01/06/2026
Haji Hilal Raza Attari
* This Is An Not Official This Page Is Run By Fans of shahzada e Attar Haji Ubaid Raza Attari Al Madani *
01/06/2026
30/05/2026
🌻دعوتِ اسلامی کی ترجیحات کو صرف تبلیغ یا چند مذہبی اجتماعات تک محدود سمجھنا درست نہیں۔
🌻گزشتہ کئی دہائیوں میں یہ تنظیم ایک مکمل دینی، تعلیمی، تربیتی اور سماجی نیٹ ورک کی صورت اختیار کرچکی ہے۔
🌻بالخصوص جدید نظامِ تعلیم، میڈیا، نوجوان نسل، اخلاقی تربیت اور معاشرتی اصلاح کے حوالے سے اس کی واضح ترجیحات موجود ہیں۔
🪻سب سے پہلی ترجیح دینی شعور کی بحالی ہے۔ دعوتِ اسلامی سمجھتی ہے کہ جدید معاشرے میں مسلمان کی سب سے بڑی کمزوری دین سے دوری، اخلاقی انحطاط اور خاندانی نظام کی کمزوری ہے۔ اسی لیے اس کا بنیادی زور نماز، سنتِ نبوی ﷺ، اخلاق، حیا، والدین کے احترام، اور اسلامی طرزِ زندگی پر ہے۔
🪻تعلیم کے میدان میں دعوتِ اسلامی نے صرف مدارس تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ ایک متبادل تعلیمی ماڈل پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ دارالمدینہ اسکول سسٹم اسی سوچ کا نتیجہ ہے جہاں عصری مضامین مثلاً انگلش، سائنس، کمپیوٹر اور میتھ کے ساتھ قرآن، حدیث، فقہ، سیرت اور اسلامی تربیت کو شامل کیا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ طالب علم ڈاکٹر، انجینئر یا پروفیشنل تو بنے لیکن اپنی دینی شناخت سے محروم نہ ہو۔
🪻دعوتِ اسلامی جدید نظامِ تعلیم کو مکمل طور پر رد نہیں کرتی بلکہ اس پر تنقید یہ کرتی ہے کہ موجودہ تعلیمی ڈھانچہ مہارت تو پیدا کرتا ہے مگر کردار نہیں بناتا۔ ڈگری یافتہ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے لیکن معاشرے میں جھوٹ، کرپشن، بددیانتی، بے حیائی اور ذہنی انتشار بھی بڑھ رہا ہے۔ اسی لیے دعوتِ اسلامی تعلیم کے ساتھ تربیت کو لازمی سمجھتی ہے۔
🪻اس تنظیم کی ایک اہم ترجیح نوجوان نسل ہے۔ یونیورسٹیوں، کالجوں اور سوشل میڈیا کے دور میں نوجوان مختلف فکری، اخلاقی اور ذہنی چیلنجز کا سامنا کررہے ہیں۔ دعوتِ اسلامی نوجوانوں کو منشیات، فحاشی، بے مقصدیت اور انتہا پسندی سے بچانے کے لیے دینی اجتماعات، تربیتی نشستیں، آن لائن لیکچرز، اور مختلف کورسز کا انعقاد کرتی ہے۔
🪻میڈیا کے میدان میں بھی دعوتِ اسلامی نے روایتی مذہبی حلقوں سے مختلف حکمتِ عملی اپنائی۔ مدنی چینل، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، موبائل ایپس، ڈیجیٹل کورسز اور آن لائن فتاویٰ سروسز کے ذریعے اس نے جدید ٹیکنالوجی کو دعوت و اصلاح کے لیے استعمال کیا۔ ان کا مؤقف یہ ہے کہ اگر جدید میڈیا منفی نظریات پھیلا سکتا ہے تو اسی میڈیا کو مثبت اور دینی پیغام کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
🪻خواتین کی دینی تعلیم بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ الگ اجتماعات، آن لائن سیشنز، پردے کے تقاضوں کے ساتھ تعلیمی سرگرمیاں اور گھریلو و اخلاقی تربیت کے پروگرام اس کا حصہ ہیں۔
