28/09/2026
9,000 سال پہلے #مہرگڑھ میں دانت ڈرل کیے جاتے تھے؟
کیا آپ یقین کریں گے کہ #بلوچستان کے مہرگڑھ میں ہزاروں سال پرانے ایسے دانت ملے ہیں جنہیں کسی نے زندہ انسان کے منہ میں باقاعدہ ڈرل کیا تھا؟ نہ جدید تھا، نہ #بجلی سے چلنے والی ، پھر یہ سوراخ آخر بنائے کیسے گئے؟
مہرگڑھ (Mehrgarh) بلوچستان میں واقع ایک قدیم #آثارِ #قدیمہ کا مقام ہے۔ 2006 میں سائنسی جریدے Nature میں شائع ہونے والی تحقیق میں یہاں ایک قدیم #قبرستان سے 9 بالغ افراد کے 11 داڑھ کے دانت (molars) ملے جن میں جان بوجھ کر سوراخ کیے گئے تھے۔ اس وقت #تحقیق میں ان دانتوں کی عمر تقریباً 7,500 سے 9,000 سال بتائی گئی تھی۔
لیکن اصل سوال ابھی باقی تھا: #سائنس دانوں کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ سوراخ مرنے کے بعد نہیں کیے گئے تھے؟
دانتوں کے سوراخوں کے کناروں کو باریک بینی سے دیکھا گیا تو وہاں ہمواری (marginal smoothing) کے آثار ملے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سوراخ کرنے کے بعد بھی وہ دانت استعمال ہوتے رہے اور #انسان ان سے چباتا رہا۔ یعنی یہ کام #زندہ انسان کے دانت میں کیا گیا تھا، صرف کسی مردہ جسم پر تجربہ نہیں کیا گیا تھا۔
اب اگلا سوال اور بھی دلچسپ تھا:
اتنے ہزار سال پہلے آخر drill آئی کہاں سے؟
مہرگڑھ سے چقماق پتھر (flint) کے ایسے چھوٹے اوزار بھی ملے تھے جنہیں سوراخ بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ محققین نے تجربات کے ذریعے دیکھا کہ flint کے ایک باریک سرے کو گھما کر دانت کی سخت بیرونی تہہ، یعنی ، میں اسی نوعیت کا سوراخ بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے bow drill جیسا طریقہ استعمال کیا جا سکتا تھا، جس میں کمان جیسی ڈوری کی حرکت سے drill کا سرا گھومتا ہے۔
یہاں کہانی میں ایک اور #دلچسپ سرا ملتا ہے۔ مہرگڑھ میں اسی قسم کے flint اوزاروں کا تعلق موتیوں اور دوسری چھوٹی چیزوں میں سوراخ بنانے سے بھی ملا ہے۔ اسی لیے محققین نے امکان ظاہر کیا کہ جو لوگ ایسی باریک چیزوں میں سوراخ کرنے کی مہارت رکھتے تھے، انہوں نے شاید یہی #تکنیک دانتوں پر بھی استعمال کی ہو۔ یہ ایک سائنسی امکان ہے، ثابت شدہ واقعہ نہیں۔
لیکن کیا یہ واقعی دانتوں کا علاج تھا؟ یہاں ہمیں ذرا احتیاط کرنی ہوگی۔ چار دانتوں میں #سوراخ کے ساتھ دانتوں کی سڑن (dental caries) بھی موجود تھی، اس لیے بعض میں مقصد علاج یا درد کم کرنا ہو سکتا ہے، لیکن سائنس دان یہ یقین سے نہیں بتا سکتے کہ ہر سوراخ کیوں کیا گیا تھا۔ کسی کا واضح ثبوت بھی نہیں ملا۔
یعنی مہرگڑھ کے لوگوں کے پاس آج جیسی تو نہیں تھی، لیکن ان کے پاس اوزار، مشاہدہ اور باریک کام کرنے کی مہارت ضرور تھی۔ ایک چھوٹا سا سوراخ، جو ہزاروں سال پہلے کسی انسان کے #دانت میں بنایا گیا تھا، آج #سائنس دانوں کو ایک پوری قدیم تکنیک کی کہانی سنا رہا ہے۔
اور یہاں ایک ضروری نئی بات بھی ہے۔ 2025 میں Reports میں شائع ہونے والی نئی نے مہرگڑھ کے ابتدائی دور (Period I) کی تاریخ پر نظرِ ثانی کی۔
اس لیے آج 2006 کی #تحقیق میں دی گئی 7,500–9,000 سال کی عمر کو بغیر وضاحت کے حتمی تاریخ سمجھنا مناسب نہیں۔ نئی تحقیق نے مہرگڑھ کی ابتدائی کو تقریباً 5250–4650 قبل مسیح کے عرصے میں رکھنے کی تجویز دی ہے۔
تو مہرگڑھ کی اصل حیرانی صرف یہ نہیں کہ ہزاروں سال پہلے کسی نے دانت میں سوراخ کیا تھا۔ اصل حیرانی یہ ہے کہ انسان نے اپنی بنائی ہوئی ایک سادہ تکنیک کو اپنے #جسم پر استعمال کرنا بھی بہت پہلے سیکھ لیا تھا۔
آپ کے خیال میں اُس زمانے میں کسی انسان کے دانت میں سوراخ کرنے کی سب سے ممکنہ وجہ کیا ہو سکتی تھی؟