Novel k deewanay log"

Novel k deewanay log"

Share

Assalamualaikum friends walcome to" novel k dewany log" I hope apko Mera page acha lagay ga please like and comment and read all poetry ����

Photos from Novel k deewanay log"'s post 31/12/2021

Rado Gents watch
date working
Dawn second working
3 color available
Rs 1050/=
With Box🎁

05/02/2021

السلام علیکم
عرس عاشق اکبر
رضی اللہ تعالیٰ عنہ
مبارک ہو❤️❤️

05/02/2021
15/12/2020

زندگی میــــں کچھ درد ایسے ہوتے ہیــــــــں ... جو جینے نہیـــــــــں دیتے ...
اور کچھ فرض ایسے ہوتے ہیــــــــں ...
جو مرنے نہیـــــــــں دیتے
... اور اسی کا نام زندگی ہــــے ......!!!*
💞

30/08/2019

غبارِ عشق

قسط نمبر 2

کہاں کسی سے محبت نبھانے والا ہوں
میں بدلخاظ بالکل زمانے والا ہوں۔۔۔۔

وسیع و غریض بنگلے کے اندر آج کے دن معمول سے ہٹ کے گہما گہمی تھی ۔۔۔۔۔۔آج شیراز شاہ اور مسز شیراز گھر پہ موجود تھے ۔۔۔۔۔شاید اسلیۓ

اوپر والی منزل کے عالیشان کمرے میں بالکل خاموش لیٹا وہ چھت کو گھور رہا تھا ۔۔۔۔۔

اس نے رات کو سونے سے پہلے جاگرز اتارنے کی بھی زحمت نہیں کی تھی

وہ شاید ڈپریشن کا شکار تھا

اس نے ہاتھ بڑھا کہ بیڈ کے ساتھ پڑی ٹیبل پہ کچھ تلاش کرنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔۔

پھر اس نے گردن اٹھا کہ ٹیبل پہ دیکھا اس کی مطلوبہ چیز وہاں نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔

پھر وہ جھنجھلا کہ اٹھا تھا

اس نے ٹیبل کا دراز کھنگالنا شروع کیا تھا ۔۔۔۔۔

آخر اسے اپنی مطلوبہ چیز مل گٸ تھی ۔۔۔۔۔

وہ ایک چھوٹا سا لفافہ تھا جس کے اندر سفید رنگ کے پاٶڈر نما کوٸی چیز تھی ۔۔۔۔۔

اس نے پیکٹ کھولا تھا اور اسے اپنی ہتھیلی پہ ڈالا تھا

سفید زرے اب لفافے سے نکل کے ہتھیلی کی طرف جارہے تھے

لفافہ خالی ہوا تھا تو اس نے دور پھینک دیا تھا

وہ اب اطمینان سے بیڈ پہ بیٹھ گیا تھا

وہ اپنی ہتھیلی اپنی ناک کے قریب لے کے گیا

اس نے ان زروں کو جیسے اپنے اندر اتار لیا تھا ۔۔۔۔

پھر اس نے جیب سے سگریٹ نکالی

سگریٹ کا مواد نکال کے اس نے سگریٹ کو خالی کیا

پھر اس نے اس میں وہ سفید زرے بھرے تھے

وہ یہ سب اتنی مہارت سے کر رہا تھا جیسے وہ اس کام کا عادی تھا

پھر وہ اطمینان سے سگریٹ پینے لگا تھا

اب وہ پرسکون دیکھاٸی دے رہا تھا

اس کا موباٸل بج اٹھا تھا

سکرین پہ چمکتے نمبر کو دیکھ کہ اس کے چہرے پر بیزاری واضح تھی

اس نے کال پک کرکے سپیکر آن کرکے موباٸل ایک طرف رکھ دیا تھا ۔۔۔۔۔

”شاہ کہاں ہو تم ؟ میں کب سے ہوٹل میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں کیا تم بھول گۓ ہو ۔۔۔۔۔کہ تم نے آج مجھ سے ملنا تھا“

فون سے ایک خوبصورت نسوانی مگر اکتاہٹ بھری آواز ابھری تھی ۔۔۔۔۔

”میں کل کی پارٹی کے بعد بہت تھک گیا تھا صبح جلدی آنکھ نہیں کھلی ۔۔۔۔۔۔“

اس نے سگریٹ کا کش لیتے ہوۓ لاپرواٸی سے کہا تھا۔۔۔

تو کیا تم مجھ سے نہیں ملو گے آج؟

فون کے دوسری طرف موجود لڑکی نے اکتاۓ ہوۓ لہجے میں کہا تھا ۔۔۔۔۔

”ہاں آج نہیں مل سکوں گا ۔۔۔۔۔“

اوکے باۓ پھر بات ہو گی۔۔۔۔۔

اس نے اس کا جواب سنے بغیر کال کاٹ کے فون آف کر دیا تھا ۔۔۔۔۔

پھر وہ شیشے کے سامنے جاکے کھڑا ہوا تھا

ڈریسنگ ٹیبل پہ اس وقت بہت سے مہنگے پرفیوم پڑے تھے ۔۔۔۔۔

وہ بکھرے بالوں لال آنکھوں اور رف سا ٹراٶزر شرٹ پہنے ہوۓ وہ بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

اس نے نیچے جھک کے جاگرز کے تسمے کھولے تھے ۔۔۔۔۔اور اپنے پاٶں میں سیلپرز پہن کے وہ کمرے سے باہر نکل گیا تھا

کمرے سے نکل کے داٸیں طرف سیڑھیاں تھی اور سیڑھیوں سے اتر کے بالکل سامنے ایک لمبا سا ٹی وی لاٶنچ تھا اور ایک طرف ڈاٸینگ ٹیبل رکھی ہوٸی تھی وہ ڈاٸینگ ہال تھا

ڈاٸینگ ٹیبل پہ اس وقت مسز شیرازی ایک قیمتی ساڑھی زیب تن کیے بیٹھی تھی بالوں کو ایک جوڑے کی شکل میں ترتیب دے رکھا تھا کانوں میں قیمتی سے جمھکے پہنے اور نازک سے ہاتھوں میں چمکتی ہوٸی سونے کی اونگھوٹیاں پہنے ۔۔۔۔۔وہ ہمیشہ کی طرح بہت نکھری نکھری لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔

