Voice Of Karachi - Pakistan

Voice Of Karachi - Pakistan

Share

A non-political awareness campaign to raise social & civic issues of Karachi & urban Sindh

20/10/2024

وائس آف کراچی اینڈ اربن سندھ کی جانب سے چلائی جانے والی مہم



کو پورے دن ٹاپ ٹرینڈ پر رکھنے پر وائس آف کراچی کے چیئرمین ڈاکٹر ندیم نصرت کی جانب سے کارکنان اور ہمدردوں کو خراج تحسین و مبارکباد

اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مقامی حکومتوں کا قیام کیوں ضروری ہے اس پر ڈاکٹر ندیم نصرت کی فکر انگیز گفتگو

07/10/2024

اہم سرکلر برائے سوشل میڈیا مہم

موضوع : پاکستان میں "انتظامی یونٹس" کی اہمیت، ضرورت اور افادیت
تاریخ : 8 اکتوبر بروز منگل وقت : شام 4 بجے

شہری سندھ اس وقت شدید مسائل کا شکار ہے۔ پندرہ برسوں سے اس صوبہ کے اقتدار پر قابض نسل پرست حکومت نے پورے صوبہ بالخصوص اسکے شہری علاقوں کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص، نواب شاہ اور سکھر کے ساتھ انتہائی متعصبانہ سلوک کرکے ان شہروں کو موہن جو دڑو سے بھی کہیں زیادہ بدحال کردیا ہے۔ چند استثنائی شہروں کے علاوہ ملک بھر کے تمام ہی شہر و دیگر علاقے بھی شدید انتظامی بدحالی کا شکار ہیں کیونکہ آزادی کے77 برس بعد بھی پاکستان مملکت پاکستان کا نظام فرسودہ لسانی و جاگیردارنہ طرز پر چلایا جارہا ہےجس نے ایک طرف ملک میں لسانی عصبیت کو فروغ دیکر ایک مضبوط پاکستانی قومیت کے تصور کو پنپنے نہیں دیا جبکہ دوسری جانب ملکی اقتدار و وسائل پر چند خاندانوں کے تسلط کو برقرار رکھا جسکے بھیانک نتائج آج سب کے سامنے ہیں ۔

وائس آف کراچی نے برسوں پہلے اس نظام کے نقائص کی نشاندہی کرتے ہوئے ملک میں لسانی بنیادوں پر قائم صوبوں کی جگہ انتظامی طور پر "بااختیار یونٹس" کے قیام کی نہ صرف تجویز پیش کی بلکہ اس نظام کے بنیادی خدوخال بھی شائع کئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج پاکستان کے مقتدر اداروں کے سربراہان اور بیشتر محب وطن دنشواران اور ہر طبقہ زندگی کے کی قدآور شخصیات اس نظریہ کی تائید و حمایت کررہے ہیں۔ اب یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم تمام تر سیاسی، مذہبی و علاقائی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر ملک بھر میں انتظامی یونٹس کے قیام کے وژن کی حمایت کریں اور اسے ایک ملک گیر عوامی مطالبہ بناکر ملک پر قابض متعصب و ند عنوان خاندانوں سے نجات دلانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ ا س حوالے سے وائس آف کراچی نے ایک بھرپور سوشل میڈیا مہم چلانے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔

نوٹ: وائس آف کراچی عوام کی رہنمائی اور آسانی کیلئے مہم سے کچھ دیر قبل مہم کا ہیش ٹیگ اور ٹوئٹس شیٹ بھی شیئر کرے گی۔ اسکے علاوہ پاکستان کے مختلف صوبوں بالخصوص سندھ کے دیرنہ مسائل سے متعلق تصاویر، ویڈیوز اور پوسٹرز بھی میسر ہونگے جنہیں آگاہی کیلئے ٹوئٹس کے ساتھ استعمال کیا جا سکے گا۔

