Pak Defenders Association

Pak Defenders Association

Share

for support of pakistan defenders

17/04/2026

سیدنا علی بن ابی طالب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لمبے قد کے تھے نہ چھوٹے قد کے ، سر مبارک ضخیم تھا ، داڑھی گھنی تھی ، ہاتھ اور پاؤں بھاری تھے ، سرخ و سفید رنگ تھا ، ہڈیوں کے جوڑ مضبوط تھے ، آپ کے سینے سے ناف تک بالوں کی لمبی لکیر تھی ، جب آپ چلتے تو آگے کو جھکے ہوتے گویا آپ بلندی سے نیچے اتر رہے ہیں ، اور میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حیات مبارکہ میں آپ جیسا کوئی دیکھا نہ آپ کے بعد ۔
(سنن ترمذی: 3637)
السلام علیکم
MTشاہ

17/04/2026

پیشانی کو جھوٹی و خطاء کار کیوں کہا گیا..

اللہ رب العزت نے سورہ علق میں ارشاد فرمایا .....

كَلَّا لَئِن لَّمْ يَنتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ (15) نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ

ہاں ہاں اگر باز نہ آیا تو ضرور ہم پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے. کیسی پیشانی جھوٹی پیشانی..

سوال بنتا ھے کہ ..

پیشانی کو جھوٹی اور خطاء کار کیوں کہا گیا ھے..

حالانکہ فیصلہ دل و دماغ سے کیا جاتا ھے..
جب سائنسدانوں نے اس پر تحقیق کی تو حیران ہو کر رہ گئے ..
کہ جو معمہ اس ترقی یافتہ دور میں حل ہوا ..

قرآن کریم نے اس کی طرف اشارہ چودہ سو سال پہلے کر دیا تھا..

دماغ کا اگلا حصہ جو پیشانی کی جانب واقع ہے وہاں سے فیصلے صادر ہوتے ہیں..

پیشانی کے اس حصے سے جذبات ظاہر ہوتے ہیں..
پیشانی کا یہی اگلا حصہ شخصیت کی صفات بناتا ھے..

محققین کہتے ہیں کہ....

پیشانی کا یہ حصہ کاٹ دیا جائے تو انسان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے گا ..
اور کچھ کرنے یا نہ کرنے کی صلاحیت کھو دے گا..

اس حصے کی ان خصوصیات کی بناء پر قرآن کریم میں فرمایا کہ ...

اسی پیشانی کے بال کھینچے جائیں گے کیونکہ یہی ارادہ کرنے فیصلہ کرنے کی جگہ ہے..

محققین نے مزید تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جانوروں میں دماغ کا یہ حصہ چھوٹا اور کمزور ہے..

اسی لیئے جانور درست فیصلہ نہیں کر سکتے اور قیادت کے اھل نہیں ہیں..

اسی طرف قرآن کریم میں یوں اشارہ ہے ..

ما من دابة إلا هو آخذ بناصيتها

کوئی جاندار نہیں مگر اس کی پیشانی رب العزت کی قدرت میں نہ ہو..

اور حدیث پاک میں یوں دعاء ھے..

ناصيتي بيدك....

اے رب میری پیشانی تیرے قبضہ قدرت میں ہے..

یعنی اکمل و اتم طور پر میں خود کو تیرے حوالے کرتا ہوں تیری مرضی کے آگے میری مرضی کچھ نہیں ہے..

اور یہی نماز میں سجدہ کرنے کی حکمت ہے کہ پیشانی کا وہ خود مختار حصہ زمین پر رکھ کر رب العالمین کی بارگاہ میں اپنے ہونے کی نفی اپنی مرضی کی نفی کر دی جاتی ہے..

