جماعتِ اسلامی کے منتخب نمائندے ٹاؤن چیئرمین ظفر احمد خان و یو سی چیئرمین محمد طلحہ خان کی ہدایت پر لیبر کونسلر سجاد حسین اور سید غفران حیات کی زیرِ نگرانی ملّت گارڈن میں پیور بلاک انلوڈ ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
جماعتِ اسلامی کی ٹیم خدمت کے جذبے سے سرشار عوام کی خدمت کے لیے موجود ۔
اسی لیے تو کہتے ہیں حل صرف جماعت اسلامی
شکریہ جماعت اسلامی
ترازو
Jamat e Islami ilaqa Kalaboard جماعتِ اسلامی علاقہ کالابورڈ
Jamat e Islami Ilaqa Kalabord, District Airport,Karachi, Pakistan.
07/06/2025
قربانی کی کھالیں الخدمت کو دیجیے جماعت اسلامی حلقہ ملت گارڈن کے تحت ملت گارڈن کے چوک پر چرم قربانی، کھالوں کے کلیکشن کیمپ پر جمع کی ہوئی کھالیں ٹینری پہنچانے کے لیے گاڑی میں لوڈ کی جا رہی ہیں ۔
اس موقع پر ناظم حلقہ جماعت اسلامی ملت گارڈن ااے ون ایریا اظہر بھائی، لیبر کونسلر سجاد بھائی ، سیّد رضوان ،معاون لیبر کونسلر شعبہ نشرو اشاعت غفران حیات بھائی ، کونسلر برائن امتیاز موجود ہیں۔
02/06/2025
دھرنے کا چودھواں اور آخری روز کی جھلکیاں۔
الحمدللہ نتیجہ خیز دن!
کے الیکٹرک کے ساتھ مطالبات طے پاگئے۔
02/06/2025
شجیع بھائی کے حوالے سے لکھنے کو دل نہیں کررہا۔۔۔بس پھر کافی دنوں تک اضطراب کی کیفیت ہوتی ہے۔۔۔۔۔ان کے بارے میں پہلی اطلاع کراچی سے آئی۔۔۔ان کے ساتھ آئے ہوئے ایک استاد سے تصدیق کی تو بتانے والے نے بتایا کہ ڈیڑھ گھنٹہ ہوگیا ہے پانی میں ۔۔۔۔نکلے نہیں پھر۔۔۔۔انہیں بتایا کہ اب وہ زندہ نہیں مل سکیں گے۔۔۔میں گلی بدرال کے جنگلوں میں تھا۔۔۔۔۔ہماری گاڑی تیار تھی اور چار بجے نکلنا تھا۔۔۔۔۔ ہمیں اطلاع دو بجے ملی تھی۔۔۔۔مانسہرہ تک پہنچنے میں تین گھنٹے لگے۔۔۔سارا راستہ روتا رہا ہوں۔۔۔۔۔بالاکوٹ گیا تو بہت عجیب کیفیت تھی۔۔۔۔اسکول کے بچوں سے ملا تو ایک خوف اور وحشت سی محسوس ہوئی۔۔۔۔طلباء کو حوصلہ دیا لیکن خود حوصلہ ہار رہا تھا۔۔میں ان کے ساتھ عثمان پبلک اسکول کیمپس 13 میں استاد تھا۔۔۔بالاکوٹ میں 13 دن ان کی تلاش میں گزارے۔۔۔بالاکوٹ،بوئی،گڑھی حبیب اللہ،مظفرآباد۔ایبٹ آباد،تربیلا ڈیم اور نہ جانے کہاں کہاں ان کے لئے بھاگتے رہیں۔ان کو نہیں ملنا تھا نہیں ملے۔۔۔۔
جس دن وہ ٹور پر نکل رہے تھے تو میں ان سے ان کے دفتر میں ملا۔۔۔انہیں بتایا کہ میں بھی مانسہرہ جارہا ہوں اگلے دن۔۔۔آپ جب بالاکوٹ پہنچ جائیں تو گلی بدرال ہوگا۔۔آپ سے ملنے آؤں گا۔۔۔کہا ٹھیک ہے۔۔۔جس دن وہ پانی میں ڈوبے تھے یہ وہی دن تھا جس دن میں ان سے ملنے کے لئے بالاکوٹ آرہا تھا۔۔۔۔فیا اسفا
