Al Zama Tv

Contact the organization

Al Zama Tv Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al Zama Tv, Eden Garden Jail Road, Karachi.
(1)

Welcome to AL ZAMA TV
On this channel, you can watch Historical, Informative & Motivational videos, World Facts, News, and HD Documentary Films, country and cities stories, village info, and many other interesting topics videos and so many other topics. Welcome to AL ZAMA TV (It is an Informative, Motivational & Historical channel)

On this channel, you can watch historical, informative & Motivational videos, world facts, health tips, news, and HD documentary films in Urdu, Pakistani dramas info/review, cricket info /review, countries and cities stories, village info, and many other interesting topics videos and so many other topics.

◄▌●Don't Forget To Subscribe For More Interesting Videos● ▌►
***** Thanks to my Viewers, Subscribers and Supporters***** LOVE YOU*****

Follow us on Social Media:
page ➤ https://www.facebook.com/alzamatv/
Instagram ➤
Twitter ➤
Blog ➤

9,000 سال پہلے  #مہرگڑھ میں دانت ڈرل کیے جاتے تھے؟کیا آپ یقین کریں گے کہ  #بلوچستان کے مہرگڑھ میں ہزاروں سال پرانے ایسے ...
28/09/2026

9,000 سال پہلے #مہرگڑھ میں دانت ڈرل کیے جاتے تھے؟

کیا آپ یقین کریں گے کہ #بلوچستان کے مہرگڑھ میں ہزاروں سال پرانے ایسے دانت ملے ہیں جنہیں کسی نے زندہ انسان کے منہ میں باقاعدہ ڈرل کیا تھا؟ نہ جدید تھا، نہ #بجلی سے چلنے والی ، پھر یہ سوراخ آخر بنائے کیسے گئے؟

مہرگڑھ (Mehrgarh) بلوچستان میں واقع ایک قدیم #آثارِ #قدیمہ کا مقام ہے۔ 2006 میں سائنسی جریدے Nature میں شائع ہونے والی تحقیق میں یہاں ایک قدیم #قبرستان سے 9 بالغ افراد کے 11 داڑھ کے دانت (molars) ملے جن میں جان بوجھ کر سوراخ کیے گئے تھے۔ اس وقت #تحقیق میں ان دانتوں کی عمر تقریباً 7,500 سے 9,000 سال بتائی گئی تھی۔

لیکن اصل سوال ابھی باقی تھا: #سائنس دانوں کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ سوراخ مرنے کے بعد نہیں کیے گئے تھے؟
دانتوں کے سوراخوں کے کناروں کو باریک بینی سے دیکھا گیا تو وہاں ہمواری (marginal smoothing) کے آثار ملے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سوراخ کرنے کے بعد بھی وہ دانت استعمال ہوتے رہے اور #انسان ان سے چباتا رہا۔ یعنی یہ کام #زندہ انسان کے دانت میں کیا گیا تھا، صرف کسی مردہ جسم پر تجربہ نہیں کیا گیا تھا۔

اب اگلا سوال اور بھی دلچسپ تھا:

اتنے ہزار سال پہلے آخر drill آئی کہاں سے؟

مہرگڑھ سے چقماق پتھر (flint) کے ایسے چھوٹے اوزار بھی ملے تھے جنہیں سوراخ بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ محققین نے تجربات کے ذریعے دیکھا کہ flint کے ایک باریک سرے کو گھما کر دانت کی سخت بیرونی تہہ، یعنی ، میں اسی نوعیت کا سوراخ بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے bow drill جیسا طریقہ استعمال کیا جا سکتا تھا، جس میں کمان جیسی ڈوری کی حرکت سے drill کا سرا گھومتا ہے۔

یہاں کہانی میں ایک اور #دلچسپ سرا ملتا ہے۔ مہرگڑھ میں اسی قسم کے flint اوزاروں کا تعلق موتیوں اور دوسری چھوٹی چیزوں میں سوراخ بنانے سے بھی ملا ہے۔ اسی لیے محققین نے امکان ظاہر کیا کہ جو لوگ ایسی باریک چیزوں میں سوراخ کرنے کی مہارت رکھتے تھے، انہوں نے شاید یہی #تکنیک دانتوں پر بھی استعمال کی ہو۔ یہ ایک سائنسی امکان ہے، ثابت شدہ واقعہ نہیں۔