شیراز شاہ سامنے کرسی پہ بیٹھے اخبار کا مطالعہ کرتے ۔۔۔۔۔لاتعلق سے بیٹھے تھے

مسز شیراز سیڑھیوں سے اترتے ہوۓ میر شاہ کو دیکھ کہ ہلکا سا مسکراٸی تھی

وہ ان کی مسکراہٹ نظر انداز کرتا ہوا ۔۔۔

کرسی کھینچ کے دوسری طرف بیٹھ گیا تھا

شازیہ چھوٹے شاہ کے لیے جوس لاٶ

انہوں نے باسکٹ میں سے سیب نکال کے اسے نفاست سے دانتوں سے کترتے ہوۓ کہا۔۔۔۔۔۔

”شاہ آج تمہاری کیا مصروفیات ہیں۔۔۔۔۔۔“؟

وہ اب مسکرا کہ شاہ کی جانب متوجہ ہوٸی تھی

جو لاتعلق سا ایک طرف بیٹھا تھا

شیراز شاہ نے ایک نظر اپنی بیوی کو دیکھا تھا

پھر اخبار پہ نظریں جما دی تھی

”کیوں آپ کو مجھ سے کوٸی کام ہے؟“

اس نے دونوں کہنیاں ٹیبل پہ ٹکا کے تیکھی نظروں سے انہیں دیکھا تھا

جو ابھی تک مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔اس کی بات سن کے ان کے چہرے کی مسکراہٹ یکدم غاٸب ہوٸی تھی ۔۔۔۔۔

”میری جان میں تمہاری ماں ہوں کیا میں کسی کام سے ہی تم سے بات کروں گی ۔۔۔۔۔؟

وہ خفگی سے بولی تھی

اوہ کم آن مام میں جانتا ہوں آپ ابھی بھی ۔۔۔۔۔۔کسی پارٹی پہ جانے کے لیے تیار ہوٸی ہیں ۔۔۔۔۔۔

اس نے ایک نظر۔۔۔۔۔ان کو نک سک سا تیار دیکھ کہ سر جھٹکا تھا

ملازمہ جوس کا گلاس لے آٸی تھی ۔۔۔۔۔

شیراز شاہ نے اخبار ایک طرف رکھا تھا ۔۔۔۔۔اب ۔۔۔۔۔وہ ناشتے کی طرف متوجہ ہوۓ تھے

مسز شیراز نے خفگی سے پلیٹ پیچھے سرکا دی تھی ۔۔۔۔

یہ لڑکا ہمیشہ ان کا موڈ خراب کردیتا تھا

وہ اب ہاتھ باندھ کہ بیٹھی ادھر ادھر لاپرواٸی سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

وہ انہیں نظر انداز کر رہا تھا

وہ کلس کے رہ گٸ تھی

وہ ناشتہ ختم کرکے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔

”شاہ آج میرا جلسہ ہے ۔۔۔۔۔۔تمہارا وہاں موجود ہونا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔“

انہوں نے ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوۓ اسے جیسے حکم دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

وہ جاتے جاتے رکا تھا گردن ترچھی کرکے اس نے آنکھیں سکیڑ کے انہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

اور آپ کا یہ خیال ہے کہ میں اس جلسے میں آٶں گا آپ کے ساتھ کھڑا ہونگا ۔۔۔۔۔۔لوگوں کے ساتھ ہمدردیاں کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔پھر وہ لوگ آپ کو ووٹ دیں گے بلا بلا۔۔۔۔۔۔

اس نے ایک ابرو اٹھا کہ جیسے ان کی تاٸید چاہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

وہ خاموشی سے بس اس کو دیکھ کہ رہ گۓ تھے

مسز شیراز کے تاثرات بھی کچھ ایسے ہی تھے

اولاد ہاتھ سے نکل چکی تھی ۔۔۔۔۔

”آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے میں ایسا کچھ نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔“۔۔۔۔

”میں آپ جیسا بالکل بھی نہیں ہوں ۔۔۔۔۔“

وہ لاپرواہی سے انہیں آٸینہ دیکھا کہ جانے لگا تھا

”میں بتاٶں تم کیا ہو تمہاری اصلیت کیا ہے۔۔۔۔۔؟دس دس لڑکیوں کے ساتھ افیٸرز لڑکیوں کے ساتھ راتیں گزارنا تو تمہارا پسندیدہ مشغلہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ڈرگز تم لیتے ہو۔۔۔۔۔تمہارے اندر لاکھ براٸیاں ہیں ۔۔۔۔۔سچ یہ ہے کہ تم ایک بدتمیز بدزبان لڑکے ہو۔۔۔۔۔۔

وہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑے ہوۓ تھے

مسز شیراز بس کہنیاں میز پہ ٹیکاۓ ان دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

آپ نے جو جو براٸیاں مجھ میں گنواٸی ہیں وہ ساری سچ ہیں ۔۔۔۔۔میں یہ سب کرتا ہوں میں آپ کے سامنے کسی ایک بھی براٸی سے انکار نہیں کرتا اسی بات کا اقرار میں دس لوگوں کے سامنے بھی کرتا ہوں۔۔۔۔۔میری دس دس گرل فرینڈ ہیں لیکن میں کسی ایک سے بھی شادی کے جھوٹے دعوے نہیں کرتا ۔۔۔۔۔میں لوگوں کو چیٹ نہیں کرتا ۔۔۔۔میں لڑکیوں کے ساتھ ہوٹلوں میں راتیں گزارتا ہوں لیکن میں ان کے ساتھ زبردستی نہیں کرتا وہ جو بھی کرتی ہیں خود اپنی مرضی سے کرتی ہیں ۔۔۔۔ہاں میں ڈرگز لیتا ہوں کیونکہ میں کچھ دیر کے لیے ہی سہی ذندگی کی تلخیوں سے دور چلا جاتا ہوں ۔۔۔۔۔ہاں ڈیڈ آپ نے بالکل ٹھیک کہا میں ۔۔۔۔۔بدتمیز بداخلاق روڈ انسان ہوں۔۔۔۔۔لیکن میں منافق نہیں ہوں۔۔۔۔۔میں لہجے میں مٹھاس گھول کے لوگوں کو ڈستا نہیں ہوں۔۔۔۔۔ میں اگر کسی کو تباہ کرتا ہوں تو پھر اسے مکمل طور پہ تباہ کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔میں سب کچھ ہوں ۔۔۔۔۔

وہ پھٹ پڑا تھا ۔۔۔۔۔

وہ ان سے دو قدم کے فاصلے پر کھڑا تھا ۔۔۔۔۔۔

آپ کیا ہیں؟ ڈیڈ۔۔۔۔۔۔

تلخ کلامی بڑھ چکی تھی ۔۔۔۔۔

ایک لاپروا باپ لیکن ایک کامیاب سیاسی شخصیت ۔۔۔۔۔جس کے لیے پیسا ہی اس کا دین ایمان ہے ۔۔۔۔۔ایک ایسا لاپروا باپ ۔۔۔۔۔جس کا بیٹا پانچ سال بیڈ پہ مفلوج پڑا رہتا ہے اور وہ اس سے ایک دفعہ ملنے بھی نہیں آتا۔۔۔۔۔

اور مام آپ ۔۔۔۔۔۔جو دو دن اپنے مفلوج بیٹے کو نہیں سنبھال پاتی۔۔۔۔۔۔آپ ملازمہ ہاٸیر کر لیتی ہیں کیونکہ وہ مفلوج بیٹا آپ کی پارٹیز میں خلل ڈال رہا تھا ۔۔۔۔۔

