Jamiat Talba-e-Islam Karachi University Unit.

Jamiat Talba-e-Islam Karachi University Unit.

Share

Jamiat Talba-e-Islam Karachi University

14/04/2026

ٹی وی چینلز پر مارننگ شوز اور ڈراموں میں ہونے والے اخلاق باختہ پروگرام قابل مذمت ہیں ۔ترجمان جے یو آئی

میڈیا کو آزادی اظہار کے ساتھ ساتھ اپنی سماجی، اخلاقی اور قومی ذمہ داریوں کا بھی احساس کرنا ہوگا۔اسلم غوری

افسوس اسلامی معاشرے کیخلاف کی جانےوالی سازشوں میں حکومتی وزراء کے چینل سر فہرست ہیں ۔ترجمان جےیوآئی

غیر اسلامی، غیر شرعی قانون سازی کے بعد یہ اگلا قدم ملک کو سیکولر بنانے کی گہری سازش ہے۔اسلم غوری

پیمرا اور سنسر شپ کے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ ترجمان جےیوآئی

قوم پوچھتی ہے کہ حکمرانوں کیخلاف بیانات پر نوٹس لینے والی پیمرا کہاں ہے ۔اسلم غوری

اخلاقیات اور مشرقی اقدار کی دھجیاں اڑائی جارہی ہے ۔ترجمان جےیوآئی

فیملی کے ساتھ بیٹھ کران پروگراموں کو دیکھنا ممکن نہیں رہا ۔اسلم غوری

ملکی میڈیا پر مشرقی روایات، حیا اور خاندانی اقدار کو دانستہ طور پر پامال کیا جا رہا ہے۔ترجمان جےیوآئی

موجودہ صورتحال کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اسلم غوری

میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان

10/04/2026

جمعیت طلباء اسلام کراچی یونیورسٹی
جمعیت طلباء اسلام کراچی یونیورسٹی نے محمدی میڈیکل کالج میرپورخاص کی طالبہ فہمیدہ لغاری کے افسوسناک واقعے پر گہرے رنج و غم اور شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
صدر جے ٹی آئی کراچی یونیورسٹی عبداللہ مسعود نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی افسوسناک اور قابلِ شرم قرار دیا ہے۔
مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے کی فوری، شفاف اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائیں اور ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ ساتھ ہی تعلیمی اداروں میں طالبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
شعبہ اطلاعات و نشریات
جمعیت طلباء اسلام
کراچی یونیورسٹی

05/04/2026

مولانا فضل الرحمن ایک مخلص اور محب وطن سیاستدان ہیں۔ انہوں نے ماضی میں کئی اچھے اور بڑے کام بھی کئے ۔ اچھی چیزوں کو سراہنا چاہیے ، جب ہم کسی غلطی پر تنقید کرتے ہیں تو خوبی کو تحسین بھی کھل کر کرنی چاہیے۔ یہ پوسٹ اسی جذبے کے تحت شیئر کی جا رہی ہے۔ باقی نرم گرم چلتا ہی رہتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مولانا فضل الرحمٰن کی مدبرانہ سفارت کاری کے چند واقعات
(اسد مشہدی مانسہرہ)
معروف لبرل دانشور‎سید مزمل شاہ صاحب ایک گفتگو سننے کو ملی، جس میں شاہ صاحب ارشاد فرما رہے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر کسی بھی سفارتی مہم جوئی کے لیے پھر لبرل بلاول ہی ملک کے کام آتا ہے ۔ فضل الرحمٰن کہیں بھی ڈپلومیٹک پرپز کے لیے نہیں بھیجا جاتا ۔ وہ دراصل وطن عزیز کے فلاح و کامیابی کا راز بزعم خود سیکولر ازم اور لبرل ازم میں ڈھونڈھتے ہیں ۔ خیر ،
آپ اس تغافل آشنائی پر داد تحسین دیجئے ہم اپنے فریضے کے مطابق ، دوستوں کی معلومات میں ایک بار پھر اضافے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ معلوم نہیں ہو پا رہا کہ سید صاحب کا مطالعہ اس قدر ناقص ہے جسے وہ انگریزی کی بھاری بھرکم اصطلاحات اور کچھ فیشنی لبرلزم اور کہیں کہیں بزعم خویش دانشوری سے وزنی بنانے کا ہنر آزماتے ہیں یا وہ دانستہ کسی تعصب کا شکار ہیں ۔ بہر دو صورت ہماری یہ تحریر ان کے کام آئے گی اور دیگر قارئین کے بھی ۔