لیکن کیا یہ واقعی دانتوں کا علاج تھا؟ یہاں ہمیں ذرا احتیاط کرنی ہوگی۔ چار دانتوں میں #سوراخ کے ساتھ دانتوں کی سڑن (dental caries) بھی موجود تھی، اس لیے بعض میں مقصد علاج یا درد کم کرنا ہو سکتا ہے، لیکن سائنس دان یہ یقین سے نہیں بتا سکتے کہ ہر سوراخ کیوں کیا گیا تھا۔ کسی کا واضح ثبوت بھی نہیں ملا۔

یعنی مہرگڑھ کے لوگوں کے پاس آج جیسی تو نہیں تھی، لیکن ان کے پاس اوزار، مشاہدہ اور باریک کام کرنے کی مہارت ضرور تھی۔ ایک چھوٹا سا سوراخ، جو ہزاروں سال پہلے کسی انسان کے #دانت میں بنایا گیا تھا، آج #سائنس دانوں کو ایک پوری قدیم تکنیک کی کہانی سنا رہا ہے۔

اور یہاں ایک ضروری نئی بات بھی ہے۔ 2025 میں Reports میں شائع ہونے والی نئی نے مہرگڑھ کے ابتدائی دور (Period I) کی تاریخ پر نظرِ ثانی کی۔

اس لیے آج 2006 کی #تحقیق میں دی گئی 7,500–9,000 سال کی عمر کو بغیر وضاحت کے حتمی تاریخ سمجھنا مناسب نہیں۔ نئی تحقیق نے مہرگڑھ کی ابتدائی کو تقریباً 5250–4650 قبل مسیح کے عرصے میں رکھنے کی تجویز دی ہے۔

تو مہرگڑھ کی اصل حیرانی صرف یہ نہیں کہ ہزاروں سال پہلے کسی نے دانت میں سوراخ کیا تھا۔ اصل حیرانی یہ ہے کہ انسان نے اپنی بنائی ہوئی ایک سادہ تکنیک کو اپنے #جسم پر استعمال کرنا بھی بہت پہلے سیکھ لیا تھا۔
آپ کے خیال میں اُس زمانے میں کسی انسان کے دانت میں سوراخ کرنے کی سب سے ممکنہ وجہ کیا ہو سکتی تھی؟

کیا ہو اگر آپ  #نیوٹران ستارے کا ایک چمچ اٹھا سکیں؟ 🥄⭐نیوٹران ستارے کائنات کی سب سے زیادہ کثیف (dense) اشیاء میں سے ہیں۔...
28/09/2026

کیا ہو اگر آپ #نیوٹران ستارے کا ایک چمچ اٹھا سکیں؟ 🥄⭐
نیوٹران ستارے کائنات کی سب سے زیادہ کثیف (dense) اشیاء میں سے ہیں۔ یہ ان انتہائی گھنے باقیات کی شکل میں بچ جاتے ہیں جو کسی بڑے ستارے کے #سپرنووا بن کر پھٹنے کے بعد پیچھے رہ جاتے ہیں۔
ایک نیوٹران ستارہ #سورج سے بھی زیادہ کمیت (mass) کو صرف بیس کلومیٹر کے دائرے میں سمیٹ سکتا ہے۔ 🤯
یہ انتہائی دباؤ ایک ایسے مادے کو جنم دیتا ہے جو زمین پر ہمارے تجربے میں آنے والی کسی بھی چیز سے مختلف ہے۔
اور یہاں سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے:
زمینی حالات میں نیوٹران #ستارے کے اس چھوٹے سے ٹکڑے کی کمیت بھی انتہائی زیادہ ہوگی۔
🌌 کائنات #مادے کو ایسی حدود تک دبا سکتی ہے جو تقریباً ناممکن معلوم ہوتی ہیں۔
کیا آپ نیوٹران ستارے کے اس مادے کو تھامنے کی ہمت کریں گے اگر زمین کی #کشش ثقل آپ کو کچل نہ دے؟ 👀