شیراز شاہ کا چہرہ زرد پڑھ چکا تھا ۔۔۔۔۔۔

مسز شیراز نے ۔۔۔۔۔شرمندگی سے نظریں جھکا لی تھی ۔۔۔۔۔۔

ڈیڈ اب تو میں چلنے لگا ہوں۔۔۔۔۔اب مجھے آپ کی کوٸی ہیلپ نہیں چاہیۓ نا میں آپ دونوں کی کوٸی ہیلپ کرسکتا ہوں۔۔۔۔۔۔

وہ کینہ طور نظروں سے انہیں دیکھتا ہوا دوبارہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا ۔۔۔۔۔

وہ سر تھام کے بیٹھ گۓ تھے

انہیں آج احساس ہوا تھا اس پیسے نے ان سے ایک چیز چھین لی تھی وہ تھا انکا اکلوتا بیٹا۔۔۔۔۔۔

❤❤❤❤❤

میں نے پرکھا ہے اپنی سیاہ بختی ہو
میں جسے اپنا کہہ دوں وہ پھر میرا نہیں رہتا۔۔۔۔۔

رات کے کسی پہر کسی احساس کے تخت اس کی آنکھ کھل گٸ تھی

دوسرے کمرے سے کھانسنے کی آواز آرہی تھی

وہ ننگے سر ہی باہر کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔۔۔۔

کمرے کا منظر تکلیف دہ تھا

اس کی ماں کا سر چارپاٸی سے نیچے لڑھکا ہوا تھا ۔۔۔۔۔

اس نے آگے بڑھ کہ ان کا سر اپنی گود میں رکھا تھا ۔۔۔۔۔

ان کا جسم بالکل سرد تھا اور ان کی آنکھیں بند تھی

ان کی سانسیں چل رہی تھی

اس نے انہیں پانی پلانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔۔

اماں ۔۔۔۔۔۔آنکھیں کھولیں اماں

وہ روہانسی ہوٸی تھی

اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ایسے خالات میں وہ کسے بلاۓ

ایک شخص تھا جو ان کی مدد کر سکتا تھا۔۔۔۔۔

وہ ہمیشہ سے اپنی بیوی سے چھپ کے ہی سہی ان کی مدد کر دیا کرتا تھا ۔۔۔۔۔

اس نے ان کا سر سرہانے پر رکھا تھا

اور اندر پڑے موباٸل پر نمبر ڈاٸل کرنے لگی تھی

رنگ جارہی تھی پتہ نہیں وہ کال بھی پک کریں گے یا نہیں

دسمبر کی اس سرد رات میں بھی اس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے واضح تھے ۔۔۔۔۔

کال پک کر لی گٸ تھی ۔۔۔۔۔۔۔

ہیلو چاچو ۔۔۔۔۔آپ کہاں ہیں ۔۔۔۔۔؟ پلیز آپ گھر آجاٸیں اماں کی طبیعت خراب ہو گٸ ہے ۔۔۔۔۔

وہ روتے ہوۓ التجا کررہی تھی ۔۔۔۔۔

پتہ نہیں انہوں نے اسے کیا جواب دیا تھا لیکن اب وہ آنسو صاف کرتی ہوٸی ۔۔۔۔۔

اماں کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔۔

ان کا چہرہ تھتھپایا تھا

انہوں نے آنکھیں کھولی تھی ۔۔۔۔۔۔

وہ کچھ بولنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔

اماں حوصلہ رکھیں میں نے چاچو کو بلایا ہے وہ آتے ہی ہونگے ۔۔۔۔۔

اس نے انہیں تسلی دینا چاہی تھی ۔۔۔۔۔۔

اسے محسوس ہورہا تھا ۔۔۔۔۔۔

اس کی ماں بہت تکلیف میں ہے ۔۔۔۔۔

دروازے پہ دستک ہوٸی تھی

اس نے شکر ادا کیا تھا

اس نے دروازہ کھولا تھا ۔۔۔۔۔۔

باہر ناٸیٹ سوٹ میں ملبوس ہاتھ میں کار کی چابیاں پکڑے وہ کھڑے تھے ۔۔۔۔۔

میں گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں۔۔۔۔۔

جاٶ انہیں باہر لاٶ

انہوں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھ کے گویا اسے تسلی دی تھی ۔۔۔۔

وہ بھاگ کے اندر گٸ تھی ۔۔۔۔۔

چادر اٹھا کہ اماں کے کمرے کی طرف گٸ تھی ۔۔۔۔۔

وہ وہی کھڑی ہو گٸ تھی ۔۔۔۔۔

اماں کی سانسیں اکھڑی ہوٸی تھی ۔۔۔۔۔

جیسے وہ اپنی آخریں سانسیں لے رہی ہو۔۔۔۔۔

اس نے آگے بڑھ کے انہیں جھنجھوڑنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔۔

چاچو وہ بھاگ کے گیٹ کی طرف گٸ تھی ۔۔۔۔۔

وہ انہیں اپنے ساتھ اندر لاٸی تھی

لیکن تب تک سب ختم ہو چکا تھا

اندر پڑا وجود ساکت پڑا تھا

ان کے منہ سے خون کی ایک پتلی سی دھار نکل کے سرہانے تک آٸی ہوٸی تھی

وہ وہی ذمین پہ بیٹھ گٸ تھی۔۔۔۔۔

اس نے خالی خالی نظروں سے ان کے ساکت پڑے وجود کو دیکھا تھا

چاچو نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔۔۔

وہ کچھ بول نہیں پاٸی تھی

کیا واقعی ہی ذندگی اتنی ناپاٸیدار چیز ھے ۔۔۔۔۔۔

آج سے دس سال پہلے اس کے بابا چلے گۓ تھے

اور آج اس کی ماں وہ تنہا رہ گٸ تھی ایک دفعہ پھر ۔۔۔۔۔۔

❤❤❤❤

آج تدفین کا تیسرا روز تھا ۔۔۔۔۔۔مہمانوں کی آمد و رفت کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ جاری تھا ۔۔۔۔۔اس کی ماں نے تو بھاگ کے شادی کی تھی اس دن کے بعد آج تک اس نے اپنے ننھال میں سے کسی کو نہیں دیکھا تھا

ماں کو تو تمام عمر اس کے دودھیال کے لوگوں نے بھی تسلیم نہیں کیا تھا

لیکن ہاں ان کی موت پہ اس کے چاچو ضرور آۓ تھے ساتھ چچی بھی آٸی تھی ۔۔۔۔۔۔اسے وہ بہت مغرور سی لگی تھی ۔۔۔۔۔چاچو نے ایک دفعہ بتایا تھا کہ جتنی بھی دولت ان کے پاس ہے وہ سب چچی کی ہی ہے ۔۔۔۔۔وہ شاید کسی امیر باپ کی بیٹی تھی

پھر وہ اکثر آیا کرتے تھے مالی مدد بھی کیا کرتے تھے لیکن اس دن کے بعد سے چاچی نہیں آٸی تھی

