National Activist Scientific Information Research

National Activist Scientific Information Research

Share

We can help find you free activities and social opportunities in your local community. Social groups

22/05/2023

Truths about NASIR.

22/05/2023

Congratulations

22/05/2023

With love CR7 country

22/05/2023

جہالت کے گھمبیر پردے اور عقل اندھے۔

کچھ بھی تو نہیں بدلا سب کچھ سکت ہے ایک منجمد وقت کی طرح وقت ساز جب چاہے اس گھڑی کی سوئی کو جنبش دے- جب چاہے اس کو تھام لے اور اس کی ٹک ٹک کی آواز رک جائے- کون سچا کون جھوٹا؟
پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قد آور جہازی سائز کے پینا فیلکس نے پورے شہر کو بد صورت بنایا ہوا ہے- پاکستان کی 30 کروڑ کی آبادی کے سارے مسئلے اور مسائل یکایک ختم ہوگئے، اب بس ایک ہی امید ہے جو اس ملک کو ان تمام بحرانوں سے نکال سکتی ہے-
یہ ایک ایسا دانستہ عمل ہے جو اس عمل سے وابستہ ان تمام عوامل کی نشاندہی کرواتی ہے کہ اس ملک کے اصل وارث حکمران کون ہیں، جو ایسے انتشاری ماحول کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں؟
ان پینا فیلکس میں ایک پینا فیلکس ایسا بھی ہے جو گزرے وقتوں کی شب خون اور فوجی آمریت کے دئیے گئے زخموں پر نمک پاشی کرتا یے، جس نے آمریت کے دکھ جھیلے اس سیاسی کارکن کو اس عفریت کا علم ضرور ہوگا-
گلشن حدید سے ٹاور تک کیماڑی تک ہر پیڈسٹرین گزرگاہ پر مجھے اپنے قائدین اور کارکنوں کی لاشیں لٹکی ہوئی نظر آئیں-
سلمان ٹاور پر ناصر بلوچ کی پھانسی پر لٹکتی لاش اور جب میں اس لاش کے قریب سے گزرا تو اس کے پاوں میں پیتل کے گھنگرو ہوا کے دوش پر جئیے بھٹو کے نعرے بلند
کررہے تھے میری چنیخ جیسے گلے میں گھٹ سی گئی، سامنے سلمان ٹاور پر Bata کے دوکان کے بلکل سامنے عبداللہ مراد کی خون آلود لاش اس کے ڈرائیور حمل کے ساتھ کار میں پڑی ہوئی ہے اور پوری سڑک اس کے خون ناحق سے سرخ ہوئی جارہی تھی،
قالین کی دوکان کے سامنے عیسی کا معذور بیٹا جو وہاں روز بھیک مانگنے آتا ہے ،اپنے سائیکل کو حرکت دے رہا ہے وہ اپنے والد کے انجام اور اپنے خاندان پر برپا ہونے والی ہر روز کی قیامت سے واقف ہے-
میں گزرتا جارہا تھا اور اپنے کامریڈز کی لاشیں گنتا جارہا تھا، ملیر پندرہ 15پر ایاز سموں پھانسی پر جھول رہا تھا، کالا بورڈ پر رزاق جھرنا
سڑک کے دونوں اطراف بل بورڈ اور ہولڈنگ بورڈ جن پر چئیرمین بلاول کے "شکریہ کراچی " لکھا تھا وہ سب اتار دئیے گئے تھے- اب ان پر سیاسی کارکنوں کو کوڑے لگاتے ہوئے جلاد کی تصویر اور کوڑے کھاتے ہوئے کارکنوں کی منجمد آوازیں قوس و قزح کا منظر پیش کررہی ہیں،
ہماری سوچ مختصر اور کمزور بنادی گئی ہے کہ ہمیں سب کچھ صرف اقتدار میں نظر آرہا ہے، آج کے دہشت گرد جن کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے ان کے رد میں کل تک پنجاب کے شہر لاھور میں خون کی ہولی کھیلنے والی تحریک لبیک خادم حسین رضوی کے پیرو کار آج کراچی میں فل اسپانسرشپ پر پاکستان بچاو ریلی نکالیں گے، کراچی میں موجود تمام مدارس بشمول ہمارے علاقے کی درالعلوم ان کو اس ریلی کے واسطے ماضی کی طرح طلباء کی صورت میں افرادی قوت فراہم کریں گے-
بات بس اتنی سی ہے کہ سندھ کے اس شہر نگاراں پر پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہو، یہی سیاسی پارٹی، نواب مظفر کی اردو تحریک کو حیدر آباد سے جنم دیتی ہے، مہاجر،پنجابی پختون اتحاد بناتی ہے، مہاجر قومی موومنٹ بناتی ہے، جماعت اسلامی کی الشمس اور البدر، بلیک ٹائیگر، تحریک نظام مصطفی، قومی اتحاد، بلوچ اتحاد، تحریک انصاف ٹائیگر فورس ، لیاری گینگ ،مجھے ہر ضلع، تحصیل، ٹاون یونین کمیٹیوں اور وارڈ میں اسی سیاسی پارٹی کے سایہ شفقت میں پالتو نظر آتے تھے اور ہیں مجھے آپ بتائیں اب ہماری سیاسی سوچ ، ہماری قیادت کو کس کی ہمراہ داری کرنی چاہئیے ہم دانستہ کن کے ہاتھوں کو مضبوط کررہےہیں
پاکستان پیپلز پارٹی کو بیک فٹ پر رکھنے کی سازش کا آغاز ہوگیا، یہ کسی بھی صورت میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مئیر شپ کو روکے گیں یا طاقت سے کوشش کریں گے-
ان کو پاکستان پیپلز پارٹی استاد کی صورت میں سرپرائز دے- استاد ان کے لئے اس سے بڑی شکست اور کیا ہوگی؟