 #مادہ نر سے بہت بڑی اور طاقتور ہوتی ہے۔  #ملاپ کے بعد کبھی کبھی وہ نر کو اپنے  #جسم سے جکڑ کر دباؤ سے مار دیتی ہے اور پ...
28/09/2026

#مادہ نر سے بہت بڑی اور طاقتور ہوتی ہے۔ #ملاپ کے بعد کبھی کبھی وہ نر کو اپنے #جسم سے جکڑ کر دباؤ سے مار دیتی ہے اور پھر کھا جاتی ہے۔
مادہ تقریباً 7 ماہ تک بچوں کو پیٹ میں رکھتی ہے وہ #انڈے نہیں دیتی، بچے زندہ پیدا ہوتے ہیں۔ اس دوران وہ شکار کرنے نہیں نکلتی، حرکت بھی بہت کم کرتی ہے، تو کئی مہینے بغیر کھائے رہتی ہے۔ #نر کو کھا کر اسے اضافی طاقت اور #غذائیت مل جاتی ہے، جو بچوں کی پیدائش اور ان کی دیکھ بھال کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔ یہ اس کی #بقا اور بچوں کی حفاظت کا ایک قدرتی طریقہ ہے۔ یہ ہر بار نہیں ہوتا، صرف کبھی کبھی۔ کئی نر بچ بھی جاتے ہیں۔

برکا میں تقریبا 1200 سال پہلے دفن ایک خاتون کی قبر سے چاندی کی انگوٹھی ملی ہے انگوٹھی پر کوفی رسم الخط میں اللہ کے لیے ل...
28/09/2026

برکا میں تقریبا 1200 سال پہلے دفن ایک خاتون کی قبر سے چاندی کی انگوٹھی ملی ہے انگوٹھی پر کوفی رسم الخط میں اللہ کے لیے لکھا ہوا ہے برکا موجودہ اسٹاک ہوم سے تقریبا پچیس کلومیٹر مغرب میں واقع ہے یہ وائکنگ دور کا سب سے فعال تجارتی مرکز تھا یہاں سے تجارتی راستے مشرقی یورپ اور اسلامی دنیا تک جاتے تھے۔
تحریر : Kashif Ali

وائکنگ علاقوں میں عباسی چاندی کے سکے عام ملتے ہیں لیکن اسلامی تحریر والی جیولری بہت نایاب ہے اس لیے یہ انگوٹھی طویل فاصلے کے ثقافتی رابطے کا اہم ثبوت ہے۔

قبر خود برکا کی عام قبر جیسی ہے منظم اور سادہ۔ اس میں روزمرہ کی عام چیزیں تھیں کوئی شاہی یا فوجی سامان نہیں تھا خاتون زیادہ امیر نہیں لگتی انگوٹھی پر کم گھساؤ ہے اور یہ قبر کی سب سے خاص چیز تھی اس کی بناوٹ اور تحریر واضح طور پر اسلامی پیداوار کی طرف اشارہ کرتی ہے غالبا یہ عباسی خلافت میں بنی اور تجارتی راستوں سے شمال پہنچی۔

قبر کے ساتھ کوئی تحریری ریکارڈ نہیں ملا اس لیے اس خاتون کی شناخت غیر یقینی ہے وہ مقامی اسکینڈے نیوین خاتون ہو سکتی ہے جس نے تجارت سے انگوٹھی حاصل کی وہ کسی تاجر گھرانے کی فرد ہو سکتی ہے یا وہ برکا کی متنوع آبادی میں رہنے والی غیر ملکی بھی ہو سکتی ہے انگوٹھی اس کے مذہب یا نسل کو ثابت نہیں کرتی۔ لیکن یہ ضرور بتاتی ہے کہ وائکنگ معاشرے میں خواتین بھی ہزاروں کلومیٹر تک پھیلے عالمی معاشی نظام سے جڑی ہوئی تھیں۔

