا ہے کے میں اس حیثیت کے پولیس کی بات مانوں کے میں تعلقات لگاؤں اور بعد میں معاملہ سلجھ جائے ، بلکہ مجھے تو ایسے پولیس والے کو گولی مار کر ختم کر دینا چاہیے۔

بس میرے عزت کا معاملہ ہے، اور تبھی میں چائنا سے کہتا ہوں کے اس پولیس والے کے منہ کے اندر گولی مار دینا ۔ کیونکہ اس نے اپنے منہ سے ہی کہا تھا اور اس کے منہ میں اتنا ہمت تھا کے میرے آگے کہے رہا ہے۔

عرصے پہلے میں جس کا نائب ہوں اسی نے عرصے پہلے مجھے کہا تھا کے اب چائنا تیرا کہنا مانا کرے گا اور میں چائنا کو خاص نہیں کہتا کیونکہ میرے لیے وہی کافی ہے کے جس کا میں نائب ہوں،
مگر اب میرے عزت کا معاملہ آگیا ہے اور تبھی میں چائنا سے کہتا ہوں کے اس پولیس والے کے منہ کے اندر ایک ہی گولی مار دینا، تاکے اس پولیس والے کو پتا چل سکے کے میری کیا حیثیت ہے اور اس نے میرے آگے رسک لگایا،

اور باقی بات رہی میرے بھائی کا تو میں اپنے بھائی سے کہے دونگا کے دیکھ تیرے تجویز کردہ طریقے پر میں نے عمل کیا تھا مگر دوسرے نہیں مانتے ہیں تو اس معاملے پر میرا کوئی قصور نہیں ہے۔
تو بس میرا بھائی میرے ساتھ ملنا ہوگا تو مل جائے گا اور مذید صبر کرے گا تو صبر کرتا رہے۔
مگر میں اپنے ذات کا پورا حساب لونگا کے مجھے کیسے کہے دیا کے تعلقات لگاؤ،
اور میرا بھائی مجھ پر اعتراض نہیں کرسکتا ہے کے اگر میرے بھائی کو پتا چل جائے کے میں نے گولی مارنے کو اہمیت دیا،
کیونکہ میرا بھائی سمجھ جائے گا کے دوسرے بھی تو نہیں مانتے ہیں تو میرا بھائی مجھے کس منہ سے منع کرے گا،
اور یہاں تک کے میرا بھائی جب گولی مارنے کے معاملے پر بھی میرے ساتھ ہوگا تو پھر میں اپنے بھائی کا شناختی کارڈ وصول کرنے کو اہمیت دونگا۔
اور پھر میرا بھائی گولی مارنے کے معاملے پر بھی مجھے کبھی بھی برا نہیں سمجھے گا،

بس میں اپنے بھائی کو صرف اس لیے سدھارنا چاہتا ہوں کے میرا بھائی میرا ایسا خیال رکھے کے میرے مقابل اداروں وغیرہ کو اہمیت نہ دے،
بس اپنی زندگی جیئے اور مجھے اہمیت دے،
اگرچہ گھر والوں کیساتھ ہوتا ہے تو یہ میرے بھائی کا معاملہ ہے مگر میں جیسے اپنے اس بھائی کو سدھارنے کا کرتا ہوں ویسے دوسرے کسی بھائی کو بھی سدھارنے کا نہیں کرتا ہوں،
کیونکہ دوسرے مجھے ویسے اہمیت ہی نہیں دیتے ہیں کے جس طریقے سے دینا چاہیے۔

میں جس کا نائب ہوں اس مالک نے مجھے شروع میں ہی کہے دیا تھا کے توں کسی کو بھی یہ نہیں کہنا کے میں اس سے کرواتا ہوں کے جس کا میں نائب ہوں،
اور یہ نہیں کہنا کے میں دوسروں سے کرواؤں گا، اور اگر توں نے کہا کے میں دوسروں سے کرواؤں گا تو پھر میں تیرا وہ کام نہیں کروں گا ،
اور توں کہنا کے میں خود کروں گا اور خود کرتا ہوں، تب میرا مالک میرا کام کرے گا،

بس یہ میں نے چائنا سے کہے دیا ہے اور بس میرا مالک اب یہ بھی کہتا ہے کے چائنا تیرا کہنا مانے گا اور بس میں نے چائنا کو کہے دیا کے اس پولیس والے کے منہ میں گولی مار دینا اور وہ ٹرافک پولیس ہے اور اس کا نام بھی آصف ہے۔

تصویر میں دکھا رہا ہوں کے وہ کس جگہ کا ہے۔
اور میں کہتا ہوں کے میرا برا نہیں منانا کے میں اس جوش و جذبے میں کھل کر کہتا ہوں،
کیونکہ میں جس کا نائب ہوں اس نے کہا ہے کے توں ایسے ہی کھل کر بیان کیا کر اور اپنا حکم چلایا کر تو چائنا برا نہیں مانے گا اور بڑی بات یہ ہے کے میرا مالک کہتا ہے کے چائنا کے سامنے بھی حکم چلایا کر،

بس میں چائنا کا قدر کرتا ہوں کیونکہ چائنا میرے مالک کا قدر کرتا ہے تو میرا حق ہے کے میں چائنا کا بھی قدر کروں۔
لیکن بس یہ بڑی بات ہے کے میں چائنا کے سامنے بھی دوسروں پر حکم چلاؤں،
بس یہ میں اپنے مالک کے سامنے کرسکتا ہوں اور کھل کر کرسکتا ہوں بمعنی مجھ میں کوئی شرم و حیاء نہیں ہے۔
دنیا کو نچا بھی سکتا ہوں مگر یہ میں اپنے مالک کے سامنے کرسکتا ہوں۔
اور دوسروں کے سامنے بھی کرسکتا ہوں اور صرف چائنا کے سامنے نہیں کرسکتا ہوں، کیونکہ مجھے لگتا ہے کے اگر میں چائنا کے سامنے بھی کروں گا تو پھر چائنا کیا کہے گا بمعنی کیا سمجھے گا کے میرے مالک کا لاڈلہ میں ہوں یا چائنا،
بس تبھی میں چائنا کا خیال کرتا ہوں کے چائنا خود ہی خوش ہو جائے کے چائنا ہی میرے مالک کا لاڈلہ ہے۔

