17/08/2025
اہلیانِ ٹنڈو رحیم خان کی آواز 📢
ہمارے شہر ٹنڈو رحیم خان میں تین موبائل ٹاور موجود ہیں، اس کے باوجود نیٹ ورک اور سگنل کی شدید کمی ہے۔ عوام کو روزمرہ رابطے، تعلیم، کاروبار اور دیگر ضروریات میں مشکلات کا سامنا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ آس پاس کے گاؤں کے لوگ بھی اسی مشکل کا شکار ہیں۔
ہم اعلیٰ حکام اور موبائل کمپنیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیا جائے اور شہر کے عوام کو بہتر نیٹ ورک کی سہولت فراہم کی جائےق
15/05/2025
"اندھیرا نگر"
یہ گاؤں کسی نقشے میں نمایاں نہ تھا۔ سڑکیں ٹوٹی ہوئی، نالیاں اُبلتی ہوئی، اور ہر طرف گرد و غبار۔ لوگ یہاں وقت گزارنے آتے نہیں، اور جو یہاں پیدا ہوتے، وہ قسمت کو کوستے رہتے۔
کھیت بنجر، پانی کھارا، اسکول کی عمارت ٹوٹی ہوئی، اور استاد مہینوں سے غائب۔ اسپتال نام کا تو تھا، مگر اندر صرف ایک بند دروازہ اور گرد آلود بیڈ۔ رات کو اندھیرا ایسا کہ چراغ بھی شرما جائے۔
یہ وہ گاؤں تھا جہاں "ترقی" ایک خواب نہیں، مذاق بن چکی تھی۔ ہر الیکشن میں وعدے ہوتے، گاؤں والوں کو گاڑیوں میں بٹھا کر جلسوں میں لے جایا جاتا، لیکن واپسی پر وہی گندگی، وہی خاموشی، اور وہی محرومی،،
۔
گاؤں کے نوجوان یا تو نشے میں ڈوب چکے تھے، یا شہر جا کر مزدور بن چکے تھے۔ عورتیں دن بھر پانی بھرنے کی قطار میں کھڑی رہتیں، اور بچے بھوک سے سسکتے ہوئے سو جاتے۔
مگر اس گاؤں کی ایک خاص بات تھی: یہاں کے لوگوں نے ہار نہیں مانی۔ کچھ نوجوانوں نے مل کر سوچھا
اندھیرا نگر، دیکھنے میں برا ضرور تھا، مگر اندر ایک ایسی چنگاری تھی جو آہستہ آہستہ روشنی بننے لگی۔
یہ گاؤں ایک سبق ہے — کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، اگر لوگ جاگ جائیں تو اندھیرا بھی ہار جاتا ہے
14/05/2025
ایک کہانے،، "پیاسا گاؤں"
یہ گاؤں سبز تھا، زمین زرخیز تھی، مگر پانی نہ تھا۔
کنواں سوکھ چکا تھا، ندی برسوں سے خشک تھی۔ عورتیں روز میلوں دور سے مٹکے بھر کر لاتیں، کچھ مٹکے راستے میں ٹوٹ جاتے، کچھ سروں پر نشان چھوڑ جاتے۔
بوڑھی اماں کہتی تھیں:
"پہلے ندی گاتی تھی، اب خاموش ہے… جیسے مر گئی ہو۔"
فصلیں پیاسی، مویشی بیمار، اور بچوں کے ہونٹوں پر دراڑیں۔ بارش کی ہر بوند کے لیے دعائیں ہوتیں، اور ہر بادل کے نیچے نظریں اٹھ جاتیں۔
"پانی ڈھونڈ رہے ہیں…"
پرانی کہاوت ہے:
"پانی ہو تو زندگی ہو۔"
مگر اس گاؤں میں پیاس ہی زندگی بن چکی تھی
14/05/2025
"کاش اسپتال ، کالج روڈ بن جاتا"
گاؤں چھوٹا سا تھا، مگر خواب بڑے تھے۔ سب کی ایک ہی اُمید تھی — پکی سڑک۔
بارش ہوتی تو کیچڑ، دھوپ میں دھول، اور رات کو اندھیرا۔ مریض مرتے، بچے پھسلتے، سبزی خراب ہوتی۔ ہر وعدہ آ کر دھوکہ بن جاتا۔ نقشے بنتے، تصویریں کھنچتی، پر سڑک نہ بنتی۔
ایک دن ایک مریز کی جان چلی گئی، ۔
پورے گاؤں نے رو کر کہا:
"بس اسپتال ہوتی تو شاید وہ بچ جاتے..."
روڈ ، کالج ، اسپتال ۔ لائیٹ ، پانے نہ ملے ، مگر گاؤں والوں کی امیدیں برسوں تک اس کی مٹی پر قدم رکھتی رہیں۔
18/02/2025
جن جا وڏا ئي منافق هجن
انهن جا ننڍا وري ڪهڙا مڙس ماڻهو هوندا✌️✌️
18/02/2025
ھڪ ڳالھ ياد رکو!
تعليم حاصل ڪريو ۽ ٿورو شعور پيدا ڪريو، نت سڄي زندگي SP صاحب سان تصوير DC صاحب سان تصوير SHO صاحب سان تصوير MNA ۽ MPA سان تصوير وارا اسٽيٽس لڳائڻ ۾ ئي گذري ويندي!
17/02/2025
بيغرت ٽن 3 قسمن جا ٿيندا آھن هڪڙو اهو جيڪو پنهنجن کي مارائي ٻيو اهو جنهن کي ذات تي غيرت نه اچي ۽ ٽيون اهو جيڪو پاڙي لاءِ آزار هجي.
Send a message to learn more
17/02/2025
از غلامی فطرت آزاد را رسوا مکن ،
تا ترشی خواجہ از برہمن کافر تری ،
یہ شعر علامہ اقبال کی شاعری کا حصہ ہے،
آزادی کو غلامی میں مت برباد کرو۔ انسان کی فطرت آزاد ہے اور اسے کسی بھی قسم کی غلامی میں نہیں رہنا چاہیے۔
جو کہ غلامی کی حالت کا نتیجہ ہو اگر انسان اپنی فطرت کی آزادی کو کھو دیتا ہے، تو وہ ایک کافر کی طرح ہو جاتا ہے،
کسی بھی قسم کی غلامی سے بچنا چاہیے تاکہ ہم اپنی اصل شناخت کو برقرار رکھ سکیں۔
15/02/2025
انسان اور کتے کا زوال تب آتا ہے جب وہ ایک دوسرے کے کہنے پر ایک دوسرے پر حملہ کرنے لگتے ہیں۔