شاید انہیں غریبوں سے ملنا جلنا پسند نہیں تھا

وہ گھٹنوں میں سر دے کے بیٹھی تھی کمرے میں ذرد سی روشنی پھیلی ہوٸی تھی

اس کے قریب کوٸی آکے بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔

اس نے گردن اٹھا کہ دیکھا تھا

چاچو بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔

اس نے خالی خالی نظروں سے انہیں دیکھا تھا

انہوں نے اس کے سر پہ شفقت بھرا ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔۔۔

انہوں نے اس وقت ایک قمیتی شلوار قمیض پہن رکھی تھی ایک کندھے پہ شال اوڑ رکھی تھی ۔۔۔۔۔

ان کی ہر ایک چیز سے ان کی حیثیت کا اندازہ ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔

خود کو سنبھالو ابتھل۔۔۔۔۔تمہارے پریشان رہنے سے ۔۔۔۔۔وہ واپس نہیں آجاٸیں گی ۔۔۔۔۔

انہوں نے نرمی سے اسے سمجھایا تھا

ان کی آواز رعب دار تھی

وہ خاموش رہی۔۔۔۔

”تم تیاری کر لو تم نے کل میرے ساتھ جانا ہے۔۔۔۔۔“

انہوں نے اب بھی نرمی سے اسے کہا تھا ۔۔۔۔۔

اس نے اب کی بار سر اٹھا کہ دیکھا تھا

جیسے سوال کر رہی ہو کہاں؟

”میرے گھر “

انہوں نے جیسے اس کی آنکھیں پڑھ لی تھی ۔۔۔۔۔۔

”چاچی“

اس نے مری مری آواز میں جیسے دبا دبا احتجاج کیا تھا

”کیا تمہیں مجھ پہ یقین نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔میں تمہیں اپنی بیٹی بنا کے لے کے جاٶں گا میں سب سنبھال لوں گا۔۔۔۔۔

انہوں نے اسے تسلی دی تھی ۔۔۔۔۔۔

اس نے محض سرہلا دیا تھا

اس نے جانا ہی تھا ۔۔۔۔۔

اس کا اب کوٸی اور سہارا نہیں تھا ۔۔۔

وہ گھٹنوں میں سر دے کے پھوٹ پھوٹ کے رو دی

❤❤❤❤❤

لینڈ کروزر وسیع و عریض بنگلے کے مین گیٹ کے سامنے آکے رکی تھی

گاڑی سے ڈراٸیور نکلا تھا اس نے پیچھے کا دروازہ کھولا تھا

اس میں سے ایک لڑکی نکلی تھی جس نے عبایا اور نقاب کر رکھا تھا

وہ اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرکے۔۔۔۔۔خود راہداری سے ہوتے ہوۓ آگے بڑھنے لگے

وہ ان کے پیچھے چلنے لگی۔۔۔۔۔

یہ گھر اس کی سوچ سے بھی بڑا تھا ۔۔۔۔۔ہر ایک چیز قیمتی تھی

مین گیٹ کھلتے ہی سامنے ایک فوارہ تھا اور ایک طرف کار پورچ تھا جہاں بہت سی گاڑیاں ایک قطار میں کھڑی تھی ۔۔۔۔۔

سامنے ایک اور گیٹ تھا جو کھلا ہوا تھا اندر سے شور کی آوازیں آرہی تھی ۔۔۔۔۔

شاید ٹی وی چل رہا تھا۔۔۔۔۔جس کا شور باہر تک آرہا تھا ۔۔۔۔۔۔

وہ دھڑکتے دل کے ساتھ گھر کے اندر داخل ہوٸی تھی
یہ شاید ٹی وی لاٶنچ تھا جس کے دونوں طرف صوفے رکھے ہوۓ تھے ۔۔۔۔۔۔اور سامنے بڑی سی شیشے کی میز ۔۔۔۔۔ایک صوفے پہ ناٸٹ سوٹ میں ملبوس۔۔۔۔۔بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بناۓ ایک عورت بیٹھی تھی وہ انہیں پہچانتی تھی ۔۔۔۔

وہ اس کی چچی تھی۔۔۔۔۔

اور دوسرے صوفے پہ ٹراٶزر شرٹ اور بکھرے بالوں والا ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا جس نے بالوں پہ ہیٸر بینڈ لگا رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔اور ہاتھوں میں مختلف قسم کے برسلیٹ پہن رکھے تھے ۔۔۔۔۔۔

ہاتھ میں ریموٹ پکڑے اور ٹانگیں سامنے ٹیبل پہ رکھے وہ چینل تبدیل کر رہا تھا ۔۔۔

وہ دونوں ایک ساتھ اس طرف متوجہ ہوۓ تھے ۔۔۔۔۔

مسز شیراز کی آنکھوں میں ناگواری ابھری تھی۔۔۔۔

البتہ اس لڑکے نے ایک نظر اسے دیکھا تھا پھر نظر انداز کرکے ٹی وی کی طرف متوجہ ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔

یہ چہرہ اس کے لیے جانا پہچانا نہیں تھا

وہ تذبذب کا شکار تھی ۔۔۔۔۔۔۔

اس لڑکے نے ایک نظر ۔۔۔۔۔پھر اس برقعے اور نقاب پوش لڑکی کو دیکھا تھا پھر طنزیہ مسکرایا تھا

اور پھر ساتھ بیٹھی اپنی ماں کے تاثرات نوٹ کرتے ہوۓ تھوڑا ترچھا ہوکے ان کے قریب ہوا تھا

”مجھے نہیں پتہ تھا ۔۔۔۔۔۔ڈیڈ کی نٸ ملازمہ کو دیکھ کے آپ اتنا ہیپر ہو جاٸیں گی ۔۔۔۔۔۔“

کم آن مام ہمیں نٸ ملازمہ کی ضرورت ویسے بھی تھی ۔۔۔۔۔آپ ہاٸیر کریں یا ڈیڈ بات تو ایک ہی ہے۔۔۔۔۔

اس نے سرگوشی نہیں کی تھی قدرے اونچی آواز میں کہا تھا۔۔۔۔۔

پھر مسکرایا تھا اور ڈیڈ کی طرف داد طلب نظروں سے انہیں دیکھا تھا

وہ غصے سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔

ابتھل اپنی اس بے عزتی پہ حیران پریشان کھڑی تھی۔۔۔۔

”تم اسے یہاں کیوں لے آۓ ہو“ تمہیں میرا گھر یتیم خانہ لگتا ہے کیا ۔۔۔۔۔۔؟ اس کی ماں مر گٸ تو اسے یتیم خانے بجھوا دو میں نے کیا تمہارے غریب رشتہ داروں کا ڈھیکہ لے رکھا ہے۔۔۔۔“

وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوٸی تھی ۔۔۔۔۔اور اب اس کو گھورتی ہوٸی چلا چلا کہ کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔

ابتھل نے دیکھا تھا وہ لڑکا اپنی جگہ سے اٹھا تھا ۔۔۔۔اور اٹھ کے جانےلگا تھا جیسے اس گفتگو سے اسے کوٸی سروکار نہ ہو۔۔۔۔۔۔