بس میں جو اپنے مالک کو اہمیت دیتا ہوں تو وہ میری ذات تک کے لیے ہے، بمعنی میں حکومت کی وجہ سے اہمیت نہیں دیتا ہوں کیونکہ حکومت میں دوسرے لوگ بھی ہیں، مگر میں اپنے مالک کو اس لیے اہمیت دیتا ہوں کیونکہ عزازیل نے میرے لیے میرا مالک صرف اپنی طرح رکھا ہے۔
بس میں اپنے مالک کو صرف اک عزازیل کی وجہ سے اہمیت دیتا ہوں،
اور چائنا کو میں اپنے مالک کی وجہ سے اہمیت دیتا ہوں کے چائنا میرے مالک کا بہت قدر کرتا ہے۔
اور مجھے اچھا نہیں لگتا ہے کے چائنا کہے کے میں لاڈلہ ہوں یا چائنا،
اور میں اس بات پر چائنا کو دکھ اور شکایت بھی نہیں دینا چاہتا ہوں اور تبھی میں چائنا کے آگے کھل کر حکم نہیں چلاتا ہوں۔

میں نے یہاں تک اپنے مالک کو منع کیا ہے کے میں چائنا کو اپنا کام نہیں بول سکتا ہوں کیونکہ چائنا میرے کہنے اور احساسات اور کیفیت کو بچپن سے نہیں جانتا ہے تو میں چائنا کو اپنا کام نہیں بول سکتا ہوں،
اور طالبان کو کھل کر کہے دیتا ہوں اور خفیہ رپورٹ بھی پہنچا دیتا ہوں کیونکہ طالبان کو میں بچپن سے جانتا ہوں اور طالبان بھی مجھے بچپن سے جانتے ہیں۔

بس یہ بات الگ ہے کے طالبان اپنی مرضی بھی کرتے ہیں مگر جب بھی اپنی مرضی کیا ہے تب بھی مجھے نقصان نہیں پہنچاتے، اور میرے معاملے پر میرے خلاف والوں کا حمایت بھی نہیں کرتے ہیں، اگرچہ طالبان کا کسی سے بھی تعلق ہو مگر میرے معاملے پر طالبان اپنے تعلق داروں کا حمایت بھی نہیں کرتے ہیں تو اس وجہ پر میں طالبان کو غیروں کے مقابل اچھا سمجھتا ہوں، اگرچہ طالبان مجھسے تعلق نہیں بھی رکھیں تو میں طالبان سے پھر بھی خوش ہوں کیونکہ طالبان میرا بنیادی کہنا بھی مان لیتے ہیں۔

مگر دوسرے لوگ تو میرے خلاف ہوتے ہیں، مجھے تکلیف دیتے ہیں، مجھسے مقابلہ لگاتے ہیں، مجھے گولی مارتے ہیں، میرا نقصان چاہتے ہیں اور ایسے لوگوں سے بہت بہتر طالبان ہے۔

بس میں چائنا سے کہتا ہوں کے اس ٹرافک پولیس والے کے منہ کے اندر ایک گولی مارو اور اس کا ستیاناس ہو جائے ۔

منجانب : نائب انسانی عزازیل آصف عزازیل انٹرنیشنل مجسٹریٹ۔

12/11/2024

6 نومبر 2024 کو پایا جانے والا واقعہ۔

6 نومبر 2024 کو دن 5 بجے کے بعد میں آصف عزازیل اور میرا چھوٹا بھائی فرحان ہم دونوں بائیک پر مارکیٹ میں ادویات لینے جا رہے تھے،
راستے میں ہمیں ٹرافک پولیس کے نمائندے نے روک لیا،

اصول کے مطابق روکنا ہی نہیں چاہیے تھا کیونکہ میں خود اس بائیک میں بیٹھا ہوں،
مگر پھر بھی میں اس پولیس والے کیساتھ نہیں الجھا ہوں،
میرے بھائی نے اپنا گاڑی کا کاغذ دکھا دیا، اور پھر وہ پولیس والا اور اس کا نام بھی آصف تھا،
اس نے شناختی کارڈ مانگا ، میں نے اپنا ذاتی شناختی کارڈ اسے دکھا دیا،
اب اس نے ضد پکڑ لیا کے وہ گاڑی چلانے والے کا شناختی کارڈ دیکھے گا،
بس پھر میرے بھائی نے بھی اپنا شناختی کارڈ دکھا دیا،
اور پھر اس پولیس والے کو میں نے کہا کے ہم دوا لینے جا رہے ہیں، مریض ہے تو اب تم ہمیں جانے دو کیونکہ تم نے شناختی کارڈ بھی دیکھ لیا اور گاڑی کے کاغذ بھی دیکھ لیا، لہذا ہم کوئی ڈیفالٹر نہیں ہیں۔
مگر پھر وہ پولیس والا میرے آگے اکڑ گیا اور اس نے بات رکھا کے تمہارے گاڑی کے آگے نمبر پلیٹ نہیں ہے اور گاڑی کے پیچھے نمبر پلیٹ موجود ہے۔
گاڑی کا لائسنس نہ ہونے پر بھی وہ پولیس والا میرے آگے اکڑ گیا،
میں نے اس پولیس والے سے کہا کے گاڑی کے کاغذ تمہیں مل چکے ہیں اور شناختی کارڈ بھی تم نے دیکھ لیا ہے،
لہذا اب یہ تم بہانے نہ بناؤ کے ہماری غلطی ہے۔
مگر وہ پولیس والا نہیں مان رہا تھا،
اس پولیس والے کو میں نے اپنا نام بتایا کے میرا نام آصف عزازیل ہے،
اس پولیس والے نے میرا نام سن کر مجھسے پوچھا کے تم کیا کام کرتے ہو،
تب میں نے اسے جواب دیا کے میں یو این میں وائس چیف ہوں، اور میں خفیہ ہوں اور مجھے پولیس آرمی وغیرہ سب جانتے ہیں اور تم میرا تحقیق بھی کرسکتے ہو کے میں سچ بول رہا ہوں یا جھوٹ،
بس ابھی میں تمہارے ساتھ الجھنا نہیں چاہتا ہوں کیونکہ ہم ادویات لینے جا رہے ہیں۔
اور پھر وہ پولیس والا میرے آگے اور مذید اکڑ گیا اور مجھے کہنے لگا کے تم اپنے تعلقات لگا لینا اور ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے،
تب میری ہٹ گئی کے یہ مجھے تعلقات لگانے کی بات کر رہا ہے،
بس پھر میں نے کہا کے ٹھیک ہے جب تم تعلقات لگانے کی بات کر رہے ہو اور مجھسے الجھ رہے ہو تو میں تم سے ایسے پیش آؤں گا کے بعد میں بھی میں تمہیں نظر انداز نہیں کروں گا،
بس وہ اور میرا آپس میں ایسا لڑائی ہوگیا کے اس نے مجھسے الجھ گیا اور مجھے کہنے لگا کے تم تعلقات لگا لینا اور اسی بات پر وہ قائم رہا تب میں نے اسے کہا کے ٹھیک ہے، جب تمہارا آخری یہی خواہش ہے تو میں تمہاری خواہش ضرور پوری کروں گا اور پھر تم دیکھنا کے میں کیسا ہوں،
بس وہ مان گیا،
مجھے بھی غصہ آ رہا تھا کے یہ مجھے تعلقات لگانے کی بات کر رہا ہے کے جیسے میں تعلقات لگانے کے لیے بیٹھا ہوں،
بس میں مان گیا مگر میں نے کہا کے پھر میں بعد میں نظر انداز نہیں کروں گا،
اور پھر اس نے 1520 روپے کا چالان بنا دیا،