‎مولانا فضل الرحمٰن سفارتی سطح پر مملکت پاکستان کے لیے کئی ایسے کارہائے نمایاں انجام دے چکے ہیں جسے تاریخ مثالی اور تاریخی حیثیت سے یاد رکھے گی ۔ بطور مثال چند اقدامات پیش خدمت ہیں ۔

‎مولانا جب پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تو یہ سن 1988 کا زمانہ تھا ۔ بین الاقوامی دباؤ اور ضیاء الحق کی آمرانہ پالیسیوں کے نتیجے میں ، پڑوسی ملک افغانستان آتش و آہن کا ہدف بن کر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا تھا ۔ وقت کی سپر پاور سوویت یونین بکھر کر منتشر ہو چکی تھی اور اس کار خیر میں مرد مومن مرد حق کی آئین و جواں مردی حق گوئی و بیباکی کا پورا پورا ہاتھ تھا ۔ روس بحیثیت سٹیٹ پاکستان پر ایک لمحے کے لیے اعتماد کرنے کے لیے آمادہ نہ تھا ۔
روس کے ساتھ یہی سرد مہری برقرار رہی ۔ ہمارے سید صاحب سے استفسار ہے کہ کیا وہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ وہ کون سا سیاستدان تھا جس نے روس کا دورہ کیا تھا اور اس بحرانی کیفیت میں ریاستی موقف کی کامیاب وکالت و سفارت کی تھی ؟ جناب خورشید احمد ندیم کے کچھ عرصہ پہلے لکھے گئے کالم میں اس سیاستدان کا نام موجود ہیں ۔ آپ تیوری چڑھائیں یا کسی اور الجھن کا شکار ۔ تاریخ کی صداقتیں گواہ ہیں کہ وہ مولانا فضل الرحمٰن تھا ۔

‎بینظیر کے دوسرے دور حکومت میں ، یہی مولوی فارن افیئرز کمیٹی کا چیئرمین تھا ۔ اس حیثیت میں اس نے چائنا کا دورہ کیا ۔ جس میں چینی قیادت کے سامنے پاک چائنا تجارتی راہداری کا منصوبہ پیش کیا اور گوادر کے پانیوں تک سود مند اور متوازن رسائی کے تصور کے ساتھ پاکستان کو بین الاقوامی طور پر ایک مؤثر اور اہمیت کی حامل ریاست بنانے کی عملی جدو جہد کی ۔ کیا سید صاحب موصوف یہ جانتے ہیں کہ مولانا چائنہ کی کیمونسٹ پارٹی کے سالانہ اہم تقریبات کے مہمان خصوصی ہوتے ہیں پاکستان میں چائنا کے سفارتی عملے کی مولانا کے ہاں آمد و رفت تو ابھی کل کی بات ہے ۔ ابھی تین ماہ قبل ہی پاکستان کا ایک مؤقر وفد چائنا کے دورے سے واپس آیا ہے، جس میں جمعیت علماء کی نمائندگی صوبہ خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا مفتی ناصر محمود مدظلہ کر رہے تھے ۔

‎2003 میں ، جب انڈیا میں پیش آنے والے کچھ ناخوشگوار واقعات کے بعد ، بحیثیت ریاست دونوں ممالک کے درمیان شدید تناؤ اور کشاکش کا ماحول تھا ۔ دو طرفہ تعلقات منقطع ، زمینی و فضائی مواصلات ختم ، سفارتی سرگرمیوں میں سرد مہری اور خطرات کے مہیب سائے گہرے تھے تو ، وہ سیاستدان کون تھا جس نے نہ صرف انڈیا کا دورہ کیا بلکہ اس برف کو پگھلا کر ، پاکستان کے مقدمے کو کامیابی سے ہم کنار کیا ۔

‎کیا سید صاحب موصوف یہ جانتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن وہ واحد سنی لیڈر ہے جس کے لیے ایران میں قدر مندی کے مثبت جذبات موجود ہیں ۔ رہبر معظم کی حالیہ شہادت پر پاکستان کی قومی سیاسی جماعتوں میں مولانا ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اس موقع پر واضح سیاسی موقف اپنایا ۔ آپ کا لاڈلا برخوردار ایرانی سفارت خانے تعزیت کے لیے بھی حاضر ہوا ہو تو ضرور مطلع کیجئے گا ۔ میں آپکا شکرگزار ہوں گا ۔