21/05/2023

میر گل خان نصیرایک عہدآفریں شخصیت
’’14مئی اُنکی یوم ِ پیدائش کے موقع پر ‘‘
تحریر: غمخوارحیات
_________________
؎
میرے ہاتھوں میں امانت یہ قلم
حسن اور عشق کے قصوں کا روادار نہیں
دولت و شہرت و منصب اسے درکار نہیں
میں کہ شاعر ہوں مگر میرا ہنر میرا سخن
اک نئے طرز کا، آدرش کا آئینہ ہے
میرے اشعار امانت ہیں مرے لوگوں کی
میرا ہنسنا مرا رونا ہے انہیں کی خاطر
جی یہ اشعار ہے اُس عظیم دانشور کے جسکی سوچ و فکر روشن خیالی ، علم دوستی ادب دوستی دانشوری کی نظیر ہمیں کئی بھی نظر نہیں آتی جس نے اپنی پوری زندگی اس سرزمین اور سرزمین کے لوگوں کے ایک کمنٹمنٹ کے طورپر وقف کی ایک عہد آفرین شخصیت جس نے بلوچی ادب کی ایک مکمل عہد اپنے نام کی جسکا زکر کیے بغیر بلوچی ادب نامکمل ہے
آپ ایک مقبول سیاستدان، ایک قوم پرست شاعر، ایک تاریخ دان اور صحافی کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ آپ نےبلوچی ، براہوئی، فارسی اوراُردو زبانوں میں شاعری کی۔