جاری کردہ :شعبہ نشرواشاعت، وائس آف کراچی

14/03/2024

پاکستان میں اقتدار کی بندر بانٹ کے حوالے سے ڈاکٹر ندیم نصرت کا حقائق پر مبنی جواب۔
پاکستان میں جو میوزیکل چیئر کا کھیل کھیلا جاتا رہا،دو پارٹیاں اقتدار میں رہتی تھیں، ایک تیسری قوت بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس سارے سیاسی کھیل میں نقصان صرف پاکستان اور عوام کا ہوا۔ ڈاکٹر ندیم نصرت
اصل مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ نظام مکمل ناکام ہو چکا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے نظام اور آئین کو تبدیل کیا جائے اگر اس سمت تیزی کے ساتھ پیش رفت نہیں کی گئی تو جس بحران سے ہم نکل کر آئے ہیں اس سے کہیں زیادہ بھیانک بحران ہمارا انتظار کررہا ہے: ڈاکٹر ندیم نصرت
اس وقت پاکستان کسی قسم کے انقلاب کے لئے تیار نہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پاکستان لسانی و مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہے.
موجودہ حالات میں حل صرف یہی ہے کہ جو قوتیں کنٹرول کرنے پر آمادہ ہیں، انہیں اسٹیک ہولڈر بنا کر کوئی ایسا نظام لایا جائے جس میں جمہوریت/ عوام دونوں خوش رہیں: ڈاکٹر ندیم نصرت

17/02/2024

الیکشن کے بعد ملک میں صرف سیاسی اور نظریاتی بنیادوں پر نہیں بلکہ لسانی بنیادوں پر بھی بڑی واضح تفریق نظر آرہی ہے: ڈاکٹر ندیم نصرت
الیکشن نتائج پر ملک شدید بحران اور پولرائزیشن کا شکار ہے.
نام نہاد جمہوریت کے چیمپیئن آمروں کی گود میں بیٹھتے رہے: ڈاکٹر ندیم نصرت
‏1971 میں بھٹو مجیب کے مقابلے میں نصف سیٹیں حاصل کرتا ہے، الیکشن نتائج تسلیم نہیں کرتا پھر 77 میں جماعت اسلامی کو لاڑکانہ سے الیکشن لڑنے نہیں دیتا۔ آج وہی جماعت اسلامی کراچی کے نتائج تسلیم نہیں کررہی لیکن اسے اندرون سندھ میں دھاندلی نظر نہیں آتی: ڈاکٹر ندیم نصرت
‎‏پورے ملک میں دھاندلی ہوئی تو پیٹ میں درد صرف کراچی کی دھاندلی کا کیوں اٹھ رہا ہے : ندیم نصرت
کراچی میں دھاندلی کا شور کرنیوالوں نے کیا کبھی کوٹہ سسٹم کے خلاف تحریک چلائی۔ اہلیان کراچی کو پولیس، بیوروکریسی/ سرکاری ملازمتوں میں جائز حصہ دینے کیلئے مظاہرے کئے؟ ڈاکٹر ندیم نصرت
پورے ملک میں نظام ٹھیک کریں، جہاں انتخابی نظام بنائیے وہاں ایسا نظام بھی بنایا جائے جس میں کوٹہ سسٹم نہ ہو۔ منصفانہ مردم شماری کروا کر پہلی دفعہ سندھ کی تاریخ میں شفاف الیکشن کروائے جائیں۔ اسکے بغیر جو بھی عمل ہوگا وہ شہری سندھ میں مزید محرومیوں کو جنم دے گا: ڈاکٹر ندیم نصرت
پیپلز پارٹی جیسی جماعت محض بدمعاشی اور کرپشن کی بنیاد پر انتخابات جیتتی ہے : ندیم نصرت
اندرون سندھ اگر فرانزک آڈٹ کرا لیا جائے تو پتہ چل جائے گا کہ وہاں پڑنے والے 80 فیصد سے زائد ووٹ بوگس اور جعلی ہیں۔
تمام سیاسی جماعتیں پاکستان کو بچانے کیلئے ایک ہوجائیں: ڈاکٹر ندیم نصرت
سندھ کی تاریخ کے نام پر جھوٹ بولا جارہا ہے! مہاجر رہنما ڈاکٹر ندیم نصرت نے سندھی نسل پرستوں کی جانب سے سندھ کی جعلی تاریخ گڑھے جانے اور عوام کو گمراہ کئے جانے کی کوششوں کے جواب میں سندھ اور کراچی کی اصل تاریخ حقائق کی روشنی میں قوم کے سامنے پیش کر دی: ڈاکٹر ندیم نصرت
پیپلز پارٹی جیسی جماعت محض بدمعاشی اور کرپشن کی بنیاد پر انتخابات جیتتی ہے : ندیم نصرت
اندرون سندھ اگر فرانزک آڈٹ کرا لیا جائے تو پتہ چل جائے گا کہ وہاں پڑنے والے 80 فیصد سے زائد ووٹ بوگس اور جعلی ہیں۔
تمام سیاسی جماعتیں پاکستان کو بچانے کیلئے ایک ہوجائیں: ڈاکٹر ندیم نصرت