🪻سماجی خدمات کے میدان میں بھی دعوتِ اسلامی فلاحی سرگرمیوں میں شریک ہے۔ اسپتال، ایمبولینس سروس، یتیم بچوں کی کفالت، آفات میں امدادی سرگرمیاں، پانی کے منصوبے، اور غریب خاندانوں کی معاونت جیسے کام اس کے مختلف شعبہ جات انجام دیتے ہیں۔
🪻البتہ دعوتِ اسلامی پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔ بعض ناقدین کے مطابق یہ تنظیم جدید فلسفہ، تنقیدی فکر، سوشل سائنسز اور سیاسی شعور پر نسبتاً کم توجہ دیتی ہے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک اس کا ماڈل زیادہ تر اخلاقی و مذہبی اصلاح تک محدود ہے جبکہ جدید دنیا کے پیچیدہ معاشی، سیاسی اور فکری مسائل کے لیے زیادہ وسیع علمی ڈسکورس کی ضرورت ہے۔
اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ دعوتِ اسلامی نے پاکستان سمیت کئی ممالک میں لاکھوں افراد کو مذہبی اور اخلاقی سطح پر متاثر کیا ہے، اور ایک ایسا تعلیمی و تربیتی ماڈل پیش کیا ہے جو دین اور جدید زندگی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
29/05/2026
دعوت اسلامی کے لیے کھالیں جمع کرنے والے ایک نوجوان سے کسی نے کہا
تمہارے کپڑے کھالیں اٹھا اٹھا کر گندے ہو چکے ہیں اس گندگی سے الجھن نہیں ہوتی؟؟
تو وہ نوجوان مسکراتے ہوئے کہنے لگے یہ گندگی تو کچھ بھی نہیں اصل گندگی تو ان گناہوں کی تھی جس سے میری دعوت اسلامی نے مجھے نکالا
مرکزی جامعۃ المدینہ گوجر خان کے ہونہار طالب علم منیب الرحمن عطاری
اللہ پاک با عمل عالم دین بنائے
20/05/2026
ایک نابینا شخص اپنی سفید لاٹھی پہ بھروسہ کرسکتاہےتوایک مُریداپنےکامل مُرشِدپہ بھروسہ کیوں نہ کرے!
(نگران شوریٰ مولانا عمران عطاری)
20/05/2026
کاش پھر مجھے حج کا اذن مل گیا ہوتا🥺
کاش میں مدینے میں پھر پہنچ گیا ہوتا💔
۔
۔
۔
۔
19/05/2026
الیاس عطار قادری کا قصور آخر کیا ہے جو اس شریف انسان پر جاہل لوگ اور بدمذہب اتنی زبان تام دراز کرتے ہیں۔
انکا قصور یہی ہے کہ انہوں نے ہر صحابی نبی ﷺ جنتی جنتی کا نعرہ لگایا اور دشمنان صحابہ کو بتا دیا ہم سنی ہیں کسی بھی نبی ﷺ کی نسبت کی بے احترامی تو دور کی بات انکے بارے ہلکی بار بھی ہمیں گوارا نہیں۔
انکا قصور یہی ہے انہوں نے اپنی مرضی سے کچھ نا لکھا بلکہ اسلاف کے طریقے پر لوگوں کی رہنمائی کی۔ ہر کوئی قرآن و سنت کے نام پر اپنا چورن بیچ رہا تھا، انہوں نے سکھایا کہ اولیاء اللہ اور ماہرین دینیہ کا راستہ ہی حقیقی راستہ ہے۔
انکا قصور یہی کہ انہوں نے مسلمانوں کو ترغیب دلا کر سیلاب زدگان کو 4 ارب روپے ڈونیٹ کروائے، 25 لاکھ پودے لگوائے، 60 ہزار سے زائد تھیلیسیمیا مریض بچوں کو خون مہیا کروایا جب کوئی covid میں نکلنے کو تیار نا تھا۔
جی ہاں۔ انکا قصور یہی ہے انہوں نے لاکھوں نوجوانوں کو عمامہ داڑھی، اور مسجدین آباد کرنے کا شوق دیا۔
انکا قصور یہی ہے انہوں نے کبھی ماردھاڑ، قتل و غارت، جھگڑے کو پروموٹ نہیں کیا۔ بلکہ محبت و امن کا ہی پیغام دیا۔
انکا قصور یہی ہے انہوں نے سب سے بڑا اسلامک ریسرچ سنٹر دیا جس میں 5000 سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں جن کی pdf مفت میسر ہے۔
