Rj Shahzad Hussain

Rj Shahzad Hussain

Share

Pakistan Fm Radio Tv Blogger Artist News Music Entertainment RadioRjsh Rj shahzad fm radio Music r

30/05/2026
WaveUp Radio – WhatsApp channel 28/05/2026

WaveUp Radio – WhatsApp channel Follow WaveUp Radio's WhatsApp channel. WaveUp Radio is a vibrant multi-genre digital radio service focusing on contemporary Afrobeat, Gospel, Reggae, R&B, Bollywood/Desi, Dancehall, Slow Jams and Chill Beats. The station reflects the rich cultural soundscape of North East London and South West Essex. It is an African, Caribbean and Asian radio station with DJ's and listeners across the globe.. Join 3 followers for the latest updates.

18/05/2026

live Video

16/05/2026

Anmol Pinky Case Explained | The Dark Truth Behind Pakistan’s System | shtv



,
viral Pakistani case,
social media reality,
Pakistan current affairs,
crime and politics,
Pakistani YouTube content,
Anmol Pinky exposed,
crime network Pakistan,
Pakistan viral news,
Urdu documentary,

08/05/2026

“اگر ایک لڑکی عدالت کے باہر کھڑے ہو کر یہ کہے…
کہ ‘مجھے یقین ہے کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا…’
اور پھر چند دن بعد واقعی اُس کی لاش مل جائے…
تو سوال صرف قاتل کا نہیں رہتا…
سوال پورے معاشرے کا بن جاتا ہے…”

آج کی یہ کہانی…
صرف ایک خبر نہیں…
یہ ایک چیخ ہے…
ایک ایسی چیخ… جو سکھر کی عدالت سے اٹھی…
اور پورے پاکستان میں گونج گئی۔

ایک نوجوان خاتون…
کانپتی ہوئی آواز…
خوف زدہ آنکھیں…
اور میڈیا کے سامنے کہے گئے چند الفاظ…

“مجھے یقین ہے کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا…”

شاید اُس وقت بہت سے لوگوں نے یہ جملہ سنا ہوگا…
لیکن کسی نے یہ نہیں سوچا ہوگا…
کہ چند دن بعد یہی جملہ ایک ہولناک حقیقت بن جائے گا۔

یہ کہانی ہے گلاں بھارو کی…
سندھ کے علاقے گلاں بھارو سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون…
جو صرف زندہ رہنا چاہتی تھی…
محفوظ رہنا چاہتی تھی…
لیکن وہ اس معاشرے کے ہاتھوں ہار گئی…
جو آج بھی عورت کی مرضی کو جرم سمجھتا ہے۔

گلاں بھارو شادی شدہ تھی…
دو بچوں کی ماں تھی…
اور میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ گھریلو مسائل اور تشدد سے پریشان تھی۔

اس نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
وہ انصاف مانگنے آئی تھی۔
تحفظ مانگنے آئی تھی۔

عدالت کے باہر اس نے میڈیا سے گفتگو کی…
اور کہا کہ اسے اپنی جان کا خطرہ ہے۔

سوچیے…
ایک عورت کتنی خوف زدہ ہوگی…
کہ وہ کھلے عام کیمروں کے سامنے اپنی موت کا اعلان کر رہی تھی۔

لیکن افسوس…
ہمارے معاشرے میں عورت کی چیخیں اکثر دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ جاتی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق گلاں بھارو پر “کاروکاری” کا الزام لگایا گیا۔
یعنی وہ ظالمانہ رسم…
جس کے نام پر سندھ کے کئی علاقوں میں عورتوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔

غیرت…
عزت…
روایت…

یہ وہ الفاظ ہیں…
جنہیں بعض لوگ اپنے جرائم چھپانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ذرا سوچیں…
کیا غیرت اتنی کمزور ہو گئی ہے…
کہ اسے بچانے کے لیے ایک عورت کی جان لینا ضروری ہو؟

گلاں بھارو نے مدد مانگی تھی۔
پولیس سے بھی…
عدالت سے بھی…

یہاں تک کہ عدالت نے اسے دارالامان بھیجنے کا حکم بھی دیا۔

مگر پھر…
کہانی نے ایک خطرناک موڑ لیا۔

رپورٹس کے مطابق بعد میں خاندان کی یقین دہانی پر اسے واپس بھیج دیا گیا۔

اور یہی وہ لمحہ تھا…
جہاں شاید اُس کی زندگی کا آخری باب شروع ہو چکا تھا۔

چند دن بعد خبر آئی…
کہ گلاں بھارو کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ہے۔