وہ اس کے قریب سے گزرا تھا ۔۔۔۔۔۔

اس کی آنکھوں میں آٸی نمی دیکھی

”ہاں اب ڈرامے شروع ہو گۓ اس گھر میں ۔۔۔۔۔۔“

وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا ہوا۔۔۔۔۔۔سیڑھیاں چڑھنے لگا۔۔۔۔

اس نے دیکھا تھا اس کی ایک ٹانگ میں لرزش تھی۔۔۔۔وہ سیڑھیاں ٹھیک سے نہیں چڑھ پاتا تھا ۔۔۔۔۔

یا شاید اس نے محسوس کیا تھا

مسز شیراز ابھی بھی چلا چلا کہ کچھ کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔

ابتھل بیٹا جاٶ تم اس کمرے میں چلی جاٶ میں ملازم بھیج کے تمہارا سامان سیٹ کروا دیتا ہوں

انہوں نے مسز شیراز کو نظر انداز کرتے ہوۓ اسے اندر جانے کا کہا تھا

مسز شیراز کلس کے رہ گٸ تھی ۔۔۔۔۔۔۔

وہ سر ہلا کہ اندر کمرے میں چلی گٸ

باہر سے ابھی بھی شور کی آوازیں آرہی تھی

وہ اپنی تذلیل پہ آنسو پی کے رہ گٸ

اسے اپنی اماں جی بھر کے یاد آٸی تھی۔۔۔۔۔

پتہ نہیں اس گھر میں آگے کیا کچھ برداشت کرنا تھا۔۔۔۔۔

وہ سوچ کے رہ گٸ
Writer : laiba Ansari

30/08/2019

ہم اکیلے ہیں تو کیا ہوا یہ زندگی بھی گزر جا ئے گی

ہم اپنی تنہا ئی مٹا نے کے لئے کسی کو مجبو ر نہیں کرتے۔

💕

30/08/2019

دعائیں کبھی بھی رد نہیں ہوتیں

بس بہترین وقت پر قبول ہوتیں ہیں......

Jummaa. Mubarak..💕

...💞

29/08/2019

"ان لڑکیوں کے لیئے۔۔۔ جو یہ سمجھتی ہیں کہ بس محبوب مل جائے تو اور کچھ نہیں چاہیئے۔۔۔ محبوب کے ساتھ ذندگی جیسی بھی ہوئی گذار لیں گے۔۔۔
جب پیٹ میں روٹی نا ہو۔۔۔ کہیں جانے کے لیئے ڈھنگ کا سوٹ نا ہو۔۔۔ جب برسوں بھی پسند کا کھانے کو نا ملے۔۔۔ جب محبوب لاپرواہ ہو۔۔۔ جب وہ آپ کو لے جا کر سسرال والوں کے رحم و کرم پہ چھوڑ کر بھول جائے۔۔۔ جب اولاد تکلیف سے تڑپ رہی ہو اور دوا کے پیسے نا ہوں۔۔۔ جب محبوب باہر مزید عورتوں پہ اپنی عاشق مزاجی کے سبب فدا ہو رہا ہو۔۔۔ جب شادی کے چند دن بعدہی محبت کا سیاپا ختم ہو کر اصل ذندگی شروع ہو جائے۔۔۔ جب رہنے کو گھر اچھا نا ہو۔۔۔ ساری محبت غائب ہو جاتی ہے۔۔۔ میری ایک بات لکھ کر رکھ لیں۔۔۔ محبوب بدل سکتاہے۔۔۔ لیکن اچھا انسان نہیں بدلتا۔۔۔ نکاح کرنے کے لیئے اچھا شریف ذمےدار اور کمانے والا عزت کرنے والا شخص چنیں۔۔۔ محبوب نہیں۔۔۔ جب شوہر پیٹ بھرنے والا اور عزت کرنے والا ہو تو محبت لازمی ہو جاتی ہے۔۔۔ آپ نہیں جانتیں کہ کون بہترین ہے۔۔۔ اللہ جانتے ہیں۔۔۔ اس لیئے رب کے فیصلوں پہ سر جھکائیں۔۔۔ دل کے آگے نہیں۔۔۔ورنہ یہ دل آپ کو رلانے اور خوار کرنےمیں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔

29/08/2019

The new novel "Gubare ishq " please read this it's amazing 💖💖💖

29/08/2019

غبارِ عشق

قسط نمبر 1

اگر ہوں نفرت کے قابل تو
واللّٰہ ضرور کیجیۓ

اونچی میوزک کی آوازیں کانوں کا پردہ چیرنے کے لیے کافی تھی۔۔۔۔۔۔اردگرد کی آوازیں سناٸی دینا بھی ناگزیر تھا ۔۔۔۔۔۔۔

ہال کی جلتی بجتی روشنی میں گھڑی رات کے دو بجے کا ہندسہ عبور کر چکی تھی

لیکن یہاں کس کو فکر تھی ۔۔۔۔۔۔یہ اپر کلاس فیملز کے لڑکے لڑکیاں ۔۔۔۔۔۔ہر فکر سے ویسے بھی آذاد ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔

اور وہ بھی انہیں میں سے ایک تھا ۔۔۔۔۔۔

وہ ایک پچیس چھبیس سال کا خوبرو نوجوان تھا جس نے بالوں کو جیل کی مدد سے ایک طرف سیٹ کر رکھا تھا ۔۔۔۔۔اس کی چوڑی پیشانی روشن تھی وہ بلا کا ذہین محسوس ہوتا تھا ۔۔۔۔۔اس کی خمارِ آلودہ آنکھیں جو اس کی مردانہ وجاہت میں اضافہ کرتی تھی ۔۔۔۔۔خوبصورت کھڑی مغرور ناک ۔۔۔۔۔۔وہ دیکھنے میں بہت روڈ لگتا تھا اس کے چہرے کے ساتھ چپکی داڑھی ۔۔۔۔۔۔اور اس کا داٸیں گال پہ پڑتا ڈمپل ۔۔۔۔۔۔اور اپنے چھ فٹ کے لمبے قد کے ساتھ وہ ایک متاثر کن شخصیت کا مالک تھا ۔۔۔۔

اسے یونیورسٹی میں سب باڈی بلڈر کہا کرتے تھے ۔۔۔۔

وہ گرویدہ بنانے کا ہنر جانتا تھا ۔۔۔۔۔

وہ لوگوں کو باآسانی متاثر کر سکتا تھا

سواۓ ایک شخص کے جو کبھی بھی اس کی بات کا یقین نہیں کرتے تھے

وہ تھا اس کا باپ ۔۔۔۔۔۔

اس نے نحوت سے اپنا سر جھٹکا تھا

وہ اس وقت اس لمبی ٹیبل کے ساتھ ٹیک لگا کہ کھڑا تھا جس کی دوسری طرف ویٹر کھڑے تھے اور ٹیبل کے اوپر شراب کی مہنگی مہنگی بوتلیں پڑی تھی ۔۔۔۔

