رسولِ اکرم ﷺ نے مسجد کی محبت اور اس کی آباد کاری کی عظیم فضیلت بیان فرمائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"جب تم دیکھو کہ کوئی شخص مسجد کا عادی ہو گیا ہے، یعنی جب بھی فرصت ملے وہ مسجد کی طرف جاتا ہے، تو اس کے مومن ہونے کی گواہی دو۔"
پھر آپ ﷺ نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی:
اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ
(سورۃ التوبہ)
ترجمہ: "اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔"
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص صبح یا شام مسجد کی طرف جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں جنت میں اس کے لیے ایک مکان تیار فرما دیتا ہے۔"
(متفق علیہ)
اسی طرح رسول ﷺ نے قیامت کے دن کے بارے میں فرمایا:
"قیامت کے دن جب اللہ کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، اس دن اللہ تعالیٰ سات قسم کے لوگوں کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا۔"
ان میں ایک وہ شخص بھی ہے جس کا دل مسجد سے جڑا رہتا ہے، اور جب وہ مسجد سے نکلتا ہے تو دوبارہ آنے تک اس کا دل مسجد میں رہتا ہے۔
(متفق علیہ)
حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص اپنے گھر میں اچھی طرح وضو کر کے مسجد کی طرف جاتا ہے، وہ گویا اللہ سے ملاقات کے لیے جا رہا ہوتا ہے، یعنی وہ اللہ کا مہمان بن جاتا ہے، اور میزبان پر حق ہے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔"
یہ احادیث مسجد کی فضیلت، مومن کی وابستگی، اور اللہ کے قرب کے لیے مسجد جانے کے اجر کو بخوبی واضح کرتی ہیں۔
محبت بھاڑ میں جاۓ
This page belong to my feelings and emotions ..and I want share my feelings wid others who feel same like me ..I wish you like my tought and share it :)
@اے آئی نے جب قرآن کے وسیع ڈیٹا بیس کو اپنے پروسیسرز میں کھنگالا، تو اسے معلوم ہوا کہ یہ کتاب محض جملوں کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ریاضی کا ایک ایسا "سپر کوڈ" ہے جسے لکھنا تو دور کی بات، آج کے سپر کمپیوٹرز کے لیے اس کا تصور کرنا بھی محال ہے۔ اے آئی نے ایک ایسی منطق پیش کی جو کسی بھی شک کرنے والے کے دماغ کو مفلوج کر سکتی ہے: "اگر کوئی انسان ایک کتاب لکھے، تو وہ اس کے معنی پر توجہ دے سکتا ہے، لیکن وہ کبھی یہ کنٹرول نہیں کر سکتا کہ پوری کتاب میں متضاد الفاظ کی تعداد ایک دوسرے کے بالکل برابر رہے۔"
اے آئی نے قرآن کے "لفظی توازن" (Word Balance) کے حیرت انگیز اعداد و شمار پیش کیے جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس نے دیکھا کہ پورے قرآن میں لفظ "دنیا" ٹھیک 115 مرتبہ آیا ہے، اور جب اس کے مدمقابل لفظ "آخرت" کو تلاش کیا گیا، تو وہ بھی ٹھیک 115 مرتبہ ہی ملا۔ اے آئی نے حساب لگایا کہ 23 سال کے عرصے میں، مختلف حالات اور مقامات پر کہے گئے کلام میں یہ توازن برقرار رکھنا کسی انسانی دماغ کے بس میں نہیں ہے۔ اسی طرح، لفظ "ملائکہ" (فرشتے) پورے قرآن میں 88 بار آیا ہے، اور حیرت انگیز طور پر لفظ "شیاطین" بھی ٹھیک 88 بار ہی آیا ہے۔ لفظ "حیاۃ" (زندگی) کا ذکر 145 بار ہے، تو لفظ "موت" کا ذکر بھی ٹھیک 145 بار ہے۔
اے آئی نے ان الفاظ کی فہرست کو مزید گہرا کیا تو ایسے حقائق سامنے آئے جو روح کو لرزا دینے والے ہیں۔ لفظ "نفع" (فائدہ) قرآن میں 50 بار آیا ہے، تو اس کے الٹ لفظ "فساد" (نقصان) بھی 50 بار آیا ہے۔ لفظ "ایمان" کا ذکر 25 بار ہے، تو لفظ "کفر" بھی 25 بار ہی پایا گیا۔ لفظ "صالحات" (نیک اعمال) کا عدد 167 ہے، تو لفظ "سیئات" (برے اعمال) بھی 167 ہی ہے۔ اسی طرح، لفظ "ابلیس" پورے قرآن میں 11 مرتبہ آیا ہے، اور اس سے پناہ مانگنے کا حکم یعنی "استعاذہ" بھی ٹھیک 11 مرتبہ ہی وارد ہوا ہے۔ اے آئی نے منطق دی کہ یہ "ریاضیاتی ہم آہنگی" (Mathematical Symmetry) ثابت کرتی ہے کہ یہ کلام کسی ایسی ہستی کا ہے جو تمام متضاد قوتوں پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔
اے آئی نے اپنی تحقیق کا رخ کائناتی حقائق کی طرف موڑا، جہاں قرآن نے ایسے اعداد و شمار پیش کیے جو جدید سائنس نے اب جا کر دریافت کیے ہیں۔ قرآن میں لفظ "بحر" (سمندر/پانی) کا ذکر 32 بار آیا ہے، جبکہ لفظ "بر" (خشکی) کا ذکر 13 بار آیا ہے۔ اے آئی نے ان دونوں کو جمع کیا تو کل عدد 45 بنا۔ اب ریاضی کے سادہ فارمولے سے جب ان کا تناسب نکالا گیا، تو معلوم ہوا کہ پانی کا تناسب 71.11% بنتا ہے اور خشکی کا 28.89% بنتا ہے۔ اے آئی کے پروسیسرز یہ دیکھ کر تھرا گئے کہ آج کی جدید ترین سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور جیوگرافی بھی یہی بتاتی ہے کہ کرہ ارض پر پانی اور خشکی کا تناسب یہی ہے۔ اے آئی نے سوال کیا کہ ریگستان میں رہنے والا ایک امی شخص، جس نے کبھی سمندر نہیں دیکھا تھا، وہ زمین کے ان جغرافیائی تناسب سے کیسے واقف ہو سکتا تھا؟ یہ صرف اور صرف اس ہستی کا علم ہے جس نے زمین کا نقشہ خود بنایا ہے۔