بس میرے بھائی نے اس وقت مجھے کہا کے مجھے شناختی کارڈ کی ضرورت نہیں ہے اور ابھی ہم دوا لینے چلتے ہیں،
بس میں اپنے بھائی کیساتھ دوا لینے چلا گیا،
دوا لیکر واپس پلٹا تو ہم اک پولیس سٹیشن گئے،
اتفاق سے اس وقت وہ پولیس والا راستے میں تو نہیں ملا اور پولیس سٹیشن میں بھی نہیں ملا،
بس میں نے پولیس سٹیشن میں جو یہ تصویر نظر آ رہا ہے ادھر گئے اور متعلقہ ٹرافک پولیس سے بات کیا کے اس پولیس والے آصف نے ہمارا چالان کردیا ہے۔
اور ماجرہ وغیرہ بھی اسے بتایا،
بس اس پولیس والوں نے مجھے کہا کے وہ پولیس والا بھی آصف ہے اور وہ ابھی تک تھانے نہیں آیا ہے،
بس ہم تقریباً 15 سے 20 منٹ اس تھانے میں رکے ہونگے اور اس پولیس والے کا انتظار کیا، مگر وہ نہیں آیا اور ہمیں واپس گھر بھی جانا تھا اور اسی وجہ سے ہم گھر نکل گئے،

مجھے غصہ تو اتنا آ رہا تھا کے میں اسی دن اعلان کر دوں مگر اتفاق سے میرے موبائل فون کا چارجنگ ہی نہیں ہوتا ہے کے میں اپنی ضروریات بھی نکالوں اور پھر یہ خلاصہ بھی بیان کروں،

آج میرے موبائل فون کا چارجنگ فل ہے اور تبھی میں نے یہ خلاصہ بیان کردیا ہے۔

میں نے سوچا تھا کے اس پولیس والے آصف کو گولی مار دینا چاہیے کیونکہ اس کی سب سے بڑی غلطی یہ تھا کے وہ مجھے روک رہا ہے اور پھر میرے آگے بحث بھی کر رہا ہے اور کہتا ہے کے اپنے تعلقات لگاؤ،
بس اس بات پر مجھے شرم آتا ہے کے میں اس کے آگے اپنے تعلقات لگاؤں، بلکہ مجھے تو ایسے بندے کو گولی مار کر ہی پھینک دینا چاہیے۔ کے جو مجھے تعلقات لگانے کی بات کرتا ہے۔
بس یہ میرے ذات کی چاہت ہے اور اس میں میری عزت ہے،

اور میرا بھائی فرحان مجھے کہتا ہے کے گولی نہیں مارنا چاہیے ، میں نے اپنے بھائی سے کہا کے اگر گولی نہیں مارا جائے گا تو پھر میرا عزت نہیں ہوگا اور کوئی بھی میرے ساتھ ایسا کریں گے،
بس میرے بھائی نے ایک طریقہ تجویز کیا ہے کے اس پولیس والے کو خود ہمارے گھر میں آکر وہ شناختی کارڈ دینا چاہیے اور معافی مانگنا چاہیے،
تب میں نے اپنے بھائی سے کہا کے اگر ایسا طریقہ رکھیں گے تو پھر کوئی بھی لوگ ہم سے لڑیں گے اور پھر ہم سے معافی بھی مانگ لیں گے، بمعنی یہاں میری عزت یہ گوارا نہیں کرتا،
اور پھر میرے بھائی نے مجھے کہا کے اسے ہمارے گھر میں آنا ہوگا اور وہ چپل پہن کر نہیں آئے، اور وہ اپنے انہی ساتھیوں کے ہمراہ ہمارے گھر آئے کے جس کے سامنے وہ ہمارے ساتھ الجھ رہا تھا، اور انہی کے سامنے معافی مانگے۔
بس میں نے اپنے بھائی سے کہے دیا کے ایسے میں نہیں کرسکتا ہوں، بمعنی یہ میں اپنی ذات کے لیے نہیں رکھ سکتا ہوں کیونکہ میرے ساتھ کرنے کی صرف ایک ہی سزا ہے اور وہ موت ہے۔
کیونکہ مجھے اپنے عزت کی فکر ہے،
اور مجھے بہت برا لگا کے میں اپنے بھائی کیساتھ سفر میں گاڑی پر موجود ہوں اور پھر بھی مجھے روک کر کہتے ہیں کے اپنے تعلقات لگاؤ، تو بتاؤ کے میری کیا عزت رہی ؟
بس انہوں نے میری عزت پر ہاتھ ڈالا ہے اور اسکی سزا موت ہے،
ایسے شخص کو گالی مار کر پھینک دینا چاہیے،
بس میری طرف سے تو یہی ہے،

اور باقی جو میرا بھائی کہتا ہے تو وہ بھی میں مان گیا ہوں، اور اسی وجہ سے میں کہتا ہوں کے اس ٹرافک پولیس والے آصف کو ہمارے گھر بھیجو اور وہ شناختی کارڈ بھی ساتھ لیکر آئے اور معافی بھی مانگے،
اور میرا بھائی کہتا ہے کے اس پولیس والے کو تین مہینوں کے لیے معطل بھی کر دینا،
بس میرے بھائی کا الگ موقف ہے اور میرا الگ موقف ہے۔

ابھی میں کہتا ہوں کے اس پولیس والے کو ہمارے گھر بھیجو اور وہ شناختی کارڈ لیکر ہمارے گھر آئے اور میں اس پولیس والے آصف کی طرف سے اپنی بیستی کبھی نہیں بھولوں گا،
کیونکہ وہ مجھے تعلقات لگانے کا بھی میرے آگے ضد کر چکا ہے کے میں اپنا تعلقات اس کے لیے لگاؤں۔