وہ اس وقت بلیک ٹی شرٹ میں تھا ۔۔۔۔۔۔سر کے بالوں کو ہمیشہ کی طرح ایک طرف سیٹ کر رکھا تھا

وہ دوسرے لڑکوں کی طرح عریاں لڑکیوں کے قریب جاکے ۔۔۔۔۔ناچ نہیں رہا تھا

اسے یہ اپنی توہین لگتی تھی

لڑکیاں اس سے خود متاثر ہوتی تھی۔۔۔۔۔۔

اس نے نظر اٹھا کہ دیکھا تھا ۔۔۔۔۔اس کی آنکھیں لال ہو چکی تھی وہ چار گلاس انڈیل چکا تھا

اس نے خود سے تھوڑے دور کھڑی جیکی کو دیکھا تھا جو پرجوش انداز میں ہاتھ ہلا رہی تھی

وہ جی بھر کے بدمزہ ہوا تھا

اس نے اپنے چہرے کے تاثرات چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی

اس نے دیکھا تھا جیکی نے ہمیشہ کی طرح

شارٹ سکرٹ پہن رکھی تھی ۔۔۔۔۔۔بالوں اتنے چھوٹے تھے کہ محض کندھوں تک بھی بامشکل پہنچتے تھے اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھیں جو اس نے اس کے چہرے پر گاڑھ رکھی تھی ہاں اس کی رنگت صاف تھی شاید سفید رنگ کے علاوہ اس میں کوٸی چیز خاص نہیں تھی۔۔۔۔

یہ لباس اس کا جسم چھپانے کے لیے ناکافی تھا

وہ اس کے قریب پہنچ چکی تھی ۔۔۔۔۔

”کیا میں یہ سمجھوں کہ تم مجھ سے پیچھا چھڑوا رہے ہو“

اس نے آنکھیں سکیڑ کے اسے تنبیہی نظروں سے دیکھا تھا

”اور مجھے بالکل بھی امید نہیں تھی تم میری بات اتنی جلدی سمجھ جاٶ گی“

اس نے محض مسکرا کہ لاپرواٸی سے کہا تھا

”میں تمہاری گرل فرینڈ ہوں تم کیا مجھے دھوکا دو گے۔۔۔۔۔۔“

وہ ناراض لگ رہی تھی لیکن وہاں پرواہ کسے تھی ۔۔۔۔۔

”کیا میں نے ایک دفعہ بھی تمہیں گرل فرینڈ مانا تھا ۔۔۔۔؟“

اسے شاید اس گفتگو سے کوٸی سروکار نہیں تھا اس لیے اس کی نظریں بار بار ادھر ادھر بھٹک رہی تھی ۔۔۔

”ماننے سے کیا ہوتا ہے ہمارا تعلق تو ویسا ہی تھا ۔۔۔۔۔“اور پھر شادی تو تم نے کرنی ہی ہے تو مجھ سے کر لو۔۔۔۔

وہ اس کے بالکل قریب ٹیبل پہ کہنی ٹکا کہ کھڑی ہوٸی تھی اور اسے گریبان سے پکڑ کے اپنے نزدیک کیا تھا

”اوہ کم آن یار۔۔۔۔۔۔اور تمہارا خیال ہے میں نے پی رکھی ہے تو مجھے بھٹکانا آسان ہے۔۔۔۔۔۔۔“

اس نے طنزیہ ہنس کے اپنا کالر چھڑوایا تھا۔۔۔۔

”تو کیا تم مجھ سے محبت نہیں کرتے ہو”؟

اس نے کاٹ دار نظروں سے اسے دیکھا تھا

بالکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔

اس نے نفی میں سر ہلایا تھا

”تم ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔“؟

اسے یقین نہیں آرہا تھا

کم آن بی بی میر شاہ سب کچھ کر سکتا ہے “

اس نے اس کے قریب ہو کہ ایک آنکھ دبا کہ کہا تھا

اس کے تو تن بدن میں آگ لگ گٸ تھی

اس نے غصے سے اس کا گریبان پکڑ لیا تھا
How dare you? میرشاہ

تم اتنا سب کچھ ہو جانے کے بعد مجھے کیسے چھوڑ سکتی ہو؟

وہ بے یقین تھی

اب وہ قریب ہوا تھا اسے بازو سے پکڑ کے ایک طرف لے کے گیا تھا بہت سے لوگ متوجہ ہو چکے تھے

”تو کیا واقعی ہی تمہیں میں تمہارے معاملے میں خاموش اچھا نہیں لگتا ۔۔۔۔۔۔؟“تو پھر تم سننا پسند کرو گی وہ طنزیہ انداز میں ہاتھ باندھ کہ کھڑا تھا ۔۔۔۔

”پہلی بات ایسی لڑکی جس کی ماں کبھی ماضی میں گھر سے بھاگ چکی ہو اور اس کے باپ کا بھی علم نہ ہو۔۔۔۔۔۔اسے میر شاہ ۔۔۔۔۔ہوٹلوں کے کمروں تک تو محدود کر سکتا ہے لیکن اپنی بیوی نہیں بنا سکتا ۔۔۔۔

”اور رہی بات جی ایف بنانے کی تو تم مجھ سے پہلے بھی دس لڑکوں کی جی ایف رہ چکی ہو ان میں سے کسی کو کہہ دو تم سے شادی کر لے ۔۔۔۔۔

وہ لاپرواٸی سے کہہ کے جانے لگا تھا پھر پلٹا تھا۔۔۔۔

اس کے قریب گیا تھا
اور آٸندہ اگر میرے ساتھ بدتمیزی کی نا تو یوں خاموش نہیں رہوں گا ۔۔۔۔۔۔

کبھی تم نے میر شاہ کے ڈسے ہوۓ لوگ دیکھے نہیں ہیں نہ اجڑتے ہیں نا بستے ہیں بہتر ہے مجھ سے دور رہو۔۔۔۔۔

وہ اس کو انگلی سے وارن کرتا آگے بڑھ چکا تھا ۔۔۔۔

اس کiے چہرے کا رنگ زرد پڑھ چکا تھا

وہ ٹشو سے پسینہ صاف کرتی ہوٸی آگے بڑھ گٸ تھی ۔۔۔۔۔۔۔

❤❤❤❤❤❤

کچھ مر سا گیا ہے اندر صاحب
دل اب حسرتیں نہیں کرتا۔۔۔۔۔

موسمِ سرما کی اس پہلی بارش نے ۔۔۔۔۔ہر چیز کو نکھار کے رکھ دیا تھا ۔۔۔۔۔اور ٹھنڈ میں بھی اضافہ کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔

لیکن یہ بارش بھی اس محلے کے غریب لوگوں کے لیے زخمت بن چکی تھی ۔۔۔۔۔

ندی نالوں کا گندہ پانی گلی میں کھڑا ہو چکا تھا

اب وہ کچے مکانوں کے اندر بھی داخل ہو رہا تھا

ابتھل ۔۔۔۔۔

ابتھل ۔۔۔۔۔

بوسیدہ سی چارپاٸی پہ بیٹھی اس ادھیڑ عمر عورت نے کھانستے ہوۓ اسے پکارا تھا

وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلی تھی

وہ ایک باٸیس تیٸس سالہ نازک دبلی پتلی سی لڑکی تھی ۔۔۔۔۔جس کے بال کسی آبشار کی مانند اس کی کمر پر جھول رہے تھے شاید وہ نہا کے نکلی تھی بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ۔۔۔۔۔خوبصورت عزالی آنکھوں پہ لمبی لمبی پلکوں کا پہرہ تھا ۔۔۔۔۔۔صاف و شفاف رنگت پتلی سی تیکھی ناک جس پہ ایک خوبصورت مونگ کے دانے جتنی لونگ چمک رہی تھی عنابی لب۔۔۔۔۔وہ خوبصورت تو تھی ہی لیکن اس کے چہرے پہ نور تھا

وہ گڑھے میں سے پانی ڈال کے ان کی طرف بھاگی تھی

اس نے گلاس ان کی طرف بڑھانے کے بجاۓ انھیں
خود پانی پلایا تھا

وہ اس سے کچھ چھپا رہی تھی۔۔۔۔۔۔

اور وہ جانتی تھی کہ کیا چھپا رہی ہیں ۔۔۔۔۔

وہ خون آلودہ رومال چھپارہی تھی

آج پھر ان کے بلغم میں خون کی ایک لکیر واضح تھی وہ دیکھ چکی تھی

وہ نظریں چرا گٸ

پھر وہ تیزی سے اٹھی تھی اندر کمرے میں جاکے غاٸب ہو گٸ تھی

جب باہر نکلی تھی تو اس نے قدرے پرانا لیکن صاف عبایا پہن رکھا تھا

اور دوپٹے کی مدد سے چہرہ ڈھانپ رکھا تھا

صرف دو غزالی آنکھیں واضح تھی

وہ باہر کی طرف جانے لگی جب اس کی ماں نے اسے پکارا تھا ۔۔۔۔۔۔

”کیا پھر نوکری کی تلاش میں جارہی ہے“

انہوں نے کھانستے ہوۓ پوچھا تھا

”ہاں اور آپ کی دواٸیاں بھی ختم ہو چکی ہیں۔۔۔۔۔بس آتی ہوں تھوڑی دیر میں ۔۔۔۔۔

وہ دکھ سے مسکراٸی تھی ۔۔۔۔۔

”ابتھل یہ سب تب فضول چلا جاۓ گا جب وہ پھر تیرے پردے پہ انگلی اٹھاٸیں گے ۔۔۔۔۔۔“

وہ دکھ بھرے لہجے میں بولی تھی

”اماں تم پریشان نہ ہو اللّٰہ کوٸی بہتر راستہ ضرور نکالے گا ۔۔۔۔۔

اس نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کہ اپنی ماں کے ہاتھ چومے تھے ۔۔۔۔۔۔

وہ باہر نکل گٸ تھی

اللّٰہ تجھے خوش رکھے ابتھل ۔۔۔۔۔

انہوں نے نم آنکھوں سے اسے دعا دی تھی

❤❤❤❤

وسیع و عریض بنگلے کے لان میں شام پورے آب و تاب سے اتری تھی ۔۔۔۔۔۔شام کا اندھیرا آہستہ آہستہ رات کی سیاہی میں تبدیل ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔آسمان پہ تاروں کی حسین چادر بچھی جاچکی تھی ۔۔۔۔۔

وہ اپنے کمرے میں بے چینی سے چکر کاٹ رہے تھے ۔۔۔پچاس سال کی عمر کا یہ شخص جس نے اپنے کندھے پہ گرم اون کی شال اوڑ رکھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔بالوں پہ چاندی اتر چکی تھی ۔۔۔۔۔۔لیکن ان میں پھر بھی کچھ خاص بات تھی ۔۔۔۔۔۔جو انہیں منفرد بناتی تھی

ان کے ماتھے پہ پریشانی کی لکیریں واضح تھی ۔۔۔۔۔

دروازے کھلتے ہی ایک ڈارک براٶن بالوں والی عورت اندر داخل ہوٸی تھی جس نے ایک خوبصورت اور قیمتی ساڑھی زیب تن کی ہوٸی تھی بال کو تراش کے بامشکل کندھے تک لایا گیا تھا جو نیچے سے مڑے ہوۓ تھے ۔۔۔۔۔۔ہاتھ میں بیگ پکڑے وہ عجلت سے اندر داخل ہوٸی تھی شاید وہ کہیں جارہی تھی ۔۔۔۔۔اونچی ہیل کی آواز کمرے میں گونجی تھی ۔۔۔۔۔

انہوں نے خشمگیں نگاہوں سے انہیں گھورا تھا ۔۔۔۔۔

اور وہ سمجھ چکی تھی ان کا موڈ کیوں خراب ہے؟

وہ ایک ادا سے چلتی ہوٸی ان کے قریب آٸی تھی ۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی ۔۔۔۔۔۔

وہ خود بول اٹھے تھے۔۔۔۔۔۔

”شاہ کہاں ہے“

انہوں نے چہرہ ان کی جانب موڑ کے کڑک لہجے میں کہا تھا۔۔۔۔۔

”میری بات ہوٸی تھی اس سے کہہ رہا تھا رات گاڑی خراب ہو گٸ تھی تو وہ گھر واپس نہیں آسکا تھا ۔۔۔۔۔ابھی کچھ دیر تک پہنچ جاۓ گا“

انہوں نے بریسلٹ سے کھیلتے ہوۓ مہارت سے جھوٹ گڑھا تھا ۔۔۔۔۔۔

اور وہ بس اپنی بیوی کو دیکھ کہ رہ گۓ تھے۔۔۔۔۔

”پھر تو تمہارے صاحب ذادے نے تمہیں یہ بھی بتا دیا ہوگا کہ کل رات اس نے راڈ مار کے ایک لڑکے کا سر پھوڑ دیا ہے جو ابھی ہسپتال میں زیر علاج ہے اور رات اس نے جیل میں گزاری ہے اگر میرے اثر و رسوخ نہ ہوتے تو وہ کبھی باہر نہ نکل پاتا ۔۔۔۔۔۔اور آج پھر وہ صبح سے غاٸب ھے اور تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے رات کو تین بجے میں اسے تھانے سے نشے کی حالت میں گھر لے کے آیا ہوں جب تم اپنی دوست کے گھر پارٹی انجواۓ کر رہی تھی