اس کے علاوہ، اے آئی نے وقت کے پیمانوں میں موجود معجزات کو بھی ڈی کوڈ کیا۔ پورے قرآن میں لفظ "شھر" (مہینہ) ٹھیک 12 مرتبہ آیا ہے، جو ایک سال کے مہینوں کی تعداد ہے۔ لفظ "یوم" (دن) پورے قرآن میں ٹھیک 365 مرتبہ آیا ہے، جو ایک شمسی سال کے دنوں کی تعداد ہے۔ اسی طرح لفظ "ایام" (دنوں کی جمع) کا ذکر 30 بار ہے، جو ایک مہینے کے دنوں کی اوسط تعداد ہے۔ اے آئی نے منطق پیش کی کہ کیا دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا مصنف اپنی کسی ایک کتاب میں اس طرح کا عددی نظم پیدا کر سکتا ہے کہ وہ پوری کتاب میں 'دن' کا لفظ 365 بار ہی لائے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ ایسا کرنے کے لیے اسے کہانی کے تسلسل اور زبان کی فصاحت کو قربان کرنا پڑے گا، لیکن قرآن اپنی فصاحت میں بھی دنیا کا بلند ترین کلام ہے اور ریاضی میں بھی ناقابلِ تسخیر۔
اے آئی نے ایک حیرت انگیز حقیقت دریافت کی: قرآن میں 114 سورتیں ہیں۔ ان میں سے 57 سورتیں ایسی ہیں جن کا اپنا نمبر (Sura Number) اور ان کی آیات کی تعداد (Ayat Count) کو جمع کیا جائے تو جواب ایک "جفت" (Even) عدد آتا ہے، اور باقی 57 سورتیں ایسی ہیں جن کا مجموعہ ایک "طاق" (Odd) عدد آتا ہے۔ اے آئی نے منطق دی کہ اگر قرآن میں ایک بھی آیت زیادہ یا کم ہوتی، یا سورتوں کی ترتیب بدلی ہوتی، تو یہ 57-57 کا کامل توازن ٹوٹ جاتا۔ کیا کوئی انسان 23 سال تک کلام کرتے ہوئے یہ حساب رکھ سکتا ہے کہ مجموعی طور پر جفت اور طاق سورتوں کا پلڑا برابر رہے؟
اس کے بعد اے آئی نے ایک اور چونکا دینے والی ترتیب دیکھی۔ اس نے قرآن کی تمام سورتوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک وہ جن کی آیات کی تعداد سورت کے نمبر سے زیادہ ہے (مثلاً سورہ بقرہ کی ٹوٹل آیات 286 ہیں اور سورت نمبر 2 ہے)، اور دوسری وہ جن کی آیات کی تعداد سورت کے نمبر سے کم ہے (مثلاً سورہ فاتحہ کی ٹوٹل آیات 7 ہیں اور یہ سورت نمبر 1 ہے)۔ اے آئی کے پروسیسرز یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ پہلی قسم کی سورتیں (وہ سورتیں جن کی آیات کی تعداد ان کے سورت نمبر سے بڑی ہے) ٹھیک 57 ہیں اور دوسری قسم کی سورتیں (وہ سورتیں جن کی آیات کی تعداد ان کے سورت نمبر سے چھوٹی ہے) وہ بھی ٹھیک 57 ہیں۔(دونوں کا مجموعہ 114 ہوتا ہے) یہ توازن ثابت کرتا ہے کہ قرآن کا ایک ایک حرف اور سورتوں کی ترتیب ایک ایسی ریاضیاتی ترتیب پر ہے جسے "ڈیجیٹل لاک" لگا دیا گیا ہے۔
اے آئ نے مزید دیکھا کہ کفظ 19 قرآن پاک کا وہ "ڈیجیٹل تالا" ہے جس نے پوری کتاب کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے۔ اسے دنیا کا کوئی بھی ریاضی دان یا سپر کمپیوٹر جھٹلا نہیں سکتا۔
قرآن پاک کی پہلی آیت "بسم اللہ الرحمن الرحیم" ہے۔
اگر اس کے حروف کو گنیں تو وہ ٹھیک 19 بنتے ہیں۔
اس آیت میں چار اہم الفاظ استعمال ہوئے ہیں: اسم (نام)، اللہ، الرحمن، اور الرحیم۔ اب ان کا حساب دیکھیں:
لفظ "اسم" پورے قرآن میں 19 بار آیا ہے۔
لفظ "اللہ" پورے قرآن میں 2698 بار آیا ہے (جو 19 کو 142 سے ضرب دینے سے بنتا ہے، یعنی یہ بھی 19 پر پورا تقسیم ہوتا ہے)۔
لفظ "الرحمن" پورے قرآن میں 57 بار آیا ہے (جو کہ 19 \times 3 ہے)۔
لفظ "الرحیم" پورے قرآن میں 114 بار آیا ہے (جو کہ 19 \times 6 ہے)۔
قرآن پاک میں کل 114 سورتیں ہیں۔ اگر 114 کو 19 پر تقسیم کریں تو جواب 6 آتا ہے۔ یعنی سورتوں کی کل تعداد بھی 19 کے حساب سے رکھی گئی ہے۔
سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی وہ سورہ علق کی پہلی 5 آیتیں تھیں (اقرأ باسم ربک الذی خلق...)۔ اگر ان 5 آیتوں کے لفظ گنیں تو وہ ٹھیک 19 بنتے ہیں۔
جس سورت میں یہ پہلی وحی ہے (سورہ علق)، اس کی کل آیات 19 ہیں۔
اور اگر قرآن کے آخر سے گننا شروع کریں، تو سورہ علق پیچھے سے 19 ویں نمبر پر آتی ہے۔
قرآن کی کئی سورتیں خاص حروف سے شروع ہوتی ہیں جن کا حساب 19 کے بغیر مکمل نہیں ہوتا:
حرف 'ق': سورہ "ق" میں یہ حرف 57 بار آیا ہے (19 \times 3)۔ ایک اور سورت "شوریٰ" بھی 'ق' سے شروع ہوتی ہے، اس میں بھی یہ حرف 57 بار آیا ہے۔ دونوں کو ملا کر 114 بنتا ہے، جو قرآن کی سورتوں کی تعداد بھی ہے اور 19 پر تقسیم بھی ہوتا ہے۔
حرف 'ن': سورہ "قلم" کا آغاز حرف 'ن' (نون) سے ہوتا ہے۔ اس پوری سورت میں نون کی تعداد 133 ہے (جو کہ 19 \times 7 ہے)۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے خود اس عدد کا ذکر سورہ مدثر (آیت 30) میں فرمایا ہے: "علیھا تسعۃ عشر" (اس پر انیس مقرر ہیں)۔
سائنسدانوں اور ریاضی دانوں کا کہنا ہے کہ 19 ایک "پرائم نمبر" (Prime Number) ہے، یعنی یہ کسی اور پہاڑے پر تقسیم نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ایک ایسا "سیکیورٹی کوڈ" ہے جسے چھیڑنا ناممکن ہے۔ اگر قرآن میں ایک بھی لفظ یا حرف بدلا جائے، تو یہ سارا 19 کا حساب فوراً ٹوٹ جائے گا اور پتا چل جائے گا کہ کسی نے تبدیلی کی ہے۔
19 کا عدد قرآن میں وہی کام کر رہا ہے جو آپ کے بینک اکاؤنٹ کا "پاس ورڈ" کرتا ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ قرآن کا ایک ایک لفظ، ایک ایک آیت اور ایک ایک سورت اپنی جگہ پر اتنی باریک بینی سے رکھی گئی ہے کہ دنیا کا کوئی انسان، چاہے وہ کتنا ہی بڑا ریاضی دان کیوں نہ ہو، ایسی کتاب نہیں لکھ سکتا۔
اے آئی نے مزید گہرائی میں جا کر حروفِ مقطعات (جیسے الم، حم، یس) کا ڈیٹا نکالا۔ اس نے دیکھا کہ سورہ مریم کا آغاز "ک ہ ی ع ص" سے ہوتا ہے۔ اے آئی نے اس پوری سورت میں جب ان پانچ حروف کو الگ الگ گنا، تو ایک حیرت انگیز نتیجہ سامنے آیا۔ اس سورت میں حرف 'ک' 137 بار، 'ہ' 175 بار، 'ی' 343 بار، 'ع' 117 بار اور 'ص' 26 بار آیا ہے۔ جب ان پانچوں اعداد کو جمع کیا گیا تو مجموعہ 798 بنا۔ اے آئی نے دیکھا کہ ٹھیک یہی عدد (798) ان پانچوں حروف کا مجموعی توازن ہے جو اس سورت کے مخصوص مزاج کو ظاہر کرتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے: 798 (جو 19 پر پورا تقسیم ہوتا ہے) کا نمبر یہ گواہی دے رہا ہے کہ سورہ مریم کا ایک ایک حرف اللہ نے خود گن کر اپنی جگہ پر رکھا ہے۔ ریگستان میں بیٹھ کر کوئی انسان بغیر کمپیوٹر کے اتنا پیچیدہ حساب نہیں رکھ سکتا تھا کہ وہ ایک لمبی سورت بھی سنائے اور اس کے حروف کی گنتی بھی ایک خاص نمبر (19) کے حساب سے سیٹ کرے۔