*دنیا کے 50 جعلی ملک: جن کا ایک ووٹ امریکہ اور چین کروڑوں میں خریدتے ہیں**(وہ 50 ممالک جن کے متعلق آپ کو سکول میں نہیں پ...
27/09/2026

*دنیا کے 50 جعلی ملک: جن کا ایک ووٹ امریکہ اور چین کروڑوں میں خریدتے ہیں*

*(وہ 50 ممالک جن کے متعلق آپ کو سکول میں نہیں پڑھایا گیا مگر ان کے بغیر دنیا کی سیاست نہیں چلتی)*

ہم سب نے سکول میں دنیا کے 7 براعظم اور 195 ملک پڑھے۔ لیکن استاد نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ ان 195 میں سے 50 ایسے ملک ہیں جن کی کل آبادی لاہور کے ایک محلے جتنی بھی نہیں، اور جن کا رقبہ اسلام آباد سے بھی چھوٹا ہے۔ پھر بھی یہ اقوام متحدہ میں بیٹھے ہیں، ان کا جھنڈا ہے، وزیراعظم ہے، اور ان کا ایک ووٹ امریکہ، چین اور روس کروڑوں ڈالر میں خریدتے ہیں۔

یہ مضمون انہی کرائے کے ملکوں کی کہانی ہے۔

*یہ 50 ملک ہیں کون؟*

یہ تین جگہوں پر بکھرے ہوئے ہیں۔

پہلا گروہ:
پہلا گروہ کیریبین کا ہے۔ آپ نے ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کا نام سنا ہوگا، یہ دراصل کوئی ایک ملک نہیں۔ یہ 15 الگ الگ ملکوں کا جتھہ ہے۔ جیسے سینٹ کٹس اینڈ نیوس (رقبہ 261 کلومیٹر، آبادی 53 ہزار)، انٹیگوا و باربوڈا (رقبہ 440 کلومیٹر، آبادی 1 لاکھ)، ڈومینیکا (رقبہ 750 کلومیٹر، آبادی 72 ہزار)، سینٹ لوشیا (رقبہ 616 کلومیٹر، آبادی 1 لاکھ 80 ہزار)، گریناڈا (رقبہ 344 کلومیٹر، آبادی 1 لاکھ 12 ہزار)۔

دوسرا گروہ:
دوسرا گروہ بحرالکاہل کا ہے، جہاں دنیا کے سب سے چھوٹے ملک ہیں۔ ناورو (رقبہ صرف 21 کلومیٹر، آبادی 12 ہزار)، تووالو (رقبہ 26 کلومیٹر، آبادی 11 ہزار)، پالاؤ (رقبہ 466 کلومیٹر، آبادی 18 ہزار)، مارشل آئی لینڈ (رقبہ 181 کلومیٹر، آبادی 42 ہزار)، مائیکرونیشیا (رقبہ 702 کلومیٹر، آبادی 1 لاکھ 15 ہزار)۔

تیسرا گروہ:
تیسرا گروہ یورپ کے اندر ہے۔ ویٹیکن سٹی (رقبہ 0.44 کلومیٹر، آبادی 800 افراد)، موناکو (رقبہ 2 کلومیٹر، آبادی 39 ہزار)، لیختنسٹائن (رقبہ 160 کلومیٹر، آبادی 38 ہزار)، سان مارینو (رقبہ 61 کلومیٹر، آبادی 33 ہزار)، انڈورا (رقبہ 468 کلومیٹر، آبادی 77 ہزار)۔

سوال یہ ہے کہ یہ کیسے زندہ ہیں؟ ان کے پاس فوج نہیں، زراعت نہیں، صنعت نہیں۔

*یہ ختم کیوں نہیں ہوتے؟ اس ظالم دنیا نے انہیں کیوں زندہ رکھا ہوا ہے؟*

1945 سے پہلے دنیا کا قانون تھا کہ جو طاقتور ہے وہ کمزور کو کھا جائے گا۔ لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد نیا قانون بنا کہ کوئی ملک کسی دوسرے ملک کی سرحد ختم نہیں کرے گا۔ اس ایک قانون نے ان 50 ملکوں کو ہمیشہ کی زندگی دے دی۔