انہوں نے تاسف سے کہہ کے انہیں شرمندہ کرنے کی کوشش کی تھی

بریسلٹ سے کھیلتا ہاتھ یکدم ساکت ہوا تھا

”کیا شاہ کہاں ہے اب؟“

وہ یکدم پریشان ہوٸی تھی

انہوں نے اپنا قیمتی موباٸل نکال کہ نمبر ڈاٸل کیا تھا

فون کان سے لگایا تھا

نمبر آف جارہا تھا

انہوں نے پریشانی سے انہیں دیکھا تھا

وہ طنزیہ ہنسی ہنسے تھے

انہوں نے غصے سے موباٸل خود سے دور پھینکا

پھر چلتے چلتے ان کے قریب آٸی ۔۔۔۔۔۔

”آپ نے یہ بات مجھے رات کو کیوں نہیں بتاٸی“؟

انہوں نے سنجیدگی سے پوچھا

”رات کو تم پارٹی میں تھی ۔۔۔۔۔“

انہوں نے لاپرواٸی سے کہا تھا

”شاہ جی وہ میری اکلوتی اور لاڈلی اولاد ہے ۔۔۔۔۔“کل اس کے ساتھ اتنی بڑی ٹریجڈی ہو گٸ“

انہوں نے ان کی بات کاٹ دی تھی

”ایک منٹ ثانیہ ۔۔۔۔۔ٹریجڈی اس کے ساتھ نہیں ہوٸی اس لڑکے کے ساتھ ہوٸی ہے جو اس وقت ہسپتال میں زیرِ علاج ہے مجھے تھانے میں اور ہسپتال میں کتنی شرمندگی اٹھانی پڑی لیکن تمہارے بیٹے کو احساس کب ہے؟ دیکھ لو وہ اب پھر غاٸب ھے اسے اتنا بھی احساس نہیں الیکش شروع ہونے والے ہے۔۔۔۔۔۔

وہ غصے میں آچکے تھے۔۔۔۔۔۔

دروازہ کھلنے کی آواز پہ دونوں نے ایک ساتھ پلٹ کے اس طرف دیکھا تھا

وہ بلیو جینز اور واٸٹ شرٹ اور جاگرز پہنے اندر داخل ہوا تھا

اندر ان دونوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوۓ وہ صوفے پہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کہ بیٹھ گیا تھا

اوہ ۔۔۔۔۔۔۔آگۓ صاحبزادے ۔۔۔۔آپ تھک گۓ ہونگے کیا لینا پسند کریں گے چاۓ یا کافی۔۔۔۔۔

انہوں نے طنز سے کہا تھا

مسز شیراز نے گھور کے انہیں دیکھا تھا انہیں اس سے اس طرح بات کرنا پسند نہیں آیا تھا

”اس وقت سونا چاہتا ہوں اگر آپ دونوں میرے کمرے سے باہر نکل کے یہ بات چیت کر لیں تو مجھے اچھا لگے گا“

اس نے لاپرواٸی سے کہہ کے صوفے کے ساتھ ٹیک لگا کہ آنکھیں موند لی تھی

کیا تم مجھے اس بات کا جواب دینا پسند کرو گی۔۔۔۔۔کہ تم نے اس لڑکے کو راڈ کیوں مارا ۔۔۔۔۔۔

وہ دبے دبے غصے میں بولے تھے

”اب تو مار چکا ہوں گھڑے مردے مت اکھاڑیں۔۔۔۔۔“

وہ بے زار ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔

”وہ مر بھی سکتا تھا“

انہوں نے اسے گھورا تھا

مرا تو نہیں نا ۔۔۔۔۔۔

اس نے صوفے پہ سیدھے ہو کہ بیٹھتے ہوۓ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کہا تھا ۔۔۔۔۔

”تم اتنے بے حس کیوں ہو شاہ“

انہیں افسوس ہوا تھا

”بچے اپنے ماں باپ پہ ہی تو جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔“

اس نے بظاہر مسکراتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔۔۔

وہ اس پہ ایک سرد نگاہ ڈالتے ہوۓ باہر نکل گۓ تھے ۔۔۔۔

مسز شیراز محبت سے اس کی طرف بڑھی تھی ۔۔۔۔

اس نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا تھا

یہ ڈرامہ بعد میں بھی ہو سکتا ۔۔۔۔۔ہے ابھی میں ذرا آرام کرنا چاہتا ہوں

اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے ماتھے کو مسلا تھا ۔۔۔۔

وہ کچھ کہنے کے لیے آگے بڑھی تھی

آٶٹ مام

اس نے باہر کا دروازہ دیکھا دیا تھا ۔۔۔۔۔۔

وہ چپ چاپ اسے گھور کے باہر نکل گٸ تھی ۔۔۔۔۔۔

❤❤❤❤❤
Writer: laiba Ansari

29/08/2019

انسان کو اُس کی صورت کی بجاۓ سیرت دیکھ کر پیار کریں، جیسے حضرت مُحَمَّد ﷺ نے حضرت بلال سے پیار کیا
ازکلم ___ مہران

29/08/2019

ایک چوہا کسان کے گھر میں بل بنا کر رہتا تھا، ایک دن چوہے نے دیکھا کہ کسان اور اس کی بیوی ایک تھیلے سے کچھ نکال رہے ہیں،چوہے نے سوچا کہ شاید کچھ کھانے کا سامان ہے-

خوب غور سے دیکھنے پر اس نے پایا کہ وہ ایک چوهےدانی تھی-

خطرہ بھانپنے پر اس نے گھر کے پچھلے حصے میں جا کر کبوتر کو یہ بات بتائی کہ گھر میں چوهےدانی آ گئی ہے-

کبوتر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ مجھے کیا؟ مجھے کون سا اس میں پھنسنا ہے؟

مایوس چوہا یہ بات مرغ کو بتانے گیا-

مرغ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ... جا بھائی یہ میرا مسئلہ نہیں ہے-

مایوس چوہے نے جا کر بکرے کو یہ بات بتائی ... اور بکرا ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہونے لگا-

*اسی رات چوهےدانی میں كھٹاك کی آواز ہوئی جس میں ایک زہریلا سانپ پھنس گیا تھا-*

اندھیرے میں اس کی دم کو چوہا سمجھ کر کسان کی بیوی نے اس کو نکالا اور سانپ نے اسے ڈس لیا-

طبیعت بگڑنے پر کسان نے حکیم کو بلوایا،

حکیم نے اسے کبوتر کا سوپ پلانے کا مشورہ دیا،

کبوتر ابھی برتن میں ابل رہا تھا

خبر سن کر کسان کے کئی رشتہ دار ملنے آ پہنچے جن کے کھانے کے انتظام کیلئے اگلے دن مرغ کو ذبح کیا گیا

کچھ دنوں کے بعد کسان کی بیوی مر گئی ... جنازہ اور موت ضیافت میں بکرا پروسنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ......

*چوہا دور جا چکا تھا ... بہت دور ............*

اگلی بار کوئی آپ کو اپنے مسئلے بتائے اور آپ کو لگے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے تو انتظار کیجئیے اور دوبارہ سوچیں .... *ہم سب خطرے میں ہیں ....*

سماج کا ایک عضو، ایک طبقہ، ایک شہری خطرے میں ہے تو پورا ملک خطرے میں ہے ....

ذات، مذہب اور طبقے کے دائرے سے باہر نكليے-

خود تک محدود مت رہیے- دوسروں کا احساس کیجئے

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Karachi