اس نے منطق پیش کی کہ اگر کسی انسان کو ایک ایسا مضمون لکھنے کا چیلنج دیا جائے جس میں پانچ خاص حروف کی تعداد ایک مخصوص ہندسے تک پہنچانی ہو، تو وہ مضمون کے معنی اور فصاحت کو برقرار نہیں رکھ پائے گا، مگر قرآن میں معنی کی بلندی بھی قائم ہے اور اعداد کا پہرہ بھی۔
اے آئی نے ایک اور اچھوتا پہلو "لفظ اللہ" کی ترتیب میں پایا۔ پورے قرآن میں لفظ "اللہ" کل 2698 مرتبہ آیا ہے۔ اے آئی نے جب اس عدد کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ عدد 19 پر پورا پورا تقسیم ہوتا ہے (2698 = 19 \times 142)۔ اسی طرح قرآن کی پہلی آیت "بسم اللہ الرحمن الرحیم" کے کل حروف 19 ہیں۔ اے آئی نے منطق دی کہ قرآن کی پوری عمارت عدد 19 کے ایک نادیدہ دھاگے میں پروئی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ قرآن میں موجود تمام اللہ کے نام (اسماء الحسنیٰ) کی کل تعداد یا ان کے مخصوص مجموعے بھی اسی عددی ضابطے کے تحت آتے ہیں۔
اے آئی نے اپنی طویل تحقیق کا خلاصہ کرتے ہوئے یہ نتیجہ نکالا کہ قرآن محض ایک مذہبی کتاب نہیں ہے، بلکہ یہ ایک "ڈیجیٹل سگنیچر" ہے جس کے ایک ایک حرف میں خالق نے اپنی پہچان رکھ دی ہے۔ اس نے دیکھا کہ لفظ "قل" (کہہ دو) پورے قرآن میں 332 بار آیا ہے، اور اس کے جواب میں لفظ "قالو" (انہوں نے کہا) بھی ٹھیک 332 بار ہی آیا ہے۔ یہ "سوال و جواب" کا عددی توازن اس بات کی حتمی دلیل ہے کہ اس کلام کا ایک ایک لفظ گنا ہوا اور نپا تلا ہے۔ اے آئی نے مانیٹر پر لکھا کہ اگر قرآن کا ایک حرف بھی ادھر ادھر کر دیا جائے، تو یہ پوری ریاضیاتی عمارت گر جائے گی۔
اے آئی نے اس بحث کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے سورہ الکوثر کی طرف رخ کیا، جو قرآن کی سب سے چھوٹی سورت ہے، مگر اس کے اندر چھپا ہوا ریاضی کا سمندر کسی بڑے سے بڑے کمپیوٹر کو بھی حیران کر دینے کے لیے کافی ہے۔ اے آئی نے دیکھا کہ یہ سورت صرف تین مختصر آیات پر مشتمل ہے، لیکن اس کا ڈھانچہ ہندسہ "10" کے گرد گھومتا ہے۔
اس سورت کی پہلی آیت میں حروف کی تعداد 10 ہے۔
اس کی دوسری آیت میں حروف کی تعداد 10 ہے۔
اس کی تیسری آیت میں بھی حروف کی تعداد 10 ہے۔
اس پوری سورت میں ایسے حروف کی تعداد جو صرف ایک ایک بار آئے ہیں، وہ بھی ٹھیک 10 ہے۔
سورت کی تینوں آیات کا اختتام حرف "ر" پر ہوتا ہے، اور عربی حروفِ تہجی (Abjad) میں "ر" کا نمبر 10 واں ہے۔
قرآن کی ان تمام سورتوں میں جو حرف "ر" پر ختم ہوتی ہیں، ان کی کل تعداد 10 ہے۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ اس سورت میں موجود حکم "وانحر" (اور قربانی کر) براہِ راست 10 ذوالحجہ (عید الاضحیٰ) کے دن کی طرف اشارہ ہے، جو قربانی کا دن ہے۔
اے آئی نے ایک نہایت اچھوتی دلیل پیش کی: "ذرا تصور کریں کہ ایک شخص مجمعے کے سامنے کھڑا ہو کر فی البدیہہ کلام کر رہا ہے، وہ ایک ایسی سورت تلاوت کرتا ہے جس کی ہر آیت میں 10 حروف ہیں، جس کا آخری لفظ 10 ویں نمبر کا حرف ہے، اور جس کا پیغام بھی تاریخ کے 10 ویں دن سے جڑا ہے—اور یہ سب کچھ وہ بغیر کسی قلم کاغذ یا کمپیوٹر کے کر رہا ہے۔" اے آئی نے ثابت کیا کہ یہ کسی انسانی دماغ کا "تخلیقی فن" نہیں ہو سکتا، بلکہ یہ اس "عظیم کوڈر" کی پروگرامنگ ہے جس نے کائنات کو ریاضی کے اصولوں پر تخلیق کیا ہے۔
اے آئی نے اپنی بحث کو سمیٹتے ہوئے ایک ایسی بات کہی جو اب تک کی تمام باتوں سے مختلف ہے۔ اس نے کہا کہ انسان تو ایک چھوٹی سی ای میل لکھتے ہوئے بھی یہ حساب نہیں رکھ سکتا کہ اس میں کتنے حروف 'الف' ہیں یا کتنے 'ب' ہیں، مگر قرآن میں حروفِ تہجی کی تقسیم (Frequency of Letters) اس قدر متوازن ہے کہ اگر اسے گراف پر اتارا جائے تو وہ ایک کامل لہر (Perfect Wave) بناتی ہے۔ اے آئی نے مانیٹر پر لکھا: "قرآن کا ایک ایک حرف اپنے مقام پر ایک 'سیکیورٹی کوڈ' کی طرح نصب ہے، جسے بدلنے کا مطلب پوری کائنات کے ریاضیاتی توازن کو چیلنج کرنا ہے"۔
اے آئی نے ثابت کیا کہ یہ اعداد و شمار محض اتفاق نہیں بلکہ اس "علیم و خبیر" ہستی کے دستخط ہیں جو ایٹم کے اندر موجود پروٹونز کی تعداد سے لے کر کہکشاؤں کے ستاروں تک کا حساب رکھتی ہے۔
04/03/2026
کون کہتا ہے دعا قبول نہیں ہوتی؟
مکہ مکرمہ میں ایک پاکستانی صفائی کارکن افطاری کے وقت نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہا تھا کہ اس پر چڑھے ہوئے قرض ادا ہو جائیں۔ وہ پریشانی اور تنگدستی کے عالم میں اپنے رب کے حضور نہایت عاجزی کے ساتھ دستِ سوال دراز کیے ہوئے تھا۔
اتفاق سے اس دعا کے دوران حرم شریف کا لائیو کیمرہ اس پر فوکس ہوگیا۔ اس کی ویڈیو حرم کے چینل سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ جب یہ ویڈیو سعودیہ کے ایک صاحبِ خیر تک پہنچی تو اس نے اس کارکن سے رابطہ کیا۔ اس کی حالتِ زار معلوم کرنے کے بعد اس نیک دل شخص نے اس کے تمام قرضے ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