زندگی میں سب سے زیادہ جس کے لئے رویا وہ شجیع بھائی تھے۔مجھے ان کے جانے کے بعد اندازہ ہوا کہ ان سے بے پناہ محبت تھی۔
البتہ یہ ایک راز ہے کہ شہادت کے چھٹے دن بیسیاں کیمپ پر شوکت بھائی کے ہوٹل کے پاس ان کی لاش ہمیں نظر آئی تھی۔۔۔۔۔۔
قصہ مختصر
اچانک شور سا اٹھا کہ کوئی لاش بہتی ہوئی آرہی ہے۔ہم سب اس طرف بھاگے۔۔۔۔کچھ تردد بھی تھا کیونکہ ایک رات پہلے ایک لڑکی نے پل سے دریا میں چھلانگ لگا کر خودکشی کی تھی۔۔۔خیال تھا کہ شاید اس کی لاش ہو ۔۔۔۔۔لیکن پھر بھی ہم سب بھاگے۔۔۔۔۔میں نے جماعت کے ایک ذمہ دار سے کہا کہ مجھے رسہ باندھے میں اترتا ہوں دریا میں ۔۔آپ رسہ پکڑ رکھے۔۔۔ہم لاش پکڑ سکتے ہیں۔۔۔۔لیکن انہوں نے کہا کہ آپ آگے پل کے پاس جاکر دیکھے۔۔۔۔میں اور اعجاز بھائی (چینا) اس طرف بھاگے۔۔۔۔آگے پل کے نیچے دریا دو پاٹ میں تقسیم ہورہا تھا۔۔میں نے اعجاز سے کہا کہ میں اوپر سے بتاتا ہوں کہ لاش کس پاٹ میں آرہی ہے۔لاش زیادہ پانی والے پاٹ میں آرہی تھی۔۔۔اعجاز بھائی نے رسہ کے ذریعے پل سے نیچے چلانگ لگائی اور لاش کی طرف بھاگے لیکن جو رسہ انہوں نے باندھا ہوا تھا۔وہ پل کے اوپر ہک میں پھنس گیا۔۔جس کی وجہ سے وہ پانی میں کود نہیں سکے۔۔اس سارے کام کے لئے ہمیں صرف دس تا بارہ سیکنڈ ہی ملے تھے۔۔۔۔حالانکہ یہ بات یقینی تھی کہ جو بھی چلانگ لگاتا اس کے بچنے کے چانسز صرف بیس فیصد ہوتے۔۔۔۔پانی کا بہاؤ بہت تیز تھا۔۔بہت ٹھنڈا تھا۔۔۔اور صرف پانچ تا سات منٹ میں خون منجمد کررہا تھا۔۔۔
بار بار خیال آتا ہے کہ اس دن اطاعت کے چکر میں نہ پڑتے تو یقیناً ہم لاش پکڑسکتے تھے۔۔۔وہ جگہ بیسٹ تھی لیکن بلا ہو مرکز جماعت کا۔۔۔۔کہ وہاں سے میرا نام لیکر کہا گیا تھا کہ انہیں پانی سے دور رکھیں ۔۔۔۔یہ کراچی کے لوگ ہیں۔۔۔ڈوب جائیں گے۔۔۔میں نے بارہا بتایا کہ بھائی میں تیرنا جانتا ہوں۔۔۔۔پانچ سال کی عمر میں دریائے سوات میں تیراکی سیکھتے تھے لیکن کوئی بھی نہیں مانا اور نہ یقین کیا۔۔۔۔۔یہاں تک کہ ایک دن جناب ناصر محمود صاحب قیم جماعت اسلامی کشمیر بوئی اور ایبٹ آباد کے سنگم پر کنہار کنارے گروپ کے ساتھ ملے تو وہ میرا نام لیکر پوچھتے رہیں کہ یہ کون ہیں مجھے ان سے ملنا ہے۔۔۔۔