اب ان کو ختم کرنا بہت مہنگا اور زندہ رکھنا بہت سستا ہے۔ ان کو زندہ رکھنے کی چار بڑی وجوہات ہیں۔

پہلی وجہ، یہ بڑی طاقتوں کے لیے ٹیکس چوری کا بینک ہیں۔ آپ نے کیمن آئی لینڈ (رقبہ 264 کلومیٹر، آبادی 68 ہزار) کا نام سنا ہوگا۔ یہ برطانیہ کی کالونی ہے۔ دنیا کی 100 بڑی کمپنیوں میں سے 90 کا دفتر یہاں کاغذ پر موجود ہے۔ دنیا کا تقریباً 2 ہزار ارب ڈالر کا کالا پیسہ یہیں پڑا ہے۔ برطانیہ اور امریکہ کبھی نہیں چاہیں گے یہ جزیرے ختم ہوں۔

دوسری وجہ، یہ سیاحت کے ہوٹل ہیں۔ انٹیگوا میں 365 ساحل ہیں۔ ہر ساحل پر امریکی اور برطانوی سیاح آتے ہیں۔ ایک لاکھ کی آبادی والے ملک میں ہر سال 10 لاکھ سیاح آتے ہیں۔ اگر یہاں بدامنی ہوئی تو امریکی سیاحت کی انڈسٹری کو نقصان ہوگا۔ اس لیے امریکہ خود ان کی حفاظت کرتا ہے۔

تیسری وجہ، یہ پاسپورٹ کی دکان ہیں۔ ان میں سے اکثر ملک اپنا پاسپورٹ بیچتے ہیں۔ 2 لاکھ ڈالر دو اور سینٹ کٹس یا انٹیگوا کا پاسپورٹ لو، جس پر 150 ملکوں میں بغیر ویزے جا سکتے ہو۔ یہ کاروبار ہر سال ان چھوٹے ملکوں کو 500 ملین ڈالر سے زیادہ دیتا ہے۔

اور چوتھی اور سب سے اہم وجہ، جو ہمارے عنوان کی اصل ہے، وہ ہے ووٹ۔

جعلی ممالک کو امریکہ، یورپ، آسٹریلیا نے قائم کیوں رکھا ہوا ہے اور یہ اپنا جھنڈا کیسے بیچتے ہیں؟:

ان 50 ملکوں کے زندہ رہنے کی دو قیمتیں ہیں، ایک جھنڈا اور دوسرا ووٹ، اور دونوں ہی بڑی طاقتوں کے لیے سستا سودا ہے۔

پہلا سودا جھنڈے کا ہے جسے Flag of Convenience کہتے ہیں۔ فرض کریں آپ یورپ کے ایک بڑے بحری جہاز کے مالک ہیں۔ اگر آپ اپنے جہاز پر جرمنی یا فرانس کا جھنڈا لگائیں گے تو آپ کو یورپ کا بھاری ٹیکس، مہنگے یورپی ملازم اور سخت قانون برداشت کرنا پڑے گا۔ لیکن اگر آپ اسی جہاز پر پاناما (رقبہ 75 ہزار کلومیٹر، آبادی 44 لاکھ)، لائبیریا (رقبہ 1 لاکھ 11 ہزار کلومیٹر، آبادی 53 لاکھ) یا مارشل آئی لینڈ (رقبہ 181 کلومیٹر، آبادی 42 ہزار) کا جھنڈا لگا لیں تو نہ ٹیکس دینا پڑے گا نہ کوئی پوچھے گا۔ اسی لیے آج دنیا کے 70 فیصد تجارتی جہازوں پر ان چھوٹے ملکوں کا جھنڈا لہراتا ہے۔ یہ ملک ہر جہاز سے سالانہ 10 سے 20 ہزار ڈالر فیس لے کر اپنی حکومت چلاتے ہیں، اور امریکہ و یورپ کی کمپنیاں اسی سے اربوں کا ٹیکس بچاتی ہیں۔