جب اس صفائی کارکن سے پوچھا گیا کہ وہ کون سی دعا مانگ رہا تھا تو اس نے بتایا کہ وہ رزق کی وہ دعا پڑھ رہا تھا جو رسول اللہ ﷺ نے اس وقت مانگی تھی جب آپ ﷺ کے پاس ایک مہمان تشریف لائے۔
روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے اپنی ازواجِ مطہراتؓ کے پاس کھانے کی طلب میں پیغام بھیجا، مگر جواب ملا کہ گھر میں کچھ موجود نہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے دعا فرمائی:
“اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ، فَإِنَّهُ لَا يَمْلِكُهَا إِلَّا أَنْتَ”
(اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل اور تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ ان کا مالک تیرے سوا کوئی نہیں۔)
چند ہی لمحے گزرے تھے کہ آپ ﷺ کی خدمت میں ایک بھنی ہوئی بکری بطورِ ہدیہ پیش کر دی گئی۔
یہ دعا سنن ابو داود میں وارد ہوئی ہے۔ حدیث نمبر: 5094
محدثین کے نزدیک یہ دعا رزق اور تنگی کے وقت پڑھنا مستحب ہے اور اس میں اللہ کے فضل و رحمت کا سوال کیا گیا ہے جو رزق کے بنیادی اسباب ہیں۔
28/02/2026
آیے مسجد النبوی کا ایک قالین ہٹاتے ہیں اور دیکھتے ہیں یہ مقام کیوں منفرد ہے ؟
===================
موجودہ مسجد النبوی صلی الله علیہ وسلم کے ایک مرکزی دروازے ''باب فہد بن عبد العزیز '' سے اندر داخل ہوا جائے تو لال قالینوں کا ایک نہ روکنے والا سلسلہ آنکھوں کے سامنے موجود ہوتا ہے جو قبلہ رخ امام مسجد النبوی شریف کی محراب جسے '' محراب عثمانی کہتے ہیں ، پر جا کر ختم ہوتا ہے لیکن بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ھوتا ہے کہ اس مرکزی دروازے سے اندر داخل ہونے کا بعد جب وہ آگے کی جانب بڑھ رہے ہوتے ہیں تو کچھہ فاصلے پر وہ ایک ایسے مقام پر موجود ہوتے ہیں جو اپنے اندر ایک ایسا روحانی پہلو رکھتا ہے کہ اگر عشاق رسول صلی الله علیہ وسلم کو اسکا علم ہو تو وہ کچھہ ساعتیں یہاں رک کر اسکی زیارت کو اپنے لیے باعث شرف و صد افتخار سمجھیں گے کیوں کہ یہ وہ مقام با برکت ہے جس نے کئی مرتبہ رسول مکرم سیدنا محمد صلی الله علیہ وسلم کے قدمین مبارک کو بوسہ دینے کا اعزاز لا فانی حاصل کیا - ہوسکتا ہے آپ اس مقام پر موجود قالین کے اوپر نماز بھی ادا کر لیں کیوں کہ یہاں فرض نمازوں کی صفیں بنتی ہے لیکن کیا کریں کہ یہ مقام قالینوں نے چھپا دیا ہے -
رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ کے وقت مسجد النبوی کی حدود بہت مختصر تھیں اور ظاہر ہے کہ یہ مقام مبارک مسجد النوی شریف کے کافی باہر تھا جہاں مدینہ کے لوگوں کے مکانات ، کنویں اور باغات ہوا کرتے تھے -
اس تصویر میں لال تیر کی مدد سے جس دایرے کی جناب اشارہ کی جا رہا ہے یہ در اصل ایک صحابی سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی الله تعالی عنہ کے اس کنویں کا مقام ہے جسے '' بیر حا '' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے - اس کنویں کا پانی بہت خوش زایقه اور شیریں تھا - رسول الله صلی الله علیہ وسلم اکثر اس کنویں پر تشریف لاتے تھے اور اس کا پانی نوش فرماتے تھے - یہ کنواں اور اس کے ارد گرد سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی الله تعالی عنہ کا ایک باغ تھا جو انکو بہت زیادہ محبوب تھا کیوں کہ پورے مدینہ المنوره اتنا خوبصورت باغ کسی اور کا نہیں تھا لیکن جب رسول مکرم سیدنا محمد صلی الله علیہ وسلم پر ''سوره ال عمران '' کی آیت ٩٢ نازل ہوئی - ) جو میں نے تصویر پر کنویں کے نشان کے پاس لکھہ دی ہے جس کا ترجمہ ہے :-
'' جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز کو الله کی راه میں
خرچ نہیں کرو گے ' ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے ''
( کچھہ کتابوں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ آیات بھی اسی مقام پر نازل ہوئی تھیں یعنی اس کنویں یا باغ کے قریب - واللہ اعلم - )
تو ان آیات کو سن کر سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی الله تعالی عنہ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا '' یا رسول الله صلی الله علیہ وسلم میرا تو سب سے زیادہ پیارا مال یہی باغ ہے - میں آپکو گواہ کرتا ہوں میں نے اسے الله کی راہ میں صدقه کیا ' الله تعالی مجھے بھلائی عطا فرمائیں اور اپنے پاس اسے میرے لیے ذخیرہ کریں - آپکو ( رسول الله صلی الله علیہ وسلم) اختیار ہے آپ صلی الله علیہ وسلم جس طرح چاہیں اسکو تقسیم کر دیں ''
آپ صلی الله علیہ وسلم آپکے اس طرز عمل سے بہت خوش ہوے اور فرمانے لگے '' مسمانوں کو اس سے بہت فائدہ پہنچے گا ' تم اسے اپنے رشتے داروں میں تقسیم کردو - '' چنانچہ سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی الله تعالی عنہ نے اسے اپنے رشتے داروں اور چچا زاد بھائیوں میں بانٹ دیا ''
سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی الله تعالی عنہ کے اس واقعہ کے اور قرانی آیت کے نزول کے تناظر میں اس مقام کی زیارت کی جایے تو یقینا'' دلوں کو روحانی سکوں ملتا ہے -
زندگی کے میرے پسندیدہ مناظر میں سے ایک یہ ہے کہ کوئی مجھ سے محبت کرنے والا بےتابی کے ساتھ خوشخبری کا ایک ٹکڑا لیے میری طرف آئے، اور اسے مجھ سے بانٹنے کے لیے بےقرار ہو۔
میرے نزدیک یہ محبت کی سب سے خوبصورت تصویروں میں سے ایک ہے۔
منقول
ظلم کا قانون
21/02/2026
آخری معرکہ اور گونگا درخت
سب کی تیاریاں مکمل ہیں..