03/02/2024

عموماً ایک جھوٹ بڑی شدومد سے بولا جاتا کہ سندھ کے باسیوں نے تقسیم ہند پر مہاجروں کو کھلے دل سے قبول کیا اور کھلے ہاتھوں سے ان کا استقبال کیا۔ آئیے اس بات کا تاریخی حقائق کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں۔

21 دسمبر1947
صوبہ سندھ میں وہ مہاجرین نہ آئیں جن کے پاس سرمایہ نہیں ہے (ایوب کھوڑو وزیر اعلیٰ سندھ)

29 دسمبر 1947
مولانا شبیر احمد عثمانی نے عید گاہ میں پچییس ہزار مہاجرین سے خطاب میں کہا کہ قیام پاکستان سے پہلے ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ نئی حکومت ہندوستان کے دس کروڑ مسلمانوں کی ضامن ہوگی مگر یہاں ہجرت کے بعد سندھی غیر سندھی اور پنجابی و غیر پنجابی کا سوال اٹھایا جارہا ہے۔

2.جنوری 1948
چوہدری خلیق الزماں کو مستقل سندھ آباد ہونے اور صوبائی اسمبلی کی سیٹ دیے جانے پر msf sindh نے شدید احتجاج کیا ہے۔

8 جنوری 1948
وزیراعظم سندھ ایوب کھوڑو نے بیان دیا کہ ہمارے پاس مزید گنجائش نہیں اب مزید مہاجرین کو روکنا پڑے گا۔

یکم فروری 1948
صوبہ سندھ نے مہاجرین کے ساتھ سخت پالیسی اپنا رکھی ہے جو مہاجرین کی حمایت کرتا ہے زیر عتاب آجاتا ہے۔

7 اپریل 1948
آج برنس روڈ پر پولیس نے مہاجرین سے مکان زبردستی خالی کروالیا. مہاجرین اور پولیس میں تصادم. مہاجر خواتین کو پولیس نے زدوکوب کیا اور کئی مہاجر گرفتار کرلے گئے.

8 اپریل 1948
ایسوسی ایٹیڈ پریس آف انڈیا کے مطابق صرف مارچ کے مہینے میں 81.ہزار مسلم مہاجر حالات سے بد دل و مایوس ہوکر بھارت لوٹ گئے ہیں۔

16 اپریل 1948
پولیس و مہاجرین میں تصادم دو مہاجر ہلاک چار شدید زخمی۔

15 جون 1948
قائد اعظم محمد علی جناح نے کوئٹہ میونسپلٹی کے استقبالیہ میں کہا کہ ملک کا ہر طبقہ صوبائی تعصب کا شکار ہے۔

26 اکتوبر 1948
والٹن مہاجر کیمپپ لاہور میں میاں بیوی پر کپڑا چوری کا مقدمہ . میاں بیوی نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے کپڑے پھٹ چکے تھے اسی لئے مجبوری کے عالم میں انہوں نے ٹینٹ کا کپڑا کاٹ کر ستر ڈھانپ لیے..
والٹن کیمپ میں ہی 19 ہزار مہاجرین کی قبریں ہیں یہ وہ بد نصیب ہیں جو بے سر و سامانی کے عالم میں یہاں آئے اور تھکاوٹ , پریشانی , بیماری, اود خستہ حالی کے سبب کیمپ پہنچنے کے بعد جاں بحق ہوگئے۔

(یاد رہے اب والٹن کیمپ کی پوری زمین ہموار ہے جہاں بچے کرکٹ کھیلتے ہیں.. ایک قبر بھی موجود نہیں اور یہ کنٹونمنٹ بورڈ کے زیر انتظام ہے جہاں فوٹو گرافی بھی ممنوع ہے)

9 اپریل 1948
روزنامہ جنگ کا اداریہ
پاکستان سے ہندوستان مہاجرین کی واپسی تیز ہوگئی ہے..
حکومت کو توجہ دلائی گئی مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذمہ داران حکومت آج کل عالیشان محلوں میں مقیم ہیں جن تک آہیں و سسکیاں نہیں پہنچ پاتی یکم جنوری سے مارچ تک ایک لاکھ پندرہ ہزار مہاجرین بھارت لوٹ گئے ہیں اور سابقہ مقامات پر آباد ہونے کی کوشش کر رہے ہیں.