میں ان کے پاس حاضر ہوا تو گلے لگایا اور کہا کہ مرکز جماعت سے آپ کے لئے ہمارے پاس ہدایات ہیں کہ انہیں پانی سے دور رکھے۔۔۔۔۔بہر حال ہم نے انہیں دیکھا کہ کالی شرٹ اسی طرح جسم پر موجود تھی۔۔لاش الٹی تھی اور بہاؤ کی طرف تھی۔۔لمحوں میں آنکھوں سے اوجھل ہوئی۔۔۔اس طرح شاید میں اور اعجاز آخری دو لوگ تھے جنہوں نے ان کے جسد مبارک کو دیکھا۔۔۔۔۔کراچی واپسی پر کئی ہفتوں انہیں خواب میں دیکھتا تھا۔۔۔مجھے اب بھی لاشعور میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ شاید کسی دن ان کا جسد مبارک مل جائے۔۔۔۔۔۔
تلاش کے کام کے دوران کئی ساری لاشیں ہم نے نکالی دریا کنہار سے۔۔۔عموما کپڑے جسم پر نہیں ہوتے تھے۔۔ایک لاش تو ایسی ملی تھی جو صرف دو گھنٹے قبل ڈوبا تھا۔۔۔لیکن نوجوان کے جسم پر صرف ازار بند ہی رہ گیا تھا۔۔۔بالاکوٹ کی ایک دوکان سے چادر لی تھی اور ہر وقت ساتھ رکھتا تھا کہ مبادا کہیں ایسی صورتحال نہ ہو۔۔۔۔لیکن میرے پیارے رب نے مجھے چھ دن بعد ان کی زیارت کرائی کہ ان کی تو شرٹ بھی موجود تھی۔۔۔۔فللہ الحمد
ایک دن فجر کی نماز کے بعد شوکت بھائی کے ہوٹل پر فلائنگ کوچ آئی۔۔۔ہم ملے ان سے۔۔۔پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ایس ایس جی کمانڈوز کی غوطہ خور ٹیم ہے۔۔میں اور مشتاق بھائی انہیں زیرو پوائنٹ پر انہیں لے گئے۔۔انہوں نے کام کا آغاز کرنا تھا۔۔۔انہوں نے پوچھا کہ کہاں چھلانگ لگائی تھی تو میں نے وہ مقام انہیں دکھایا تو وہ کچھ پریشان سے نظر آئے۔۔۔۔ان کا لیڈر مجھے دوسروں سے الگ کرکے بولتا ہے۔۔۔کہ دیکھے جس نے ڈوبنا تھا وہ تو ڈوب گیا ہے لیکن جو میرے ساتھ آئے ہیں یہ بھی تو کسی ماں کے بیٹے ہیں ۔۔۔۔۔جو جگہ آپ بتارہے ہیں یہاں اترنا ممکن ہی نہیں ہے۔۔۔کیسے میں ٹیم کو اتاروں۔۔۔۔وہ سوات کا تھا اور ہماری تحصیل کا ہی تھا۔۔۔باقی سندھ کے تھے لیکن باکمال لوگ تھے۔۔۔اس تلاش کے کام میں جماعت اسلامی،الخدمت فاونڈیشن،مقامی عام لوگ،آرمی کے جوان،البدر مجاہدین،حزب المجاہدین،جماعت الدعوة اور دیگر بہت سارے پلیٹ فارم سے وابستہ لوگ شریک تھے۔ایک محتاط اندازہ ہے کہ 1300 لوگ شامل تھے۔۔
شجیع بھائی بہت یاد آتے ہیں۔۔۔۔بہت پیارے آدمی تھے۔۔۔۔آج زندہ ہوتے تو جماعت اسلامی اور عثمان پبلک اسکول کی صورتحال آج سے بہت مختلف ہوتی۔۔۔۔۔اے کاش وہ زندہ ہوتے۔۔۔۔۔
ان کی شہادت کے ایک سال بعد مجھے اللہ جل شانہ نے بیٹا عطاء فرمایا۔۔۔میں نے والدین اور دیگر بزرگ رشتہ داروں سے مشورے کے بعد بچے کا نام نصر اللہ رکھا۔۔۔تاکہ جب تک زندگی رہے تب تک یادیں ہر وقت ساتھ رہے۔۔۔۔