’’میر گل خان نصیر‘‘بلاشبہ بلوچستان کی ایک تاریخ ساز شخصیت تھے انکی قومی، علمی ، سیاسی خدمات ناقابل ِ فراموش ہے ۔ انہوں نے بلوچوں کی حقوق کے لئے ہر فورم پر آواز بلند کی اور اس مقصد کی حصول کے لئے زندان اور دیگر مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔لیکن اصولوں پر کھبی بھی سودابازی نہیں کی’’ میر گل خان نصیر‘‘ قبائلی فرقہ واریت کو بلوچ قوم اور سماجی ترقی و خوشحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے ۔ اس لئے انہوں نے قبائلی فرقہ واریت کی بھرپور مخالفت اور اس نظام کے خلاف آواز بلند کی ’’میر گل خان نصیر ‘‘نے اپنی شاعری سے محکوموں میں اک نیا جوش وولولہ پیداکیا ، قوم وطن کے لئے قربانی کے جذبے کو اُبھارا ،ترقی کے لئے کوشیشیں کی اور فرسودہ روایات کی بیخ کنی کی اور جدید دورکے تقاضوں سے ہم آہنگ وسیع تر انسانیت کی فلاح کے لئے آواز بلند کی :
ابتدائی زندگی
میر گل خان نصیر 14 مئی، 1914ء کو بلوچستان کے شہر نوشکی میں مینگل قبیلے کی معروف شاخ پائیند زئی کے میر حبیب خان مینگل کے ہاں پیدا ہوئے۔ درجہ چہارم تک اپنے گاؤں میں تعلیم حاصل کی پھر گورنمنٹ سنڈیمن ہائی اسکول کوئٹہ چلے گئے میٹرک کے بعدآپ نے اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا، بارہویں جماعت میں انگیٹھی سے ایک کوئلہ کا ذرہ آپ کی آنکھ میں چلا گیا جس کے باعث آپ واپس گھر آ گئے۔ اسلامیہ کالج لاہور ادبی و سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ تھا اس دور میں بلوچستان مختلف حصوں میں بٹا ہوا تھا ایک حصہ چیف کمشنر کے ماتحت تھا ،باقی صوبہ ریاستوں میں تقسیم تھا جنہیں انگریز مقامی قبائلی رہنماؤں کے ذریعے کنٹرول کرتے تھے ۔
گل خان نصیر نے بےشمار کتابیں نثر، نظم ،تحقیق و تراجم کے اصناف پر لکھے
جن میں اُنکی
براہوئی شاعری پرمشتمل کتاب : مشہد نا جنگ نامہ
بلوچی میں :
گرہند،شپ گروک ، گل بانگ، گل گال ،شمبلاخ ، ہونِ گوانک ، ہپت ہیکل ، حمل وجیند ، داستان دوستین وشیرین ،پُرنگ ، بلوچی رزمیہ شاعری
اُردو میں : تاریخ ِ بلوچستان ، بلوچستان قدیم اور جدید تاریخ کی روشنی میں ،تاریخ خوانین ِ قلات، بلوچستان کی کہانی شاعروں کی زبانی ،بلوچی عشقیہ شاعری،
کاروان کے ساتھ ،جبکہ تراجم میں ، کوچ وبلوچ ، سینائی گیچک ، بلوچ سرحدی چھاپہ مار،شاہ لطیف گوئشیت اور دیگر شامل ہیں:
نمونہ ِ کلام
؎
بیا او بلوچ بیا او بلوچ
گالے گُشیں امروزئی
بیا او بلوچ بیا او بلوچ
گارکرتگ ئے راہاوتی
ملک ءَ تئی ڈنگے جتگ
بن داتگنت لوگاتئی
مالاں تئی بار کرتگنت
لیکن نہ دارئے آگہی
تو کپتگ ءِ بے دست و پاد
پادا بیا بہرے خدا
