05/02/2024
دراصل ووٹ اس کا ہے جس نے ناموس رسالت ﷺ پر دنیا بھر میں پیغام حق پہنچایا
ووٹ اس کا ہے جس نے پاکستان کا مقدمہ لڑا
ووٹ اس کا جس نے ایک غریب کو امیر کی طرح علاج معالجہ کی سہولت میسر کی
ووٹ اس کا جو بے سہاروں کے سائبان بنا
ووٹ اس کا جو آرام و آرائش چھوڑ کر حقیقی آزای کے لئے قید کاٹ رہا ہے
22/08/2023
تنہائی کا شکار ہیں 22 کروڑ لوگ
حالانکہ بےشمار ہیں 22 کروڑ لوگ
دو چار بھیڑیوں کے ہیں آگے لگے ہوئے
بھیڑوں کی اک قطار ہیں 22 کروڑ لوگ
غیرت سےدور کا بھی نہیں واسطہ انہیں
کس منہ سے شرمسار ہیں 22 کروڑ لوگ
اٹھ پائے کیوں نہیں ہیں چوالیس کروڑ ہاتھ
کیوں صرف اشکبار ہیں بائیس کروڑ لوگ
ارشد شریف کوفیوں کو جانتا نہ تھا
وہ سمجھا اس کے یار ہیں 22 کروڑ لوگ
نعیم ضرار کے شاندار الفاظ
10/04/2023
تیار فصل میں سؤر چھوڑنے کا آج ایک سال مکمل ہو گیا۔۔۔۔!
08/03/2023
دھوبی کی بیوی بادشاہ کے گھر میں کام کرتی تھی اور بڑی خوش نظر آرہی تھی ، تب
ملکہ سلطنت نے پوچھا کہ آج تم اتنی خوش کیوں ہو۔
دھوبن نے کہا کہ آج دَھنُوں پیدا ہوا ہے۔
ملکہ نے اسکو مٹھائی پیش کرتے ہو کہا،
دَھنُوں کی پیدائش کی خوشی میں کھاؤ۔
اتنے میں بادشاہ بھی کمرے میں داخل ہوا۔
ملکہ کو خوش دیکھ کر پوچھا
آج آپ اتنی خوش کیوں ہیں کوئی خاص وجہ ہے؟
ملکہ نے کہا!
سلطان یہ لیں مٹھائی کھائیں
آج دَھنُوں پیدا ہوا ہے۔
اس لیئے خوشی کے موقع پہ خوش ہونا چاہیے.... !!
بادشاہ کو بیوی سے بڑی محبت تھی۔
بادشاہ نے دربان کو کہا کہ مٹھائی ہمارے پیچھے پیچھے لے آو۔
بادشاہ باہر دربار میں آیا تو
بادشاہ بہت خوش تھا۔ وزیروں نے جب بادشاہ کو خوش دیکھا تو۔۔۔
واہ واہ کی آوازیں گونجنے لگیں۔
بادشاہ مزید خوش ہونے۔
بادشاہ نے کہا سبکو مٹھائی بانٹ دو۔
مٹھائی کھاتے ہوئے بادشاہ سے وزیر نے پوچھا!
بادشاہ سلامت یہ آج مٹھائی کس خوشی میں آئی ہے؟
بادشاہ نے کہا!
کہ آج دَھنُوں پیدا ہوا ہے۔
ایک مشیر نے چپکے سے وزیر اعظم سے پوچھا!
وزیر با تدبیر ویسے یہ دھنوں ہے کیا..؟
وزیراعظم نے کہا!
کہ مجھے تو علم نہیں یہ دھنوں کیا بلا ہے،
بادشاہ سے پوچهتا ہوں۔
وزیر اعظم نے ہمت کر کے پوچھا!
بادشاہ سلامت ویسے یہ دھنوں ہے کون؟
بادشاہ سلامت تھوڑا سا گھبرائے اور سوچنے لگے کہ واقعی پہلے معلوم تو کرنا چاہیے تھا کہ یہ دھنُوں کون ہے؟
بادشاہ نے کہا!