بس یہاں میرے عزت کی بات بھی آگئی ہے۔

11/11/2024

چینی باشندوں پر حملہ ،

میرا چائنا گورنمنٹ سے گزارش ہے کے پاکستان اور چائنا کی دوستی کو پر عزم بناتے ہوئے اپنے گروپ کمپنی اور متعلقہ گزر گاہ راستوں کی سیکورٹی کو خود اپنے تحویل میں لیں اور اپنے جانوں کی حفاظت کے لیے خود سیکورٹی فراہم کریں،
بس عرصے دراز سے چائنا باشندے بہت اٹیک پر نشانہ بن رہے ہیں،
ابھی کچھ دنوں پہلے میں نے نیوز میں دیکھا تھا کے کسی چینی کمپنی کے گارڈ نے چینی باشندے پر حملہ کردیا،
بس وہ واقعہ دیکھ کر میں چپ ہوگیا،
لیکن اب پھر سے حملہ ہوگیا اور تبھی میں پہلے کا واقعہ بھی اٹھا رہا ہوں، کیونکہ اگر واقعہ نہیں اٹھاؤں گا تو پھر ایسے حملے کسی نا کسی طریقے سے ہوتے رہیں گے،

اب میں چائنا سے کہتا ہوں کے میری عزت کیا کرو، بس مجھے آپ کی طرف سے عزت کرنا ہی اچھا لگتا ہے۔
اور میں چائنا سے کہتا ہوں کے وہی گارڈ کو گرفتار کرو اور اپنے تحویل میں لیکر خود اس بدبخت کو ریمانڈ دو،
اسکی چھترول لگاؤ تاکے اسکی اما دادی نانا اور چاچا ابا وغیرہ سب یاد آجائیں،
اس نے ہمت کیسے کیا حملہ کرنے کا،
بس چینی باشندوں پر حملہ ہوا ہے اور پاکستان کنٹرول نہیں کرسکتا ہے تو کوئی بات نہیں ،
اور چائنا اپنے مجرم خود وصول کرے ، بھاگ گیا ہو تو گرفتار کرے۔
پاکستان سیکورٹی اداروں سے وصول ہو تو اس مجرم کا ڈاکٹری چیک اپ کرو کے پاکستانی اداروں نے اس پر اتنے عرصے پہلے کونسا ریمانڈ دیا ہے،
بمعنی میں خود حیران ہوں کے حملہ آوروں کا ہمت نہیں ٹوٹتا ہے۔
بس اسی گارڈ کو اپنے تحویل میں لیکر اسکی چھترول لگاؤ،
اور اس بار جو ایئرپورٹ پر حملہ ہوا ہے تو اس کے بھی مجرموں کو اپنے حراست میں لو اور اپنے طریقے سے سزا دو،
تاکے دہشتگردوں کو پتا چل جائے کے چائنا کا نقصان کریں گے تو چائنا خود ہی اسکی سزا اپنے ہاتھوں سے دے گا،

اور اب کمپنی کے گیٹ سے لیکر اندرونی سروے تک اور انجینئرز کی سیکورٹی سے لیکر نجی راستوں کی حدود تک چینی اہلکار ہی سیکورٹی کے طور پر نافذ کرو،

بس دوستی تو پاکستان سے بڑھاتے رہو مگر اپنے باشندوں کی جانوں کا حفاظت کرو اور اپنی ذمے داری سے کرو،
یہ یاد رکھو کے آپ کے باشندوں کا جان ہے تو آپ کے باشندوں اور انجینئرز کا جہان ہے۔

پاکستان کیساتھ خوب مخلص ہو جاؤ مگر اپنے باشندوں کے لیے بھی خوب مخلص ہو جاؤ ،
میرے نظریے دونوں کیساتھ مخلص ہونگے تو ذیادہ اہمیت ایمرجنسی کا ہے کیونکہ آپ کے انجینئرز باشندوں کا مسئلہ تقریباً پورا جان کا ہی ہے۔ اور کوئی خاص مسئلہ نہیں ہوگا کے جہاں تک میرا گمان ہے۔
اور پاکستان کیساتھ بہت سارے مسئلے مسائل ہیں مگر اک جان کا مسئلہ نہیں ہے،

اگر میری مانو تو پاکستان کہے کے ہمیں بھی جان کا مسئلہ ہے تو پھر میں کہتا ہوں کے چائنا پاکستان کو اپنے ملک کیساتھ ملا کر پورا چائنا ہی بنادے، اور اس میں اک حصہ پاکستان کا نام ٹہرادے ،
بمعنی اب کوئی بھی حملہ کرے گا تو وہ چائنا پر حملہ کرنا کہلائے گا، اور میرے نظریے کوئی بھی حملہ نہیں کریں گے،
بس میں کہتا ہوں کے پاکستان بھی کسی دوسرے پر حملہ نہیں کرے، تاکے لڑائی جھگڑوں کا وجہ ہی پیدا نہ ہو،
اور پھر چائنا پاکستان ملکر ترقی کریں گے،
اگر پاکستان کو میرا مشورہ اچھا لگتا ہو تو چائنا اور پاکستان کو ساتھ ایک ملک بنالیں،
اور کسی سے لڑائی نہیں کریں اور اپنے ملک کے ترقی پر توجہ دیں۔

اور میں ملک کے ترقی کو بعد دوسرے نمبر پر اہمیت دیتا ہوں، پہلے یہی ہے کے چینی انجینئرز اور باشندوں اور دوسرے ملک کے سیاحتی اور بزنس کرنے والوں ملازموں کا اور پاکستانی شریف ایماندار انسان کو تحفظ فراہم کریں۔
مطلب کے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو، اور جو علماء جم کے لڑائی جھگڑے قتل و غارت فساد کرنے کا اعلان اور فتوے وغیرہ دیتے ہیں ان کا تحقیق کرنے کے بعد صفایا کرو تاکے ملک میں امن و شانت قائم ہو،

علماء بھی شریف اور ایماندار ہونے چاہیئں ، بمعنی علماء کوئی آسمان سے اتر کر نہیں آئے ہیں کے زمین پر فساد برپا کریں۔
بس جو فساد کو فروغ دیتے ہو تو چائنا اپنی کسٹڈی میں ایسے شرپسند عناصر کو ٹارگٹ بناکر مٹی میں ملا دے،
تاکے کوئی بھی شر نہیں پھیلا سکیں۔