ہم کہاں ہیں ؟
سیو غرقد ٹری ( Save gharqad tree ) مگ قیمت 10 پاؤنڈ، سیو غرقد ٹی شرٹس 37 پاؤنڈز ، سیو غرقد پی کیپ 10 پاؤنڈز، سیو غرقد کچن ایپرن ،سیو غرقد ھینڈ بیگ، سیو غرقد شرٹ بٹن سیو غرقد اسٹیشنری، سیو غرقد ملبوسات پرفیومز، کچن کراکری، اور سیو غرقد کی ان گنت اشیاء کی فروخت ۔۔۔۔ سیو غرقد کے لئے فنڈ ریزنگ ، غرقد کے لئے چندہ مہمیں اور غرقد کی کاشت کا اسرائیلی مشن۔۔۔ ان تمام اشیاء کی فروخت کی کمائی سے حاصل ھونے والی رقم کو غرقد کی کاشت کے لئے استعمال کیا جائے گا۔
یہ غرقد کیا ھے؟۔ اس کی کاشت کے لئے یہ لوگ کیوں باؤلے ھوئے پھر رھے ھیں؟
ان تمام اشیا پر ایک درخت کی تصویر بنی ھوئی ہے اس تصویر کو توجہ سے دیکھئیے۔ اس میں ایک مرد اور ایک عورت ایک درخت کے پیچھے چھپتے ھوئے دیکھے جا سکتے ھیں۔ یہی درخت غرقد ھے۔ پورے اسرائیل میں اس درخت کو انتہائی تیزرفتاری سے کاشت کیا جا رھا ھے غرقد کی کاشت کی مہم اسرائیلی ریاست کی سطح پر چلائی جا رھی ھے۔ خود اسرائیلی وزیراعظم اس تصویر میں ایک جگہ یہی درخت لگاتا ھوا نظر آ رھا ھے۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے انڈیا سے بھی کہا ھے کہ وہ اپنے ملک کی تمام بنجر اراضی پر غرقد کی کاشت کرے جس کا تمام تر معاوضہ اسرائیل برداشت کرے گا۔ کیا یہ سب پاگل ھوچکے ھیں؟؟؟ نہیں دنیا کے تمام وسائل پر قابض یہودی پاگل نہیں ھیں یہ بہت ذھین قوم ھے ۔ یہ قوم اپنے مذھب سے زیادہ اسلام کی سچائی پر یقین رکھتی ھے۔ ان لوگوں نے احادیث کی تمام کتابیں پڑھ رکھی ھین۔ غرقد کی کاشت کی مہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پاک کی وجہ سے چلائی جا رھی ھے۔ صحیح مسلم کی وہ حدیث مندرجہ ذیل ھے۔۔۔۔
[صحيح مسلم » كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ » بَاب " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ ... رقم الحديث: 5207]
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مسلمان یخودیوں سے جنگ کریں اور مسلمان انہیں قتل کردیں یہاں تک کہ یہ پتھر یا درخت کے پیچھے چھپیں گے تو پتھر یا درخت کہے گا اے مسلمان اے عبداللہ یہ شخص میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کردو سوائے درخت غرقد کے کیونکہ وہ ان کے درختوں میں سے ہے۔
[صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2838 / 14635حدیث مرفوع مکررات 7 متفق علیہ 6
Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: The last hour would not come unless the Muslims will fight against the and the Muslims would kill them until the would hide themselves behind a stone or a tree and a stone or a tree would say: Muslim, or the servant of Allah, there is a behind me; come and kill him; but the tree Gharqad would not say, for it is the tree of the Je.
یہ لوگ جانتے ھیں کہ آقائے دوجہاں حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلنے والا ھر لفظ سچا ھے اور ھر قیمت پر پورا ھونے والا ھے۔ چنانچہ یہ اس حدیث کی روشنی میں غرقد کی کاشت میں لگے ھوئے ھیں تاکہ مسلمانوں سے جنگ کے دوران جب اس زمیں کی ھر چیز پکار پکار کر کہے گی کہ اے مسلمانون میرے پیچھے یہ چھپا ھوا ھے اسے قتل کر دو تو اس وقت یہی درخت گونگا بن کر اس چھپے ھوئے کی پناہ گاہ بن جائے گا۔ وہ جانتے ھیں ایسا ھی ھوگا۔ یہ معرکہ ھوکر رھے گا ۔۔۔۔۔ اس معرکے میں انشاللہ اس دنیا سے یہودیت کا مکمل خاتمہ ھوجائے گا اور اس دنیا کے انسان ھزاروں سال بعد اس زمین کو ان کی ساشوں سے محفوظ ایک جنت کا نمونہ پائیں گے۔
ھمارے لئے اس میں سبق کی بات یہ ھے کہ ان جیسے بدترین بھی ھمارے آقا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی ھر بات کو سچ مانتے ھیں تو کیا ھم ان سے بھی بدتر نہیں جو آپ ؐ کے احکامات کے منکر ھوچکے ھیں؟ ذرا سوچئیے گا۔۔۔۔
یہاں ایک اور بات نہایت حیران کن ہے کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان مبارک سے یہ الفاظ ارشاد فرما رہے تھے اس وقت دور دور تک اسرائیل کا نام و نشان تک نہ تھا۔ دنیا میں کسی بھی جگہ ان کی کوئی چھوٹی سی بھی ریاست نہ تھی بلکہ یہ قوم چھوٹے چھوٹے گروھوں میں منتشر ھوکر حقیر سی تعداد میں دنیا میں ادھر ادھر دھکے کھاتی پھر رھی تھی۔ چودہ سو سال تک مسلمان یہ سمجھنے سے قاصر رھے کہ کہاں یہ اور کہاں غرقد کے درخت کی اتنی بڑی تعداد میں کاشت !!!! لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب ھوتا اپنی آنکھوں سے اس زمانے میں دیکھ رھے تھے ۔۔۔
یہ لوگ تو ھمارے نبی ﷺ کی باتیں پڑھ کر جاگ گئے معلوم نہیں ھم کب جاگیں گے؟؟؟؟
مجنوں
دیکھا گیا ہے کہ مرد حضرات چالیس یا آس پاس کے پھیر میں ہوں تو خود سے کافی حد تک لاپروا ہو جاتے ہیں ۔۔۔ بلکہ خود کو بوجھ ڈھونے والا گدھا تصور کرنے لگتے ہیں۔۔۔ بوجھ ضرور ڈھوئیے لیکن اپنی ذمہ داریوں کو زندگی کا ارتقا اور تسلسل سمجھ کر ۔۔۔
مرد عموماً نوجوانی میں یا جوانی میں پھر بھی اپنا خیال رکھ لیتے ہیں، لیکن بعد کی ذمہ داریوں میں پھنس کر سب کچھ ترک کر دیتے ہیں۔۔۔ جسمانی مشقت کرنے والے اپنے لباس اور حلیے سے یکسر لاپروا ہوجاتے ہیں۔ رنگ اڑے بکھرے بال اور بغیر استری کے گندے کف کالر والے کپڑے، گندے جوتے ان کا ٹریڈ مارک بن جاتے ہیں۔ آ فس میں جاب کرنے والوں کا حلیہ بھی موٹی توند کی وجہ سے قابلِ اعتراض ہی لگتا ہے۔
جس طرح بننا سنورنا عورت کا پیدائشی حق ہے، اسی طرح صفائی اور کپڑوں کی درست ترتیب مردوں کا پیدائشی حق ہے۔۔۔ گھر ہو یا دفترخواتین بھی "مرتب" حضرات کو ہی پسند کرتی ہیں۔ لیبر ورک ہے، جاب یا کاروباری سلسلہ۔
آئیے ان چیزوں پر فوکس کرتے ہیں جو بالکل بے توجہی کا شکار ہیں۔ یہ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جنہیں adopt کرنے سے personality building اور personal grooming میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے۔
1 ۔۔۔۔۔۔۔ ہفتے میں ایک بار ہیئر کٹ لازماً کروائیں۔۔۔ داڑھی ہے تو خط بھی بےحد ضروری ہے۔ گال پر آئے بے ترتیب موٹے بال تھریڈنگ سے نکلوالیجیے۔ اس طرح خط پورا ہفتہ کشیدہ ہی رہتا ہے۔۔
2 ۔۔۔۔۔۔۔ بڑھتی عمر کے ساتھ ہارمونل پرابلمز اور چینجز کی وجہ سے کان کی لوؤں پر گھنا رواں بلکہ موٹے بال ظاہر ہونے لگتے ہیں، انہیں دھاگے سے نکلوا دیجیے ورنہ شخصیت کا تاثر خراب بیٹھتا ہے۔
3 ۔۔۔۔۔۔ بھنوؤں میں اِکّا دُکّا بال لمبے ہوجاتے ہیں، قینچی سے برابر کروا لیجیے۔ مونچھیں تو ترشواتے ہی ہیں، ناک کے بال بھی چھوٹی قینچی سے ترش لیجیے۔
4 ۔۔۔۔۔۔۔ ہاتھوں اور پیروں کے ناخن جمعہ کے جمعہ تراش کر سنت بھی پوری کیجیے۔ پیروں کی ایڑیوں اور ناخنوں کے گرد ڈیڈ اسکن (چنڈیاں اور مردہ کھال) کٹر سے کاٹ لیجیے۔۔۔ یہ عمل صحت و صفائی کے ساتھ شخصی تاثر میں اضافہ کا باعث ہے۔
5 ۔۔۔۔۔۔۔ عموماً دیکھا گیا ہے مرد زیادہ سے زیادہ دو منٹ میں نہا کر فارغ ہو جاتے ہیں۔۔۔ جناب اس میں ایک منٹ کا اضافہ اور کر لیجیے۔۔۔ بالوں کو شیمپو کرنے کے دوران کانوں کے پیچھے اور کان کی سلوٹوں کروٹوں اور ڈیزائن میں اسفنج یا انگلیاں اچھی طرح گھما لیجیے۔۔۔ ان تہوں میں اکثر میل رہ جاتی ہے۔۔۔ جو بہت بدنما معلوم ہوتی ہے۔۔۔ بازار میں لمبے ہینڈل والے باتھنگ برش عام ملتے ہیں، پشت پر صابن لگانے کے لیے استعمال کیجیے۔
6 ۔۔۔۔۔۔۔ کرسی پر زیادہ دیر بیٹھے رہنے سے توند لٹکنے لگتی ہے پیٹ اٹھا کر وہاں بھی صابن کا اسفنج پھرائیے اور پانی بہائیے۔۔۔ ناف کے گڑھے کو صفائی کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ شدید بدبو دینے لگتی ہے اور کئی جلدی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔
7 ۔۔۔۔ نہانے کے فوراً بعد کاٹن بڈ سے کان کے دونوں سوراخ صاف کیجیے۔۔۔ ایک قطرہ سرسوں یا زیتون کا تیل ناف میں ڈالیے۔۔۔ بہت سے امراض سے حفاظت ملتی ہے۔
8 ۔۔۔۔۔ پیروں کے تلوؤں اور انگوٹھے کے ناخنوں پر بھی یہی تیل لگائیے۔ سر درد نہیں ہوتا اور نظر کی کمزوری بھی نہیں ہونے پاتی۔
9 ۔۔۔۔۔۔۔باہر کے جوتے ہمیشہ پالش شدہ اور صاف کر کے پہنیے۔ گھر کی چپلیں تو بیگم دھو ہی دیتی ہیں۔
10 ۔۔۔۔۔۔۔اور خدارا پاؤں گھسیٹ کر اور ڈھیلے ڈھالے تھکے ہوئے گدھے کے انداز میں کبھی مت چلیے۔۔۔ کسی بھی رشتے سے منسلک خاتون باپ بھائی یا شوہر کا یہ انداز پسند نہیں کرتی۔۔۔ کوشش کر کے ہمیشہ سیاہ مشکی گھوڑے کی طرح چست و چالاک نظر آ ئیے، بھلے گھر میں بیڈ پر آرام کا وقت بڑھا دیجیے۔۔۔
11 ۔۔۔۔۔۔ ہاف پینٹ اور شاٹس پہن کر باہر نہ نکل جایا کیجیے۔ کئی خواتین خفیف ہوتی ہیں اور مذہب نے بے شک آپ کو دوپٹے کی پابندی سے آزاد رکھا ہے، لیکن تھوڑی سا پابند بھی کیا ہے۔
12 ۔۔۔۔۔ پینٹ کو کولہے کی ہڈی تک پہننا بند کردیجیے۔ یہی گمان ہوتا ہے ابھی گر جائے گی۔ ناف کے عین نیچے پینٹ کی انتہائی حد ہونی چاہیے۔
13 ۔۔۔۔۔ ہمیشہ جوتے، موزے، ٹائی وغیرہ لباس سے میچ کر کے پہنیے۔۔۔ کیونکہ یہ ضروری نہیں آرائشی اشیاء ہیں اور انہیں پٹے کی طرح لٹکانا مقصود نہیں ہوتا، بلکہ یہ شخصیت ابھارنے کی اسیسریز ہیں۔
14 ۔۔۔۔ اگر سیگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ سگار، پائپ یا حقہ پیتے ہیں تو اس میں اپنا ایک (کمفرٹ زون ) خاص اسٹائل بنائیے۔۔۔ جاہلوں کی طرح سُوٹے مت لگائیے۔ ( اگرچہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔)
15 ۔۔۔۔۔ آفس یا ورکنگ پلیس پر جاتے وقت کسی عمدہ برانڈ کا ہلکا پرفیوم اسپرے کیجیے۔۔۔ اور کوشش کیجیے کہ آپ کی آمد کا سندیسہ یا پہچان آپ کا برانڈ دے۔ ہم اپنے ابا اور بھائیوں کی کسی جگہ موجودگی ان کی خوشبو سے کر لیتے تھے۔۔۔ اور بنیان بھی اسی رچی خوشبو سے الگ الگ کرتے تھے۔
16 ۔۔۔۔ اپنے بولنے کے لہجے پر غور فرمائیے۔۔۔ جھٹکے مار مار کر یا بات کو لٹکاکر تو گفتگو نہیں کرتے؟ اگر ایسا ہے تو کوشش کر کے لہجہ قابو میں لے آئیے۔۔۔
17 ۔۔۔۔۔۔ مردانہ شخصیت کے وقار میں لہجے کی گھمبیرتا اور ٹھہراؤ سے کئی گنا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔۔۔ تیز تیز بول کر اسے تباہ مت کیجیے۔
18 ۔۔۔۔۔۔ پبلک میں یا گھر میں سرِ عام ناک سے رینٹ نہ نکالیے۔۔۔ نہ ہی تھوکتے چھینکتے پھریئے۔۔۔ بولنے کے دوران جوش میں تھوک نہ اڑائیے ۔
19 ۔۔۔۔ کھانا کھانے کے دوران چپ چپ پر قابو پائیے۔۔۔ اور کھانے کے بعد بے سُرا جاہلانہ ڈکار لینے سے پرہیز کیجیے۔۔۔ ڈکار تہذیب سے بھی لیا جا سکتا ہے۔
20 ۔۔۔ خواتین کو تاڑ کر ہراساں کرنے سے پرہیز کیجیے۔ آپ کو حقارت کے سوا کچھ نہیں ملتا۔۔۔ اور خواتین آپ کی موجودگی میں انکمفرٹیبل محسوس کرتی ہیں۔
21۔۔۔۔۔۔۔ بہت زیادہ اور فضول بولنے سے پرہیز کیجیے۔ کئی طرح کے بھرم رہ جاتے ہیں۔
22 ۔۔۔۔۔۔۔ ذرا سوچ کر آئینہ دیکھیے اب ایک گریس فل شخصیت نظر آ رہی ہے۔ ورنہ جہاں جہاں کمی ہے، دور کرلیجیے
ٹھنڈ میں کیوں 5 لوگوں کو سردی زیادہ لگاتی ہے؟
آپ کی کیا وجہ ہے؟
6 قسم کے لوگ جو زیادہ سردی محسوس کرتے ہیں (اور کیوں!)