دوسرا اور اس سے بھی بڑا سودا اقوام متحدہ میں ووٹ کا ہے۔ وہاں امریکہ کی 34 کروڑ آبادی کا بھی ایک ووٹ ہے اور ناورو (رقبہ 21 کلومیٹر، آبادی 12 ہزار) کا بھی ایک ووٹ ہے۔ تو 20 چھوٹے ملک خرید لو تو 20 بڑے ملکوں کے برابر طاقت مل جاتی ہے۔ اسی لیے چین، امریکہ اور آسٹریلیا انہیں سالانہ 50 سے 100 ملین ڈالر کی امداد، ایک اسٹیڈیم یا ایک سڑک دے کر ان کا ووٹ خرید لیتے ہیں۔

اب حساب لگائیں، ان پر قبضہ کرنے کا مطلب ہے وہاں فوج رکھنا، انتظامیہ چلانا، اقوام متحدہ میں بدنامی لینا جس کا خرچہ اربوں ڈالر ہے۔ جبکہ انہیں آزاد رکھ کر ان کا جھنڈا اور ووٹ کرائے پر لینے کا خرچہ صرف چند کروڑ ڈالر ہے۔ اسی لیے اس ظالم دنیا نے ہوشیاری سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ انہیں ختم کرنا مہنگا ہے، زندہ رکھنا سستا ہے۔

*ایک ووٹ کی منڈی کیسے لگتی ہے؟*

اقوام متحدہ میں ایک عجیب جمہوریت ہے۔ امریکہ کی آبادی 34 کروڑ ہے، اس کا ووٹ ایک۔ اور ناورو کی آبادی 12 ہزار ہے، اس کا ووٹ بھی ایک۔

یعنی 20 چھوٹے جزیرہ ممالک مل جائیں تو وہ جرمنی، فرانس، برطانیہ اور جاپان جیسے 20 بڑے ملکوں کے ووٹوں کے برابر ہو گئے۔

اب یہاں منڈی لگتی ہے۔

کہانی نمبر 1: چین بمقابلہ تائیوان

تائیوان چاہتا ہے دنیا اسے ملک مانے، چین کہتا ہے کوئی نہ مانے۔ دونوں ان چھوٹے ملکوں کے پاس جاتے ہیں۔ پچھلے 10 سال میں چین نے وانواتو (رقبہ 12 ہزار کلومیٹر، آبادی 3 لاکھ)، سولومن آئی لینڈ (رقبہ 28 ہزار کلومیٹر، آبادی 7 لاکھ) اور کیریباتی (رقبہ 811 کلومیٹر، آبادی 1 لاکھ 20 ہزار) کو اربوں ڈالر کی سڑکیں اور پارلیمنٹ بنا کر دی، اور انہوں نے بدلے میں تائیوان کو چھوڑ کر چین کو اپنا باپ مان لیا۔ تائیوان کے پاس اب صرف 12 ملک رہ گئے ہیں جن میں سے 5 اسی 50 کی فہرست میں سے ہیں۔

کہانی نمبر 2: امریکہ اور اسرائیل

جب اقوام متحدہ میں فلسطین پر ووٹ ہوتا ہے تو پوری دنیا فلسطین کے حق میں ووٹ دیتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے حق میں صرف 8 یا 9 ووٹ آتے ہیں۔ ان 9 میں ہمیشہ مائیکرونیشیا، مارشل آئی لینڈ، پالاؤ، ناورو جیسے ملک ہوتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کا سارا بجٹ ہی امریکی امداد پر چلتا ہے۔ امریکہ ان کو سال کا 100 ملین ڈالر دیتا ہے اور بدلے میں ان کا ووٹ لے لیتا ہے۔