‎رہا معاملہ افغانستان کا تو ، وہاں کے متحارب فریقین احمد شاہ مسعود ہو یا ملا عمر ، پاکستان میں وہ جس شخصیت پر اعتماد کا اظہار کرتے تھے وہ مولانا ہی تھا ۔ حامد کرزئی اور اشرف غنی ہوں یا امیر خان متقی ۔ سب پاکستان تشریف آوری کے بعد مولانا سے ملاقات کے بغیر اپنے دورہ کو ناتمام خیال کرتے رہے ہیں ۔ افغانستان میں امریکی انخلاء کے بعد قائم ہونے والی حکومت کے ساتھ پاکستانی کشمکش میں سب سے سنجیدہ اور متین رائے مولانا فضل الرحمٰن کی ہے ۔ وہ عملاً اس معاملے کا تشفی بخش حل مملکت کے کار پردازوں کے سامنے پیش کر چکے ہیں ۔

‎کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے پوری یورپین یونین کے سامنے بیلجئم میں کشمیر کے مسئلہ پر ریاستی موقف کی بیباک ترجمانی کر کے اس مسئلہ کو عالمی شناخت دینے کا اعزاز بھی مولانا کے سر ہے ۔ مشاہد حسین سید کی گواہی ریکارڈ پر موجود ہے ۔ ذرا گوگل کر لیجئے گا ۔

وہ الگ بات کہ مولوی ہونے کی وجہ سے آپ انہیں کریڈٹ دیں یا نہ دیں ۔
‎سچ تو یہ ہے کہ
‎اس دیس کی الفت میں ہم آشفتہ سروں نے
‎وہ قرض چکائے جو واجب بھی نہیں تھے

‎لیکن
‎نیرنگئ سیاست دوراں تو دیکھئے
‎منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے
‎ Amir Hashim khan

27/03/2026

With great honor and enthusiasm,Jamiat Talba-e-Islam, University of Karachi extends a warm and heartfelt welcome to Mr. Farrukh Khokhar ,Central Representative of JUI
A distinguished personality known for his firm faith in Khatm-e-Nabuwwat (ﷺ)and his deep-rooted love and unwavering commitment to the leadership of Maulana Fazl ur Rehman Rehman.Mr Farkh Khokhar Your dedication, vision, and steadfast stance continue to inspire the youth and strengthen the mission of unity and Islamic values
Zain Liaquat

23/03/2026
23/03/2026

23 مارچ 1940ء کا دن برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک تاریخی موڑ تھا، جب لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں قراردادِ پاکستان منظور کی گئی۔ یہ قرارداد برصغیر کے مسلمانوں کی اُس دیرینہ خواہش کی ترجمان تھی جس میں وہ ایک ایسی ریاست کے طلبگار تھے جہاں وہ اپنی مذہبی، سماجی اور ثقافتی آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

*قراردادِ پاکستان کی اہم نکات:*

- برصغیر کے شمال مغربی اور مشرقی علاقوں میں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں، وہاں خودمختار ریاستیں قائم کی جائیں۔
- ان ریاستوں میں مسلمان اپنی مذہبی، ثقافتی اور سیاسی آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں گے۔
- یہ قرارداد برصغیر کے مسلمانوں کی اتحاد اور یکجہتی کی علامت ہے ¹ ² ³۔

*قراردادِ پاکستان کی اہمیت:*

- یہ قرارداد برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد کا ایک اہم سنگ میل ہے۔
- اس قرارداد نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک مشترکہ مقصد کے لیے متحد کیا۔
- یہ قرارداد پاکستان کی بنیاد ہے اور اس کی اہمیت آج بھی قائم ہے ⁴ ⁵ ⁶۔
؟