کہ یاربی تو نے جو میرے اندر مختار حصہ رکھا ہے..
جو حصہ فیصلہ کرتا ہے ..
میں اسی حصے کو تیری چوکھٹ پر رکھ رہا ہوں..
تیری رضا پر میں راضی ہوں..
جب انسان سجدہ کرتا ہے تو دل سے خون دماغ میں جمع ہوتا ہے..
وہ سارے جذبات جو دل میں ہوں وہ اس وقت اس حصے میں جمع ہوتے ہیں..

غصہ نفرت بغض جرم و عصیاں یہ سب خیال کی صورت وہاں جمع ہوتے ہیں..
مگر انسان جیسے ہی وہ خیالوں گناہوں کی آماجگاہ کو زمین پر رکھ کر خود کو رب العالمین کے سپرد کرتا ھے تو رحمت کی تجلی پڑتی ہے..

حدیث پاک میں ..

بندہ سجدے کی حالت میں سب سے زیادہ رب کی رحمت کے قریب ہوتا ھے..

اور اسی وجہ سے بندے میں تبدیلیاں رو نما ہوتی ہیں..
پرسکون ہوجاتا ھے ..

تبھی روایت میں آیا غصہ آئے تو نماز پڑھنے سے جاتا رہتا ھے..
بندہ گناہوں سے باز آجاتا ہے..

تبھی قران کریم میں ہے..

ان الصلاۃ تنھی عن الفحشاء و المنکر...

نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے..

اسی لیئے طویل سجدے کرنے کا حکم ہے..

جو طویل سجدے کرتا ھے پرسکون رہتا ھے..
گناہوں سے باز رہتا ھے..

یہی حکمت ہے کہ عاملین جب جنات وغیرہ کو قابو کرنا چاہتے ہیں..

تو متاثرہ شخص کو پیشانی سے پکڑتے ہیں..

کیونکہ اسی جگہ سے ارادہ و فیصلہ کیا جاتا ھے ..
عامل جنات کے ارادے کو کمزور بناتے ہیں..
یہ قرآن کا اعجاز ہے ..
کہ ایک لفظ سے طویل سائنس کا دروازہ کھول دیا ھے!......!!!!!!! جزاک اللہ۔۔۔
MTشاہ

17/04/2026

میں نے بارہا اس موضوع پر غور کیا کہ
“موت“ کیا ہے؟
اس سے زندگی کا کیا رشتہ ہے؟
ایک دفعہ میں نے ایک سمندری جہاز دیکھا، جب وہ ساحل سے دور ہوا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا تو لوگوں نے کہا کہ “چلا گیا“۔
میں نے سوچا دور ایک بندر گاہ ہو گی، وہاں یہی جہاز دیکھ کر لوگ کہہ رہے ہوں گے کہ "آ گیا“۔
شاید اسی کا نام موت ہے، ایک پرانی زندگی کا خاتمہ اور نئی زندگی کی ابتداء۔