13 مارچ 1948
کراچی و سندھ سے روزانہ تین سو مہاجرین دہلی واپس آرہے ہیں یہ وہ مہاجر ہیں جنہیں سخت کوشش و انتظار کے باوجود سر چھپانے کی جگہ نہ مل سکی۔

4 جون 1949
اخبار سنھ آبزرور کراچی میں ایک مقالہ افتتاحیہ شائع کیا گیا جس میں کہا گیا "کراچی پولیس میں بگھوڑے مہاجر پولیس افسران بھرتی کر لیے گئے"
اخبار کا خیال ہے کہ اس طرح پولیس میں مہذب عنصر کم ہوگیا ہے۔

7جون 1949
صوبہ سندھ میں صحافیوں کے حقوق و تحفظ کے لئے بنائی گئی انجمن کے دروازے اردو اخبار نویسوں کے لِئے بند کردیے گئے. اس انجمن کو سندھ حکومت کی تائید و سرپرستی حاصل ہے۔

27 جولائی 1949
شہر میں مسلسل بارش نے مہاجرین کی حالت خراب کردی. انہوں نے پریشان ہوکر آج تین مرتبہ وزیر اعظم لیاقت علی خان کی رہائشگاہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

8 دسمبر 1949
آل انڈیا ریڈیو کے مطابق حکومت ہند نے دس ہزار مسلم تارکین وطن کو پاکستان سے واپس بھارت آنے کا پرمٹ جاری کردیا جو اس سال یوپی سے مغربی پاکستان چلے گئے تھے.

19 دسمبر 1949
لالو کھیت میں 66 مہاجر نمونیے سے جاں بحق ہوگئے.

یکم مئی 1950
مرکزی وزیر مہاجرین و داخلہ امور خواجہ شہاب الدین کا کہنا ہے کہ کراچی غلاظت کا ڈھیر بن جائے گا فالتو مہاجرین واپس بھارت لوٹ جائیں۔

25 جولائی1950
بھارت واپسی کے لئے پچیس ہزار مہاجرین کے نام درج۔

یکم جون 1950
تھرپارکر میں دس ہزار مہاجرین کو الاٹ کی گئی زمین سے انہیں چند ہی دنوں میں بے دخل کرنے کا نوٹس دے دیا گیا۔

19 جولائی 1950
لاکھوں مہاجرین خانماں برباد ہوگئے.
شہر کراچی میں موسلا دھار بارش سے لاکھوں مہاجرین خانماں برباد ہوگئے ہزاروں جھونپڑیاں بہہ گئیں 111 مہاجرین نمونیے سے ہلاک

29 مارچ 1951
وزیر مہاجرین و بحالیات ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے مہاجرین کی زبوں حالی بیان کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ کل تک دولت مند اور خوش حال تھے آج وہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہوگئے.

1اپریل 1952
آج صبح پارلیمنٹ میں عبدالحمید اور ہاشم گزدر نے یہ اشتعال انگیز بیانات دیے کہ مہاجرین کا دل بددستور بھارت میں الجھا ہوا ہے اور وہ محض پیسہ کمانے کے لئے پاکستان آئے ہیں.

6 جون 1953
سندھ کے پہلے مہاجر وزیر حامد حسین فاروقی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا.

انہی دل خراش واقعات سے اہل قلم مہاجرین بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔

14 اپریل
رئیس امرہوی کا قطعہ روزنامہ جنگ کراچی

کل ایک سوختہ قسمت نے یہ کہا مجھ سے

حیات کیا: کہ یہاں مقصد حیات ہے موت

دیار غیر میں ہے خوف قحط و مرگ قبول

فغاں بہال کراچی. یہاں نہ رزق نہ موت

16 نومبر 1948
روزنامہ جنگ کا کارٹون

آج روزنامہ جنگ کے کارٹونسٹ سمیع اللہ دہلوی نے مہاجرین کے مصائب و الام پر ایک طنزیہ کارٹون بنایا حالت زار پر ایک کارٹون بنایا جس میں مہاجرین کی زندگی کے کئی مشکل مرحلوں کی نشاندہی کی گئی. اور ہر مرحلے پر نمبر لگا کر اس کو ایک فقرے میں بیان کیا گیا. مختلف مرحلوں کی تصاویر کے نیچے یہ عبارت درج کی گئی