14/03/2026

قرات کا ماہر
اور
حافظ قران

تفسیر میں کمال مہارت اور عالم باعمل

حدیث کی تشریح و مفھوم سنانے کا باکمال ملکہ
استاذ الحدیث اور شیخ الحدیث

ھزاروں احادیث کا حافظ


مصلے پہ جاے تو امام

مجمعے میں جاے تو مہمان خصوصی

جلسے میں جاے جلسے کی جان

پوری دنیا کے مسلمانوں کی تمنا امام کغبہ کے پیچھے نماز پڑھنے کی

اور امام کغبہ سعادت سمجھتا ہیں جب بنتا ہیں مولنا کی مقتدی

پچاس سالوں سے زیادہ سیاست و عہدہ اور حکومت میں رہا

پچاس سال میں پچاس پیسہ بھی نہ کرپشن کیا
نہ کویی أج تک ثابت کرسکا

عالمی لیڈر اور پوری دنیا میں مشھور ہونے کے باوجود

گھر کے خواتین تو دور کی بات. اج تک مولنا کی اہلیہ بہن بیٹی کی دوپٹے پر بھی کسی نا محرم کسی اینکر کی نظر نہیں
پڑی

پابند سنت اتنا کہ. اقوام متحدہ سے لیکر نیشنل اسمبلی تک گیا
کبھی پگڑی کے بغیر نہیں

کبھی بھول کر بھی پانچے ٹخنوں سے نیچے جاتے کسی نے نہیں دیکھا

سیاست کے دھکم بیل اور سخت ترین مصروفیات
میں بھی

کبھی نماز قضاء نہیں کی

بے رحم سیاست میں کروڑوں فایدے سامنے دیکھ کر بھی کبھی جھوٹ نہیں بولا

نہ جھوٹ کا سہارا لیا

کرسی کے لیے لوگ ضمیر غیرت ایمان تک بھیجتے ہیں

اپنی جیتی ہویی سیٹوں کو ہار میں بدلتے انکھوں سے دیکھا
مگر چمچہ گیری ضمیر فروشی کے قریب تک نہ گیا

اصولوں کی سیاست کی

ٹکر کا مقابلہ کیا

تن تنہا تغفن زدہ سیاست کے دلدل میں ایک ھیرے کی مانند چمکتا رہا

بدبودار نظام میں تن تنہا مشک و عمبر کی طرح مہکتا رہا

کبھی ماحول سے متاثر ہوکر اپنا حلیہ نہیں بدلا

دنیاوی مفاد کے لیے کبھی اصول نہیں بدلا

سو گالیاں ھزاروں الزام سننے کے بعد بھی مسکراتا رہا

پلٹ کر کسی مومن کو گالی کے جواب میں گالی نہیں دی

سیاست میں سیاسی مقابلہ یقینا
سب کا حق ہیں

انداز اعمال افکار اخلاق جرات و بہادری
اور کردار میں مقابلہ کویی کرکے دیکھاے

اپنا کہیں یا غیر

دشمن کہیں

یا دوست کہیں

جب بھی لفظ ''مولنا'' پکارا جاتا ہیں

مراد مولانا فضل الرحمن ہی ہوتا ہیں

مولی '''' سردار
اور
نا ''ھمارے '''

مولانا '' یعنی ہمارے سردار''

ہمارا لیڈر

ھمارا رہنما

اور ھمارا رہبر

مخالف لاکھ اختلاف کرکے بھی صرف مولنا

بول دیں

تو پھر سمجھو اپنا رہبر قاید لیڈر رہنما. وہ بھی مولنا کو ہی مانتا ہیں

سب کچھ کہنے کے بعد صرف ''' مولانا''' بولا جاے تو تعریف عزت عظمت اور تکریم خودبخود بنتی ہیں


واہ مولنا واہ

اپکے چاہنے والوں کی خیر ھو(آمین)