خلیل جبران
MTشاہ

17/04/2026

قرآن پاک میں بیان کردہ مہارتیں جو زندگی کے لیے بہت ضروری ہیں ۔۔
1. معاف کر دینے کی مہارت
* قرآنی نکتہ: سورہ الشوریٰ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ''اور جو صبر کرے اور معاف کر دے، تو یقیناً یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔'' (آیت: 43)
* عملی مہارت : یہ "نظر انداز کرنے" اور جذباتی بوجھ سے آزادی کی مہارت ہے۔ انتقام کی آگ میں جلنے کے بجائے معاف کر دینا آپ کے اعصاب کو سکون دیتا ہے اور آپ کو اپنی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ لیڈرشپ کی ایک بڑی صفت ہے۔
2. وسائل کا متوازن استعمال
* قرآنی نکتہ: سورہ الشوریٰ میں ذکر ہے: ''اگر اللہ اپنے تمام بندوں کے لیے رزق فراخ کر دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کرتے، لیکن وہ ایک حساب سے جتنا چاہتا ہے اتارتا ہے۔'' (آیت: 27)
* عملی مہارت : یہ "قناعت اور کفایت شعاری" کی مہارت ہے۔ آپ کے پاس جتنا بھی ہے، اسے حکمت اور ضرورت کے مطابق استعمال کرنا۔ یہ سبق دیتا ہے کہ کثرتِ وسائل سے زیادہ اہم "وسائل کا صحیح انتظام" ہے تاکہ انسان غرور اور سرکشی سے بچ سکے۔
3. سماجی برابری اور عجز/انسانیت
* قرآنی نکتہ: سورہ الزخرف میں اللہ فرماتا ہے: ''ہم نے ہی ان کے درمیان ان کی معیشت تقسیم کی... تاکہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔'' (آیت: 32)
* عملی مہارت : یہ "نیٹ ورکنگ اور باہمی تعاون" کی مہارت ہے۔ یہ سمجھنا کہ کوئی انسان دوسرے سے بڑا نہیں، بلکہ ہم سب ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ اپنے سے مالی طور پر کمزور لوگوں کی عزت کرنا اور ٹیم میں سب کو اہمیت دینا اس مہارت کا خاصہ ہے۔
4. مثبت سوچ اور شکر گزاری
* قرآنی نکتہ: سورہ الجاثیہ میں کائنات کی تسخیر کا ذکر ہے: ''اور اس نے تمہارے لیے مسخر کر دیا جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اپنی طرف سے۔'' (آیت: 13)
* عملی مہارت: اسے درست ذہنی صحت " کہتے ہیں۔ یہ یقین رکھنا کہ کائنات کی ہر چیز انسان کے فائدے کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ سوچ انسان کے اندر جستجو پیدا کرتی ہے اور اسے نئی ایجادات اور بہتری کی طرف مائل کرتی ہے۔
خلاصہ پارہ 25
اس پارے کا مرکز "توازن اور عاجزی" ہے۔ معافی کے ذریعے ذہنی سکون، قناعت کے ذریعے مالی سکون، اور دوسروں کی عزت کے ذریعے سماجی سکون حاصل کرنا ہی اصل دانائی ہے۔
قرآن کریم واقعی کتاب حکمت ہے جس سے زندگی بسر کرنے کے واضح طریقے معلوم ہوتے ہیں
MTشاہ

16/04/2026

"آپ کے دشمن ہمیشہ آپ کے آس پاس ہوتے ہیں، کوئی غیر آپ کا برا نہیں چاہتا....
MTشاہ

16/04/2026

جانتے ہیں وَاجْبُرْنِي" کا مطلب کیا ہے؟"

جب ہم نماز میں دو سجدوں کے درمیان بیٹھتے ہیں تو ایک دعا پڑھتے ہیں:

اللّهُمّاغْفِرْلِي، وَارْحَمْنِي، وَعَافِنِي، وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي، وَاجْبُرْنِي، وَارْفَعْنِي
ترجمه
اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما،، مجھے عافیت عطا فرما، مجھے ہدایت دے , مجھے رزق دے اور میری کمیوں کو پورا فرما۔مجھے سربلندی عطا کر۔

حدیث
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ دو
سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھتے تھے۔
(سنن ابی داؤد (850)
( جامع ترمذی، 284)
اس دعا میں ایک لفظ آتا ہے "وَاجْبُرْنِي"۔
عربی میں جبر کا مطلب ہوتا ہے ٹوٹے ہوئے کو جوڑ دینا،
بکھرے ہوئے کو سمیٹ دینا اور زخم پر ایسا مرہم رکھ
دینا جو درد کو ٹھنڈک دے۔
سوچیں!
جب کہیں گہرا زخم لگ جائے، خون بہہ رہا ہو،
درد برداشت سے باہر ہو
اور کوئی آ کر اس زخم پر نرمی سے ٹھنڈا مرہم رکھ دے
تو اس عمل کو جبر کہتے ہیں۔
جب بنده دو سجدوں کے درمیان عاجزی سے بیٹھ کر
کہتا ہے:
"" وَاجْبُرْنِي"
تو وہ دراصل اللہ سے یہ مانگ رہا ہوتا ہے کہ
اے اللہ! میرے دل کی ٹوٹ پھوٹ جوڑ دے!
میرے زخموں پر مرہم رکھ دے!
میری کمیوں کو پورا کر دے!
اور میرے بکھرے ہوئے حال کو سنوار دے!
انسان کے دل کے زخم ہوں، روح کی تھکن ہو، یا زندگی کی ٹوٹ پھوٹ،
ان سب کا مرہم نماز میں ہی موجود ہے۔
MTشاہ