///
؎
اے خدا وند بلوچان ءَ چشیں مردم بہ دئے
پُر دماغ وجاں نثارو زندہ دل روشن خیال
فکر آوانی بہ بیت تازگ ووشیں چراغ
عقل جو سبزیں زر ئِ پرشوکتیں جاہ وجلال
سربہ بیت خالی پہ کہنیں قصگ ورسم ورواج
دف بہ بی کندوخ آوانی پہ ہررنج و ملال
دل بہ بی مضبوط چوشکّیں تلارے مں زر ءَ
بھیم وتُرسے ہچ میاریت پردل ءَ گواث ئِ شمال
اے خداوند بلوچاں مں جہان ءَ زندہ کن
دشمنانش گم وگاروپرشتگ و شرمندہ کن
//
میرگل خان نصیر بہ قلم ِ فیض احمد فیض
اے ہمدمِ شب گریہِ خون آب سلامت
اے سُرخ دیئے تیری تب و تاب سلامت
……
باقی ہے ابھی رات سیہ رنگ فضا
للکار عدو کی کہیں خطرے کی صدا
ہر ایک طرف سایوں کا طوفان بپا
رستے کا نشاں کوئی نہ منزل کا پتہ
……
اے ہمدم شب گریہ خون آب سلامت
اے سُرخ دیئے تیری تب و تاب سلامت
……
ہے محوِ طرب تیرگیِ شب کی پرستار
اور نور کے فرزند مقید پسِ دیوار
اوجھل ہیں نگاہوں سے ابھی صبح کے آثار
بیدارہیں سگ خفتہ ہیں مرغانِ سبک سار
……
اے ہمدم شب گریہ خون آب سلامت
اے سُرخ دیئے تیری تب و تاب سلامت
……
بجھ جائیں فلیتے تو رگِ جاں کوجلالو
روغن کی کمی ہوتو مرے خوں میں نہالو
جیسی بھی ہے یہ دولتِ بیدار سنبھالو
ہم سوختہ جانوں کی شب تار اُجالا
……
اے ہمدم شب گریہ خون آب سلامت
اے سُرخ دیئے تیری تب و تاب سلامت
……
روشن ہے تری ضوسے ہی ویرانوں کی صورت
دل چاک جو پھرتے ہیں گریبانوں کی صورت
جو حق کے پرستار ہیں دیوانوں کی صورت
حلقے میں دیے ہیں تجھے ویرانوں کی صورت
……
اے ہمدم شب گریہ خون آب سلامت
اے سُرخ دیئے تیری تب و تاب سلامت
……
جب تک وہ بہادر سرِ میداں نہیں آتے
جو اپنے لہو سے ہیں فضائوں کو سجاتے
اور اپنے رجز سے نہیں اک حشر اٹھاتے
جب تک سحر سرخ کی منزل نہیں پاتے
……
اے ہمدم شب گریہ خون آب سلامت
اے سُرخ دیئے تیری تب و تاب سلامت
……
کچھ اور چمک صبح چمن دُور نہیں ہے
بیداری ارباب وطن دور نہیں ہے
تسخیر کہستان و دمن دور نہیں ہے
بربادی آثار کہن دور نہیں ہے
……
اے ہمدم شب گریہ خون آب سلامت
اے سُرخ دیئے تیری تب و تاب سلامت
……
ہے چشم نصیرؔ آج درخشندہ بھی نم بھی
روشن ہے ترے ساتھ مری شمع علَم بھی
بیدار و ضیا بار ہے تُو بھی مِرا غم بھی
تو بھی ہے لہو رنگ دل افگار ہیں ہم بھی
……
اے ہمدم شب گریہ خون آب سلامت
اے سُرخ دیئے تیری تب و تاب سلامت
//
چوش نہ انت من مھرنہ زاناں
دروشم و رنگ ئِ نھر نہ زاناں
چوں بہ کنا اے زرد ئَ گنوکیں
لاف ء ُ دلانی آچش ئَ روکین
……
چمانی ارساں‘ ھوری شلوکین
چوں بہ دیانش چیر‘ نہ زاناں
چوش نہ ایں من مھرنہ زاناں
……
دروشم ء ُ رنگ نھر زاناں
دل منی ترکیت، چونی بچاراں
لوچ ء ُ شدیکیں ماتء ُ گھاراں