جو لوگ بھی ان پر اعتراض کرتے ہیں یا تو وہ کسی بغض و عداوت میں مبتلا ہیں، یا جاہل ہیں ! اگر سچ میں انکی نیت سوال کرنے اور پوچھنے کی ہو تو کومینٹ میں گالیاں دینے کی بجائےکے وہ ہم سے رابطہ کریں اور اپنے سوالات پر جواب حاصل کریں۔ یہ لوگ اصلاح چاہتے ہی نہیں، انکا کام صرف نفرت پھیلانا ہے۔
عمران بٹ
15/05/2026
بڑا انسان وہ نہیں ہوتا جو وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں کو بھول جائے،
بلکہ بڑا وہ ہوتا ہے جو مصروفیتوں، ذمہ داریوں اور عظمت کے بلند ترین مقام پر پہنچ کر بھی اپنے وابستگان کو یاد رکھے، اُن کے غم میں شریک ہو، اور اُن کے دلوں پر محبت کا ہاتھ رکھ دے۔
امیرِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ یقیناً اُنہی عظیم شخصیات میں سے ہیں جن کی محبت صرف الفاظ نہیں بلکہ عمل میں نظر آتی ہے۔
بڑی ہمشیرہ کے انتقال کی خبر جب پہنچی تو دل پہلے ہی غم سے بوجھل تھا، مگر ایسے وقت میں امیرِ اہلِ سنت کا تعزیتی پیغام گویا ٹوٹے ہوئے دل پر شفقت کا مرہم بن گیا۔
جتنی بڑی شخصیت، اتنی ہی عاجزی…
جتنا بلند مقام، اتنی ہی محبت…
اور جتنی عظمت، اتنا ہی اپنے وابستگان کا احساس۔
عزیزم محترم مولانا محمد عتیق تاج صاحب نے جب مجھے وہ کلپ سنایا، اور اس میں امیرِ اہلِ سنت نے اس ناچیز کا نام محبت سے لیا، تو کیفیت یہ تھی کہ دل بھر آیا، آواز رندھ گئی، اور آنکھیں اشکبار ہونے کے قریب پہنچ گئیں۔
یہ صرف ایک نام لینا نہیں تھا…
یہ اپنے پن کا احساس تھا…
یہ محبت کی وہ خوشبو تھی جو برسوں کے تعلق کو ایک لمحے میں تازہ کر گئی۔
اللہ رب العزت ہر اُس ہستی کو سلامت رکھے جس نے اس آزمائش اور غم کی گھڑی میں ہمیں تنہا محسوس نہیں ہونے دیا، جنہوں نے محبت، دعا، تعزیت اور شفقت کے ذریعے ہمارے دل کو سہارا دیا۔
مجھے بے اختیار حضور سیدی، سندی و مرشدی رحمہ اللہ کا وہ جملہ یاد آ رہا تھا:
“ہمیں مجموعی طور پر ٹھنڈی ہوا دعوتِ اسلامی کی طرف سے آ رہی ہے۔”
واقعی…
یہ صرف ایک تنظیم نہیں، محبتوں، دعاؤں اور تعلق کے احساس کا ایک قافلہ ہے۔
اور اُس لمحے میرے لبوں پر بے ساختہ یہ الفاظ جاری ہو گئے:
“صدقت یا ابی”
طالبِ دعا
محمد ذیشان سعید
مہتمم جامعہ امینیہ رضویہ
13/05/2026
📢اگر دعوتِ اســلامی نہ ہوتی تو شاید آج کا معاشــرہ بہت مختلف ہوتا!!
یہ صرف ایک تنظیـم یا تحریک نہیں بلکہ ایک ایســا عالمی دینی نیـٹ ورک ہے جس نے لاکھوں انســانوں کی زندگیوں عادات، ســوچ، عبادات اور دینی ماحــول پر اثر ڈالا
آئیے مختلف پہلــوؤں سے دیکھـتے ہیں کہ اگر دعوتِ اســلامی نہ ہوتی تو کیا کچھ شــاید موجود نہ ہوتا:
اگر دعوتِ اسـلامی نہ ہوتی تو؟
1۔ نوجـوانوں کی اصـلاح کا اتنا بڑا نظـام نہ ہوتا
1980 اور 1990 کی دہائی میں بے شــمار نوجوان فلم ڈرامہ، نشہ، فیشــن اور بے راہ روی کی طرف جارہے تھے
دعوتِ اســلامی نے “مدنی ماحـول” کے ذریعے لاکھوں نوجوانـوں کو مسجد سے جـوڑا
آج:
ہزاروں نوجـوان داڑھی، نماز اور ســنتوں والے ماحــول میں ہیں
گناہوں سے توبہ کرچــکے ہیں
تبلیــغِ دین میں مصــروف ہیں
دنیاوی بے راہ روی چھــوڑ چکے ہیں
اگر دعوتِ اســلامی نہ ہوتی تو شــاید ان میں سے بہت بڑی تعــداد دینی ماحول تک کبھی نہ پہنچتی!!