16/04/2026

پاکستان کے قانون کی 30 مشہور دفعات
ہر شہری کو قانون کے بارے میں بنیادی معلومات ہونی چاہئیں۔ پاکستان کے قانون Pakistan Penal Code (PPC) میں مختلف جرائم کے لیے الگ الگ دفعات موجود ہیں۔ چند اہم دفعات یہ ہیں:

1️⃣ دفعہ 34 — مشترکہ نیت سے جرم کرنا
2️⃣ دفعہ 109 — جرم میں مدد یا اکسانا
3️⃣ دفعہ 120-B — مجرمانہ سازش
4️⃣ دفعہ 141 — غیر قانونی مجمع
5️⃣ دفعہ 148 — ہتھیار کے ساتھ ہنگامہ آرائی
6️⃣ دفعہ 153-A — فرقہ وارانہ نفرت پھیلانا
7️⃣ دفعہ 186 — سرکاری اہلکار کے کام میں رکاوٹ
8️⃣ دفعہ 188 — سرکاری حکم کی خلاف ورزی
9️⃣ دفعہ 295 — مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا
🔟 دفعہ 295-A — مذہبی توہین

1️⃣1️⃣ دفعہ 298 — مذہبی جذبات کو مجروح کرنا
1️⃣2️⃣ دفعہ 302 — قتل کی سزا
1️⃣3️⃣ دفعہ 304 — غیر ارادی قتل
1️⃣4️⃣ دفعہ 307 — قتل کی کوشش
1️⃣5️⃣ دفعہ 324 — جان سے مارنے کی کوشش
1️⃣6️⃣ دفعہ 337 — جسمانی چوٹ پہنچانا
1️⃣7️⃣ دفعہ 354 — عورت کی بے حرمتی
1️⃣8️⃣ دفعہ 365 — اغوا
1️⃣9️⃣ دفعہ 376 — زیادتی کا جرم
2️⃣0️⃣ دفعہ 379 — چوری

2️⃣1️⃣ دفعہ 392 — چھینا جھپٹی
2️⃣2️⃣ دفعہ 395 — ڈکیتی
2️⃣3️⃣ دفعہ 399 — ڈکیتی کی تیاری
2️⃣4️⃣ دفعہ 402 — ڈکیتی کے لیے اجتماع
2️⃣5️⃣ دفعہ 406 — امانت میں خیانت
2️⃣6️⃣ دفعہ 420 — دھوکہ دہی
2️⃣7️⃣ دفعہ 427 — نقصان پہنچانا
2️⃣8️⃣ دفعہ 452 — زبردستی گھر میں داخل ہونا
2️⃣9️⃣ دفعہ 468 — جعل سازی
3️⃣0️⃣ دفعہ 489-F — چیک باؤنس

قانون کا علم ہر شہری کے لیے ضروری ہے۔
اپنے حقوق بھی جانیں اور دوسروں کے حقوق کا بھی احترام کریں۔
MTشاہ