اور سب سے چونکا دینے والی بات؟

جس شخص پر قتل کا الزام لگا…
وہ کوئی اجنبی نہیں تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکزی ملزم اُس کا اپنا ماموں تھا۔

یعنی وہ شخص…
جسے شاید بچپن میں اس نے احترام سے دیکھا ہوگا…
جسے خاندان کہا جاتا تھا…
وہی اُس کی موت کا سبب بن گیا۔

یہاں سوال صرف ایک قتل کا نہیں۔
سوال یہ ہے…
کہ آخر عورت کب تک اپنے ہی گھروں میں غیر محفوظ رہے گی؟

کب تک “لوگ کیا کہیں گے”
ایک عورت کی جان سے زیادہ اہم رہے گا؟

کب تک بیٹیوں کو خاموش رہنے کی تربیت دی جائے گی؟

اور کب تک قاتل…
غیرت کے نام پر ہمدردیاں لیتے رہیں گے؟

سوشل میڈیا پر اس واقعے نے آگ لگا دی۔
لوگ غصے میں تھے۔
ہر کوئی یہی پوچھ رہا تھا:

“اگر عدالت کے باہر مدد مانگنے والی عورت بھی محفوظ نہیں…
تو پھر کون محفوظ ہے؟”

یہ سوال صرف سندھ کا نہیں۔
یہ سوال پورے پاکستان کا ہے۔

کیونکہ ہر سال…
کئی عورتیں “غیرت” کے نام پر مار دی جاتی ہیں۔

کسی کا قصور صرف اپنی پسند سے شادی کرنا ہوتا ہے…
کسی کا قصور گھر سے نکلنا…
اور کسی کا قصور صرف اپنی مرضی سے جینا ہوتا ہے۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں…
جہاں عورت سے کہا جاتا ہے:
خاموش رہو… برداشت کرو… ڈرو…

اور اگر وہ بول پڑے…
تو اسے باغی قرار دے دیا جاتا ہے۔

گلاں بھارو کی ویڈیو آج بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔
لوگ اُس کی آنکھوں میں خوف دیکھ رہے ہیں۔
اور شاید پہلی بار…
بہت سے لوگوں کو یہ احساس ہو رہا ہے…
کہ بعض اوقات انسان اپنی موت کو پہلے ہی محسوس کر لیتا ہے۔

لیکن سب سے افسوسناک بات یہ ہے…
کہ ہم ہر بار صرف افسوس کرتے ہیں۔

ایک نئی خبر آتی ہے…
ہم غصہ کرتے ہیں…
پوسٹیں لگاتے ہیں…
اور پھر اگلی خبر کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔

جبکہ کسی گھر میں ایک ماں اپنی بیٹی کھو دیتی ہے…
دو بچے اپنی ماں سے محروم ہو جاتے ہیں…
اور ایک عورت ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتی ہے۔

سوچیے…
اگر اُس دن…
اُس کی فریاد کو سن لیا جاتا…
اگر واقعی اسے تحفظ دیا جاتا…
تو شاید آج وہ زندہ ہوتی۔

شاید آج وہ اپنے بچوں کے ساتھ ہوتی۔

لیکن اب…
صرف ایک جملہ باقی رہ گیا ہے…

“مجھے یقین ہے کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا…”

اور افسوس…
وہ درست ثابت ہوا۔

#سکھر



#کاروکاری





honor killing in Pakistan news
ghairat ke naam par qatal cases
women safety issues Pakistan
domestic violence awareness Pakistan
human rights violations Pakistan
latest honor killing incidents Karachi / Sindh
laws against honor killing Pakistan
women protection laws Pakistan
social issues in Pakistan radio news

05/05/2026

Rj Shahzad Hussain Live -WaveUp DAB Radio LONDON | live | facebook live |

04/05/2026

RJ Shahzad Hussain Live on WaveUp Radio | Afrobeats Lunch Vibes & Bollywood Desi Beats

Get ready for non-stop energy with DJ Shahzad Hussain on WaveUp Radio!

Weekdays bring you the ultimate music experience with two powerful shows:

Afrobeat Lunch Vibes
12 PM – 3 PM (UK Time)
Enjoy the best Afrobeat hits with good music, good vibes, and pure energy.

Bollywood Desi Beats
3 PM – 6 PM (UK Time)
From classic hits to chartbusters, dive into the world of Bollywood and Desi music.

One Station. One Vibe. One Family.

Tune in now and turn up the volume!
Listen Live: www.waveupradio.com
Follow us for more updates:

Photos from Rj Shahzad Hussain's post 03/05/2026

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

Karachi
74200