2۔ ســنتوں کا عمـــلی احیاء اس انداز میں نہ ہوتا
دعوتِ اســلامی نے صرف تقـریریں نہیں کیں بلکہ عملی ســنتیں عام کیں:
عمامہ شریف
ســفید لباس
مســواک
داڑھی شریف
ســلام عام
سنتــوں بھرا اندازِ زندگی
آج دنیا کے کئی ممالک میں سفید عمامہ اور ســفید لباس ســنت کی علامت بن چکا ہے!!
اگر دعوتِ اســلامی نہ ہوتی تو شاید:
سنتــوں پر عمل اتنا اجتـــماعی انداز میں نظـر نہ آتا
نوجوانوں میں دینی تشــخص کمــزور ہوتا
ظاہری ســـنتوں کا ماحول اتنا مضــبوط نہ بنتا
3۔ مســجدوں میں نوجوانوں کی واپســی کم ہوتی
ایک وقت تھا جب مســـاجد میں زیادہ تر بزرگ نظر آتے تھے
دعوتِ اســلامی نے نوجوانوں کو مســجد سے جوڑنے میں غیر معــمولی کردار ادا کیا!!
خصـوصاً:
ہفتہ وار اجتــماعات
مدنی قافــلے
نیکی کی دعـوت
اصلاحِ اعمـــال
ان سب نے مســـجدوں میں نئی روح پھــونک دی!!
4۔ قرآن ســیکھنے کا عالمی نظام اتنا وســیع نہ ہوتا
دعوتِ اســلامی کے:
مدارس المدینہ
جامـعات المدینہ
آن لائن کورســز
حفظ و ناظـرہ ســسٹم
نے لاکھــوں بچوں اور بڑوں کو قـرآن پڑھنا ســکھایا!!
اگر دعوتِ اســلامی نہ ہوتی تو:
لاکھــوں بچے قرآنِ پاک سے محــروم رہتے
بہت سے لوگ تجــوید سے ناواقف رہتے
حفاظ و علــماء کی ایک بڑی تعداد شــاید وجود میں نہ آتی
5۔ دنیا بھـر میں اہلِ ســنت کا عالمــی نیٹ ورک اتنا مضبــوط نہ ہوتا
دعوتِ اســلامی نے:
ایشــیا
یورپ
افـریقہ
امریکہ
عرب ممــالک
ســـمیت دنیا بھر میں دعوتی مراکز قائم کیے!!
آج:
کئی زبانوں میں بیــانات ہوتے ہیں
عالمی اجتــماعات منعقد ہوتے ہیں
مختـلف قومـیتوں کے لوگ ایک دینی پلیٹ فارم پر ہیں
اگر دعوتِ اسـلامی نہ ہوتی تو عالمی ســطح پر اہلِ سـنت کی منظم دعوتی موجودگی کمزور ہوتی!!
6۔ مدنی چــینل جیسا اسـلامی میڈیا پلیٹ فارم نہ ہوتا
جب میڈیا پر فحاشی اور غیر اســلامی مواد غالب تھا، اس وقت دعوتِ اســلامی نے “مدنی چــینل” قائم کیا۔
اس کے ذریـعے:
قرآن کریم
نعت رسول
دینی پـروگرام
اصلاحی بـیانات
بچوں کے اسـلامی پروگرام
گھــروں تک پہنچے
اگر دعوتِ اســلامی نہ ہوتی تو:
اســلامی میڈیا کا ایک بڑا خلا باقی رہتا
کئی گھــروں میں دینی ماحــول پیدا نہ ہوتا
7۔ سـوشل میڈیا پر اســلامی دعوت کی یہ طاقـت نہ ہوتی
دعوتِ اسـلامی نے جدید دور کے مطابق:
YouTube
Facebook
Instagram
Mobile Apps
آن لائن کورســـز
کے ذریعے تبلــیغ کو ڈیجــیٹل ســطح پر پھیلایا
آج لاکھـوں لوگ:
آن لائن بیانات سـنتے ہیں
قرآن ســیکھتے ہیں
فتاویٰ حاصــل کرتے ہیں
8۔ فلاحی خدمـات کا بڑا نظام نہ ہوتا
دعوتِ اســلامی نے:
اســپتال
ایمبولینــس
یتیــموں کی کفالت
غریـبوں کی مدد
آفات میں امداد
جیسے شعــبوں میں بھی خدمـات انجام دیں
اگر دعوتِ اسـلامی نہ ہوتی تو:
کئی ضــرورت مند مدد سے محـروم رہتے
دینی تنظیــموں کی فلاحی نمائندگی کمـزور ہوتی
9۔ عشــقِ رســول ﷺ کا یہ انداز عام نہ ہوتا
دعوتِ اســلامی کی سب سے نمایاں پہچان:
نعت رسول
ذکرِ مصـطفی ﷺ
میـلاد مصطفیٰ
ادبِ رســول ﷺ
عاشـقانِ رســول کا ماحول
اس تحــریک نے محبتِ رسول ﷺ کو عـوامی انداز میں عام کیا۔
10۔ لاکھوں گھــروں کا ماحول تبـدیل نہ ہوتا
دعوتِ اســلامی صرف فرد نہیں بلکہ پورے خـاندان بدلنے کی بات کرتی ہے!!