16/04/2026

دنیا میں راکٹ اور میزائل سازی کا بانی اکثر ٹیپو سلطان کو سمجھا جاتا ہے۔ مؤرخین کے مطابق انہوں نے 1792ء کی جنگ میں انگریزوں کے خلاف پہلی مرتبہ جنگی راکٹ نہایت مؤثر انداز میں استعمال کیے، جنہوں نے دشمن پر کاری ضرب لگائی اور اسے عبرت ناک نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ راکٹ محض تجربہ نہیں تھے، بلکہ باقاعدہ فوجی حکمتِ عملی کا حصہ تھے۔
ہندوستان کے سابق صدر اور عظیم سائنس دان اے پی جے عبدالکلام نے بھی اس حقیقت کا برملا اعتراف کیا تھا کہ ٹیپو سلطان دنیا کے پہلے جنگی راکٹ کے موجد تھے۔ ان کے مطابق جدید میزائل ٹیکنالوجی کی ابتدائی شکل ٹیپو سلطان ہی کے تیار کردہ راکٹوں میں نظر آتی ہے۔
ٹیپو سلطان کے بنائے ہوئے راکٹوں کا ماڈل آج بھی لندن کے ایک میوزیم میں محفوظ ہے، جبکہ انگریز سامراج کے خلاف استعمال کی جانے والی اُن کی توپیں British Museum لندن کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ یہ نوادرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جس شخص کو ایک باغی یا مخالف کے طور پر پیش کیا گیا، وہ درحقیقت عسکری سائنس کا ایک بڑا موجد بھی تھا۔
یہی نہیں، بلکہ امریکہ کے خلائی تحقیق کے ادارے NASA کے میوزیم کی ایک دیوار پر بھی ٹیپو سلطان کے ایجاد کردہ راکٹوں اور میزائلوں کی تصاویر آویزاں ہیں۔ یہ اعتراف اس بات کی واضح دلیل ہے کہ برصغیر کا یہ حکمران صرف اپنی سرزمین کا محافظ نہیں تھا، بلکہ عالمی سائنسی تاریخ کا ایک اہم کردار بھی تھا۔
اللہ تعالیٰ ہمارے تمام صالح مسلم اسلاف حکمرانوں کے سنہرے کارناموں کے صدقے ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی قبور پر اپنی رحمتوں کی بارش برسائے آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الکریم رؤف الرحیم خاتم الانبیاء و المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم.
MTشاہ

16/04/2026

"جوڑے آسمان پر بنتے ہیں"
یہ جملہ ہمارے ہاں بہت عام ہے۔اگرچہ یہ جملہ بھی قابل تاویل ہے کہ آسمان سے مراد لوح محفوظ ہے اور بننے سے مراد تقدیر میں لکھا ہونا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے قرآن میں متعدد جگہ مخلوق کے متعلق جوڑا جوڑا بنانے کا ذکر کیا ہے ۔ انسانوں کے متعلق اللہ تعالی فرماتا ہے :
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (الروم:21)
ترجمہ: اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے تمہاری بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ، اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کردی ، یقینا غوروفکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔
اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی نے مردوں کے لئے اسی کى جنس سے ہی عورتوں کو پیدا کیا ہے تاکہ ایک دوسرے سے شادی کرکے جوڑا جوڑا بن جائے اور ایک دوسرے کے راحت وسکون کا باعث بن جائے ۔اگر مرد وعورت کی جنس الگ الگ ہوتی مثلا مرد انسانوں میں سے اور عورتیں حیوان میں سے تو ایک پھر دوسرے کا جوڑا بننا اور قلبی سکون ملنا ناممکن تھا۔ اس وجہ سے اللہ تعالی نے مرد کو اسی کی جنس سے بیوی اور عورت کو بھی اپنی ہی جنس سے شوہر دیا۔ پھر اللہ نے ہمیں جوڑے بننے اور زندگی گذارنے کا سنہرا اصول بھی دیاجسے شادی کہتے ہیں ۔ مگر لوگ جس مفہوم میں استعمال کرتے ہیں اس سے وہ سارا معاملہ تقدیر پر ڈال دیتے ہیں اور اپنی غلطی کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ میاں بیوی میں اختلاف شیطان کا پسندیدہ کام ہے اور یہی رشتوں کو خراب کرتا ہے سب سے بڑی بات جو ان رشتوں سے متعلق ہے جو چل نہیں پاتے کہ بعض اوقات اللہ انسان کو نہ صرف انسان کے ذریعے سے آزماتا ہے بلکہ کئی بار ہم جب نامناسب لوگوں سے ملتے ہیں تو اصل میں اللہ ہماری تربیت کر رہا ہوتا ہے اسی لئے آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ کچھ لوگوں کی دوسری شادی پہلی سے زیادہ کامیاب ہوتی ہے کیونکہ ان باتوں پر جن پر پہلے صبر نہیں ہوتا تھا دوسری بار میں بغیر محنت کے ہو جاتا ہے اسی طرح ہم مشکل حالات سے گزر کر مضبوط ہو جاتے ہیں کسی کا شوہر یا بیوی کا غلط ہونا اس انسان کو بذات خود غلط نہیں کرتا جیسے بی بی آسیہ فرعون کے گھر میں رہ کر نرم طبع تھیں اور حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی نبی کے گھر میں نرمی سے محروم تھی بس ایک دعا جو قرآن نے ہی بتائی ہے مسلسل پڑھیں کہ اے ہمارے رب ہمیں ظالموں کے لیے تختہ مشق نہ بنانا آمین یارب العالمین
MTشاہ

