مشورہ دیں۔۔۔ کیا ہالٹنگ چارجز کی لسٹ جاری کرنے سے پہلے پاکستان بھر کے گڈز ٹرانسپورٹرز اور رہنماؤں کا مشترکہ اجلاس بلایا جانا چاہیے یا اگلے چند روز میں یہیں فیس بک پر ڈیٹینشن چارجز/دیہاڑی کی طے شدہ لسٹ جاری کر دی جائے۔؟
Critical view
#tranportation #service #personal blog
12/02/2022
https://youtu.be/f6LyVBWqXNg
ایک اچھا ٹرانسپورٹر بننے کے لیے اس لنک کو چیک کریں۔
یہ 2 ایپس ٹرانسپوٹرز (ٹرک مالکان اور ڈرائیورز) کے لیے ہیں۔ یہ ٹرانسپورٹ سسٹم میں ایک نئی تبدیلی ہے۔
پلے اسٹور پر جائیں اور ان ایپس کو ڈاؤن لوڈ کریں۔ اپنا اکاؤنٹ بنائیں اور اپنے اکاؤنٹ میں سائن ان کریں۔ شپرز سے براہ راست سامان حاصل کریں۔ اب بروکرز اور ایڈے والون کو زیادہ رقم ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اسلام علیکم
آج ڈرائیورز کی نوکری کے بارے بات کرین گے
جیسا کہ پاکستان کے کسی بھی سرکاری یا دوسرے پرائیویٹ ادارون مین چلے جائین آپ دیکھین گے جو ملازم شروع سے جس ادارے مین کام کر رہا ہے ریٹائرڈ بھی اسی مل یا ادارے سے ہوتا ہے (مین ٹرانسپورٹ کے ملازمین کے علاوہ کی بات کر رہا ہون) آئیے پھر آپ کو ہم بتاتے ہین ٹرانسپورٹ کو چلانے والے ملازمین(ڈرائیور) کی جس کو یہ بھی پتہ نہین ہوتا کہ جو چکر لوڈ کررہا ہون خالی کرنے تک میری نوکری رہے گی یا نہین جو ڈرائیور کسی گاڑی مالک کو کہتا ہے جناب مہینہ پورا ہوگیا ہے تنخواہ دین تو کہتے ہین چکر لگالین واپسی پہ مل جائے گی پھر واپسی کے انتظار مین ڈرائیور چلا جاتا ہے پھر جناب ہوتا یہ ہے جوکہ اب تقریبن ہر جگہ سے خبرین موصول ہو رہی ہین اس کو گاڑی سے چھٹی کرادی جاتی ہے پھر اس کو کہا جاتا ہے آپ کو تنخواہ مل جائے گی آپ فلان دن فون کرنا آپ کو بھیج دین گے دن گذرتے جاتے ہین اور جناب پیسے ہذم کھیل ختم پھر چوری کا الزام بھی لگایا جاتا ہے ،اگر کوئی ڈرائیور بول دے تنخواہ بڑھائین تو جناب اس کی بھی چھٹی اس مین جتنا ہم سمجھے ہین گاڑی مالکان کا قصور نہین ہےکیونکہ آپ کی اگر چھٹی کرائی جاتی ہے تو 10 ڈرائیور آنے کو تیار بیٹھے ہین ہماری نااتفاقی کی وجہ سے ہمین دھکے مل رہے ہین اگر ہم اتفاق کرین خود کو ایک پلیٹ فارم پہ جمع کرین ہم کٹھے ہون ایک ادارے کی طرح ہر ڈرائیور رجسٹرڈ ہو جس گاڑی کو چلارہا ہو اگر اس کو جواب مل جائے تو دوسرا ڈرائیور آنے سے پہلے اپنے ادارے مین اطلاع کرے فلان گاڑی نمبر پہ ڈیوٹی مل رہی ہے کیا مین جاون تو اس کے ادارے سے گاڑی کے نمبر پہ اس کی تفصیل دیکھی جائے کہ کون ڈرائیور چلا رہا تھا اس کو فون کیا جائے گاڑی کو چھوڑنے کی وجہ پوچھی جائے اگر گاڑی مالک زیادتی کی وجہ سے یا بقایہ جات رہتے ہین تو اپنا ادارہ اس ڈرائیور کو منع کرے گا کہ اس گاڑی پہ ہمارے بھائی کی بقایہ ہین اس کو ادا کرے اور بلاجواز بےروزگار کرنے کی معزرت کرے تو اس گاڑی پہ جا سکے اور ہر گاڑی مالک نے اپنا اپنا ریٹ بنایا ہوا ہے جوکہ سراسر ناانصافی اور غلط ہے ہر قسم کی گاڑی پہ ایک ماہ کی تنخواہ مقرر ہو ہمین پتہ ہونا چاہیے کنٹینر پہ تنخواہ کتنی ہےباڈی والی گاڑی پہ اور فرشے پہ کتنی ہے