05/03/2026

اختلافات کے باوجود اتحاد — مکتبِ دیوبند کا پیغام
مکتبِ دیوبند سے اسی کی امید تھی
ایک صاحب نے حیرت کا اظہار کیا تھا کہ پاکستانی دیوبندی ملا ہبۃ اللہ کا ساتھ کیسے چھوڑ گئے. لوگوں کی حیرت ہنوز باقی تھی کہ اسی مکتب کی قیادت نے ایران کی حمایت کا دوٹوک اعلان کرکے قلزمِ حیرت میں مزید تلاطم برپا کردیا.
لوگ تو ان اقدامات پہ حیرت زدہ ہیں، مگر ہمیں حیرت تب ہوتی، جب ایسا نہ کیا جاتا. مکتبِ دیوبند ایک مکمل پیکج ہے. سیاسی سمجھ بوجھ، علمی رسوخ، عالمِ اسلام کا درد، محنت، سرگردانی اور سرفروشی سبھی کچھ اس مکتب کی زنبیل میں دھرا ہے. خود کو شاہ ولی اللہ جیسے شہ دماغ اور شاہ اسماعیل شہید جیسے آزادی کے متوالے سے منسوب کرتے ہیں. جنگِ آزادی میں اگلی صفوں کے سپاہی رہے. مالٹا کے اسیروں میں سب سے نمایاں نام شیخ الہند رح کا تھا. اس قافلے کے کچھ لوگوں کو لگا کہ ہندوستان کی تقسیم مسلمانوں کے حق میں درست نہیں، سو یہ کانگریس کے ساتھ چلے گئے. کچھ اصحابِ علم کو محسوس ہوا کہ نیا ملک اسلامی نظام کی تجربہ گاہ ثابت ہوگا، لہذا وہ قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھی بنے. دونوں گروہ دونوں طبقات میں بےحد نمایاں رہے.
پاکستان نے ملکی سرحدات سے باہر جھانکنے کا سوچا تو یہطبقہ وطن کی آنکھ بنا. سرخ ریچھ کو ملک سے بہت دور روکنے کا سوچا گیا تو یہ طبقہ ڈھال بنا. کشمیر میں آزادی کی صبا چلی تو اپنے لہو سے لالہ زار اگائے. سیاست کی بساط بچھی تو پوری شان و شوکت سے رنگ جمایا. نظریاتی مزاحمت کو افرادِ کار عطا کیے. تبلیغی جماعت کے روپ میں چھ براعظموں تک پہنچا. مراکش سے انڈونیشیا تک کوئی ملک ایسا نہیں، جہاں اس مکتب کے رجال کار نہ پائے جاتے ہوں.
یہ اس کی سیاسی دانش کی بیّن دلیل ہے کہ ایک ایسا ملک کہ جس نے ولایتِ فقیہ کے نظام کے نفاذ کے لیے تقریباً ہر اہل سنت ملک کو بےاماں کیا، اس کے سر پہ تنے سائباں کو جب جھلسن لپٹی تو اسی مکتب کی قیادت کے حلق سے وہ آواز ابھری، جو رنج کے نقطہء انتہا پہ حلقوم سے پھوٹتی ہے. کہا گیا کہ عقیدے کی رنجشیں اپنی جگہ، مگر یہ وقت ایران کے قدم سے قدم ملانے کا ہے. ایران عالمِ اسلام کا حصہ ہونے کی وجہ سے ہمارا بھائی ہے. حالانکہ یہ پہلا سانحہ نہیں، جس کا سامنا ایران کو کرنا پڑ رہا ہے. بلکہ اس سے قبل افغانستان، شام، عراق اور سعودی عرب پہ بھی المیے برسے، تب مکتب تشیع کے رویے کیا تھے، وہ ابھی تک حافظے کی لوح سے مٹے نہیں ہیں. مگر
اس کی وہ جانے اسے پاسِ وفا تھا کہ نہ تھا
تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے
یادش بخیر، کسی نازک موقع پر سابق مفتی اعظم پاکستان رح نے ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا تھا، تب اسی طبقے کی ایک قراقلی زیبِ سر کی ہوئی سفید ریش شخصیت نے کہا تھا کہ بابا جی سٹھیا گئے ہیں. حالانکہ ایسا نہیں تھا. یہ اسی دانش بھری روایت کا تسلسل تھا جو اس مکتب کے خمیر کا حصہ ہے. ایک زمانے میں تحریک ختم نبوت برپا ہوئی تھی. شیعہ عالم مظہر علی اظہر بھی پابند سلاسل تھے. رہائی کے بعد انہیں علم ہوا کہ دورانِ اسارت ان کے گھر کا دانہ پانی عطاء اللہ شاہ بخاری کے چاہنے والوں نے اپنے ذمے لے رکھا تھا.
نظریات کا اختلاف اپنی جگہ ہے. سیاسی یا بین الممالک تعلقات چیزے دیگر است. ان چیزوں کو پرجوش ذاکروں اور شعلہ بار خطیبوں کی صوابدید نہیں بنایا جاسکتا. میری فہرستِ دوستاں میں منبر و محراب سنبھالتے شیعہ اہل علم بھی پائے جاتے ہیں. وہ گواہی دیں گے کہ انبکس میں ہم نے گھنٹوں نظریاتی بحثیں کی ہیں، مگر جب بات ممالک کی سطح کی آجائے تو پھر ہمارا اندازِ گفتار بدل جاتا ہے. جنگِ غزہ میں جب حزب اللہ شامل ہوئی تو ہم ان چند لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے نام کر لبنانی جنگجو تنظیم کی ستائش کی تھی. جب ہنیہ کی شہادت پہ ایران کی جانب تنقیدی اور پروپیگنڈاتی سنگریزے اچھالے جارہے تھے، تب ہم نے کہا تھا کہ یہ سیکیورٹی فیلیئر ہے، ایران کی غداری نہیں. پھر وقت نے ان باتوں کو سچ ثابت کیا.
اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تاریخ بھلا دی جائے، مگر صاحب ہر وقت پرانی باتوں کی مالا جپنا بھی کوئی دانشمندی نہیں ہے. شام و یمن کے قصے کتابوں میں محفوظ ہو چکے. بہت وقت پڑا ہے ان پہ بات کرنے کو. پھر جب سعودی عرب ایران سے صلح کرچکا اور دونوں ایک دوسرے کے حامی و حمایتی بن چکے. جب ایران اور شام دونوں ایک دوسرے کے بارے مثبت ہوچکے. جب کابل بھی تہران سے یارانہ گانٹھ چکا تو صاحب آپ کیوں اس راستے کے راہی بننے پہ تلے ہوئے ہیں، جس راستے پہ ماضی کے متاثرہ ممالک "یہ راستہ بند ہے" کا بورڈ آویزاں کر چکے؟؟؟