’’ میرگل خان نصیر ‘‘بلوچ وبلوچستان سے جنون کی حد تک محبت کرتے تھے اسکا اندازہ ان کی شاعری سے بخوبی لگایا جاسکتاہے ۔ انہوں نے ہمیشہ ظلم زیادتی اور ناانصافی کے خلاف آواز اُٹھائی وہ طبقاتی نظام محکومی اور غلامی سے نفرت کرتے تھے :
’’میر گل خان نصیر‘‘ کے بارے میں میر غوث بخش بزنجو کہتے ہے کہ ساری زندگی میں دیکھنے میں ہم دوبدن تھے مگر ہماری جان تقریباً ایک تھی ، میر گل خان نصیر اور میری سوچ ایک تھی میر غوث بخش بزنجو آگے لکھتے ہے کہ میرے نزدیک میر گل خان نصیر ایک پیدائشی اور فطری شاعرتھے ۔ انکی پوری سیاسی جدوجہد کا سبب انکی شاعری تھی ۔ میر گل خان نصیر نے جتنی بھی جاندار اور زندہ شاعری کی ہے وہ سب جیل اور زندانوں میں تخلیق ہوئی ۔ انکی بہتر ین شاعری یا توقلی کیمپ کے زمانے کی ہے یا پھر کوئٹہ جیل اور منٹگمری کے زمانے کی ‘‘
نامور دانشور ڈاکٹر شاہ محمد مری لکھتے ہے کہ’’ میر گل خان نصیر‘‘ سیاست میں اولین نسل کے ہمارے اکابرین میں سے تھے ۔ جن کے نام عبدالعزیز کرد، یوسف عزیز مگسی ، امین کھوسہ ، عبدالصمد اچکزئی ، محمد حسین عنقاء ہیں ۔ پھر پاکستان نیشنل عوامی پارٹی تک میر گل خان نصیر ترقی پسندی کے ہر پڑائو میں ساتھ رہے ۔ وہ ہر اُتارچڑھائو میں ثابت قدم سیاست کرتے رہے، کھبی جیل میں کھبی جلاوطنی میں ‘‘
’’گل خان نصیر ‘‘کی سوچ اور اس سوچ سے انکی وابستگی کی گواہی پاکستان کے ہرکونے میں موجود جیل خانہ دے گا۔ انہوں نے اپنی 67سالہ زندگی کے 30برس قید و بند کی صعوبتیں جھیلتے ہوئے گزارے :