بہت سے گھــروں میں:
نماز شــروع ہوئی
ٹی وی اور گناہوں سے بچاؤ آیا
دینی ماحــول بنا
بچوں کی تربیـت بہتر ہوئی
11۔ تبلیـغِ دین کا نرم اور پُـرامن انداز کم نظر آتا
دعوتِ اســلامی نے:
نرمی
اخلاق
محبت
حکمت
کے ســاتھ دعوت دینے کا انداز اپنایا..
یہی وجہ ہے کہ مختـلف طبـقوں کے لوگ اس سے متـاثر ہوئے
12۔ لاکھــوں افراد کی زندگـیاں شــاید نہ بدلتی
آج دنیا بھــر میں بے شـمار لوگ یہ کہتے ہیں: “ہماری زندگی دعوتِ اســلامی نے بدل دی۔”
کسی نے:
نماز سـیکھی
توبہ کی
قرآن ســیکھا
گناہ چھـوڑے
دین اپـنایا
یہ ایک حقیقت ہے کہ دعـوتِ اســلامی نے جدید دور میں دینی بیداری پیـدا کرنے میں بہت بڑا کــردار ادا کیا
اگر دعوتِ اســلامی نہ ہوتی تو شـاید:
ســنتوں کا یہ ماحول نہ ہوتا
نوجوان مســجدوں سے اتنے نہ جڑتے
اسـلامی میڈیا اتنا مضبوط نہ ہوتا
عالمـی ســطح پر دعــوتِ دین کا یہ نیٹ ورک نہ بنتا
لاکھــوں زندگیاں بدلنے کا یہ سلســلہ نہ چلتا
دعوتِ اســلامی کے مخالفین کے لیے بھی ایک پیــغام
اخـتلاف ہر دور میں رہا ہے، مگر انصــاف یہ ہے کہ کسی بھی دینی تحریـک کو صرف تنقــید کی نظر سے نہیں بلکہ اس کے اثرات اور خدمــات کو بھی دیکھا جائے!!
اگر کسی کو دعوتِ اســلامی کے بعض انداز، افراد یا معامــلات سے اختلاف ہے تو اسے چاہیے کہ:
• تہمت، نفرت اور تضحیک کے بجائے اصـلاح اور خیرخواہی کا راســتہ اپنائے
• لاکھوں لوگوں کی نماز، توبہ، قرآن اور ســنت کی طرف واپسی کو بھی دیکھے
• اس حقیقت کو تســلیم کرے کہ اس تحـریک نے بے شمار نوجوانوں کو گناہوں سے نکال کر مســجد سے جوڑا
• اختلاف کو دشــمنی میں تبدیل نہ کرے، کیونکہ دین کی خدمــت کرنے والے سب احتــرام کے مســتحق ہیں
یاد رکھیں:
تنقـید اگر اخـلاص، علم اور ادب کے ســاتھ ہو تو فائدہ دیتی ہے، مگر نفـرت اور کردار کشـی دلوں میں دوریاں پیدا کرتی ہے!!
اللہ کریم ہمیں حق بات کہنے انصاف کرنے، اتحـادِ امت کو مضــبوط بنانے اور ہر دینی خدمت کرنے والے کے ساتھ
خیرخواہی کا معامـلہ کرنے کی توفیق عطـا فرمائے۔ آمین!!
جاری کردہ: مدنی پلس میڈیا
13/05/2026
خیبر پختون خواہ ڈیرہ اسماعیل خان پنیالہ
دعوت اسلامی کے تعمیر کردہ مساجد
08/05/2026
یہ پرانہ واقعہ تھا
اب تو اس کی جگہ مزید خوبصورت مسجد بن گئی ہے
دعوت اسلامی زندہ باد
🥰❤️
゚
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Telephone
Website
Address
Karachi
75500