1: ہجرت کی مہاجر بنے
2: کیمپوں میں ٹھرے
3: ہر مصیبت کا سامنا کیا
4: پاکستان کی بقا و زندگی کے نعرے لگائے
5: ملازمت کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھائیں
6: مکانات و دکانوں کے لئے کنٹرولر کے غمزے سہے
7: راشن حاصل کرنے میں بلیک مارکیٹ برداشت کی
8: حکومت سے احتجاج کیا
9: کھلے میدانوں میں زندگی کے دن پورے کیے
10: سرکاری ملازمین کی "نوازشیں" بھی برداشت کیں
11: بیماری و فاقوں کا مقابلہ بھی کیا
12: آخر کار مسائل سے عاجز آکر دنیا سے چل بسے

کتبہ قبر: ایک غریب مہاجر
پیدائش : 1947
وفات : 1948

مہاجرین سے ناروا سلوک پر محسن بھوپالی نے یہ شعر کہے.

تم محسن ہو
یہ تو ٹھیک ہے
لیکن تم یہ "بھوپالی" کیوں لکھتے ہو
اگر نہ لکھتا تو آپ پوچھتے
کہاں کے رہنے والے ہو
میں کہتا 'لڑکانے' کا
تم پھر کہتے پاکستان آنے سے پہلے
کون سے شہر میں رہتے تھے
میں کہتا بھوپال
......... گھما پھرا کے جو مجھ کو بتلانا پڑتا
میں نے ساتھ ہی لگا رکھا ہے

یہ اقباسات خان مظفر کی کتاب
تعصب تشدد اور تضاد سے لیے گئے ہیں
جسے نگارشات لاہور نے دو جلدوں میں 1996 میں
لاہور سے شائع کیا

29/01/2024

نسل پرست پیپلزپارٹی نے سازش کے تحت شہری سندھ کے محکمہ تعلیم میں افسران لگائے جنہوں نے کراچی کے ہزاروں طلبہ و طالبات کو امتحانات میں فیل کردیا۔
انٹر بورڈ کے افسران اور بے حس نگراں وزیر اعلیٰ کا بیان افسوسناک ہے میں کھل کے یہ بات کہتا ہوں کہ یہ پاکستان کے خلاف سازش ہے۔۔
جنرل عاصم منیر صاحب اپنی تقاریر میں کہہ چکے کہ نوجوانوں کو ورغلایا جارہا ہے یہاں بالکل اسی طرح سازش کے تحت بچوں کو فیل کرکے پاکستان سے برگشتہ کیا جارہا ہے، یہ پاکستان کے خلاف سازش ہے خدارا سندھ میں آئیں اور ان تمام افسران کو گرفتار کروا کے تفتیش کی جائے کہ کس سازش کے تحت پاکستان کے مستقبل کو برباد کررہے ہیں نوجوانوں کو خودکشی پر مجبور کررہے ہیں۔