’’ میر گل خان نصیر‘‘ نہ صرف بلوچ بلکہ اس خطے کی پہچان ہے ۔ ہمہ جہت شخصیت کے مالک نصیرنے تادم مرگ اپنی نوشت وتخلیق میں بلوچستان وبلوچ عوام کی حقیقی ترجمانی کی نصیر نے افسانوی سوچ وفکر سے ہٹ کر اپنی نوشتِ تخلیق میں بلوچستان کی حقیقی تصویر کو پیش کیا۔ نصیر نے اپنی شاعری میں بلوچ قبائلی نظام کو سماجی ترقی کے لئے بہت بڑی رکاوٹ کہاہے اور یقینا آج بھی بلوچ سماج کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ قبائلی نظام ہے جس کی خ*ل میں رہ کر بلوچ زندگی کی کسی شعبے میں آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک ہم اس خ*ل کو نہیں توڑینگے اسی طرح سماجی اور سیاسی طورپر منتشر رہنگے نہ ہی ہم سماجی طورپر ترقی کرسکے ینگے اور نہ ہمارے درمیاں اتحاد ویکجہتی کی رویے کو فروغ ملے گا:
نصیر نے اپنی شاعری میں نسلی تعصب سے بالاتر ہوکر قوم دوست وطن انسان دوست، انسانو ں کو اہمیت دی ۔
بلوچ تاریخ میں میر گل خان نصیر ایک ایساسنہری باب ہے جس نے بلوچ معاشرے میںسیاسی شعور کو روشناس کرایا بلوچ ادب میں ترقی پسند ادبی سوچ کو پروان چڑھایا ہمیشہ شعوری تعلیم کی بات کی اور ایک ایسے لیڈر کے طورپر نمایاں رہے جس کی قول وفعل میں تضاد نہیں تھی وہ ایک حقیقت پسند، دوراندیش اور روشن خیال مفکر تھے جس نے انتہائی سخت حالات کا اصولوں پر کار بندرہ کرمقابلہ کیامیر گل نصیرعدم تشدد کی نظریے پر عمل پیرا ہوکر نے اپنی تحریروں میں حق وصداقت ، مہرومحبت ، امن ویکجہتی کا پیغام دیتے رہے اورامن دشمنوں ، منافرت پھیلانے والے تنگ نظر سوچ کی ہمہ وقت مزاحمت کی :
’’ میر گل خان نصیر‘‘ جیسے شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتے ہے ۔ مثالی شخصیت کے مالک میر گل خان نصیر اپنی وجود میں ایک اکیڈمی کا درجہ رکھتے ہے ۔ اُسکی نقش ِ قدم پر چل کر ہماری موجودہ نسل علم ، فکر وشعورکی اُس منزل کو پاسکتی ہے جس کی نشاندہی میر گل خان نصیر نے اپنی شاعری و دیگر تخلیق میں کی ہے نصیر کی شاعری اور کتابوں پر تحقیق کی ضرورت ہے اور موجودہ دور کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم میر گل خان نصیر کو پھر سے تلاش کرے ۔
نصیر نے بلوچ یزبان و ادب کو بین الاقوامی سطح پر ایک نئی پہچان دی ۔ بلاشبہ میر گل خان نصیر ہمارے لئے علمی ، فکری و شعوری لحاظ سے ایک علامت ہے نوجوان اور بلوچ قوم گل خان نصیر جیسے قومی اثاثے کی تقلید کرتے ہوئے انکی پیغام کو عام کرے۔
کہ آج میر گل خان نصیر سے بلوچستان کی شناخت وابستہ ہے اگر ہم میر گل خان نصیر جیسے شناخت کو نظرانداز کرینگے تو اپنی شناخت بھی کھودینگے۔
6 دسمبر،1983ء کو یہ مڈ ایسٹ ہسپتال کراچی میں کینسر کے موذی مرض کے ہاتھوں چل بسے۔آخری آرام گاہ کلی مینگل نوشکی بلوچستان کے خلی نامی قبرستان میں ہے :
٭٭٭