مجھے تو علم نہیں کہ یہ کون ہے... ۔
میری بیوی آج خوش تهی وجہ پوچھی تو
اس نے کہا!
کہ ٓآج دَھنُوں پیدا ہوا ہے۔
اس لیئے میں اسکی خوشی کی وجہ سے خوش ہوا۔
بادشاہ گھر آیا اور بیوی سے پوچھا....
ملکہ عالیہ یہ دھنوں کون تھا؟ جس کی وجہ سے آپ اتنی خوش تھی اور ہم بھی خوش ہیں۔
ملکہ عالیہ نے کہا!
کہ مجھے تو علم نہیں کہ دھنوں کون ہے؟
یہ تو دھوبن بڑی خوش تھی اُس نے بتایا۔
آج دھنوں پیدا ہوا ہے۔
اس لیئے میں بھی خوش ہو کر اسکی خوشی میں شریک ہوئی۔
دھوبی کی بیوی کو بلایا اور پوچھا!
تیرا ستیاناس ہو.
یہ تو بتا کہ یہ دھنوں کون ہے؟
جس کی وجہ سے ہم نے پوری سلطنت میں مٹھائیاں بانٹی۔!
دھوبن بولی!
یہ دَھنُوں ہماری کھوتی کا بچہ ہے
جو کل پیدا ہوا ہے۔
ایسا ہی حال ہمارے ہاں نٸے بننے والے وزیراعظم کا ہے پاکستان تو کیا لندن امریکہ میں بھی مٹھاٸیاں بانٹی جا رہی ہیں۔ ۔ ۔ کوٸی پوچھے تو یہ دھنُوں ہے کیا تو جواب ملے گا جو تیس ہزار میٹر ( 98450 فُٹ ) کی بلندی سے بھی انٹرنیٹ کی سروس استعمال کرتے ہوۓ نیچے زمین پر بیٹھے ہوۓ دھنُوٶں سے رابطہ کر سکتا ہے۔۔۔!!!
06/02/2023
پلیز اس آرٹیکل کو سیاست سے ہٹ کر پڑھیں
بریڈ فورڈ یونیورسٹی کا شمار برطانیہ کی مشہور یونیورسٹیوں میں ہو تا ہے- یہ دنیا کی 50 بڑی اور برطانیہ کی ٹاپ 10 اچھی یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے- 2005 میں یونیورسٹی کو چانسلر کی ضرورت تھی- پوری دنیا سے 100 سے زیادہ سکالرز اور بزنس مینیجرز کو بلایا گیا –جس میں زیادہ تعداد برطانیہ، امریکا اور جرمن سکالرز کی تھی –اس لسٹ میں پاکستان اور انڈیا میں سے صرف ایک بندے کو بلایا گیا – سلیکشن سے پہلے جرمن سائنٹسٹ کو چانسلر کی سیٹ کے لیے سب سے زیادہ مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا تھا - مگر تمام کہانی اس وقت تبدیل ہوئی جب "ٹیلنٹ " لیڈرشپ " ماڈرن اسٹڈیز " پر بحث میں پاکستان نژاد نے دوسرے تمام امیدوار کو پیچھے چھوڑ دیا- اس ہال میں بریڈفورڈ کے تمام ڈائریکٹرز کھڑے ہو کر تالیاں مارنے اور داد دینے پر مجبور ہو گئے - تب جرمن سائنٹسٹ اس سکالر کے پاس آیا اور کہا اس پوسٹ پر تم مجھ سے زیادہ قابل بندے ہو-
کابینہ کی اکثریت نے اس سکالر کو منتخب کر لیا - اور کہا، "بولو کتنی تنخواہ لو گے؟"