دس ویلر پہ کتنی ہے چھ ویلر پہ کتنی ہے مزدہ پہ کتنی ہے شہزور کار بس بیڈفورڈ مطلب ہمین پتہ ہو ہم اس گاڑی پہ اگر جارہے ہین تو اتنی تنخواہ ہے اس کے لیے منظم طریقہ چاہیے جوکہ سب ڈرائیور بھائیون کے اکھٹے ہونے پہ ہی ممکن ہے
لہذا سوچین ہم کیا کررہے ہین اپنے ہی پیرون مین کلہاڑی ما رہے ہین اتفاق وقت کی ضرورت ہے اس مین فائدہ ہے برابری ہے عزت ہے حقوق ہین آئین مل کہ نظام مین اصلاح کرین اپنے اپنے حصہ کا دیا جلائین اگر میرے اتفاق کرنے مین کسی کے گھر کا چولہا خوشی خوشی جلتا ہے تو میرا خیال ہے یہ ایک نیکی بھی ہے
سب ڈرائیور دوستوں سے اپیل ہیں سعودی عرب کو ترجیح دے سعودی عرب آ چھی سیلری مل جاتی اور ٹائم پے اور ٹرپ ملاکر ایک لاکھ آسانی سے کما سکتا ہے جب سب ڈرائیور اس طرح کرے گے پھر ان پاکستانی ٹرانسپورٹرز کو سمجھ آئے گی
04/02/2022
اجکل موٹرویز والے جو چالاں کرتے ہیں کیا وو جائیز ہیں
نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو سماجی و اقتصادی ترقی میں اہم کردار سمجھا جاتا ہے۔ یہ تحقیق مختلف قسم کے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر (یعنی پاکستان کے لیے صنعتی پیداوار پر سڑکیں، ریلوے، بندرگاہیں اور فضائی راستے کے اثرات کا تجزیہ کرکے موجودہ لٹریچر میں حصہ ڈالتی ہے۔ چار دہائیوں کے عرصے میں سالانہ ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے، ہم عصری وقت کی سیریز کی ماڈلنگ تکنیکوں کا اطلاق کرتے ہیں۔ طویل مدتی تعلقات قائم کرنے کے لیے۔ نتائج تمام اہم متغیرات کے درمیان ایک طویل مدتی توازن کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہیں۔ محنت، سرمایہ، سڑکیں اور بندرگاہوں کا بنیادی ڈھانچہ پاکستان میں صنعتی پیداوار کو متحرک کرتا ہے۔ طویل مدتی لچک بتاتی ہے کہ 1 فیصد اضافہ بندرگاہ اور سڑک کے بنیادی ڈھانچے سے صنعتی قدر میں بالترتیب 0.36% اور 0.28% اضافہ ہوتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ کمزور ریلوے صنعتی پیداوار کو روک رہی ہیں، اور ایئر ویز کے غیر جانبدار اثرات پائے جاتے ہیں۔ ہمارے نتائج کی وجہ کے تجزیہ سے تصدیق کی جاتی ہے اور ماڈل مستحکم پایا جاتا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تناظر میں، ہمارے نتائج بتاتے ہیں کہ مستقبل میں ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری ٹی سیکٹر کو ملک کی صنعتی ترقی اور پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے ریلوے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
کراچی(اسٹاف رپورٹر) ٹرانسپورٹرز نے اوورلوڈنگ کے خاتمے کیلیے نئی قانون سازی اور اوورلوڈنگ مافیا سے نجات کے لیے جماعت اسلامی سے مدد مانگ لی. امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کراچی گڈز کیئرئر ایسویسی ایشن کی قیادت کو قومی اسمبلی اور سینیٹ معاملہ اٹھانے کی یقین دہانی کرا دی۔ تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی کے وفد کے ہمراہ کراچی گڈز کیئرئر ایسوسی ایشن کے صدر کی دعوت پر ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ جہاں انہیں بتایا گیا کہ گڈز ٹرانسپورٹر اوورلوڈنگ مافیا سے پریشان ہیں. بظاہر لوگ کے سمجھتے ہیں کہ گڈز ٹرانسپورٹر اوور لوڈنگ کے ذمے دار ہیں جبکہ صورتحال اس کے برعکس ہے. درحقیقت گڈز ٹرانسپورٹر صنعتکاروں اور انڈسٹری مافیا کے ہاتھوں عملاً یرغمال ہیں اور انہیں کے دباؤ پر اوورلوڈنگ پر مجبور ہیں. انہوں نے بتایا کہ بنگلا دیش اور افغانستان جیسا ملک بھی اوورلوڈنگ کو برداشت نہیں کرتا لیکن پاکستان میں اعلیٰ حکومتی حکام اور بڑے مافیا کے دباؤ کے باعث اوورلوڈنگ کا عذاب مسلط ہے. جس سے ملک کو قوم کو اربوں روپے کے نقصان ہوتا ہے جبکہ سالانہ سیکڑوں قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔ اوورلوڈنگ سے ہر سال ملک کا 65 ارب سپر ہائی وے کی مرمت میں لگ جاتا ہے۔ اگر اوورلوڈنگ کو حکومت ختم کرے تو ہماری سڑکیں بھی صحیح رہیں گی. حادثات بھی کنٹرول ہونگے اور ملک کا پیسہ بھی ضائع ہونے سے بچ جائے گا۔ انڈسٹری مافیا اپنا منافع بڑھانے کے لئے اوورلوڈنگ کرواتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ آسمان سے چھوتی مہنگائی، ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، ڈالر کا روز بروز بڑھنا اور پولیس اور موٹروے کی لوٹ مار سے گڈز ٹرانسپورٹر تنگ آ چکے ہیں۔ گاڑی مالکان کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے گاڑیاں کھڑی کر چکے ہیں۔ اوورلوڈنگ سے ملک کی شاہراہوں کو نقصان سے بچانے کے لیے اوور لوڈنگ ختم کرنے کے قانون پر عملدرآمد کیا جائے اور اس میں ملوث لوگوں کو سزا کیلیے قانون سازی کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اوور لوڈنگ پر عملدرآمد کرنے پر گڈز ٹرانسپورٹرز 22 دن کی ہڑتال بھی کر چکے ہیں۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملاقاتیں لوگوں کو سمجھنے کا بڑا ذریعہ ہیں عام تاثر ہے کہ گڈز ایک مافیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹرز خود مافیاز کے ہاتھوں یرغمال ہیں، انہوں نے محمد اسلم ، غلام محمد آفریدی اور ملک شیر خان کو یقین دہانی کرائی کہ جماعت اسلامی اس معاملے کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپنے اراکین کے ذریعے اٹھائے گی تاکہ ملکی معیشت میںشہ رگ کا کردار ادا کرنے والوں کے مسائل حل ہو سکیں.
15/01/2022
1990 میں بنایا گیا منصوبہ تیس سال بعد پورا ہونے جا رہا ہے....پشاور تا کراچی موٹروے کا آخری مِسنگ لنک سکھر تا حیدرآباد بننے کے بعد بھی اگر گڈز ٹرانسپورٹ موٹرویز پر منتقل نہیں ہوتی تو پھر کیا فائدہ یہ موٹرویز بنانے کا.؟ دیکھیے M6 موٹروے کے بارے میں شاندار معلوماتی رپورٹ ٹرانسپورٹ نیوز 24 کی اس ویڈیو میں.
ویڈیو لنک: https://youtu.be/KVnF0LbAfAA
Well Done Team 👍 Transport News 24
تیس سال پرانا منصوبہ اب ہوگا پورا Website: www.transportnews24.comFacebook: www.facebook.com/transportnews24/Twitter: www.twitter.com/News24TransportWhatsApp: 0092-31-66-0000-24 ...
05/01/2022
قدرتی وسائل کو ضائع نہ کریں۔ #حکومت کو ریل روڈ کے لوہے کو خام مال کی شکل میں دوبارہ استعمال کرنا چاہیے جو ناکارہ ہو گیا ہے۔ (جگہ قاضی احمد بائی پاس پرانا ریلوے ٹریک ہے)
01/01/2022
Chalo mill kar Pakistan ko agay barhaein
Critical view blog
Click here to claim your Sponsored Listing.