دیوبند کا اصل چہرہ وہی ہے جو مولانا فضل الرحمن، مولانا زاہد الراشدی اور دیگر سرکردہ شخصیات دکھا رہی ہیں۔

27/02/2026

قائد جمعیت کا یادگار خطاب
پاکستان اور افغانستان کا لڑائی نہ پاکستان کی مفاد میں اور نہ افغانستان کی مفاد ہیں

21/02/2026

اب بات حد سے آگے بڑھ چکی ہے۔ Green Entertainment کی جانب سے ڈرامہ “فسانہ مارٹ کا” کو “رمضان اسپیشل” کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے مناظر اور تھیمز رمضان المبارک کے تقدس کے سراسر منافی ہیں۔ رقص، ناچ گانا اور روایتی شو بز تفریح کو رمضان کا لیبل لگا دینا یہ ہمارے دینی جذبات اور اجتماعی شعور کے ساتھ کھلا کھیل ہے۔

رمضان کوئی برانڈ نہیں جسے ریٹنگ کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہ مہینہ عبادت، تقویٰ، حیا اور اصلاحِ نفس کا ہے۔ اگر اسی مہینے کے نام پر وہی پرانی تفریح بیچی جائے تو یہ سیدھا سیدھا ہماری اقدار کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ ہم کب تک خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟

باوقار مگر دوٹوک مؤقف کا وقت ہے۔ ہمیں اجتماعی اور قانونی دباؤ بڑھانا ہوگا تاکہ Pakistan Electronic Media Regulatory Authority اپنا کردار ادا کرے اور ایسے مواد کا نوٹس لے جو رمضان کے تقدس کو مجروح کرتا ہے۔

میں آپ سب سے اپیل نہیں مطالبہ کرتا ہوں:
• خاموشی توڑیں۔
• باقاعدہ شکایت درج کروائیں۔
• اپنے گھروں اور بچوں کے ماحول کے تحفظ کے لیے کھڑے ہوں۔

نیچے دیے گئے لنکس کے ذریعے آپ براہِ راست شکایت بھیج سکتے ہیں۔ صرف چند منٹ نکالیں ، لنک پہ کلک کریں گے تو سب کچھ لکھا ہواہے بس آخر میں اپنا نام لکھ کر ای میل سینڈ کریں۔ اگر ہم متحد ہو کر آواز بلند کریں گے تو تبدیلی ناگزیر ہوگی۔۔
آئیے، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے، مضبوط اور واضح انداز میں اپنے رمضان کی حرمت کا دفاع کریں۔

اللہ ہمیں حق بات کہنے کی جرأت اور اس پر ڈٹ جانے کی استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔

18/02/2026

جامعہ کراچی میں نئے آنے والے طلباء کے لیے رہنمائی کیلئے ویڈیو سیشن کا اہتمام کیا گیا، جہاں سابق نائب صدر جے ٹئ آئی کے یو بشیر احمد صاحب نے طلباء کو جامعہ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے طلباء کو یونیورسٹی کے مقاصد، تعلیمی نظام، اور توقعات کے بارے میں تفصیلات بتائیں۔ بشیر احمد صاحب نے طلباء کو اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور یونیورسٹی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔ انہوں نے طلباء کو وقت کی قدر، نظم و ضبط، اور محنت کی اہمیت بھی سمجھائی۔ یہ سیشن طلباء کے لیے بہت مفید ثابت ہوگا کیونکہ انہیں یونیورسٹی کی زندگی کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گااور انہیں اپنے مستقبل کے حوالے سے آگاہی ملے گی
❤🇵🇰💥
نوٹ: تفصیلی ویڈو کا لنک کمنٹ سیکشن میں موجود ہے

01/02/2026

"الوداع جمعیت طلبہ اسلام!
"الوداع طلبہ سیاست!
میں آج ایک دکھ بھرا سفر شروع کر رہا ہوں اور میں اپنے دل کی گہرائیوں سے اپ کو الوداع کہتا ہوں۔ 13 سال کا طویل عرصہ، جو 2013 سے 2026 تک پھیلا ہوا ہے، میری زندگی کا ایک لازمی حصہ رہا ہے۔ اس دوران میں نے اپنی پڑھائی کے ساتھ ہمیشہ طلباء کے حقوق کے کیلئے جہدوجہد کیا اور طلبہ یونین کے بحالی کیلئے ہر جگہ ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کیا تنظیم کے نظم و ضبط کا خیال رکھا اور تنظیم کی مجموعی نظم و ضبط کو مضبوط کیا اور کوئی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا اور بھی بہت سے یادگار لمحات ہے جس پر ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا بس اتنا کہتا ہوں کہ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اسکول کالج پھر یونیورسٹی کے زمانے میں شیخ الہند کے قافلے کے ساتھ جوڑا اور اپنی تعلیم اسلامی نظریات کے چھتری تلے مکمل کی.
یہاں میں اپنے محترم مرکزی ترجمان جمعیت علمائے اسلام کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے میری سرپرستی فرمائی اور ہمیشہ رہنمائی دی آپ کی قیادت اور ہدایات نے مجھے اپنے مقاصد کے حصول اور جماعت کے نظم و ضبط کی اہمیت اور طلبہ سیاست میں پر امن طریقے سے طلباء کے حقوق کے لیے جہدوجہد سیکھائ.

آج، جب میں اس سفر کو الوداع کہتا ہوں، میرا دل آنسوؤں سے بھرا ہوا ہے۔ میں اپنے ان ساتھیوں کو نہیں بھول سکتا جن کے ساتھ میں نے لاتعداد لمحات گزارے، جدوجہد کی طلبہ کے حقوق کے لئے ساتھ کوششیں کیں اور شیخ الہند کے نظریہ کو طلبہ تک پہنچایا ، اور بہت سی کامیابیاں حاصل کیں اور خوبصورت یادوں کو تخلیق کیا میں سب یادوں کو میں ہمیشہ اپنے دل میں بسائے رکھوں گا.

میں جانتا ہوں کہ یہ الوداع نہیں، بلکہ ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔ میں اپنے تجربات اور سیکھے گئے سبق کو اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا اور انشاء اللہ، میں اپنے ملک اور معاشرے اور اپنے سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام کی بہتری کے لیے کام کرتا رہوں گا۔

الوداع، جمعیت طلبہ اسلام آپ کی یادوں کو دل میں سجائے رکھوں گا۔ میں امید کرتا ہوں کہ میرا یہ سفر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اور میری کاوشیں ہمیشہ جاری رہیں گی.

میں آپ سب کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھوں گا، اور امید کرتا ہوں کہ آپ سب بھی مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں گے۔
محمد عالم سابق صدر کراچی یونیورسٹی جمعیت طلبہ اسلام پاکستان
اللہ حافظ، جمعیت طلبہ اسلام!

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

University Of Karachi
Karachi