08/03/2026
آج ہم اردو ادب کی ان خواتین کا جشن منا رہے ہیں جنہوں نے خاموشی کو مسترد کر دیا اور بولنے، لکھنے اور ان روایات کو للکارنے کا انتخاب کیا جنہیں کبھی ناقابلِ تردید سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے بغیر کسی خوف اور معذرت کے وہ لکھا جس پر ان کا ایمان تھا، اور پدرشاہی (Patriarchy) کی دیواروں کو مضبوطی سے پیچھے دھکیل دیا۔
ان کے الفاظ میں ہمت، سچائی اور مزاحمت بسی تھی۔ اپنی گہری بصیرت اور انتھک محنت کے ذریعے انہوں نے محض اردو ادب میں حصہ نہیں ڈالا، بلکہ اس کے افق کو وسعت دی اور اسے طاقتور انداز میں ایک نئی شکل عطا کی۔ ایسا کر کے انہوں نے آنے والی نسلوں کے لیے راہیں ہموار کیں۔
خواتین کا عالمی دن مبارک ہو۔
Source: Rekhta
10/11/2025
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہؒ — وہ روشنی جو بجھ کر بھی باقی ہے
انا للہ و انا الیہ راجعون
کچھ لوگ جاتے نہیں، صرف نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں —
ان کی موجودگی وقت کی دیواروں میں نہیں، دلوں کے سکوت میں بستی ہے۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہؒ بھی انہی میں سے تھیں۔ وہ چلی گئیں، مگر ان کے جانے سے اردو نے اپنا ایک ضمیر کھو دیا۔
میں، محمد زبیر — جو عمرِ رواں کے تیس برس کتابوں کی خاموش بستی، بیدل لائبریری میں بسر کر چکا ہوں — آج محسوس کرتا ہوں کہ جیسے میری الماریوں میں رکھی کتابیں بھی سوگوار ہیں۔
لفظوں نے سانس لینا چھوڑ دیا ہے، اور علم جیسے خود کسی استاد کے غم میں ماتم کناں ہو۔
ڈاکٹر عارفہ زہرہؒ علم کی معلمہ نہیں، فہم و وقار کی تجسیم تھیں۔
ان کی مجلس میں علم دلیل نہیں بنتا تھا، نور بن کر دلوں میں اترتا تھا۔
ان کا لہجہ خطابت نہیں، عبادت تھا —
اور ان کی گفتگو میں وہ توازن تھا جو صرف انہی کو نصیب ہوتا ہے جن کے دل میں کتاب سے زیادہ انسان بستا ہو۔
انہوں نے سکھایا کہ تعلیم رتبہ نہیں دیتی، ادراک عطا کرتی ہے۔
اور عورت کو برابر نہیں بناتی، شریکِ شعور بناتی ہے۔
ان کا ہر جملہ تہذیب کے آبگینے سے تراشا ہوا محسوس ہوتا تھا — شفاف، نازک، مگر روشنی سے بھرپور۔
ان کے سامنے اردو زبان ایک زندہ پیکر بن جاتی تھی۔
وہ بولتیں تو حروف جھک کر سنتے،
اور سامع کے دل میں احساس کی کوئی نئی کھڑکی کھل جاتی۔
ان کی دانش میں احتجاج کی بجائے وقار کی سرگوشی تھی،
اور ان کے لہجے میں موعظت نہیں، محبت کا ادب تھا۔
آج ان کی رخصتی کے ساتھ ایک مکتبِ فکر بند نہیں ہوا —
بلکہ وہ دروازہ کھل گیا ہے جس کے پار صرف وہ پہنچتے ہیں
جنہوں نے عمر علم کے سجدے میں گزاری ہو۔
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہؒ کے درجات بلند فرمائے،
ان کی روح کو اپنی قربت کا مقام عطا کرے،
اور ہمیں توفیق دے کہ ہم ان کے نقشِ قدم پر چل سکیں —
جہاں علم عبادت بن جائے،
لفظ کردار بن جائے،
اور تعلیم انسانیت کا چہرہ روشن کر دے۔
وہ جا چکی ہیں — مگر ان کا چراغ اب بھی جل رہا ہے۔
بس فرق یہ ہے کہ اب وہ روشنی باہر نہیں، اندر سے آتی ہے۔
محمد زبیر
چیف لائبریرین — بیدل لائبریری، کراچی
25/11/2024
Society Girl کی مصنفہ صبا امتیاز نے آج شرف آباد بیدِل لائبریری کراچی کا آج دورہ کیا کتاب مذکور معروف شاعر مصطفیٰ زیدی کی زندگی کے بارے میں ہے یہ کتاب لبرٹی بک کراچی نے شائع کی یہ کتاب اس سال بھارت سے بھی شائع ہو چکی ہے
13/11/2024
آج محترم جناب اظفر غوری ۔جناب شفیق اللہ۔ جناب اکبر۔ جناب انور ہاشمی۔ اور جناب محمود صاحب نے بیدل لائبریری کا دورہِ کیا
21/10/2024
بشکریہ محترم جناب زاھد کاظمی صاحب
15/10/2024
محترم جناب جمال محسن صاحب مقیم امریکہ کی جانب سے شرفِ آباد بیدل لائبریری کو 219000 روپے مالیت کے 2 عدد ڈیل کمپنی کے لیپ ٹاپ اور ایک پرنٹر عطیہ کیا ۔ہم ان کے شکر گزار ہیں
15/10/2024
محترم جناب دانش ظفر کی جانب سے شرف آباد بیدِل لائبریری کو 145000 روپے مالیت کے مزید 10 ریک عطیہ کرنے پر شکر گزار ہیں
25/09/2024
بشکریہ محترم جناب ظفر معین بلے اور پروفیسر شاہد عباس کے ممنون و مشکور ہیں کہ ان کی جانب سے کتاب بہ عنوان ڈاکٹر اسد اریب: تجھ سا کہیں جسے موصول ہوئی۔ خدا انھیں سلامت با کرامت رکھے۔
25/09/2024
محترم جناب سید مجاہد علی (ناروے/اوسلو) کی جانب سے کتاب اداریے بہ عنوان امانتیں کئ سال کی پر مشتمل 10جلدیں شرف آباد بیدِل لائبریری کراچی کو موصول ہوئیں جس کے لیے کتب خانہ مذکور سراپا سپاس ہے۔
24/09/2024
برطانیہ سے آے ہوے سرجن ڈاکٹر حنیف شیوانی نے ڈاکٹر روئف پاریکھ کے ہمراہ آج شرف آباد بیدِل لائبریری کراچی کا دورہِ کیا