16/04/2026

نیچے تصاویر میں دو احادیث مبارکہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم بیان ہے جن میں ایک دعا مشترکہ ہے اور وہ ہے عافیت کا سوال کیا آپ جانتے ہیں کہ عافیت کیا ہے اور ہماری زندگی میں عافیت کی کیا قیمت ہے؟" عافیت عربی زبان کا لفظ ہے اور یہ عفا سے نکلا ہے۔ اور عفا کا مطلب ہے، سلامتی، درگزر، تحفظ، بچاؤ، آرام اورسکون دیا گیا ۔ عافیت کا لفظ نیکی ،خیریت اور بھلائی کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ درحقیقت عافیت ہر بلا ، مصیبت ، مرض اورکرب سے شفا کا نام ہے۔اللہ پاک ہم سب کی زندگیوں میں عافیت عطاء فرمائے آمین یارب العالمین
MTشاہ

16/04/2026

اَن پڑھ تھا۔مستری کے پیچھے مزدوری کرتے اُسے ابھی صرف 15 دن ہی ہوئے تھے چنائی کا کام جاری تھا۔ وہ ایک صبح کام پر آیا اور مالک نے کہا یار آپکے استاد کا فون آیا ہے اُسے کوٸی ایمرجنسی بن گئی ہے۔آپ بھی آج چھٹی کرو۔
دیہاڑی ٹوٹنے کا خوف اپنی جگہ لیکن شوق نے انگڑائی لی۔
کہنے لگا صاحب میں مستری کا کام کروں گا مجھے مزدوری مزدور والی ہی دے دیجئے گا۔
تھوڑی ہچکچاہٹ کے بعد مالک راضی ہوگیا اور اُس نے اینٹوں کی چُنائی شروع کردی۔
ہاتھ کو ایڈجسٹ ہوتے کوئی دو گھنٹے لگے۔
شام تک استاد کے برابر کام کر لیا اور صفائی کا بھی خاص خیال رکھا۔
صاحب نے خوش ہوکر اُسے کچھ رقم ذیادہ دے دی۔
اگلے دِن استاد آکر حیران ہوا کہ اُسکےمزدور نے اتنا اچھا کام کیا اُس نے بھی دو سو روپیہ انعام دیا اور کہا آج کے بعد تم میرے ساتھ مستری ہوگے اور تمھیں اسی مکان کی تکمیل تک سب کچھ سکھا دوں گا۔
4 ماہ میں وہ کافی حد تک کام سیکھ چکا تھا۔
لیکن اُس کی ایک عادت تھی کہ ہر ہفتے کچھ پھل یا تحفہ لیکر استاد کے گھر جاتا اور وہاں دونوں اکٹھے گپ شپ کرتے اور چائے پیتے۔
ایک دن اُس نے استاد سے کہا کہ استاد جی روڈ پر فلاں جگہ پلازہ بننے لگا ہے ابھی اُس کا مختلف ٹھیکیداروں سے ریٹ چل رہا ہے۔ 400 کم از کم ریٹ ملا ہے مالک کو۔
ہم 350 میں پکڑ لیں۔