19/01/2024

نسل پرست پیپلزپارٹی کے اندرون سندھ سے لائے گئے متعصب عملے کے ذریعے کراچی کے طلباء کا تعلیمی مستقبل تباہ کیا جارہا ہے !
کراچی کے 24 ہزار طلباء وطالبات کو امتحانات میں زبردستی فیل کئے جانے پر شہری سندھ کی پوری سیاسی قیادت کو اس ایک نقطے پر باہر آکر احتجاج کرنا چاہیے تھا: ڈاکٹر ندیم نصرت
22 اگست کو جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن اس کے بعد ہماری کوشش رہی کہ کسی طرح سب کو متحد کردیں اس لئے نہیں کہ ہمیں سب کی شکلوں سے محبت ہے محض اس لئے کہ قوم تقسیم نہ ہو جو مہاجر طلبہ کے ساتھ سلوک ہوتا ہے وہ نہ ہو۔
پیپلزپارٹی اس وقت مہاجروں کے ساتھ وہی سلوک کر رہی ہے جو اسرائیلی حکومت غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ کررہی ہے: ڈاکٹر ندیم نصرت
ہم نے کسی سے پیسہ نہیں لیا 93 اور 97 کے الیکشن میں میرے پاس یہ پوزیشن تھی کہ میں اپنے رشتے داروں کو ٹکٹ دلوا دیتا 2013 میں ڈپٹی کنوینئر رہا 2015 کے بلدیاتی انتخابات میں کنوینئر تھا کبھی کسی رشتے دار کو ٹکٹ نہیں دلوائے۔ ہمیشہ تحریک کے شہداء کے گھر والوں کو ٹکٹ دیئے۔ آج جو لسٹیں سامنے آرہی ہیں اس میں شہدا، اسیر لاپتہ ساتھیوں اور نوجوانوں کا کوٹہ کہاں ہے ؟: ڈاکٹر ندیم نصرت
جو لوگ شہداء، لاپتہ اسیر کارکنان کو عزت نہیں دے سکتے ان کو اسمبلیوں میں مہاجروں کی نمائندگی کا حق نہیں دیا جاسکتا ایسے لوگ مہاجروں کے نمائندے نہیں ہیں۔ مہاجر قوم 78 میں جہاں کھڑی تھی اس سے سینکڑوں سال پیچھے جاچکی ہے لیکن آج بھی کچھ لوگوں کی حوس ختم نہیں ہورہی۔ ہم تمام نظریاتی ساتھی دوبارا متحد ہونگے اور انشاء اللہ یہ حالات بدل دیں گے: ڈاکٹر ندیم نصرت
ایک طرف ہم روزانہ پریس کانفرنس دیکھ رہے ہیں کہ فلاں جماعت سے لوگ شامل ہوگئے جن پر کرپشن جیسے الزامات ہیں جبکہ دوسری طرف جنہوں نے پوری زندگی تحریک کو دی ان کو متنازع بناکر شامل نہیں کیا جارہا۔
یہ تحریک کسی فرد واحد یا چند افراد کی نہیں ہے اس میں جس جس نے قربانی دی ہے یہ اسکا حق ہے اور یہ حق اسے ملنا چاہیے ہم نے اس لئے سب کو متحد کرنے کی کوشش نہیں کی تھی کہ چار افراد اس پر قبضہ کرلیں اور بندر بانٹ کرلیں: ڈاکٹر ندیم نصرت
اگر کسی طرح ایم کیو ایم کو الیکشن میں جتوا بھی دیا جائے تو ان لوگوں کا حشر وہی ہوگا جو نیشنل پیپلزپارٹی کا ہوا تھا یا ماضی میں جس طرح مسلم لیگ بنتی رہیں کہ پارلیمنٹ میں پہنچا دیا گیا لیکن بعد میں عوام کی طرف سے جوتے پڑے۔
شہری سندھ کی موجودہ صورتحال 92 سے مختلف نہیں اس وقت بھی یہی ہوا تھا لیکن آج ان لوگوں کا نام و نشان بھی نہیں ہے: ڈاکٹر ندیم نصرت
92 میں حالات بہت خراب تھے لیکن قوم کو منجدھار سے نکالا گیا انشاء اللہ اس مرتبہ بھی نکالیں گے ۔ مہاجر قوم جن کے ساتھ تیسرے اور چوتھے درجے کے شہری کا سلوک ہورہا ہے اس کو اسی ملک میں رہ کر ختم کروائیں گے، اسی ملک کے جغرافیہ میں رہ کر اپنے لئے حق اور انصاف حاصل کریں گے اب ہم سے ایک اور ہجرت نہیں ہوگی: ڈاکٹر ندیم نصرت

14/01/2024

پاکستان پر فیلڈ مارشل ایوب خان، یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف سمیت پانچ مارشل لا ایڈمنسٹریٹرز نے حکمرانی کی مگر سزا صرف مہاجرجنرل پرویز مشرف کو سنائی گئی۔

12/01/2024

پاکستان کے دفاع میں جنگیں لڑنے اور 40 برس تک پاکستان کی خدمت کرنے والا غدار جبکہ ملک کو لوٹنے برباد کرنے والے وفادار

02/01/2024

‏آج ملک کی جو ابتر حالت ہے اس کی بڑی وجہ اور ذمہ دار پیپلز پارٹی ہے اس نے ملک کی معیشت میں وہ بارودی سرنگیں بچھائیں کہ پاکستان کی غریب عوام اس کے نتائج آج تک بھگت رہی ہے۔
پاکستان کی معیشت اور عوام پر پہلا حملہ ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کی صنعتوں اور کاروبار کو نیشنلائز کرکے کیا۔
دوسرا حملہ بینظیر بھٹو نے آئی پی پیز کو اس ملک میں لاکر کیا۔
۔ تیسرا حملہ زرداری نے آئین میں آٹھارویں ترمیم کرکے کیا۔
اب اس وقت جس طوفان نے ملک کو گھیرا ہوا ہے اس کی وجہ یہی عوام دشمن پارٹی ہے جس کا نام پیپلزپارٹی ہے۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

Karachi