1 لوگ جو ہائپوتھائیرائیڈزم کے شکار ہیں۔
👈 جب آپ کا تھائرائڈ غیر فعال ہوتا ہے، تو آپ کا میٹابولزم سست ہوجاتا ہے آپ کا جسم کم توانائی جلاتا ہے اور کم حرارت پیدا کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ اکثر ہلکے موسم میں بھی سردی محسوس کرتے ہیں۔
علاج:
آئوڈین اور سیلینیم سے بھرپور غذائیں جیسے تل، ناریل کا پانی اور بھیگے ہوئے اخروٹ کھائیں۔
تھائیرائیڈ غدود کو چالو کرنے کے لیے الٹا ہیڈ پوز اور گردن پر کیسٹر آئل کا مساج کریں۔
2 آئرن کی کمی والے لوگ (انیمیا)
کم آئرن کا مطلب ہے آپ کے خون کے سرخ خلیات۔ کافی آکسیجن نہیں لے سکتا۔ کم آکسیجن = کم گرمی پیدا کرنا
آپ کو سردی، پیلا، اور زیادہ تر تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔
وقت
علاج:
چقندر + آملہ + انار کو خوراک میں شامل کریں کھانے میں گڑ، کھجور اور سبز پتوں والی سبزیاں شامل کریں۔
3 کم جسمانی چربی والے لوگ
چربی موصلیت کا کام کرتی ہے جو جسم کی حرارت کو پھنساتی ہے۔ وہ لوگ جو بہت زیادہ دبلے پتلے ہیں یا انتہائی خوراک پر ہیں وہ اس قدرتی تحفظ سے محروم ہیں۔
علاج:
صحت مند چکنائی جیسے گھی، ایوکاڈو، تل، بادام اور ناریل کو اپنی خوراک میں شامل کریں۔
گھی کے ساتھ گرم سوپ اور دار چینی جیسے مصالحے گرمی کو برقرار رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔
4 ایسے افراد جن میں وٹامن بی 12 یا وٹامن ڈی کی کمی ہو۔
یہ دونوں وٹامن توانائی کی پیداوار اور اعصابی صحت میں مدد کرتے ہیں۔
جب وہ کم ہوتے ہیں، تو جسم کی حرارت کے ضابطے میں خلل پڑتا ہے - جس سے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑتے ہیں۔
علاج:
اپنے آپ کو روزانہ صبح کی سورج کی روشنی (7-9 AM) میں بے نقاب کریں۔
اپنے آپ کو صبح کی سورج کی روشنی میں بے نقاب کریں۔
AM) روزانہ۔
مشروم، انڈے، ڈیری، اور مضبوط پودوں کا دودھ کھائیں۔
گہری گرمی کے لیے رات کو نیم گرم دودھ میں ہلدی + گھی ڈالیں۔
5 لو بلڈ پریشر یا خراب گردش والے لوگ
کم بلڈ پریشر = کمزور خون کا بہاؤ۔
جب آپ کا خون دھیرے دھیرے چلتا ہے، تو یہ آپ کے سروں تک کافی گرمی نہیں لے سکتا۔
برف اسی لیے آپ کی انگلیاں اور انگلیوں کی طرح محسوس ہوتی ہے۔
علاج۔
اکثر گرم پانی پئیں، اور ایک چٹکی نمک یا لیموں کا رس شامل کریں۔
قدرتی طور پر خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے لیے ٹانگیں کھینچیں یا تیز چہل قدمی کریں۔
6 ہائی کولیسٹرول والے افراد
جب کولیسٹرول شریانوں میں جمع ہو جاتا ہے تو ہموار خون کے بہاؤ کو روکتا ہے - ہاتھوں اور پیروں تک گرمی کی ترسیل کو کم کرتا ہے۔
+ آپ غیر معمولی طور پر سردی محسوس کرتے ہیں، یہاں تک کہ جب دوسرے آرام دہ ہوں!
علاج:
لہسن + ارجن کی چھال کا کاڑھا صبح نہار منہ لیں۔
اپنی غذا میں کری پتی، سن کے بیج اور میتھی کے بیج شامل کریں۔
بھاری تلی ہوئی کھانوں اور ریفائنڈ تیل سے پرہیز کریں۔
میں مانتی ہوں کہ تم نے مجھ سے محبت کی
میں مانتی ہوں کہ تم نے اپنی استطاعت کے مطابق محبت کی،
بغیر خود سے محبت کیے
میں مانتی ہوں کہ تم نے اپنی محبت ظاہر کرنے کی کوشش کی،
مگر وہ ہر بار کسی نہ کسی کمی کے ساتھ ظاہر ہوئی
میں مانتی ہوں کہ تم مجھے وہ محبت دینا چاہتے تھے جس کی میں حقدار تھی،
مگر تمہیں پہلے خود کے لیے کھڑا ہونا نہیں آتا تھا
میں مانتی ہوں کہ تم مجھ سے محبت کرتے تھے
مگر اسے صحت مند نہیں بنا سکے
میں مانتی ہوں کہ تم نے میرا ساتھ دیا،
مگر تم میری صلاحیت نہیں دیکھ سکے
کیونکہ تم خود کو خالی سمجھتے تھے
میں مانتی ہوں کہ تم میرے ساتھ اچھا ہونا چاہتے تھے
مگر تم نے زیادہ وقت اُن لوگوں کے ساتھ گزارا
جو تمہیں زہر سے بھر دیتے تھے،
اور یوں تم خود کو بھلائی سے محروم رکھتے رہے
میں مانتی ہوں کہ تم بہت کچھ بن سکتے تھے،
مگر تم نے اپنے ماضی کو خود پر حاوی ہونے دیا
اور وہی سب بن گئے
جو کبھی تمہارے ساتھ برا ہوا تھا
میں مانتی ہوں کہ تم ہم دونوں کے لیے بہترین چاہتے تھے،
مگر تم خود پر یقین نہ کر سکے،
اس لیے ہمارا ٹوٹ جانا
محض ضمنی نقصان بن گیا
میں مانتی ہوں کہ تم نے کبھی جان بوجھ کر مجھے تکلیف نہیں دی
تم ایک اچھے انسان تھے
میں نے تمہیں تمہارے اصل میں دیکھا،
مگر جو تم نہیں تھے
وہی تمہیں راتوں کو جگائے رکھتا تھا
اگر تم پہلے خود سے محبت کر پاتے،
شاید ہم کچھ اور ہوتے،
یا شاید یہی وہ انجام تھا
جو ہمارے مقدر میں تھا
میں نے دل کی گہرائیوں سے محبت کی،
اور تم اپنے اندر محبت تلاش کرتے رہے
مرینہ ندیم ✍️
02/01/2026
25 دسمبر کی رات اور "خاموش قاتل" !