کہانی نمبر 3: موسمیاتی تبدیلی کا ڈرامہ

تووالو اور مالدیپ (رقبہ 300 کلومیٹر، آبادی 5 لاکھ) جیسے ملک کہتے ہیں ہم سمندر میں ڈوب رہے ہیں۔ یورپ کہتا ہے ہم تمہیں بچانے کے لیے فنڈ دیں گے، لیکن تم ہمارے حق میں ووٹ دو۔

تو یہ جمہوریت نہیں، یہ منڈی ہے۔ پاکستان میں ایک برادری کا ووٹ 5 ہزار میں بکتا ہے، عالمی سطح پر ایک ملک کا ووٹ ایک اسٹیڈیم یا ایک سڑک کے بدلے بکتا ہے۔

*آخر میں سوال یہ ہے کہ کیا یہ ملک بے وقوف ہیں؟*

نہیں، یہ بہت ہوشیار ہیں۔ ان کے حکمران جانتے ہیں کہ ان کے پاس نہ تیل ہے نہ فوج۔ ان کے پاس صرف تین چیزیں ہیں، اپنا جھنڈا، اپنا ساحل، اور اقوام متحدہ میں اپنی کرسی۔ وہ اسی کرسی کو بیچ کر 100 سال سے زندہ ہیں۔

انہیں ختم کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔ یہ ختم ہو گئے تو امریکہ اور چین اپنے سستے ووٹ کہاں سے خریدیں گے، یورپ کے ارب پتی اپنا پیسہ کہاں چھپائیں گے، اور دنیا کے سیاح سردیوں میں سستے ساحل پر کہاں جائیں گے؟

اس لیے یہ 50 جعلی ملک، اصل دنیا کی سیاست کے سب سے اصلی ستون ہیں۔

بالکل اسی طرح ہمارے ملک چھوٹی چھوٹی جعلی و مصنوعی، نا اہل قیادتیں پیدا کی جاتی ہیں، ان کی تانگہ پارٹیاں رجسٹرڈ کروائی جاتی ہیں، نہ ان کا کوئی تنظیمی اسٹرکچر ہوتا ہے، نہ کوئی قومی خدمت۔ مگر ان کو اتحادوں کے جوڑ توڑ کی سیاست کیلیے استعمال کیا جاتا ہے۔ آخر میں نعرہ لگتا 9 ستاہ، 18 ستارہ اتحاد ۔۔ اس اتحاد کی بدولت ان کو ایک ایک، دو دو سیٹیں پارلیمینٹ میں دے دی جاتی ہیں اور جوڑ توڑ کی سیاست جاری رہتی ہے۔۔ 😂

*اور ہمارا پاکستان اس سے کیا سیکھے؟*

یہ 50 جعلی ملک ہم پاکستانیوں کے لیے آئینہ ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں ایک چھوٹا جزیرہ اپنا جھنڈا اور ووٹ بیچ کر اپنی عوام کو پالتا ہے، اور یہاں ہماری بڑی بڑی سیاسی جماعتیں اپنا جھنڈا اور اپنا ووٹ بیچ کر اپنی جیبیں بھرتی ہیں۔ ناورو (12 ہزار آبادی) جیسا ملک جب امریکہ سے 100 ملین ڈالر لیتا ہے تو وہ اپنے ہر شہری کے لیے اسکول اور ہسپتال بناتا ہے، جبکہ ہمارے یہاں اربوں ڈالر کی امداد، IMF کے قرضے اور بیرونی آقاؤں کی حمایت کا سودا صرف اقتدار کی کرسی بچانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایک چھوٹے جزیرے کے ووٹ کی بھی قیمت ہے کیونکہ وہ اپنے ملک کے مفاد میں بکتا ہے، لیکن ہمارے پارلیمنٹ میں ہمارے اپنے نمائندے کا ووٹ جس دن بکتا ہے اس دن وہ ملک کے نہیں، لندن، دبئی یا واشنگٹن میں بیٹھے آقاؤں کے مفاد میں بکتا ہے۔ اس لیے وہ 50 ملک جنہیں ہم جعلی کہہ رہے ہیں وہ کم از کم اپنے کرائے سے زندہ تو ہیں، جبکہ ہم اصل ملک ہو کر بھی کرائے پر چل رہے ہیں۔ منقول
تحریر و تحقیق:
ڈاکٹر سید محمد ہارون بخاری۔۔ شکریہ ۔