اس نے تاریخی کلمات بولے: "میں یہاں بزنس کے لیے نہیں آیا - اور بولا تعلیم اور پیسے کا ایک دوسرے سے موازانہ نہیں کیا جا سکتا- میں ایک ایسے ملک سے ہوں جہاں لوگوں کو تعلیم کی بنیادی سہولیات نہیں ہیں- ہمارے پیسے والے لوگ دوسرے ممالک میں جا کے تعلیم حاصل کر لیتے ہیں- جب کہ غریب لوگ اپنے دل میں حسرت لے کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں- یہ ہی وہ خاص وجہ ہے جس کی وجہ سے غریب اور امیر کا فرق دن بدن زیادہ ہوتا جا رہا ہے- میری زندگی کی خواہش ہے میرے ملک کے وہ لوگ جو دوسرے ممالک میں نہیں جا سکتے وہ اپنے ملک میں ہی رہ کر اچھی تعلیم حاصل کریں اور بریڈفورڈ جیسی اچھی یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کر سکیں- اس لیے میں بریڈفورڈ یونیورسٹی پھر ہی جوائن کر سکتا ہوں اگر آپ مجھے میرے ملک کے لیے یہ سہولت دیں"۔
کابینہ کے تمام ارکان اس بات سے حیران رہ گئے - کابینہ کی اکثریت اس فیصلہ کے خلاف تھی اور کہا: "ایسا ممکن نہیں کہ ہم پاکستان میں اپنی ڈگری متعارف کروائیں"
سکالر کہنے لگا، "پھر آپ پاکستان کا بندہ بریڈفورڈ کا چانسلر کیوں لگا رہے ہو؟"-
بات یہاں آ کر رک گئی اور وہ سکالر اٹھ کے چلا گیا۔
بعد میں کرس ٹیلر نے اپنی کابینہ کو کہا، "اس بندے کو ایسے مت جانے دو اس میں کچھ کر دکھانے کی صلاحیت موجود ہے- جو بندہ اپنے ملک کا وفادار ہو اور کچھ کرنے کا عزم ہو وہ کام بھی ہمیشہ اچھا کرتا ہے اور پیسے کا لالچ نہیں کرتا۔ آپ اس کی بات مان لیں-"
کابینہ نے اس سکالر کو واپس بلایا اور کہا آپکی تمام باتیں منظور ہیں -آپ پاکستان میں جہاں چاہتے ہیں کیمپس بنا سکتے ہیں- وہ اسکالر 9 سال تک بریڈفورڈ کا چانسلر رہا ہے- 1986 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کے کوئی بندہ اتنے زیادہ عرصے کے لیے چانسلر بنا رہا -اس دوران اس نے پاکستان میں نمل یونیورسٹی بنائی جس میں پڑھنے والے طالب علموں کو وہی ڈگری ملتی ہے جو برطانیہ میں کروڑوں روپے خرچ کر کے بریڈ فورڈ یونیورسٹی میں ڈگری حاصل کرنے والوں کو-
اس کا نام عمران خان ہے اور وہ منافق خان، طالبان خان یہودی ایجنٹ اور غدار سیاستدان کے طور پر جانا جاتا ہے- مگر میں اپنی زندگی میں ایسا پہلا منافق بندہ دیکھ رہا ہوں جو پیسے کا لالچ نہیں کرتا اور ایسا پہلا غدار دیکھ رہا ہوں جو ملک کے با ہر جا کے بھی پیسے پر اپنے ملک کو ترجیح دے۔
(ماخوذ)
جن ذہنی غلاموں کو یہ بات جھوٹ لگے، لنک پیش ہے بریڈ فورڈ یونیورسٹی کا
http://www.bradford.ac.uk/about/chancellor/former-chancellors/
http://www.bradford.ac.uk/about/chancellor/former-chancellors/imran-khan/
نمل یونیورسٹی کا بریڈ فورڈ یونیورسٹی سے الحاق کا لنک- اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں رہتے ہوۓ بچوں کو برطانوی ٹاپ کلاس یونیورسٹی کی ڈگری دی جاۓ گی
Chancellor - About - University of Bradford
The Bradford-born television and radio presenter will be installed as the University of Bradford’s Chancellor in spring 2023.