یار جیسے تم بہتر سمجھو ۔۔۔۔۔کر لو فاٸینل اگر ملتا ہے تو۔۔۔۔۔ پر لیبر اور مشینری ذیادہ چاہئے ہوگی۔
ہو جائے گا استاد جی۔
15 ماہ میں پلازہ مکمل کیا۔اور 200 لاکھ کی بچت کے ساتھ ساتھ دو اور پلازوں کے ٹھیکے پکڑ لیئے۔
صرف 44 سال بعد موصوف نے استاد کے نام سے کنسٹرکشن کمپنی بنالی اور استاد اور وہ اب ذیادہ دفتر میں بیٹھ کر کام کرنے لگے۔ایک بندہ دفتر میں ڈیزاٸنرز اور میٹیریل کی فراہمی دیکھتا تو دوسرا موقعوں پر کام کا جائزہ لیتا۔
اسطرح وہ بندہ جس نے مزدوری سے کام شروع کیا اور وہ مستری جس نے اپنے شاگرد پر اعتماد کیا کروڑ پتی بن گئے۔اپنے نیچے کئی پڑھےلکھے لوگوں کیلئے اچھے روزگار اور ملازمت کا باعث بھی بنے۔
ایسی ایک نہی سینکڑوں مثالیں ہمیں اپنے اردگرد نظر آتی ہیں۔اِس ترقی میں کیا کیا شامل تھا:

سب سے پہلےخوداعتمادی:
اگر پہلے دن مزدور خوداعتمادی سے اینٹوں کی چنائی سے ڈرتا تو ہمیشہ مزدوری ہی کرتا رہتا۔اُس نے سوچا ہوگا ذیادہ سے ذیادہ ناکام ہی رہوں گا تو کوٸی بات نہیں مالک کا نقصان بھر دوں گا۔

استاد کا شاگرد پر بھروسہ:
اگر استاد مزدور کی حوصلہ افزائی نہ کرتا تو استاد بھی اُسی مقام پر رہتا۔

استاد کی عزت اور رہنماٸی:
اگر وہ سمجھتا کہ مجھے کام آگیا ہے میں اب اپنا کروں گا یعنی احسان فراموش نکلتا تو بھی ترقی نا کرتا۔

محبت اور خلوص:
ایک دوسرے سے محبت اور خلوص کی بنیاد پر ہی یہ ترقی ہوئی

حسد سے ماورہ تعلق:
یہ بھی بہت ضروری ہے

ایمانداری:
دونوں میں سے کوٸی ایک علیحیدہ سے صرف اپنا ٹھیکہ پکڑتا یا پیسوں میں کوئی ہیر پھیر کرتا تو بھی یہ ترقی ممکن نہ تھی۔

وعدے کی پابندی:
کام کی وقت پر اچھے طریقے سے تکمیل سے لوگوں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔

دعا اور مقدر:
مذکورہ بیان کردہ خصلتوں سے دعائیں بھی ٹارگٹ ہٹ کرتیں ہیں اور مقدر بھی بن جاتا ہے۔

اور سب سے بڑی بات:
دھوکہ تبھی ہوتا ہے جب اپنی نیت میں بھی کھوٹ ہو۔“
MTشاہ

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Karachi