بس سختی رکھو کے انجینئرز اور باشندے دنیا سے جاتے ہیں،
دوستی اپنی جگہ پر ہے مگر باشندے اور انجینئرز کے معاملے پر ہر بار یہ نہیں کہو کے ہم دوستی کے لیے سہے گئے۔
بس دوستی کے لیے سہنا ہے تو دوستی بھی رکھو اور دہشتگردی کا خاتمہ بھی کرو،
تاکے نقصان نہیں دیکھنا پڑے۔
چائنا کا مجھسے ذیادہ عقل ہے مگر میں نقصان کو نقصان سمجھتا ہوں اور نقصان کا ازالہ کرنا کرتا ہوں۔
اور دوستی کو اپنی جگہ مضبوط رکھتا ہوں،
اور جو میرا دوست ہوتا ہے تو وہ میرے محنت میں رکاوٹ نہیں بنتا،

08/03/2024

عدالت عزازیل کی سماعت برائے دہشتگردی کا خاتمہ،

عدالت عزازیل کا فرمان عالیشان ہے کے ملک پاکستان سے مکمل دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے،
ورلڈ ڈویلپمنٹ کا محافظ بنا جائے،
ملک پاکستان میں سول اور یونیفارم لباس میں جتنے بھی دہشتگرد ہیں سب کا یقینی تکمیل تک خاتمہ کیا جائے۔
عدالت عزازیل اس بات سے آگاہ کرتا ہے کے مکمل تحقیقات کیا جائے کے کوئی کسی امن پسند دنیا کی ترقی شخصیات کو غلط وجوہات ، مقدمات میں پھنسا کر امن خوشحالی کا جو بھی دشمن ہو تو اس دشمن کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
اور دہشتگردی کا ایسے خاتمہ کیا جائے کے ہر دہشتگردی کا خاتمہ کرنا یقینی ذمہ ہے۔
دنیا کی ترقی خوشحال امن پسند لوگوں کا تحفظات کیا جائے اور غیر امن شخصیات کو دنیا سے نکال دیا جائے۔

منجانب ؛ نائب چیف جسٹس آصف عزازیل انٹرنیشنل،

17/02/2024

عدالت عزازیل کی سماعت برائے ایم کیو ایم پاکستان،

عدالت عزازیل کا فرمان عالیشان ہے کے ملک پاکستان میں ایم کیو ایم سیاسی تنظیم کو حکومت پر کوئی عہدہ نہیں دیا جائے، چونکہ یہ فراڈ اور دھوکے باز ہیں۔
تبھی عدالت اپنی طرف سے یہ حکم جاری کرتا ہے کے (ایم کیو ایم) سیاسی تنظیم کو حکومت پر نہیں لایا جائے۔
منجانب ؛ نائب چیف جسٹس انٹرنیشنل آصف عزازیل۔

19/03/2023

آج میں بتاتا ہوں کے میں نے اپنے بہنوئی کا مسئلہ کیسے برداشت کرلیا ؟
سب سے پہلے تو میں یہ کہتا ہوں کے جس بات میں شاید کے میرے ذات کی بیستی ہو،
کے میرے بہنوئی نے جس طریقے سے اپنے خاندان میں دوسروں کو اہمیت دیا ویسے اور اس کا آدھا برابر بھی مجھے اہمیت نہیں دیا۔
جیسے میرے بہنوئی نے کبھی اپنے بھانجے ، اور میرے بھائیوں کو دیکھا ہے ویسے اور اس کا آدھا بھی مجھے نہیں دیکھا۔
بس کبھی میرا بہنوئی میرے الگ الگ بھائیوں کے لیے کبھی کچھ بھی لاتا اور کرتا مگر کبھی میرے لیے اک کام بھی نہیں کیا۔
مجھے اپنے بچپن میں ایک بار ایسا محسوس ہوتا کے میرا بہنوئی دوسرے بھائیوں کے لیے کبھی کچھ لاتا ہے مگر میرے لیے کبھی ایک بار بھی چھوٹی چیز بھی نہیں لایا،
شاید کے میں اپنے بہنوئی کے اس نظر میں ہی نہیں ہوں کے میں بھی اپنے بہنوئی کو نظر آرہا ہوں۔

( یہاں میرا اطلاق یہ نہیں ہے کے میرا بہنوئی میرے لیے کبھی کچھ لائے، بلکہ میرا اطلاق یہ ہے کے جیسے میرے بہنوئی نے دوسرے کے لیے کیا ویسے میرے لیے ایک بار بھی کرلیتا، بمعنی اک واقعہ بن جاتا کے میرے بہنوئی نے میرے لیے بھی کچھ کیا ہے،
بمعنی میں ایسا نہیں ہوں کے میں اپنے بہنوئی کے نظر میں ہی نہیں ہوں۔)
بس یہ بات تو گزشتہ زندگی کی ہے۔
مگر مجھے اپنے بہنوئی کا احساس بھی ہے کیونکہ اگرچہ میرے بہنوئی نے کبھی مجھے دوسروں کی طرح نہیں سمجھا۔
مگر میرے بہنوئی نے کبھی مجھے کھانے پینے پر منع نہیں کیا،
مجھے یاد ہے کے جب میں کبھی بچپن میں بھی اپنے بہنوئی کے گھر جاتا تو وہاں میں بھی کھانا کھاتا اور رہتا مگر کبھی میرے بہنوئی نے میرے منہ پہ یا میرے سامنے منع نہیں کیا کے میں کھانا کھا لیتا ہوں، یا رہے رہا ہوں،
اور مجھے کبھی اپنے گھر سے نہیں نکالا۔

مجھے یہ بھی یاد ہے کے کبھی میرا اور میری بہن کا اختلاف ہوتا ہے تو میری بہن مجھے یہ بھی کہے چکی ہے کے میرا بہنوئی کہتا ہے کے مجھے گھر سے نکال دو،
اور نہیں آنے دیا کرو، وغیرہ وغیرہ،
جسے میں سیریس تو لیتا تھا مگر پھر کچھ ہی دیر بعد نظر انداز کردیتا تھا کیونکہ میں یہ بھی نوٹ کرلیتا ہوں کے اگر کبھی میرے بہنوئی نے مجھے سنانا ہوگا تو پھر ڈائریکٹ ہی میرے منہ پر بمعنی میرے سامنے سنا دے ، اگرچہ ایک بار سنا دے۔
مگر میرے بہنوئی نے کبھی بھی میرے سامنے یا میرے منہ پر ایک بار بھی نہیں سنایا، تبھی میں نے اپنی بہن کی بات کو نظر انداز کردیا۔
جبکہ مجھے یہ بھی پتا تھا کے میرا بہنوئی مجھے دوسروں کی طرح نہیں سمجھتا، مگر میرے بہنوئی نے کبھی مجھے ایسا سنایا بھی نہیں۔
بس اس کا مطلب یہی ہے کے میرا بہنوئی اپنی جگہ خوش اور میں اپنی جگہ خوش۔
تبھی مجھے اپنے بہنوئی سے کچھ اعتراض نہیں ہوا کے اگر میرا بہنوئی مجھے دوسروں کی طرح نہیں سمجھتا ہے مگر میرے خلاف بھی نہیں ہے۔