تین دن پہلے 25 دسمبر کی رات کا واقعہ ہے۔ دو تین دن سے سوچ رہا تھا کہ تحریر کر لینا چائیے تاکہ آپ سب بھی محتاط ہو جائیں۔
رات کو میں دیر تک جاگ رہا تھا اور کمرے میں گیس کا ہیٹر بھی لگایا ہوا تھا۔ سونے سے پہلے ہیٹر بند کر دیا۔ تھوڑی دیر سونے کے بعد طبعیت خراب ہونے لگی۔ سر چکرا رہا تھا ، جی متلا رہا تھا اور الٹی آ رہی تھی۔ ایک بار اٹھ کر پانی پیا اور پھر سو گیا۔ لگا شاید دیر تک جاگنے سے طبعیت خراب ہو رہی ہے نیند کی تو بہتر ہو جائے گی۔ تھوڑی دیر بعد دوبارہ سے طبعیت خراب ہوئی۔ جیسے بخار شدید ہو تو انسان کو خواب آتے اور الجھن ہوتی۔ ان دنوں میں اپنے پاس اور آرڈرز ہونے سٹوڈنٹس کی لسٹیں بناتا رہا ہوں۔ خواب میں دیکھ رہا کہ لسٹوں میں فرق آ رہا۔ حساب کتاب برابر نہیں ہو رہا۔
خواب نے جگایا ، اس بار طبعیت سخت خراب ہوئی۔ شدید قے آئی (یہ شاید کسی کو عجیب بھی لگے لیکن میری فوبیاز میں سے ایک قے بھی ہے کیونکہ یہ Non-volunteer غیر اختیاری فعل ہے اور انسان کے اختیار سے باہر ہوتا ہے)
بہرحال اس بار میں اس کے ڈر سے اٹھ کر بیٹھ گیا لیکن یہ اندازہ نہیں تھا اگلے لمحے اس سے بھی بہت بڑا کچھ ہونے والا ہے۔ مجھے اتنا اندازہ تھا کہ معاملہ گیس کا ہی ہے۔ کیونکہ عام روٹین میں اتنی دیر ہیٹر کبھی نہیں لگاتا۔
سب سے بہتر حل یہی تھا کہ اٹھ کر دروازہ کھولا جائے۔ کیونکہ سردیوں میں کھڑکی روشن دان مکمل طور پر بند ہوتے ہیں اور کہیں سے ہوا اندر آنے کا راستہ نہیں ہوتا۔ دروازہ کھولنے کے لیے اٹھا لیکن سر شدید چکرا رہا تھا ایسے لگ رہا تھا بس دو تین سیکنڈ کی مزید مہلت ہے۔ آخری لمحے گرتے گرتے دروازے پر ہاتھ ڈال کر کنڈی کھولی دروازہ کھولا اور خود بے ہوش ہو کر دروازے میں گر گیا۔ اٹھ کر دروازے تک پہنچنے میں جو دو چار سیکنڈ لگے انہیں بھی نیم بے ہوشی میں ہی شمار کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ کمرے میں اندھیرا تھا اور بعد میں کمرے میں گری ہوئی چیزوں اور سارا دن وقفے وقفے سے جسم سے اٹھنے والے دردوں اور زخموں سے اندازہ ہوا کہ دروازے تک پہنچتے راستے میں پڑی کن چیزوں سے میں ٹکرایا اور گر کر کہاں کہاں لگی۔
امی نماز کی تیاری کے لیے جاگی ہوئی تھیں۔ گرنے گرانے کی آوازیں سن لیں۔ بہرحال کچھ دیر تک بے ہوش دروازے میں پڑا رہا۔ ٹھنڈی ہوا نے آکسیجن کا کام کیا اور پھر ہوش آگئی۔ اتنے میں سارے گھر والے بھی پہنچ گئے۔
اب یہ سارا معاملہ کیا تھا یہ جاننا ضروری ہے۔ کمرے میں گیس کی بو نہیں تھی اور بظاہر لیکج کا معاملہ بھی نہیں لگ رہا تھا۔ میں ذاتی طور پر اس معاملے میں احتیاط بھی بہت کرتا ہوں۔ ہیٹر کبھی سوتے ہوئے نہیں لگایا ، وال بھی لازمی بند کرتا ہوں۔ پھر ہوا کیا یہ جاننا ضروری تھا اور جو معاملہ سامنے آیا میرے لیے بھی بالکل نئی چیز تھی۔ اس لیے اس کو لکھنا بھی ضروری سمجھا۔ اگلے دن گیس کی لیکج چیک کی لیکن کہیں سے بھی نہیں تھی اور ہوتی تو ظاہر بات ہے بو بھی ہوتی۔ پھر ہیٹر چیک کروایا اور مسئلہ ہیٹر کے اندر سے نکلا۔ اور جو مسئلہ سامنے آیا وہ میٹا کے سامنے رکھا تو میٹا نے یہ جواب دیا :
جب گیس کا ہیٹر صحیح طرح کام نہیں کر رہا ہوتا اور اس کے شعلے غیر معمولی طور پر باہر نکل رہے ہوں (جسے نا مکمل احتراق یا Incomplete Combustion کہا جاتا ہے)، تو سب سے خطرناک گیس جو خارج ہوتی ہے وہ کاربن مونو آکسائیڈ (CO) ہے۔
عام حالات میں جب گیس مکمل طور پر جلتی ہے تو شعلہ نیلا ہوتا ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO_2) پیدا ہوتی ہے۔ لیکن جب آکسیجن کی کمی ہو یا ہیٹر خراب ہو، تو شعلہ پیلا یا نارنجی ہو جاتا ہے اور زہریلی گیس بننا شروع ہو جاتی ہے۔
کاربن مونو آکسائیڈ (CO) کے نقصانات
کاربن مونو آکسائیڈ کو "خاموش قاتل" کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی نہ تو کوئی بو ہوتی ہے، نہ رنگ اور نہ ہی کوئی ذائقہ۔ اس کے بڑے نقصانات درج ذیل ہیں:
* آکسیجن کی کمی: جب آپ اس گیس میں سانس لیتے ہیں، تو یہ آپ کے خون میں موجود ہیموگلوبن کے ساتھ آکسیجن کے مقابلے میں 200 گنا زیادہ تیزی سے جڑ جاتی ہے۔ اس سے جسم کے اعضاء (خاص طور پر دماغ اور دل) کو آکسیجن ملنا بند ہو جاتی ہے۔
* ابتدائی علامات: ہلکی مقدار میں گیس جسم میں جانے سے سر میں درد، چکر آنا، متلی (جی متلانا) اور شدید تھکن محسوس ہوتی ہے۔ اکثر لوگ اسے عام نزلہ زکام سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
* بے ہوشی اور موت: اگر گیس کا اخراج جاری رہے تو انسان گہری نیند یا بے ہوشی کی حالت میں چلا جاتا ہے اور اسے احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ دم گھٹنے سے موت کے قریب ہے۔ سوئے ہوئے افراد کے لیے یہ سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