بالاکوٹ واقعہ سے ایک ہفتے قبل ہم اسکول کی پکنک میں تھے۔۔۔۔جس میں چھوٹے بچے تھے۔۔۔میں فارم ہاؤس آیا۔۔۔شجیع بھائی کے کپڑے گیلے تھے۔۔۔میں نے پوچھا سرخیریت آپ نے تو آتے ہی چھلانگ لگادی۔۔۔تو ہنستے ہوئے کہنے لگے۔۔۔کہ جیسے ہی ہم اندر داخل ہوئے تو بچوں نے آؤ دیکھا نا تاؤ اور سوئمنگ پول میں کودنا شروع کردیا۔۔۔۔۔تو میں ان کے پیچھے پانی میں کودا ہوں۔۔۔اس لئے کپڑے گیلے ہیں۔۔۔۔دراصل بچے سوئمنگ پول کے اس سائیڈ پر کودے تھے جہاں پانی کافی گہرا تھا۔۔۔اگر شجیع بھائی اس وقت نہ پہنچتے تو پانچ کے پانچ بچے ڈوب جاتے۔۔۔۔سنا تھا کہ شجیع بھائی نے ایک دفعہ کسی کو بچانے کے لئے دریائے سوات میں بھی چھلانگ لگادی تھی۔۔۔۔اللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول فرمائے اور ہم سب کو اپنی جنتوں میں جمع فرمائے۔آمین
ڈاکٹر مفتی مصباح اللہ صابر
ڈائریکٹر اسلامک فقہ اکیڈمی پاکستان
02/06/2025
قربانی کی کھالیں الخدمت کو دیجئے
جماعت اسلامی حلقہ ملت گارڈن اے ون ایریا کے ناظم اظہر بھائی سید غفران حیات اور لیبر کونسلر سجاد بھائی الخدمت کی پوسٹر پٹیاں لگاتے ہوئے۔
02/06/2025
*کراچی شہر بھر میں تھوڑی دیر بعد 11 مقامات دھرنا شروع ہو رہا ہے یہ احتجاجی تحریک کے الیکٹرک کے خلاف ہے*
پاکستان زندہ باد 🌹🌹🌹: *جماعت اسلامی اس تحریک کو لیڈ کرے گی*
02/06/2025
19/04/2025
حلقہ ملت گارڈن کے تحت سیّد غفران کے گھر درسِ قرآن کا اہتمام کیا گیا ۔درسِ قرآن سے مولانا عبدالحئی صاحب نے خطاب کیا اور درس کے بعد دعا کی گئی ۔
26/03/2025
غزہ فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے زکوٰۃ ،فطرہ ،صدقات و عطیات الخدمت جماعتِ اسلامی کو دیجئے ، عطیات جمع کرنے کےلئے ملّت گارڈن میں چوک پر آصف پانی والے کی دکان پہ سیّد رضوان ،سجاد بھائی و نعیم بھائی موجود ہونگے ۔ وقت تقریباً افطار کے بعد سے رات 11 بجے تک ۔جزاک اللّٰہ
سیّد غفران
شعبہ نشر و اشاعت و معاون لیبر کونسلر یو سی5
جماعتِ اسلامی حلقہ ملّت گارڈن ،اے ون ایریا ۔
پانچ اپریل کو وزیراعلی ہاؤس پہ دھرنا دیا جائے گا سیکرٹیریٹ اور سی سی پی افس بھی دور نہیں حق دو کراچی تحریک جاری ہے منعم ظفر خان کا ملیر ہالٹ سانحے احتجاجی مظاہرے سے خطاب ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Website
Address
Karachi