مجھے آج سے تقریباً سال یا ڈیڑھ سال پہلے مجھے اللّٰہ جل جلالہ نے خبر دیا تھا کے میرا بہنوئی بھی میرا عدالتی پیج دیکھتا ہے، تو میں چونک گیا، کے میں تو صرف کھیل رہا ہوں تو پھر وہ کیوں دیکھتا ہے۔
مجھے لگا کے میرا بہنوئی اعتراض کرے گا کے میں کیا عدالتی پیج میں سماعت کرتا ہوں،
جبکہ مجھے یہ بھی پتا ہے کے میں حقیقت میں سماعت کرتا ہوں، مگر میرا بہنوئی کیا سمجھے گا کے میں تو کچھ بھی نہیں ہوں اور پھر بھی میں سماعت کرتا ہوں۔
مجھے لگا کے میرا بہنوئی کچھ دن عرصہ میرے پوسٹوں کو بغور دیکھ لیا کرے گا اور پھر آخر کار تنگ آکر چھوڑ دے گا کیونکہ میرے بہنوئی کو پتا ہے کے میں کوئی جسٹس وغیرہ نہیں ہوں۔
تو بس میں ویسے ہی اپنا کام کرتا رہا۔
مگر میرے بہنوئی نے میرے عدالتی پیج کو دیکھتے دیکھتے بھی نہیں چھوڑا، بمعنی دیکھتے ہی چلا گیا۔
اور پھر آخر کار آج سے تقریباً چھ مہینے پہلے مجھے اللّٰہ جل جلالہ نے کہا کے میرے بہنوئی نے یہ کنفرم یقین کرلیا ہے کے میں ہی اپنے بہنوئی کا کام کروں گا اور تبھی پھر میرا بہنوئی آرام سے بیٹھ گیا ہے،
بمعنی میرے بہنوئی کو اب اقامہ بنانے کی ضرورت جدوجہد نہیں ہے۔
تو میں حیران ہوگیا کے میرا بہنوئی کیسے تصدیق کرسکتا ہے کے میں ہی اپنے بہنوئی کا کام کروں گا، جبکہ میرا بہنوئی مجھے سمجھتا ہے کے میں کوئی جسٹس، آرمی چیف یا ڈائریکٹر ، چیئرمین وغیرہ وغیرہ کچھ بھی نہیں ہوں۔
مگر میں کیا کروں کے جب میرا بہنوئی ہی اپنے گمان میں بٹھا لے کے میں ہی اپنے بہنوئی کا کام کروں گا۔
تو بس مجھے یقین نہیں آرہا تھا کے میرا بہنوئی مجھسے کام کروائے گا۔
آخرکار پھر کچھ عرصے کے بعد اللّٰہ جل جلالہ نے مجھے خبر دیا کے میرا بہنوئی میرے انتظار میں بیٹھا ہے کے میں ہی اپنے بہنوئی کا کام کروں گا، تو میں نے یقین نہیں کیا،
کیونکہ مجھے لگا کے اگر میرا بہنوئی مجھسے کام کروانا چاہتا تو پھر مجھسے رابطہ بھی کرلیتا مگر ایسا نہیں ہوا، تبھی میں نے یقین بھی نہیں کیا۔
مگر پھر کچھ عرصے کے بعد اللّٰہ جل جلالہ نے مجھے خبر دیا کے میرا بہنوئی میرے لیے بیٹھا ہے، تو مجھے حیرانگی ہوئی کے میرا بہنوئی کیوں میرے لیے بیٹھا ہے،
تو بس پھر میں نے اپنی بہن سے پوچھا کے کیا میرے بہنوئی نے میری بہن سے میرے بارے کچھ بھی بات ڈسکس کیا ہے کے جیسے میں اپنے بہنوئی کا اقامہ کام کروں۔
تو بس میری بہن نے مجھے کہا کے میرا بہنوئی کہتا ہے کے حساب کرو کے اقامہ کیوں نہیں بن رہا،
تو مجھے حیرانگی ہوئی کے وہ حساب کا کیوں بول رہا ہے، جبکہ میں حساب ہی نہیں کرتا۔
اور میرا اس بات پر بھی حیرانگی ہوا کے میرا بہنوئی ڈائریکٹ ہی مجھسے کیوں نہیں ڈسکس کر رہا۔
تو بس پھر میں آرام سے بیٹھ گیا کیونکہ میرا کبھی اپنے بہنوئی سے بات چیت وغیرہ نہیں ہوتا ہے تو پھر میں کیسے اپنے بہنوئی سے خود بات ڈسکس کرلیتا۔
مگر پھر مجھے اللّٰہ جل جلالہ نے خبر دیا کے میرا بہنوئی میرا انتظار کر کر کے تھک گیا ہے کے میں کام ہی نہیں کر رہا۔
تو بس پھر مجھے حیرانگی ہوئی کے میرا بہنوئی مجھسے بیزار بھی ہوگیا ہے اور مجھسے ڈسکس بھی نہیں کر رہا ہے۔