پچیس اپریل انیس سو پینتیس کو سڈنی نیو ساؤتھ ویلز میں کوجی ایکویریم باتھز میں ایک ٹائیگر شارک نے تماشائیوں کے سامنے انسان...
27/09/2026

پچیس اپریل انیس سو پینتیس کو سڈنی نیو ساؤتھ ویلز میں کوجی ایکویریم باتھز میں ایک ٹائیگر شارک نے تماشائیوں کے سامنے انسانی بازو اگل دیا پولیس نے فنگر پرنٹس اور ٹیٹو سے اس کی شناخت جیمز جم اسمتھ پینتالیس سالہ سابق باکسر اور بلیئرڈز سیلون کیپر کے طور پر کی جو گلیڈز ویل سے لاپتہ تھا۔
تحریر : Kashif Ali

طبی معائنے سے پتا چلا کہ بازو چاقو یا کسی اور تیز آلے سے کاٹا گیا تھا کاٹا نہیں گیا تھا یہ فنگر پرنٹنگ کے لیے کافی محفوظ تھا اور بازو پر دو باکسرز کا ٹیٹو بنا ہوا تھا۔

پیٹرک بریڈی پر اسمتھ کے قتل کا الزام عائد کیا گیا اہم گواہ ریجنالڈ لائیڈ ہومز بارہ جون انیس سو پینتیس کو انکویسٹ سے چند گھنٹے قبل ڈاوز پوائنٹ پر اپنی کار میں گولی لگا ہوا پایا گیا۔ کیس ختم ہو گیا بریڈی بری ہو گیا اور اسمتھ کا قتل ابھی تک حل طلب ہے۔ منقول

27/09/2026
فرانسس کلفورڈ اسمتھ ایک سو ایک سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔تحریر : Kashif Ali .. Thanks امریکی تاریخ میں سب سے طویل عرص...
26/09/2026

فرانسس کلفورڈ اسمتھ ایک سو ایک سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔
تحریر : Kashif Ali .. Thanks

امریکی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک قید رہنے والے قیدی کے طور پر جانا جاتا ہے وہ پچیس جون دو ہزار چھبیس کو راکی ہل کنیکٹیکٹ میں ایک محفوظ نرسنگ سہولت میں نیند کے دوران انتقال کر گیا، ابھی بھی زیر نگرانی پیرول پر تھا۔

پچیس سال کی عمر میں اسے جولائی انیس سو انچاس میں گرین وچ میں انڈین ہاربر یاٹ کلب میں ڈکیتی کے دوران اڑسٹھ سالہ نائٹ واچ مین گروور ہارٹ کی شوٹنگ کے لیے فرسٹ ڈگری قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

اسے آٹھ بار پھانسی کے لیے مقرر کیا گیا اسے آٹھ بار آخری کھانا کھلایا گیا انیس سو چون میں آخری تاریخ پر الیکٹرک چیئر کے لیے اس کا سر منڈوایا گیا تھا اس سے پہلے کہ سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا۔

کئی دہائیوں کے دوران اہم گواہوں نے اپنے بیانات واپس لیے، ایک اور قیدی نے اعتراف کیا اور اسے گرفتار کرنے والے افسر نے بعد میں دلیل دی کہ اسمتھ بے گناہ تھا۔ سزا کبھی ختم نہیں ہوئی۔

جولائی دو ہزار بیس میں پچانوے سال کی عمر میں اسے خراب صحت کی وجہ سے زیر نگرانی پیرول دی گئی۔

اس نے آخری سانس تک اپنی بے گناہی برقرار رکھی۔

انصاف یا چوری شدہ زندگی؟

Address

Eden Garden Jail Road
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Zama Tv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Al Zama Tv:

Shortcuts

Share