21/05/2023

ملیر کا جون پابولو ایکسکو بار ۔
تحریر محمد عمر جان

کولمبیا میں ایک غریب کسان کے گھر یکم دسمبر 1949 کو جون پابولو پیدا ہو - والدہ ایک اسکول ٹیچر Envigado سے ہجرت کرکے Medellin Suburb میں رہنے لگا جہاں سے پابولو نے عملی طور پر جرائم کی دنیا میں قدم رکھا-

ابتدا میں چھوٹے موٹےجرائم سے شروعات ہوئی جس میں جعلی اسناد بنوانے، موسیقی کے آلات اسٹریو ٹائپ ، قدیم مقبروں سے پتھروں اور نوادرات کی اسمگلنگ شامل تھی-
1974 میں پابولو پہلی مرتبہ گرفتار ہوا، پر اس نے منشیات کی ایک کارٹیل تشکیل دی اس کا دائرہ کار کولمبیا سے باہر پیرو ، ایکواڈور، بولویا تک بڑھا دیا-
بنیادی طور پر پابولو ایکسکو بار کوکین کی اسمگلنگ میں مشہور ہوا جہاں اس کی رفاقت مشہور زمانہ OC HOA برادران Juan David , Gorge Luis سے ہوگئی اور یوں ایک نئی مافیا کا جنم ہوا، بلکل اسی طرح جیسے لیاری کا مشہور زمانہ گینگ جس کی آگ میں ملیر اور لیاری کے غریب صرف بلوچ نسل سے تعلق کی بنیاد پر کراچی میں اپنے بچوں کو قتل ہوتا دیکھتے رہے-
پابولو کی کل آمدنی 1980 میں 25$ بلین امریکی ڈالر تھی، ایک پرآسائش زندگی کا امین 7000 ایکڑ زرعی زمین کا مالک ، 2800 ایکڑ پر اس نے ایک محل نما گھر Hacinenda Napoles تعمیر کیا تھا جس کی اس وقت قیمت $63 ملین امریکی ڈالر ، جس میں ایک سوکر فٹبال گراونڈ، چڑیا گھر ،ایک ہوائی فیلڈ، ایک جھیل، ٹینس کورٹ شامل تھا، اپنی دولت کے بل بوتے پر پابولو ایکسکو بار کولمبیا کی کانگریس کا ممبر بھی منتخب ہوا-
اب سے مشابہ کہانی کا جنم ملیر میں ہوا ملیر کے ایک غریب کسان خاندان میں پیدا ہونے والا نوجوان ابتدا میں ریتی بجری کے ٹرک میں بھرائی کے کام کرتا تھا، ان دنوں جنرل ضیاء کی بدولت منشیات کی بین الا اقوامی آمدورفت سمندر کے راستے کراچی سے ہورہی تھی منشیات فروش کو ایسے لوگوں اور جگہوں کی ضرورت تھی جو ان کی منشیات کو خفیہ ٹھکانوں میں محفوظ رکھیں-
تو اس طرح ملیر کے پابولو ایکسکو بار کا جنم ہوا-
کولمبیا اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں پابولو ایک مسیحا اور روبن ہڈ کے نام سے مشہور تھا مگر یہاں کہانی بلکل مختلف ہے خطیر رقم خرچ کرکے پارٹی ٹکٹ کے حصول کا مقصد وہی ہے جو پابولو ایکسکو بار کا کولمبیا میں تھا-
پھانسی پر لٹکائے جانے والے ناصر کی کہانی اس کے گاوں کی طرح ہے- گذشتہ روز پوری ملیر کی قیادت الیکشن کمیشن ملیر کے آفس کے سامنے تو ٹاون چئیرمین شپ اور کراچی مئیر شپ کے لئے مظاہرہ میں مصروف رہی مگر 200 فرلانگ پر کراچی الیکٹرک کے دفتر کے سامنے مظاہرہ سے اجتناب برتتی رہی -
سوال آخر کیوں ؟ بات صرف سیاسی ترجیحات کی ہے، اس وقت ملیر کے تمام جون پابولو ایکسکو بار کا مسئلہ
عوام کی زندگیوں کو آسان بنانے کے بجائے مال بٹورنا ہے -
عوام کی زندگی تو ویسے ہی جہنم میں ہے، تو اسے جہنم میں رہنے دو۔
پابولو ایکسکو بار جانتے ہیں جب روپیہ بات کرتا ہے تو اس کی زبان اور گرامر کو کوئی درست نہیں کرتا۔
جون پابولو ایکسکو بار 2 دسمبر 1993 کو مارا گیا -
اب غور کیجئے یکم دسمبر 1949 کو پیدا ہوا اور 2 دسمبر 1993 کو مارا گیا یعنی صرف دو دن کی زندگی بس-
جو عوام سے نہیں انھیں عوام سے کیا غرض مگر انجام یقینا پابولو ایکسکو بار جیسا ہوگا-

20/05/2023

Happy Birthday Uncle Ho...

Pakistan: A Hard Country. Anatol Lieven 20/05/2023

Pakistan: A Hard Country. Anatol Lieven In the past decade Pakistan has become a country of immense importance to its region, the US and the world. With almost 200 million people, a 500,000-man arm...

20/05/2023
Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

House# R169/Deher E Meher Wadera Essa Khan Baloch Street Sahibdad Village Malir
Karachi
75500