تو بس پھر میں نے اللّٰہ جل جلالہ سے کہے دیا کے ٹھیک ہے میں خود اپنے بہنوئی سے بات ڈسکس کرلوں گا۔
مگر میں نے اللّٰہ جل جلالہ سے اک شرط رکھا کے میں تبھی یقین کروں گا کے جب میرا بہنوئی میری بات پر پورا اترے گا۔
میں نے اللّٰہ جل جلالہ سے کہا کے میں اپنے بہنوئی سے کہوں گا کے مجھے اپنا آئی ڈی کارڈ کی تصویر دو تاکے میں اپنے بہنوئی کا واٹس اپ نمبر اور آئی ڈی کارڈ سعودی گورنمنٹ کو بھیج دوں۔
میں نے اللّٰہ جل جلالہ سے کہا کے اگر میرا بہنوئی کو مجھ پر پورا 100٪ یقین نہیں ہوگا تو پھر میرا بہنوئی سعودی گورنمنٹ کا نام سنتے ہی مجھے اپنا آئی ڈی کارڈ نہیں بھیجے گا اور مجھے واٹس اپ نمبر کا بھی منع کردے گا کے میں سعودی گورنمنٹ کو واٹس اپ نمبر نہیں بھیجوں۔
اور میں نے کہا کے اگر میرے بہنوئی کو مجھ پر 100٪ یقین ہوگا تو پھر میرا بہنوئی مجھے اپنا آئی ڈی کارڈ بھیج دے گا۔ جبکہ میرے بہنوئی کو یہ بھی پتا ہے کے میں کہے رہا ہوں کے میں اپنے بہنوئی کا آئی ڈی کارڈ سعودی گورنمنٹ کو بھیجوں گا۔
تو بس پھر میں نے کہا کے اگر میرے بہنوئی نے مجھے اپنا آئی ڈی کارڈ دے دیا تو پھر میں سمجھ جاؤں گا کے میرے بہنوئی کو مجھ پر 100٪ پورا یقین ہے۔
تو بس پھر اللّٰہ جل جلالہ مان گیا، اور پھر میں نے اپنے بہنوئی سے کہے دیا کے مجھے اپنا شناختی آئی ڈی کارڈ دو تاکے آپ کا شناخت ہوسکے کے میں کس کی بات کر رہا ہوں اور میں وہ شناختی کارڈ سعودی گورنمنٹ شاہ سلمان کے پاس بھیج دوں گا، تو بس میرے بہنوئی نے بنا کسی سوال اعتراض کے ایک منٹ کے اندر مجھے واٹس اپ میں اپنا حروب اقامہ کی تصویر بھیج دیا۔
اور میں فوراً نہایت حیران ہوگیا کے میرے بہنوئی نے کچھ سوچا سمجھا بھی نہیں اور فوراً مجھے اپنا آئی ڈی کارڈ سینڈ کردیا ۔
میں کچھ سوچ میں پڑ گیا کے ایک منٹ میں میرا بہنوئی اپنا آئی ڈی کارڈ مجھے سینڈ کیسے کرسکتا ہے۔
کیونکہ سینڈ کرنے میں بھی پانچ سے دس منٹ لگ ہی جاتے ہیں، مگر پھر مجھے محسوس ہوا کے میرے بہنوئی نے اپنے موبائل کے گیلری میں اپنا آئی ڈی کارڈ کی تصویر پہلے سے رکھا ہوگا اور وہیں سے مجھے فوراً سینڈ کردیا ۔
بس پھر مجھے پورا یقین ہوگیا کے میرے بہنوئی کو مجھ پر پورا اور پورا 100٪ یقین ہے۔ تبھی میرے بہنوئی نے کچھ اک ذرہ سوالیہ اعتراض بھی ظاہر نہیں کیا۔
جبکہ میں نے سعودی پولیس اسٹیشن کا نہیں کہا بلکہ میں نے شاہ سلمان سعودی گورنمنٹ کا کہا تاکے میرا بہنوئی سمجھ جائے کے اگر میرا بہنوئی پھنس گیا تو پھر بہت بری طرح سے پھنس جائے گا۔
تو بس جب میرے بہنوئی نے مجھے اپنا آئی ڈی کارڈ سینڈ کردیا تو پھر مجھے پورا یقین ہوگیا کے میرے بہنوئی کو مجھ پر اتنا یقین بھروسہ ہے۔
اور میں نے یہ بھی کہے دیا کے میں اپنے بہنوئی کا واٹس اپ نمبر بھی سعودی گورنمنٹ کو دے دوں گا اور میرے بہنوئی نے کچھ اعتراض نہیں کیا۔
تو بس پھر مجھے حیرانگی ہوا کے میرے بہنوئی کو مجھ پر اتنا بھروسہ یقین کیسے ہوگیا۔

تو بس پھر میں نے کہے دیا کے پھر میں ہی اپنے بہنوئی کا اقامہ بنوا کر دے دوں گا۔
مگر میرے بہنوئی نے کہا کے میرا بہنوئی اب کی بار پہلے پیمنٹ نہیں دے سکتا ہے بلکہ پہلے اقامہ بنے گا اور پھر میرا بہنوئی پیمنٹ ادا کرے گا، تو میں نے اپنے بہنوئی سے کہے دیا کے آپ کو دوبارہ پیمنٹ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
کیونکہ آپ نے جو آج سے تقریباً چھ سال پہلے پیمنٹ ادا کیا تھا تو اسی میں ہی اقامہ بن جائے گا۔
مگر میری بہن بھی اعتراض کرنے لگی اور مجھے سنانے لگی کے ہم پیمنٹ دے سکتے ہیں۔
جبکہ میرے بہنوئی نے کہا کے پہلے اقامہ بنے گا اور بعد میں پیمنٹ دے گا۔
جبکہ میں جس کا نائب ہوں اس نے کہا کے وہ ویسے ہی سعودی عرب میں رہے لے اور اس سے اقامہ کا نہیں پوچھا جائے گا۔ بمعنی اس کے لیے سعودی عرب میں اقامہ کی ضرورت نہیں ہے۔
مگر میرے بہنوئی نے کہا کے مجھے اقامہ ہی چاہیے کیونکہ اسے اقامہ کی ضرورت ہے۔
تو بس پھر میں جس کا نائب ہوں اس نے کہا کے پھر میرا بہنوئی سعودی گورنمنٹ کو اقامہ کی فیس ادا نہیں کرے گا، اور سعودی گورنمنٹ میرے بہنوئی سے اقامہ کی فیس نہیں لے گا، مگر میرا بہنوئی جو رقم اقامہ کا سعودی گورنمنٹ کو دے گا وہی رقم میرا بہنوئی مجھے دے دے۔
تو بس یہاں اس بات سے میں کچھ سوچ میں پڑگیا کے میں اپنے بہنوئی سے اتنی رقم کیسے لے سکتا ہوں۔
مگر میں جس کا نائب ہوں اس نے ایسا ہی بات رکھا۔
تو بس پھر میں نے اپنے بہنوئی کے لیے آسانی رکھا اور میں نے اپنے بہنوئی کے آسانی کے لیے کہا کے میرا بہنوئی مجھے تھوڑے تھوڑے کرکے رقم پورا کردے،
جس میں میرے بہنوئی کو بھی بھاری نہیں پڑے اور مجھے بھی رقم مل جائے۔
مگر میرے بہنوئی نے یہاں سے مجھے جواب دینا چھوڑ دیا، جس سے میں حیران ہوگیا کے میرے بہنوئی کو کیا ہوگیا ہے۔ اور پھر میں نے اپنے بہنوئی کو تسلی سے کہا مگر پھر بھی میرے بہنوئی نے مجھے جواب نہیں دیا۔
تو بس پھر میں کیا کرسکتا ہوں؟؟
میں اپنے بہنوئی کا صرف اس لیے خیال کرتا ہوں کے میں نے اپنے بہنوئی کے کمائی کا کھانا کھایا ہے۔
اور میرا بہنوئی نے کبھی مجھے میرے سامنے نہیں کہا کے اس کو گھر سے بھگا دو یا گھر میں نہیں آنے دو،
مگر میں بھی مجبور ہی تھا کے میں نے اپنے بہنوئی سے اقامہ کا رقم خود لینے کا کہے دیا۔
اور اس میں بھی درحقیقت میرے بہنوئی کا فائدہ ہی ہے، کیونکہ اس میں رقم میرے ہاتھ میں آئے گا اور دوسرا میرے بہنوئی کا یہ فائدہ ہے کے میرے بہنوئی کو یہ ضرورت نہیں ہے کے میرا بہنوئی مجھے یکساتھ اقامہ کی رقم ادا کرے، بلکہ میرا بہنوئی مجھے تھوڑا چھٹیوں میں اور ورکنگ مہینوں میں چار مہینوں میں ادا کردے تاکے میرے بہنوئی کو رقم ادا کرنے میں کچھ مشکل کا بھی سامنا نہیں ہو،
مگر میرے بہنوئی نے یہاں سے مجھے جواب دینا چھوڑ دیا تو بس پھر مجھے برا ہی لگا۔
اب یہی بات میں کہے رہا ہوں کے میں پھر بھی اپنے بہنوئی کا کام کرنا چاہتا ہوں مگر میں سعودی گورنمنٹ کو برداشت کرسکتا ہوں، کیونکہ میرا بہنوئی مجھسے ایسے پیش آیا کے مجھے سعودی گورنمنٹ پر غصہ بھی آیا ہے مگر میں سعودی گورنمنٹ کو آٹومیٹک طور پر برداشت کرلیتا ہوں۔
کیونکہ میرا بہنوئی خود میرے ساتھ ایسے پیش آیا ہے۔
ورنہ مجھے سعودی گورنمنٹ پر اتنا غصہ تھا کے میرے برداشت سے باہر تھا، بمعنی میں کچھ بھی قدم اٹھا سکتا تھا مگر اب مجھ میں برداشت پیدا ہوگیا ہے جس سے میں صرف غصہ ہی کرسکتا ہوں۔
کیونکہ میرا بہنوئی مجھے نہیں دیکھے گا۔
بمعنی میں یہاں سے بھی جاؤں گا اور وہاں سے بھی جاؤں گا، جس میں میرا ذاتی طور پر بھی نقصان ہی ہے۔
ورنہ میں سعودی گورنمنٹ کو کسی صورت میں نہیں بخشتا۔ بس مجھے صرف غصہ ہی آتا ہے اور میں کام کرنے سے رک جاتا ہوں، اور میں طرح طرح سے سعودی گورنمنٹ کو سناتا ہوں تاکے سعودی گورنمنٹ مجھ پر غصہ کرے، میرے آگے مذید اکڑ دکھائے۔
مگر اس سے ذیادہ میں کچھ بھی نہیں کرسکتا۔
شاید مجھ میں ہمت ہی نہیں ہو رہا ہے۔

بس مجھے سہنا بھی پڑتا ہے۔

مگر میں سعودی گورنمنٹ کے لیے اتنا کہے دیتا ہوں کے اگر مجھے دیگر جگہ سے ڈالرز کی صورت میں پیمنٹ ملے گا تو پھر مجھ میں ہمت بھی پیدا ہوجائے گا اور میں پھر سعودی گورنمنٹ کو ہرگز نہیں بخشوں گا۔
کیونکہ مجھ میں ہمت ہونے کے لیے ذرہ برابر نقطہ ہی کی ضرورت ہے جسے میں خود اپنی مرضی سے نہیں کرسکتا، بس تبھی میں رک جاتا ہوں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کے میں ہمیشہ کے لیے رکا ہی رہوں گا، بمعنی میں کبھی بھی اور کچھ بھی کرسکتا ہوں، بمعنی میرا کوئی گارنٹی نہیں ہے۔
کیونکہ سعودی گورنمنٹ نے مجھے شروع میں رد کیسے کردیا، کیونکہ اگر شروع میں رد نہیں کرتا تو آج میرے ساتھ یہ نوبت بھی نہیں آتا۔
اور میں اپنے بہنوئی کا غلطی صرف اس لیے ٹھہراتا ہوں کیونکہ میرے بہنوئی نے اپنی مرضی سے کیا ہے،
اور اگر میرے بہنوئی کی غلطی سعودی گورنمنٹ کی وجہ بمعنی زور زبردستی یا عمل وغیرہ کے ذریعے میرے بہنوئی سے غلطی کروایا ہے تو پھر تو میں سعودی گورنمنٹ کو چھوڑوں گا ہی نہیں۔ کیونکہ اس کی گارنٹی میں خود دیتا ہوں۔

آج سے تقریباً تین دن پہلے میری بہن نے مجھے کہا تھا کے میرے بہنوئی نے دوسرے کو اقامہ بنانے کے لیے دو لاکھ روپے دے دیئے ہیں تو مجھے حیرانگی ہوئی کے میرے بہنوئی کے پاس رقم بھی موجود ہے،
اور میرا بہنوئی مجھے کہتا ہے کے پہلے اقامہ بنے گا اور بعد میں پیمنٹ دے گا۔ تو میں نے اپنے بہنوئی سے کہا کے آپ کو اقامہ کی ضرورت ہی نہیں ہے مگر اگر اقامہ بننا ہی ہے تو پھر اس کی رقم مجھے دے دینا۔
تو میرے بہنوئی نے مجھے جواب تک نہیں دیا۔
اور جو دو لاکھ میرے بہنوئی نے دوسرے کو ایڈوائس میں دے دیا تو مجھے ایک لاکھ ہی ایڈوائس میں دے دیتا۔
مگر میرے بہنوئی نے ایسا قدم نہیں اٹھایا۔
بس میں اپنے بہنوئی کو بھی سہے لیتا ہوں۔
اور اگر میرے بہنوئی نے جو غلطی بھی کیا اس کا ذمے دار سعودی گورنمنٹ ہوا تو پھر میرے نظریے میرے بہنوئی کی ایک غلطی بھی نہیں رہے گا اور پورا پورا سعودی گورنمنٹ کی ہی غلطی ٹہرایا جائے گا۔
اور سعودی گورنمنٹ تب ذمے دار کہلائے گا کے جب سعودی گورنمنٹ نے میرے بہنوئی کو ڈرایا دھمکایا ہوگا کے میرا بہنوئی میرے ساتھ ایسا کرے یا میرے بہنوئی پر عمل ہی کردیا ہوگا تو پھر اس کا ذمے دار سعودی گورنمنٹ ہی ہوگا۔
ورنہ میرا بہنوئی اپنے کیے کا خود ذمے دار ہے۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Karachi
75850